Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


Pakistan Film History

Pakistani film timeline

An Urdu/Punjabi article on the timeline of Pakistani films.

فلمی ٹائم لائن

پاکستان کی 75 سالہ فلمی تاریخ کی ٹائم لائن

1948

پاکستان کی پہلی فلم

پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948)
    7 اگست 1948ء کو عیدالفطر کے مبارک دن ، نو آزاد ملک پاکستان میں ریلیز ہونے والی پہلی فیچر فلم تیری یاد (1948) تھی۔ ہدایتکار داؤد چاند کی اس اردو فلم میں آشا پوسلے اور ناصر خان کو پاکستان کی پہلی روایتی فلمی جوڑی ہونے کا ناقابل شکست اعزاز حاصل ہوا تھا۔

    کشمیر ہمارا ہے

    23 جولائی 1948ء کو لاہور کے قیصر (مون لائٹ سینما) میں ہدایتکار رفیق چمن کی بنائی ہوئی پاکستان کی پہلی ڈاکومنٹری فلم "کشمیر ہمارا ہے" ریلیز ہوئی تھی۔

    پاکستان کا پہلا فلم سٹوڈیو

    16 فروری 1948ء کو پاکستان کے پہلے فلمی سٹوڈیو "پنچولی فلم سٹوڈیوز" کا افتتاح ہوا (یا بحالی ہوئی تھی) جس سے فلمسازی کا آغاز ممکن ہوا تھا۔
1949

پاکستان کی پہلی سپرہٹ فلم

پاکستان کی پہلی سپرہٹ فلم پھیرے (1949)
    28 اگست 1949ء کو عیدالفطر کے مبارک دن ، پاکستان کی پہلی سپرہٹ فلم پھیرے (1949) ریلیز ہوئی جو پاکستان کی پہلی پنجابی ، پہلی سلور جوبلی اور پہلی میوزیکل فلم بھی تھی۔ فلمساز ، ہدایتکار اور اداکار نذیر اس نغماتی اور رومانٹک فلم میں اپنی اداکارہ بیوی سورن لتا کے ساتھ مرکزی کرداروں میں تھے۔

    پاکستان کا پہلا فلمی مکالمہ

    18 مارچ 1949 کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار لقمان کی فلم شاہدہ (1949) کا مکالمہ "اللہ ، میری عزت تیرے ہاتھ میں ہے۔۔" کسی بھی پاکستانی فلم کے لیے ریکارڈ ہونے والا پہلا مکالمہ تھا جو اداکارہ شمیم پر فلمایا گیا تھا۔ روایت ہے کہ اس اردو فلم نے دہلی اور لکھنو میں سلورجوبلیاں منائیں لیکن پاکستان میں ناکام رہی تھی۔

    ایورنیو پکچرز کی پہلی فلم

    18 نومبر 1949ء کو پاکستان کی سب سے بڑی فلم کمپنی ، ایورنیو پکچرز کی ریلیز ہونے والی پہلی فلم مندری (1949) تھی جس کے ہدایتکار داؤد چاند تھے۔ تقسیم سے قبل کی لاہور کی سپرسٹار ہیروئن راگنی کی بھی یہ پہلی پاکستانی فلم تھی جس کے ہیرو الیاس کاشمیری تھے۔
1950

پاکستان کی پہلی سلور جوبلی اردو فلم

پاکستان کی پہلی سلور جوبلی اردو فلم دو آنسو (1950)
    7 اپریل 1950ء کو ریلیز ہونے والی پاکستان میں پہلی اردو سلور جوبلی فلم 2 آنسو (1950) تھی جس نے کراچی میں 13 ہفتوں میں یہ سلور جوبلی منائی تھی۔ ہدایتکار انور کمال پاشا کی اس فلم کے اہم کردار شمیم ، ہمالیہ والا اور شاہ نواز تھے جبکہ صبیحہ اور سنتوش کی روایتی جوڑی تھی۔

    پہلی تاریخی فلمیں

    6 جنوری 1950ء کو کشمیر کے موضوع پر ہدایتکار ظہور راجہ کی فیچر فلم جہاد (1950) اور 3 فروری 1950ء کو تقسیم ہند کے موضوع پر ہدایتکار مسعود پرویز کی فیچر فلم بیلی (1950) ریلیز ہوئی تھیں۔
1951

پہلی خاتون ہدایتکارہ

پہلی خاتون ہدایتکارہ نور جہاں کی فلم چن وے (1951)
    29 مارچ 1951ء کو ریلیز ہونے والی نغماتی فلم چن وے (1951) ، میڈم نورجہاں کی پاکستان میں پہلی فلم تھی جس میں انھیں ہیروئن اور گلوکارہ ہونے کے علاوہ پہلی خاتون ہدایتکارہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔

    بلو میراثی

    7 دسمبر 1951ء کو ریلیز ہونے والی پنجابی فلم بلو (1951) کا اصل نام "میراثی" تھا جو میراثیوں کے احتجاج کے باعث بدلنا پڑا۔ یاد رہے کہ نصف صدی بعد بننے والی فلم مجاجن (2006) کا اصل نام بھی "میراثن" تھا لیکن ایک بار پھر احتجاج اپنا کام دکھا گیا تھا۔
1952

بھارتی فلموں کے لیے کوٹہ سسٹم

پاکستان کی پہلی نغماتی اردو فلم دوپٹہ (1952)
    29 اکتوبر 1952ء کو حکومت پاکستان نے تقسیم کے بعد مسلسل پانچ برسوں سے جاری بھارتی فلموں کی آزادانہ نمائش پر پہلی پابندی لگاتے ہوئے "کوٹہ سسٹم" کا اجرا کیا۔ سرکاری طور پر منظور شدہ فلم ڈسٹری بیوٹرز ہی بھارتی فلمیں درآمد کر سکتے تھے اور ملک کے دونوں حصوں یعنی مشرقی اور مغربی پاکستان کے لیے الگ الگ کوٹہ مقرر کیا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جو فلم مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں درآمد ہوتی ، وہ مغربی (یا موجودہ) پاکستان میں ریلیز نہیں ہو سکتی تھی۔

    پاکستان کی پہلی سپرہٹ نغماتی اردو فلم

    29 مارچ 1952ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار سبطین فضلی کی نغماتی فلم دوپٹہ (1952) پہلی فلم تھی جس نے بھارت کے فلمی سرکٹ میں بھی دھوم مچا دی تھی۔ اسی فلم سے پاکستان کے پہلے سپرسٹار ہیرو سدھیر کو بریک تھرو ملا تھا۔
1954

بھارت سے فلم کے بدلے فلم کا معاہدہ

    9 جولائی 1954ء کو لاہور میں "جال موومنٹ" کے سلسلے میں سرکردہ فلمی افراد نے مظاہرے کیے اور بھارتی فلموں کی نمائش پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا۔ اس تحریک کے نتیجہ میں حکومت پاکستان نے بھارتی فلموں کی نمائش پر مزید پابندیاں عائد کرتے ہوئے "بارٹر سسٹم" کے تحت فلم کے بدلے میں فلم کا معاہدہ کیا جس سے پاکستانی فلموں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور پہلی بار سالانہ فلموں کی تعداد ڈبل فگر میں رہنے لگی تھی۔ اس سے قبل پہلے سات برسوں میں صرف دو بار ڈبل فگر میں فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔
    پاکستان کی پہلی گولڈن جوبلی فلم سسی (1954)

    پہلی گولڈن جوبلی اردو فلم

    3 جون 1954ء کو پاکستان کی پہلی گولڈن جوبلی اردو فلم سسی (1954ء) ریلیز ہوئی جس نے کراچی میں سولو سلور جوبلی منائی تھی۔ ہدایتکار داؤد چاند کی اس فلم میں صبیحہ اور سدھیر مرکزی کردار تھے۔

    پہلی فلم پر پابندی

    11 اگست 1954ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار ڈبلیو زیڈ احمد کی اردو فلم روحی (1954) پہلی فلم تھی جس پر فحاشی اور عریانی کے الزامات لگا کر نمائش پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ شمی اور سنتوش مرکزی کردار تھے۔
1955

کراچی کی پہلی فلم

کراچی کی پہلی فلم ہماری زبان (1955)
    10 جون 1955ء کو کراچی میں بننے والی پہلی فلم ہماری زبان (1955) ریلیز ہوئی۔ ہدایتکار شیخ حسن نے سیاسی نوعیت کی اس فلم میں ہیرو کا رول کیا جبکہ بینا نامی اداکارہ ان کی ہیروئن تھی۔ "بابائے اردو" مولوی عبدالحق نے بھی اس فلم میں ایک اہم رول کیا تھا۔

    کراچی کی پہلی پنجابی فلم

    28 اکتوبر 1955ء کو ریلیز ہونے والی کراچی کی کسی فلم کمپنی کی پہلی پنجابی فلم ہیر (1955) تھی جس کی شوٹنگ لاہور میں بھی ہوئی تھی۔ ہدایتکار نذیر کی اس نغماتی فلم میں سورن لتا اور عنایت حسین بھٹی مرکزی کردار تھے۔
1956

پاکستان کی پہلی بلاک باسٹر فلم

پاکستان کی پہلی بلاک باسٹر فلم دلا بھٹی (1956)
    6 جنوری 1956ء کو پاکستان کی پہلی بلاک باسٹر فلم دلابھٹی (1956) ریلیز ہوئی جس کی کمائی سے لاہور کا جدید نگار خانہ ، ایورنیو سٹوڈیوز قائم ہوا تھا۔ فلمساز آغا جی اے گل کی اس پنجابی فلم کے ہدایتکار ایم ایس ڈار (اسلم ڈار کے والد) تھے جبکہ صبیحہ ، سدھیر اور علاؤالدین مرکزی کرداروں میں تھے۔

    پاکستان کی پہلی سندھی فلم

    16 مارچ 1956ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار شیخ حسن کی فلم عمر ماروی (1956) ، پاکستان کی پہلی سندھی فلم تھی جس میں نگہت سلطانہ اور فاضلانی نے مرکزی کردار کیے تھے۔

    پاکستان کی پہلی بنگالی فلم

    3 اگست 1956ء کو پاکستان کی پہلی بنگالی فلم مکھ و موکھوش (1956) بھی ریلیز ہوئی تھی۔ فلمساز جبار خان نے اس فلم میں اداکاری بھی کی تھی۔

    اکلوتی پنجابی/بنگالی ڈبل ورژن فلم

    6 جولائی 1956ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار مظفر طاہر کی فلم جبرو (1956) ، واحد پنجابی فلم تھی جس کو بنگالی زبان میں ڈب کر کے مشرقی پاکستان میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ اکمل کی بطور ہیرو یہ پہلی فلم تھی جس میں یاسمین ، ہیروئن تھی۔

    پاکستان کی پہلی ایکشن فلم

    14 ستمبر 1956ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار اشفاق ملک کی فلم باغی (1956) ، پاکستان کی پہلی سپرہٹ گولڈن جوبلی ایکشن اردو فلم تھی جس میں اداکار سدھیر کو پاکستان کے پہلے "ایکشن ہیرو" کا خطاب ملا تھا۔ مسرت نذیر ، ہیروئن تھی۔ یہی پہلی پاکستانی فلم تھی جو چین میں بھی ریلیز ہوئی اور بے حد پسند کی گئی تھی۔

    ہندو فنکاروں کی پاکستان آمد

    20 جنوری 1956ء کو ریلیز ہونے والی فلم انوکھی (1956) کے لیے بھارت سے متعدد ہندو فنکار بلائے گئے جن میں ہیروئن شیلا رومانی ، موسیقار تمرن برن اور ان کے معاون دیبو بھٹاچاریہ شامل تھے۔
    9 نومبر 1956ء کو ریلیز ہونے والی فلمساز جے سی انند کی فلم مس 56 (1956) کے لیے بھی تقسیم سے قبل لاہور کے معروف فنکاروں کو بلایا گیا تھا۔ مصنف آئی ایس جوہر ، گیت نگار مدھوک اور موسیقار ونود کے علاوہ ہدایتکار روپ کے شوری بھی تھے جو اپنی اداکارہ بیوی مینا شوری کے ساتھ آئے تھے لیکن پہلے اپنا شوری فلم سٹوڈیو (شاہ نور فلم سٹوڈیو) چھوڑ کر جانا پڑا ، اس بار اپنی پتنی سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔

    بڑے بڑے فنکاروں کی آمد

    1956ء وہ یادگار سال تھا جب پاکستان کی فلمی تاریخ کے بہت بڑے بڑے نام سامنے آئے جن میں نیلو ، شمیم آرا ، بہار ، دیبا ، اعجاز ، حبیب ، لہری ، رضیہ ، سلطان راہی ، ساون ، احمدرشدی ، مہدی حسن ، نسیم بیگم ، اسلم ڈار ، خلیل قیصر اور خواجہ خورشید انور وغیرہ شامل تھے۔
1957

فلم یکے والی کا ریکارڈ بزنس

فلم یکے والی (1957) کا ریکارڈ بزنس
    22 فروری 1957ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار ایم جے رانا کی ریکارڈ توڑ فلم یکے والی (1957ء) نے اپنی لاگت سے 45 گنا زیادہ کمائی کی تھی۔ 92 کنال اراضی پر بننے والا پاکستان کا سب سے بڑا فلمی نگارخانہ ، باری سٹوڈیو ، اسی فلم کی کمائی سے قائم ہوا تھا۔ مسرت نذیر ٹائٹل رول میں تھی جبکہ اس کے ہیرو سدھیر تھے۔ 2 مئی 1957ء کو ریلیز ہونے والی اردو فلم وعدہ (1957) کی کمائی سے ہدایتکار ڈبلیو زیڈ احمد نے بھی ایک منی فلم سٹوڈیو بنایا تھا۔ صبیحہ اور سنتوش مرکزی کردار تھے۔

    ڈھاکہ کی فلموں کو سرکاری سرپرستی

    19 جون 1957ء کو مشرقی پاکستان کی صوبائی اسمبلی نے وزیر صنعت (اور بانی بنگلہ دیش) شیخ مجیب الرحمان کا پیش کردہ بل East Pakistan Film Development Corporation Bill, 1957 (EPFDC) متفقہ طور پر منظور کرلیا تھا جس سے سرکاری خرچہ پر ڈھاکہ کی فلم انڈسٹری کو فروغ دیا گیا۔ یہ سہولت مغربی پاکستان کے فلمسازوں کے پاس نہیں تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 1973ء میں بھٹو دور حکومت میں پہلی بار پاکستانی فلموں کو بھی سرکاری سرپرستی دینے کی ایک ناکام کوشش کی گئی تھی۔
1958

ایک اسلامی اور اصلاحی فلم

ایک اصلاحی اسلامی فلم توحید (1958)
    29 جون 1958ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار عاشق بھٹی کی منفرد فلم توحید (1958) ، ایک اسلامی ، تعلیمی اور اصلاحی فلم تھی جس کا پہلا ہاف ، قرآن حکیم کی تعلیمات کی روشنی میں کائنات کی تکمیل پر ایک ڈاکومنٹری فلم تھی جبکہ دوسرے ہاف میں ایک ڈرامہ کے طور پر گناہ و ثواب کی حکمت بیان کی گئی تھی۔ نیر سلطانہ اور طالش مرکزی کردار تھے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل طالش ایک اور فلم دربار حبیب (1956) میں یاسمین کے ساتھ ہیرو تھے۔ وہ بھی ایک مذہبی فلم تھی جس میں اسلامی تاریخ کے علاوہ ایک اصلاحی ڈرامہ بھی تھا۔

    جٹی سے چٹی تک

    20 جون 1958ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار ایم جے رانا کی پنجابی فلم جٹی (1958) کا نام جٹ برداری کے احتجاج پر "چٹی" Chatti رکھ دیا گیا تھا لیکن ریکارڈز بکس میں یہ فلم اپنے اصل نام کے ساتھ موجود رہی۔ مسرت نذیر اور سدھیر مرکزی کردار تھے۔

    نگار ایوارڈز

    17 جولائی 1958ء کو پاکستان کے پہلے نجی فلم ایوارڈز "نگار ایوارڈز" کی پہلی تقریب ہوئی جس میں بہترین فلم سات لاکھ (1957) لیکن بہترین ہدایتکار فلم وعدہ (1957) کے ڈبلیو زیڈ احمد تھے۔ اس طرح سے ایک تیر سے دو شکار کیے گئے تھے۔ یہ ایوارڈز لسانی بنیادوں پر صرف اردو فلموں کو دیے گئے تھے۔
1959

تقسیم ہند پر سب سے بڑی فلم

تقسیم ہند پر سب سے بڑی فلم کرتار سنگھ (1959)
    18 جون 1959ء کو نمائش پذیر ہونے والی شاہکار پنجابی فلم کرتارسنگھ (1959) ، تقسیم ہند کے موضوع پر بنائی جانے والی پاکستان کی سب سے بہترین فلم تھی جو بھارتی پنجاب میں بھی تین سال تک زیرنمائش رہی۔ فلمساز ، ہدایتکار اور مصنف سیف الدین سیف کی اس شاہکار فلم کا ٹائٹل رول علاؤالدین نے کیا تھا جبکہ مرکزی جوڑی مسرت نذیر اور سدھیر کی تھی۔

    مشرقی پاکستان کی پہلی اردو فلم

    29 مئی 1959ء کو ریلیز ہونے والی جاگو ہوا سویرا (1959) پہلی اردو فلم تھی جو مشرقی پاکستان میں بنائی گئی تھی۔ اس فلم کو بنانے والی ٹیم لاہور کی تھی۔ ہدایتکار اےجے کاردار کی آرٹ فلم میں مقامی اداکاروں سے کام لیا گیا تھا۔ پاکستان کی یہی پہلی فیچر فلم تھی جس کو روس کے ایک فلمی میلے میں گولڈ میڈل ملا تھا۔
1960

پہلی جواں سال موت

    اداکار ظریف
    30 دسمبر 1960ء کو پاکستان کے ممتاز مزاحیہ اداکار ظریف کا اچانک انتقال ہو گیا تھا۔۔!
    ظریف ، پاکستان کی فلمی تاریخ کی پہلی جواں سال موت تھے جو عین عروج کے دور میں دار فانی سے کوچ کر گئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انھیں بعد از مرگ پنجابی فلم بہروپیا (1960) میں بہترین اداکار کا صدارتی ایوارڈ دیا گیا حالانکہ وہ صرف ایک مزاحیہ اداکار تھے۔ یاد رہے کہ 27 مئی 1961ء کو ایوب دور حکومت میں "صدارتی ایوارڈز" کی اکلوتی تقریب منعقد ہوئی تھی۔

    فلم ہمسفر

    8 اپریل 1960ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار شوکت ہاشمی کی اردو فلم ہمسفر (1960) مکمل طور پر مشرقی پاکستان میں فلمائی گئی تھی۔ مغربی پاکستان کی اس فلم کے سبھی فنکار لاہور سے تھے جن میں یاسمین اور اسلم پرویز ، مرکزی کرداروں میں تھے۔
1961

مرکزی فلم سنسر بورڈ کا قیام

    24 مارچ 1961ء کو جنرل ایوب خان کی حکومت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے پہلی فلمی سنسرشپ پالیسی نافذ کی تھی۔ مرکزی سنسر بورڈ راولپنڈی میں قائم کیا گیا جبکہ مرکزی فلم انڈسٹری لاہور میں تھی لیکن انھیں سنسر سرٹیفکیٹ کے لیے راولپنڈی جانا پڑتا تھا۔

    رنگین فلموں کا دور

    27 اکتوبر 1961ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار منشی دل کی اردو فلم گل بکاؤلی (1961) ، پاکستان کی پہلی فلم تھی جس کے سبھی گیت رنگین فلمائے گئے تھے۔ جمیلہ رزاق اور سدھیر مرکزی کردار تھے۔

    پہلی جنگل فلم

    28 اپریل 1961ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار رحیم گل کی اردو فلم ہابو (1961) ، پاکستان کی پہلی جنگل فلم تھی جس میں حسنہ اور حبیب ، روایتی جوڑی تھی۔
1962

نئی بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی

1964

اداکار رحمان کو حادثہ

    4 دسمبر 1964ء کو ریلیز ہونے والی ڈھاکہ کی اردو فلم ملن (1964) کی خاص بات یہ تھی اس فلم کی شوٹنگ کے دوران ہیرو اور ہدایتکار رحمان کی ایک کار حادثہ میں ٹانگ کٹ گئی تھی۔ باقی عمر انھوں نے ایک مصنوعی ٹانگ کے ساتھ گزارا کیا۔ میڈم نورجہاں اور ہیروئن دیبا نے ازراہ ہمدردی ایک ایک روپے کے علامتی معاوضے پر اس فلم کے لیے اپنی خدمات سرانجام دی تھیں۔

    پہلی مکمل رنگین فلم

    مغربی پاکستان کی پہلی مکمل رنگین فلم ایک دل دو دیوانے (1964)
    23 اپریل 1964ء کو پاکستان کی پہلی مکمل رنگین فلم سنگم (1964) ریلیز ہوئی جو ڈھاکہ کے فلمساز اور ہدایتکار ظہیر ریحان نے بنائی تھی۔ روزی اور ہارون مرکزی کردار تھے۔

    مغربی پاکستان کی پہلی مکمل رنگین فلم

    اسی سال یعنی 20 نومبر 1964ء کو مغربی پاکستان کی پہلی مکمل رنگین فلم ایک دل دو دیوانے (1964) بھی ریلیز ہوئی تھی۔ ہدایتکار وزیرعلی کی اس فلم میں رانی ، کمال اور زینت مرکزی کردار تھے۔

    بیرون ملک بننے والی پہلی فلم

    4 دسمبر 1964ء کو سامنے آنے والی ڈھاکہ کی ایک اور فلم کاروان (1964) کی شوٹنگ پہلی بار بیرون ملک یعنی نیپال میں ہوئی تھی۔ شبنم اور ہارون مرکزی کردار تھے۔

    فلمسازی کے رحجان میں اضافہ

    نئی بھارتی فلموں کی ریلیز پر پابندی کے بعد 1964ء میں پہلی بار ایک کیلنڈر ائیر میں پاکستانی فلموں کی ریلیز کی تعداد پچاس سے بڑھ گئی تھی اور ریکارڈ 73 فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔
1965

بھارتی فلموں پر مکمل پابندی

    6 ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش پر مکمل پابندی لگا دی گئی تھی جس سے پاکستانی فلموں کو بلا مقابلہ کھلا میدان مل گیا اور فلموں کی تعداد اور کامیابیوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا تھا۔

    پہلی پلاٹینم جوبلی پنجابی فلم

    فلم جی دار (1965) ، پہلی پلاٹینم جوبلی فلم تھی
    19 نومبر 1965ء کو ریلیز ہونے والی پہلی پلاٹینم جوبلی پنجابی فلم جی دار (1965ء) تھی۔ ہدایتکار ایم جے رانا کی اس فلم کا ٹائٹل رول اداکار سدھیر نے کیا تھا۔ اسی فلم کی نمائش کے دوران رٹز سینما لاہور کی گیلری گر گئی تھی جس سے متعدد افراد ہلاک و زخمی ہو گئے تھے۔

    ڈبل گولڈن جوبلی کا منفرد ریکارڈ

    5 نومبر 1965ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار رشید اختر کی فلم ملنگی (1965) کے بارے میں روایت ہے کہ اس فلم نے ایک ہی سینما (اوڈین) پر دو بار گولڈن جوبلی کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ اکمل کے فلمی کیرئر کی یہ سب سے بڑی فلم تھی جس میں وہ ٹائٹل رول میں تھے۔

    پہلی سینما سکوپ فلم

    3 دسمبر 1965ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار مستفیض کی فلم مالا (1965) ، پاکستان کی پہلی سینما سکوپ رنگین فلم تھی جو ڈھاکہ میں بنائی گئی تھی۔ سلطانہ زمان اور عظیم ، فلمی جوڑی تھے۔
    اس سے قبل 12 اپریل 1965ء کو ہدایتکار ظہیر ریحان کی فلم بہانہ (1965) ، پاکستان کی پہلی بلیک اینڈ وہائٹ سینما سکوپ فلم تھی۔ یہ فلم کراچی میں شوٹ ہوئی تھی۔ کابوری اور رحمان مرکزی کردار تھے۔

    پہلے سینچری میکر اداکار

    علاؤالدین ، پاکستان کے پہلے اداکار تھے جنھوں نے سو فلموں میں کام کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
1966

پہلا بڑا فلمی قتل

پفلمساز ، ہدایتکار اور اداکار خلیل قیصر
    21 ستمبر 1966ء کو فلمساز ، ہدایتکار اور اداکار خلیل قیصر ، پاکستان کی فلمی تاریخ میں قتل ہونے والا پہلا بڑا نام تھا۔ قاتل حسب معمول نامعلوم افراد تھے۔۔!
    خلیل قیصر کے کریڈٹ پر بین الاقوامی معیار کی شاہکار فلم شہید (1962) کے علاوہ سپرہٹ فلم فرنگی (1964) بھی تھی۔ انھوں نے ایک آرٹ فلم کلرک (1960) میں انتہائی متاثر کن اداکاری بھی کی تھی ، مسرت نذیر ، ہیروئن تھی۔
    پاکستان کی پہلی پلاٹینم جوبلی اردو فلم ارمان (1966)

    پہلی پلاٹینم جوبلی اردو فلم

    18 مارچ 1966ء کو کراچی میں ہدایتکار پرویز ملک کی سپرہٹ نغماتی اور رومانوی اردو فلم ارمان (1966ء) نے مسلسل 34 ہفتے چل کر پاکستان کی پہلی پلاٹینم جوبلی اردو فلم ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ وحیدمراد کو اسی فلم سے سپرسٹار کا درجہ ملا تھا۔ زیبا ہیروئن تھی۔

    روس میں پاکستانی فلم کی مقبولیت

    2 ستمبر 1966ء کو فلمساز اور ہدایتکار اقبال شہزاد کی شاہکار فلم بدنام (1966) ریلیز ہوئی جس کو سترہ مختلف زبانوں میں ڈب کر کے روس کے سینماؤں میں ریلیز کیا گیا تھا۔ اس فلم کی کمائی سے بھی ایک فلم سٹوڈیو بنا تھا۔

    سن آف پاکستان

    12 اگست 1966ء کو ریلیز ہونے والی بنگالی فلم سن آف پاکستان (1966) ، پہلی فلم تھی جس میں لفظ "پاکستان" آیا تھا۔۔!
1967

اکمل کی اچانک موت

اداکار اکمل
    11 جون 1967ء کو پاکستان کی فلمی تاریخ میں پہلی بار ایک چوٹی کے فلمی ہیرو کا انتقال ہو گیا تھا۔۔!
    پنجابی فلموں میں سدھیر کے بعد دوسرے سپرسٹار ہیرو ، اکمل ، اپنے فلمی کیرئر کے انتہائی عروج پر جوانی ہی میں زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔ البتہ ان کی بے وقت موت سے فلمی سرگرمیوں پر کوئی فرق نہیں پڑا تھا کیونکہ متبادل کے طور پر پنجابی فلموں میں اعجاز اور حبیب جیسے خوبرو ہیروز کی آمد ہوئی تھی۔

    مشرقی پاکستان کی کامیاب ترین اردو فلم

    مشرقی پاکستان کی کامیاب ترین فلم چکوری (1967)
    22 مارچ 1967ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار احتشام کی مشرقی پاکستان کی سب سے کامیاب ڈبل ورژن بنگالی/اردو فلم چکوری (1967) میں کراچی کے نوجوان گلوکار ندیم نے ہیرو کے طور پر زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔ اس فلم نے کراچی میں 20 ہفتوں میں پلاٹینم جوبلی منائی تھی۔ شبانہ نے ٹائٹل رول کیا تھا۔

    یورپ میں بنی پہلی پاکستانی فلم

    6 اکتوبر 1967ء کو ریلیز ہونے والی رنگین اردو فلم رشتہ ہے پیار کا (1967) پہلی پاکستانی فلم تھی جس کی شوٹنگ ایران، لبنان، شام، مصر اور برطانیہ میں ہوئی تھی۔ زیبا اور وحید مراد کی اس فلم کے ہدایتکار قمرزیدی تھے۔
1968

پہلی بار سو فلمیں ریلیز ہوئیں

پہلی رنگین پنجابی فلم پنج دریا (1968)
    پاکستان کی فلمی تاریخ میں پہلی بار 1968ء میں ایک ہی سال میں سو سے زائد فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں بنگالی فلمیں بھی شامل تھیں۔ اسی سال 64 اردو فلمیں ریلیز ہوئیں جو کسی بھی کیلنڈر ایئر میں ریلیز ہونے والی اردو فلموں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    پہلی رنگین پنجابی فلم

    22 دسمبر 1968ء کو ریلیز ہونے والی پنجابی فلم 5 دریا (1968) ، پاکستان کی پہلی پنجابی فلم تھی۔ اکمل کی یہ اکلوتی رنگین فلم ان کے انتقال کے بعد ریلیز ہوئی تھی۔ فردوس ہیروئن جبکہ ہدایتکار جعفر ملک تھے۔
1969

پاکستان کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی فلم

پاکستان کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی فلم زرقا (1969)
    17 اکتوبر 1969ء کو پاکستان کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی اردوفلم زرقا (1969ء) ریلیز ہوئی تھی۔ فلسطین کے موضوع پر بنائی گئی ، فلمساز ، ہدایتکار اور مصنف ریاض شاہد کی اس اکلوتی کامیاب فلم میں نیلو ، اعجاز ، طالش اور علاؤالدین مرکزی کرداروں میں تھے۔

    کراچی میں پہلی گولڈن جوبلی پنجابی فلم

    13 جون 1969ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار ایس اے بخاری کی فلم دلاں دے سودے (1969) پہلی پنجابی فلم تھی جس نے کراچی میں بھی گولڈن جوبلی کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی پہلی فلم تھی جس نے لاہور اور کراچی میں بیک وقت گولڈن جوبلیاں منائی تھیں۔ نغمہ ، فردوس اور اعجاز مرکزی کردار تھے۔

    ائر فورس پر بنائی گئی فلم

    11 دسمبر 1969ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار اے جے کاردار کی فلم قسم اس وقت کی (1969) ، پاکستان ایر فورس پر بنائی جانے والی پہلی فلم تھی جس میں شبنم اور طارق عزیز نے مرکزی کردار کیے تھے۔

    پہلی خاتون موسیقار

    ممتاز گلوکارہ مالا کی بہن شمیم نازلی کو پاکستان کی پہلی خاتون موسیقار ہونے کا اعزاز حاصل ہوا جب اس نے فلم بہاریں پھر بھی آئیں گی (1969) کی موسیقی ترتیب دی تھی۔

    پہلے سینچری میکر ہیرو

    حبیب ، پاکستان کے پہلے فلمی ہیرو تھے جنھوں نے سو سے زائد فلموں میں کام کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
1970

پاکستان کی پہلی ہزار فلمیں

    1970ء "متحدہ پاکستان" کا آخری سال تھا جس میں کل 130 فلمیں ریلیز ہوئیں جو پاکستان میں ایک سال میں زیادہ سے زیادہ فلمیں ریلیز ہونے کا ریکارڈ ہے۔ ان میں بنگالی فلمیں بھی شامل تھیں۔ اس سال پہلی بار سالانہ سو فلموں کی ریلیز کی ہٹ ٹرک بھی ہوئی تھی اور اسی سال پاکستان نے اپنے 22ویں فلمی سال میں اپنی ایک ہزار فلموں کی ریلیز کا ریکارڈ بھی مکمل کر لیا تھا۔

    لاہور اور کراچی میں سنسر بورڈ کی شاخیں

    28 اگست 1970ء کو فلم اور سینما انڈسٹری نے سابق ایوب حکومت کی ناجائز پابندیوں اور بے جا ٹیکسوں کے خلاف ہڑتال کر دی تھی۔ جنرل یحییٰ خان کی مارشل لاء حکومت نے مطالبات مانتے ہوئے لاہور اور کراچی میں بھی سنسربورڈ کی شاخیں قائم کر دی تھیں۔
    پاکستان کی پہلی پشتو فلم یوسف خان شیر بانو (1970)

    پہلی پشتو فلم

    26 جون 1970ء کو کراچی میں بنائی گئی پاکستان کی پہلی پشتو فلم یوسف خان شیر بانو (1970) ریلیز ہوئی تھی۔ ہدایتکار عزیز تبسم کی اس سپرہٹ فلم میں یاسمین خان ، بدرمنیر اور نعمت سرحدی ، مرکزی کرداروں میں تھے۔

    پہلی گجراتی فلم

    یکم دسمبر 1970ء کو عیدالفطر کے دن کراچی میں میمن برادری کے لیے بنائی گئی پہلی گجراتی فلم ماں تے ماں (1970) کی نمائش ہوئی تھی۔ ہدایتکار اقبال اختر کی اس فلم میں شائستہ قیصر اور آغا سجاد نے لیڈنگ رولز کیے تھے۔

    کراچی میں پلاٹینم جوبلی پنجابی فلمیں

    اسی سال کراچی میں دو پنجابی فلموں نے پہلی بار پلاٹینم جوبلی کی تھی۔ پہلی فلم ہدایتکار خلیفہ سعید کی انورا (1970ء) تھی۔ نغمہ ، اعجاز اور ساون مرکزی کردار تھے۔ دوسری فلم ہدایتکار وحید ڈار کی ماں پتر (1970) تھی جس میں فردوس ، سدھیر ، نبیلہ اور مظہرشاہ مرکزی کردار تھے۔

    ایک فلم بغیر ہیرو ہیروئن کے

    7 اگست 1970ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار وزیرعلی کی فلم ہم لوگ (1970) میں کوئی روایتی ہیرو ہیروئن نہیں تھے بلکہ دو بچے ، جگنو اور مراد ، مرکزی کردار تھے۔

    ایک فلم کی دو کہانیاں

    25 دسمبر 1970ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار شورلکھنوی کی اردو فلم چاند سورج (1970) دو مختلف کہانیوں پر مشتمل تھی۔ پہلے ہاف کے مرکزی کردار روزینہ اور وحیدمراد تھے جبکہ دوسرے ہاف کے شبانہ اور ندیم۔

    پہلے سینچری میکر موسیقار

    جی اے چشتی ، پاکستان کے پہلے موسیقار تھے جنھوں نے فلموں کی سینچری مکمل کی تھی۔
1971

مشرقی پاکستان کی علیحدگی

مشرقی پاکستان کی علیحدگی
    16 دسمبر 1971ء کو نو ماہ کی خونریز خانہ جنگی اور بھارتی مداخلت کے بعد جب جنرل نیازی نے ایک بہت بڑی فوجی شکست کے بعد ہتھیار ڈالنے کی شرمناک دستاویز پر دستخط کیے اور مشرقی پاکستان ، بنگلہ دیش بن گیا تو پاکستانی فلموں کا تیسرا فلمی سرکٹ ، "ڈھاکہ سرکٹ" بھی ختم ہو گیا تھا۔
    ڈھاکہ میں آخری اردو فلم ہدایتکار مستفیض کی پائل (1970) بنائی گئی لیکن موجودہ پاکستان میں ڈھاکہ کی آخری فلم ، ہدایتکار ظہیر ریحان کی مہربان (1971) ریلیز ہوئی تھی۔

    جاپان میں بنی ہوئی پہلی فلم

    4 جون 1971ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار جمیل اختر کی اردو فلم خاموش نگاہیں (1971) ، پاکستان کی پہلی فلم تھی جس کی شوٹنگ جاپان میں کی گئی تھی۔ روزینہ ، وحیدمراد اور منورظریف مرکزی کردار تھے۔

    لندن میں بنی پہلی پنجابی فلم

    20 نومبر 1971ء کو "متحدہ پاکستان" کی آخری عیدالفطر تھی جس پر ریلیز ہونے والی ہدایتکار حیدر چوہدری کی رنگین فلم پہلوان جی ان لندن (1971) پہلی پنجابی فلم تھی جس کی شوٹنگ لندن میں ہوئی تھی۔ ساون نے مرکزی کردار کیا تھا جبکہ نغمہ اور حبیب دیگر اہم کردار تھے۔
1972

پہلی ڈائمنڈ جوبلی پنجابی فلم

پہلی ڈائمنڈ جوبلی پنجابی فلم ظلم دا بدلہ (1972)
    15 ستمبر 1972ء کو نمائش پذیر ہونے والی پاکستان کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی پنجابی فلم ظلم دا بدلہ (1972ء) تھی۔ ہدایتکار کیفی اپنی اس فلم کے ہیرو بھی تھے اور عالیہ ، غزالہ اور اسد بخاری دیگر اہم کردار تھے۔

    پہلی پنجابی/پشتو ڈبل ورژن فلم

    30 جون 1972ء کو ریلیز ہونے والی پتر دا پیار (1972) پہلی پنجابی فلم تھی، جسے پشتو زبان میں بھی ڈب کیا گیا تھا۔ فردوس ، سدھیر اور سلمیٰ ممتاز اہم کردار تھے۔

    پہلی رنگین پشتو فلم

    15 دسمبر 1972ء کو ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی رنگین پشتو فلم علاقہ غیر (1972) تھی۔ ہدایتکار عنایت اللہ خان کی اس فلم کے مرکزی کردار ثریا خان اور بدرمنیر تھے۔

    رقاصہ نگو کا قتل

    5 جنوری 1972ء کو فلموں کی معروف رقاصہ نگو کو اس کے خاوند نے ذاتی وجوہات کی بنا پر قتل کر دیا تھا۔
1973

پہلی سرائیکی فلم

پاکستان کی پہلی سرائیکی فلم دھیاں نمانیاں (1973)
    7 دسمبر 1973ء کو صوبہ پنجاب کے جنوب مغربی علاقوں میں بولی جانے والی پنجابی زبان کی ایک بولی ، سرائیکی میں پہلی فلم دھیاں نمانیاں (1973) ریلیز ہوئی۔ فلمساز ، ہدایتکار اور گلوکار عنایت حسین بھٹی ، اپنی اس فلم میں خانم کے ساتھ مرکزی کردار میں تھے۔

    پہلی گولڈن جوبلی پشتو فلم

    28 دسمبر 1973ء کو ریلیز ہونے والی گولڈن جوبلی پشتو فلم اوربل (1973ء) ، پشاور میں گولڈن جوبلی کرنے والی پہلی فلم تھی۔ ہدایتکار ممتاز علی خان کی اس یادگار فلم میں بدرمنیر ، یاسمین خان ، آصف خان اور نعمت سرحدی مرکزی کرداروں میں تھے۔

    ایک فلم کے تین ہدایتکار

    23 نومبر 1973ء کو ریلیز ہونے والی اردو فلم ایک تھی لڑکی (1973) میں رانی اور شاہد تھے لیکن اس فلم کے تین ہدایتکار تھے ، حسن طارق ، احتشام اور شریف نیر ، پھر بھی یہ ایک ناکام فلم تھی۔
1974

پاکستان کی پہلی فلم پالیسی

    28 جولائی 1974ء کو بھٹو حکومت نے پہلی بار فلم انڈسٹری کی فلاح و بہبود کے لیے پاکستان کی پہلی فلم پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ایک قومی ادارہ نیشنل فلم ڈویلپمنٹ کارپوریشن NAFDEC کے نام سے قائم کیا جس نے قلیل مدت چند بڑے بڑے کام کیے۔ فلمسازوں کو سہولتیں فراہم کیں۔ سرکاری خرچ پر فلمیں اور سینما بنائے ، بیرون ملک فلموں کی نمائش کا بندوبست کیا اور فلمی میلے منعقد کروائے۔ فلم ایوارڈز بھی دیے لیکن بعد میں دیگر قومی اداروں کی طرح یہ ادارہ بھی تباہ ہوا اور جنرل مشرف کے دور میں مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔
    فلم ٹائیگر گینگ (1974)

    پاکستان کی پہلی بین الاقوامی فلم

    29 مارچ 1974ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار اقبال شہزاد کی فلم ٹائیگر گینگ (1974) ، پاکستان کی پہلی فلم تھی جو جرمنی اور اٹلی کے تعاون سے بنائی گئی تھی جس میں زیبا اور محمدعلی کے علاوہ بہت سے بین الاقوامی اداکار بھی تھے۔

    کراچی میں پہلی ڈائمنڈ جوبلی پنجابی فلم

    23 اگست 1974ء کو ریلیز ہونے والی خطرناک (1974ء) ، پہلی پنجابی فلم تھی جس نے کراچی میں ڈائمنڈ جوبلی کی تھی۔ ہدایتکار رحمت علی کی اس بدنام زمانہ فلم میں یوسف خان ہیرو تھے جبکہ نیلو کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہوا کہ وہ واحد اداکارہ ہے کہ جس کی اردو اور پنجابی فلموں نے ڈائمنڈ جوبلیاں منائی تھیں۔

    پہلی سندھی/پنجابی ڈبل ورژن فلم

    18 اکتوبر 1974ء کو نمائش کے لیے پیش کی جانے والی سندھی فلم غیرت جو سوال (1974) پہلی ڈبل ورژن سندھی/پنجابی فلم تھی جس کا پنجابی ورژن شہ زور (1976) کی صورت میں 19 نومبر 1976ء کو پیش کیا گیا تھا۔ عشرت چوہدری اور کیفی مرکزی کردار تھے۔ 1974ء میں ایک بار پھر سو سے زائد فلمیں ریلیز ہوئیں۔
1975

پرتشدد پنجابی فلموں کا دور

فلم وحشی جٹ (1975)
    8 اگست 1975ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار حسن عسکری کی ایکشن فلم وحشی جٹ (1975) نے پنجابی فلموں کو پرتشدد بنا دیا تھا۔ ممتاز ادیب احمد ندیم قاسمی کے افسانہ "گنڈاسا" پر بننے والی اس پرتشدد فلم کا ٹائٹل رول سلطان راہی نے کیا جو ان کی پہچان بن گیا تھا۔

    اردو فلموں کا سنہرا دن

    یکم اگست 1975ء کو کراچی میں ایک ہی دن میں دو ڈائمنڈ جوبلی فلمیں ، ہدایتکار ایس سلیمان کی اناڑی اور ہدایتکار پرویز ملک کی پہچان (1975) ریلیز ہوئیں۔ ان دونوں فلموں میں اردو فلموں کی مقبول ترین جوڑی شبنم اور ندیم موجود تھے۔

    پہلی اردو/پشتو ڈبل ورژن فلم

    12 دسمبر 1975ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار ممتاز علی خان کی فلم دلہن ایک رات کی (1975) پہلی اردو/پشتو ڈبل ورژن فلم تھی۔ بدرمنیر کی یہ اکلوتی اردو فلم ہے جس نے ڈائمنڈ جوبلی منائی تھی۔

    فلم اللہ اکبر

    31 اکتوبر 1975ء کو ایک ڈاکومنٹری فلم اللہ اکبر (1975) ریلیز ہوئی۔ ہدایتکار رفیق چمن کی اس فلم میں اداکار محمدعلی کی آواز میں متبرک مقامات پر کمنٹری کے علاوہ مختلف قاری حضرات کی تلاوت قرآن پاک بھی سننے کو ملتی ہے۔
1976

منور ظریف کا انتقال

منور ظریف
    29 اپریل 1976ء کو پاکستان کے ممتاز کامیڈین منورظریف کا اچانک انتقال ہوگیا تھا۔۔!
    ایک ایکسٹرا اداکار سے ایک لیجنڈری کامیڈین بنے اور پھر فلموں میں ہیرو بھی آئے۔ موت کے بعد سب سے زیادہ یاد کیے گئے۔ پہلے اداکار تھے جن کو ایسے فلمی پوسٹروں پر بھی نمایاں کیا جاتا تھا جن میں معمولی کرداروں میں ہوتے لیکن باقی کاسٹ پر بھاری ہوتے تھے۔

    پاکستان کی پہلی انگلش فلم

    پاکستان کی پہلی انگلش فلم Beyond The Last Mountain (1976)
    17 دسمبر 1976ء کو پاکستان میں پہلی انگریزی فلم Beyond The Last Mountain (1976) ریلیز ہوئی جس کا اردو ورژن مسافر (1976) تھا۔ فلمساز ، ہدایتکار ، مصنف اور سینٹ کے ایک ممبر جاوید جبار کی سرکاری خرچہ پر بنائی گئی اس فلم میں عثمان پیرزادہ اور شمیم احمد نامی اداکارہ ، مرکزی کرداروں میں تھے۔

    پاکستان اور سری لنکا کی پہلی مشترکہ فلم

    13 اگست 1976ء کو پاکستان اور سری لنکا کی پہلی مشترکہ پروڈکشن فلم سازش (1976) ریلیز ہوئی جس میں سری لنکا سے مالنی اور پاکستان سے عثمان پیرزادہ ، مرکزی کرداروں میں تھے۔

    پاکستان کی پہلی بلوچی فلم

    پاکستان کی پہلی بلوچی فلم ہمل و ماگنج ، 1976ء میں بن چکی تھی لیکن بلوچوں کے احتجاج کے باعث ریلیز نہ ہوسکی تھی۔ 2017ء میں نمائش کے لیے پیش کی جانے والی اس فلم کے ہدایتکار انور اقبال ، انیتا گل نامی اداکارہ کے ساتھ ہیرو تھے۔
1977

فلم آئینہ کے 401 ہفتے

فلم آئینہ (1977)
    18 مارچ 1977ء کو نمائش پذیر ہونے والی فلم آئینہ (1977ء) نے کراچی میں 401 ہفتے چلنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ اسی فلم نے کراچی کے کسی بھی مین تھیٹر پر سب سے زیادہ یعنی 48 ہفتے چلنے کا ریکارڈ بھی قائم کیا تھا۔ ہدایتکار نذرالاسلام کی اس تاریخی فلم میں شبنم اور ندیم اہم کردار تھے۔

    ایک فلم کے نو موسیقار

    21 اکتوبر 1977ء کو ہدایتکار مسعود پرویز کی ریلیز ہونے والی اردو فلم انسان (1977) میں کچھ کم نہیں ، 9 موسیقار تھے جن میں سے 7 موسیقاروں نے ایک ایک گیت کمپوز کیا تھا جبکہ دو موسیقاروں نے بیک گراؤند موسیقی دی تھی۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ اس فلم کے ساتوں گیت مہناز نے گائے تھے جو اس وقت اردو فلموں کی مقبول ترین گلوکارہ تھی۔ بابرہ شریف اور شاہد کی جوڑی تھی۔

    سیاسی عدم استحکام

    مسلسل تین سال تک سو سے زائد فلموں کی ریلیز کے بعد اس سال صرف 80 فلمیں ریلیز ہو سکیں جس کی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام تھا۔ اگلے سال پھر سو فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔
1978

اعجاز سمگلنگ اور شبنم ریپ کیس

1979

مولا جٹ کی کامیابی کا راز

فلم مولا جٹ (1979)
    9 فروری 1979ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار یونس ملک کی پنجابی فلم مولا جٹ (1979) نے باکس آفس پر غیرمعمولی کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کی بڑی وجہ معیار سے زیادہ ایک شاطر اور مکار فلمساز تھا جس نے فلم میں ایسے غیرسنسر شدہ ٹکڑے شامل کیے جن میں انسانی اعضاء بڑی بیدردی سے کاٹے جاتے ہیں۔ ایسے بھیانک مناظر دیکھنے کے لیے لوگ جوق در جوق سینماؤں پر ٹوٹ پڑے۔ یہی وجہ تھی کہ اس فلم نے اپنے مین تھیٹر پر سولو ڈائمنڈ جوبلی کی یعنی ایک ہی سینما پر مسلسل دو سال تک زیرنمائش رہی تھی۔ اس ٹرینڈ میکر فلم میں سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی مرکزی کردار تھے۔

    موشن پکچرز آرڈیننس مجریہ 1979ء

    3 ستمبر 1979ء کو حکومت پاکستان نے ایک غیرمعمولی گزٹ جاری کیا جس میں "سنسر شپ آف فلمز ایکٹ مجریہ 1963ء" میں ترامیم کرتے ہوئے "موشن پکچرز آرڈیننس مجریہ 1979ء" نافذ کیا جس میں فلمسازوں کو رجسٹریشن کا پابند کرنے کے علاوہ سنسر پالیسی کو مزید سخت کر دیا گیا تھا۔ اس ایکٹ میں بطور خاص فلم مولا جٹ (1979) کا ذکر بھی تھا جس کا فلمساز ، فلم پر پابندی کے خلاف حکم امتناعی حاصل کرتا رہا جس کو ایک مارشل لاء آرڈر کے تحت ختم کر کے اس پرتشدد فلم پر پابندی لگائی گئی تھی۔

    متبادل تفریح

    3 نومبر 1979ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار حیدرچوہدری کی فلم دبئی چلو (1979) نے ننھا اور علی اعجاز کی کامیڈی جوڑی کو بطور ہیرو متعارف کروایا تھا جو ایکشن پنجابی فلموں کے مقابلے میں ہلکی پھلکی فلموں کی متبادل تفریح ثابت ہوئی تھی۔

    سرکاری فلم کی ناکامی

    23 مارچ 1979ء کو قیام پاکستان کے موضوع پر سرکاری خرچ پر بنائی گئی ہدایتکار مسعود پرویز کی فلم خاک و خون (1979) بری طرح سے ناکام رہی تھی۔ نوین تاجک اور شجاعت ہاشمی مرکزی کردار تھے۔
1980

جنرل ضیاع کی ذلالت

    23 مئی 1980ء کو جنرل ضیاع مردود کی خصوصی اجازت سے چند پرانی بھارتی فلموں کے علاوہ ایک نئی فلم کشش (1980) کو پاکستان میں ریلیز کیا گیا تھا۔ بعد میں ہائی کورٹ نے مزید پرانی بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت دے دی تھی۔ روایت ہے کہ ایک پرانی بھارتی فلم نورجہاں (1967) نے کراچی میں ڈائمنڈ جوبلی کی تھی۔
    پاکستان پر قابض وقت کا ذلیل ترین حکمران جنرل ضیاع مردود خود بھی بھارتی فلموں کا بہت بڑا رسیا تھا اور اس کا زیادہ تر وقت وی سی آر پر بھارتی فلمیں دیکھنے میں گزرتا تھا۔ ایک تھرڈ کلاس بھارتی اداکار اس کے گھر کا فرد بنا ہوا تھا جو ایک انتہا پسند ہندو جماعت کا رکن بھی تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی اداکار نے اپنی پہلی ہی فلم میں ایک شرابی پاکستانی فوجی افسر کا رول کیا تھا۔ شاید اس کی یہی ادا ، آمرمردود کو پسند آگئی تھی؟

    پاکستان کی پہلی ہندکو فلم

    20 اکتوبر 1980ء کو صوبہ خیبر پختونخواہ کے صوبہ پنجاب سے ملحق ہزارہ ڈویژن میں بولی جانے والے پنجابی زبان کی ایک شاخ ، ہندکو میں پہلی فلم قصہ خوانی (1980) بنائی گئی جس میں سلطان راہی اور یاسمین خان مرکزی کرداروں میں تھے۔ قتیل شفائی فلمساز اور ان کے بیٹے ہدایتکار تھے۔
1981

فلمی کاروبار کے انتہائی عروج کا دور

فلم شیرخان (1981)
    2 اگست 1981ء کی عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی تین پنجابی فلمیں، شیر خان ، سالا صاحب اور چن وریام (1981) ، ایک ہی دن ریلیز ہوئیں اور تینوں فلموں نے ڈائمنڈ جوبلیاں منانے کا منفرد ریکارڈ قائم کیا۔ یہ تینوں فلمیں ، تین آمنے سامنے کے سینماؤں (نغمہ ، میٹروپول ، گلستان) میں مسلسل ایک سال سے زائد عرصہ تک چلتی رہیں۔ فلموں کی بڑی بڑی جوبلیوں کی وجہ سے لاہور میں نئی فلموں کی ریلیز کے لیے سینما کم پڑ گئے تھے۔

    محمدعلی اور پنجابی فلمیں

    روایت ہے کہ فلم شیر خان (1981) کا ٹائٹل رول پہلے اردو فلموں کے عظیم اداکار محمدعلی صاحب کو آفر ہوا تھا لیکن انھوں نے انکار کردیا تھا۔ انھیں مزید مواقع ملے۔ فلم وڈا خان (1983) اور ہیبت خان (1984) میں ٹائٹل رولز کیے لیکن اپنی مایوس کن کارکردگی سے پنجابی فلم بینوں کو متاثر نہیں کر سکے تھے۔

    پاکستان کی دو ہزار فلمیں

    1981ء میں 33 سال بعد پاکستان میں بننے والی فلموں کی کل تعداد دو ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ پہلی ہزار فلمیں 22 برسوں میں بنیں لیکن دوسری ہزار فلمیں صرف 11 برسوں میں بن گئی تھیں جس سے فلمی کاروبار کے انتہائی عروج کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
1983

شبنم اور ندیم کی آخری ڈائمنڈ جوبلی فلم

فلم دہلیز (1983)
    22 اپریل 1983ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار محمد جاوید فاضل کی فلم دہلیز (1983) ، اردو فلموں کی مقبول ترین جوڑی شبنم اور ندیم کی آخری ڈائمنڈ جوبلی فلم تھی۔ یہی فلم نغمات کے لحاظ سے مہدی حسن کی آخری اہم فلم بھی تھی۔

    پشتو فلموں کی برتری

    پاکستان کی فلمی تاریخ میں پہلی بار پشتو فلموں کی تعداد ، اردو فلموں سے زیادہ ہوگئی تھی۔

    کو پروڈکشن فلموں کا آغاز

    اردو فلموں کے زوال کی وجہ سے دیگر ممالک سے مشترکہ فلمیں بنانے کا رحجان شروع ہوا۔ اس سال فلم لو سٹوری (1983) میں کینیا اور کبھی الوداع نہ کہنا (1983) میں سری لنکا کے تعاون سے اردو فلمیں بنائی گئیں۔

    وحید مراد کا حسرتناک انجام

    23 نومبر 1983ء کو رومانٹک اردو فلموں کے سپرسٹار ہیرو ، وحیدمراد کی اچانک موت نے انھیں فلمی میڈیا کی حد تک نئی حیات بخش دی تھی۔ اپنے آخری وقت میں اپنے پرائے سبھی چھوڑ چکے تھے اور وہ ایک بھولی ہوئی داستان اور گزرا ہوا خیال بن چکے تھے۔۔!
1984

اقبال حسن ، جان بحق

    14 نومبر 1984ء کو ایک ٹریفک حادثہ میں پنجابی فلموں کے مقبول فنکار اقبال حسن جان بحق ہوئے۔ وہ اپنے فلمی کیرئر کے انتہائی عروج پر تھے۔ ان کے ساتھ زخمی اسلم پرویز بھی ایک ہفتہ بعد انتقال کر گئے تھے۔

    پاکستان اور بنگلہ دیش کی مشترکہ فلمسازی

    30 جون 1984ء کو پاکستان اور بنگلہ دیش کی پہلی مشترکہ فلم بسیرا (1984) ریلیز ہوئی۔ بنگالی ہدایتکار احتشام کی اس فلم میں ان کے داماد ، اداکار ندیم کی ہیروئن شبانہ تھی جو اب مشرقی پاکستان کی نہیں ، بنگلہ دیش کی اداکارہ تھی۔۔!

    پہلے قومی فلم ایوارڈز

    28 دسمبر 1984ء کو پاکستان میں پہلی بار "قومی فلم ایوارڈز" کی تقریب منعقد ہوئی جس میں 1983ء کی فلموں کو ایوارڈز دیے گئے تھے۔
1986

ننھا کی خودکشی

اداکار ننھا
    2 جون 1986ء کو ممتاز کامیڈین ننھا کی اچانک خودکشی کی خبر نے فلم بینوں کو ششدر کر دیا تھا۔۔!
    سلطان راہی کی ایکشن فلموں کی اجارہ داری کے دور میں ننھا اور علی اعجاز کی جوڑی کی ہلکی پھلکی سوشل کامیڈی فلموں نے مثالی کامیابیاں حاصل کی تھیں۔

    منشیات پر بنی ہوئی ایک فلم

    11 اپریل 1986ء کو ہدایتکار حیدر چوہدری کی پنجابی فلم جورا (1986) ریلیز ہوئی جس کا موضوع پاکستانی معاشرے میں منشیات کا بے دریغ استعمال تھا۔ ایک ٹی وی ڈرامے "رگوں میں اندھیرا" سے ماخوذ اس فلم میں اس وقت کے سب سے بڑے مسئلے کو اجاگر کیا گیا جب ہیروئن اور کلاشنکوف کے سمگلر بلا خوف و خطر ہر طرف دندناتے پھرتے تھے۔ 1978ء کے بعد 1986ء میں ایک بار پھر سو فلمیں ریلیز ہوئیں۔
1987

شبنم کی پہلی پنجابی فلم

    7 اگست 1987ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار صفدرحسین کی فلم مالکا (1987) کی اہمیت یہ تھی کہ اردو فلموں کی سپرسٹار اداکارہ شبنم کی یہ پہلی پنجابی فلم تھی جس میں اس کے ہیرو یوسف خان تھے۔

    سدھیر کی آخری فلم

    اتفاق سے اسی دن پاکستان کے پہلے سپرسٹار ہیرو سدھیر کی آخری فلم سن آف ان داتا (1987) بھی ریلیز ہوئی تھی۔ وہ ، پاکستان کی فلمی تاریخ کے واحد فنکار ہیں جو اپنے چالیس سالہ فلمی کیرئر میں ہمیشہ مرکزی کرداروں میں کاسٹ ہوئے تھے۔
1988

ندیم کی پہلی پنجابی فلم

    25 جولائی 1988ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار اقبال کاشمیری کی نغماتی فلم مکھڑا (1988) کی سب سے بڑی اہمیت یہ تھی کہ یہ اردو فلموں کے سپرسٹار ندیم کی پہلی پنجابی فلم تھی جس کے ہیرو اور فلمساز بھی وہ خود ہی تھے۔ بابرہ شریف ، ہیروئن تھی۔
    VCR پر بھارتی فلموں اور ایکشن پنجابی فلموں نے مڈل کلاس اور اردو فلم بینوں کو سینما گھروں سے دور کر دیا تھا۔ ایسے میں پاکستانی اردو فلموں کے زوال کے دور میں شبنم کے بعد ندیم نے بھی پنجابی فلموں میں قسمت آزمائی کی لیکن دونوں ناکام رہے۔
1989

ڈبل ورژن پنجابی/اردو فلمیں

    7 مئی 1989ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار نذرالاسلام کی فلم میڈم باوری (1989) ، پاکستان کی پہلی ڈبل ورژن پنجابی/اردو فلم تھی۔ یہ سلسلہ اتنا کامیاب ہوا کہ 1990ء کی دھائی میں ڈیڑھ سو سے زائد فلمیں پنجابی سے اردو میں ڈب کر کے کراچی سرکٹ میں پیش کی گئی تھیں۔
    پاکستان کی پہلی سائنس فکشن فلم شانی (1989)

    پہلی سائنس فکشن فلم

    10 مارچ 1989ء کو ہدایتکار سعید رضوی کی فلم شانی (1989) ، پاکستان کی پہلی سائنس فکشن فلم تھی جس میں بابرہ شریف اور شیری ملک مرکزی کردار تھے۔

    آخری بار ایک سال میں سو فلمیں

    1989ء میں آخری بار ایک کیلنڈر ائر میں سو فلمیں ریلیز ہوئیں۔ پاکستان کی 75 سالہ فلمی تاریخ میں 9 بار ایک سال میں سو سے زائد فلمیں ریلیز ہوئی تھیں جن میں سے دو بار کی ہٹ ٹرکس بھی شامل ہیں۔
1990

انٹرنیشنل گوریلے

    27 اپریل 1990ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار جان محمد جمن کی فلم انٹرنیشنل گوریلے (1990) کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی تھی۔ یہ فلم ملعون سلمان رشدی کے خلاف بنائی گئی اور افضال احمد نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

    آخری بڑے فلمی فنکاروں کی آمد

    اسی سال اگلی دو دھائیوں کے ممتاز فنکاروں ، صائمہ (فلم خطرناک 1990ء) ، شان اور ریما (فلم بلندی ، 1990ء) کی آمد ہوئی جو روایتی فلمی فنکاروں کی آخری بڑی کھیپ تھے۔
1991

پشتو فلموں کی اجارہ داری

    1991ء میں اردو فلموں کے زوال کی انتہا ہوگئی تھی جب پورے سال میں صرف چھ خالص اردو فلمیں ریلیز ہوئیں۔ اس سال پنجابی فلموں سے بھی زیادہ پشتو فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔
1992

تین ہزار فلمیں مکمل

    1992ء میں پاکستان میں بننے والی کل فلموں کی تعداد 44 برسوں میں تین ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ ایک بار پھر ایک ہزار فلمیں صرف گیارہ برسوں میں مکمل ہوئیں جو پنجابی اور پشتو فلموں کے انتہائی عروج کا دور تھا لیکن اردو فلمیں زوال پذیر تھیں۔
1995

لاہور میں پہلی ڈائمنڈ جوبلی اردو فلم

لاہور میں پہلی ڈائمنڈ جوبلی اردو فلم منڈا بگڑا جائے (1995)
    14 اپریل 1995ء کو لاہور میں پہلی ڈائمنڈ جوبلی اردو فلم منڈا بگڑا جائے (1995ء) ریلیز ہوئی تھی۔ ہدایتکارہ شمیم آراء کی یہی پہلی فلم تھی جس نے بیک وقت لاہور اور کراچی میں ڈائمنڈ جوبلیاں کی تھیں۔ ریما ، بابرعلی ، جان ریمبو اور شفقت چیمہ مرکزی کردار تھے۔

    اداکارہ نادرہ کا قتل

    6 اگست 1995ء کو پنجابی فلموں کی ایک نامور ہیروئن نادرہ کو قتل کر دیا گیا تھا۔ مبینہ طور پر یہ اس کے کسی عاشق کی کارستانی تھی۔
1996

سلطان راہی کا قتل

سلطان راہی
    9 جنوری 1996ء کو ایکشن پنجابی فلموں کے بے تاج بادشاہ ، اداکار سلطان راہی کو نامعلوم افراد نے جی ٹی روڈ پر قتل کردیا تھا۔ مجرمان کا سراغ آج تک نہیں لگایا جا سکا۔ اس قتل نے پنجابی فلموں کا جنازہ نکال کر رکھ دیا تھا جو گزشتہ دو دھائیوں سے ایک ہی شخص کے گرد گھوم رہی تھیں۔

    اردو فلموں کی واپسی

    اسی سال متعدد اردو فلموں کو خاصی کامیابی ملی لیکن ایک وقتی بلبلہ ثابت ہوئی تھیں۔
1998

پنجابی فلموں کا نیا دور

فلم چوڑیاں (1998)
    16 اکتوبر 1998ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار سیدنور کی فلم چوڑیاں (1998) نے کامیابیوں کے نئے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے پنجابی فلموں میں نئی جان ڈال دی تھی۔ اس میگا ہٹ ڈائمنڈ جوبلی نغماتی رومانٹک فلم کے مرکزی کردار صائمہ اور معمررانا تھے۔

    صائمہ اور شان کی جوڑی

    اسی سال کی پنجابی فلم پردیسی (1998) سے صائمہ اور شان کی کامیاب جوڑی کا آغاز ہوا۔ ان دونوں نے سو سے زائد فلموں میں ایک ساتھ کام کیا تھا۔

    فلم جناح کی ناکامی

    اسی سال پاکستانی سرمائے سے ہالی وڈ میں بنائی گئی فلم "جناح" (1998) بری طرح سے ناکام ہوئی تھی۔ کرسٹوفرلی نے ٹائٹل رول کیا تھا۔
1999

پچاس سے کم سالانہ فلمیں

    1963ء کے بعد 35 سال بعد 1999ء میں 50 سے بھی کم فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔
2003

ڈیجیٹل سینماؤں کی آمد

    2003ء میں کراچی میں ڈیجیٹل سینماؤں کی آمد ہوئی اور کلفٹن میں "یونیورسل سنے پلیکس" کا افتتاح ہوا تھا۔
2005

سینماؤں کی بندش

    پاکستان میں روایتی سینماؤں کی بندش کا رحجان تیز تر ہو گیا تھا۔ کراچی میں کبھی سوا سو کے قریب سینما گھر ہوتے تھے لیکن 2005ء میں صرف 34 باقی رہ گئے تھے۔ لاہور کے بھی متعدد مشہور سینما گھر جیسے نغمہ ، رٹز ، مبارک ، رتن ، ریجنٹ ، پیلس اور محفل وغیرہ بھی بند ہو گئے تھے۔

    پاکستان کا پہلا فلمی ٹی وی چینل

    یکم فروری 2005ء کو پاکستان کے پہلے فلمی سیٹلائٹ ٹی وی چینل Filmazia کا آغاز ہوا تھا۔
2006

بھارتی فلموں کی ایک بار پھر نمائش

    Mughal-e-Azam in Pakistan
    1980ء کے بعد عرصہ 26 سال بعد 2006ء میں ایک بار پھر پاکستانی سینماؤں میں بھارتی فلموں کی نمائش کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔
    23 اپریل 2006ء کو گلستان سینما لاہور میں ریلیز ہونے والی کلاسک فلم مغل اعظم (1960) پہلی فلم تھی جو بری طرح سے ناکام ہوئی تھی۔ پلازا سینما لاہور میں ریلیز ہونے والی میڈم نور جہاں کی پوتی سونیا جہاں کی بھارتی فلم تاج محل (2005) بھی بری طرح سے فلاپ ہوئی تھی۔
    بھارتی فلموں کی نمائش کا یہ سلسلہ اگلے تیرہ سال تک یعنی 2019ء تک جاری رہا جب بھارت نے یکطرفہ کاروائی کرتے ہوئے کشمیر کا مسئلہ مستقل طور پر حل کر دیا تھا۔ تب سے اب تک راوی سکون ہی سکون لکھتا ہے۔

    فلم مجاجن کی مثالی کامیابی

    24 مارچ 2006ء کو ریلیز ہونے والی اس دھائی کی سب سے بڑی فلم مجاجن (2006) نے لاہور میں 300 ہفتے چلنے کا اعزاز حاصل کیا۔ پاکستان کی یہ اکلوتی فلم ہے جس نے بھارتی فلموں کے مقابلے میں خالص ڈائمنڈ جوبلی منائی تھی۔ ہدایتکار سیدنور کی اس رومانٹک اور نغماتی فلم میں صائمہ اور شان مرکزی کردار تھے۔
2007

ڈیجیٹل فلموں کا دور

    20 جولائی 2007ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار شعیب منصور کی فلم خدا کے لیے (2007) ، پاکستان کی پہلی ڈیجیٹل فلم تھی۔ شان اور ایمان علی مرکزی کردار تھے۔
2010

صوبائی سنسر بورڈز

    8 اپریل 2010ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے 18ویں آئینی ترمیم منظور کی جس میں تمام صوبوں کے اپنے خودمختار سنسر بورڈز قائم ہوئے۔
2011

چار ہزار فلمیں مکمل

    2011ء میں عرصہ 63 سال بعد پاکستان میں بننے والی کل فلموں کی تعداد چار ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کی پہلی ہزار فلموں کی تکمیل کے لیے 22 سال کا طویل عرصہ لگا لیکن اگلی دو ہزار فلموں کے لیے صرف گیارہ گیارہ سال لگے۔ گویا 1970ء سے 1990 کی دھائی تک انتہائی عروج کا دور تھا۔ پھر اگلی ہزار فلموں کے لیے 19 سال کا عرصہ درکار ہوا جو فلمی کاروبار کے زوال کا ثبوت تھا۔
2012

سینما گھروں کی تباہی

    سینما گھروں کی تباہی
    21 ستمبر 2012ء کو مشتعل ہجوم نے ایک اسلام مخالف امریکی فلم کے خلاف احتجاج کے طور پر کراچی کے نشاط ، کیپری ، پرنس اور بمبینو سینماؤں کے علاوہ پشاور کے متعدد سینماؤں کو بھی توڑ پھوڑ اور آتشزدگی سے نقصان پہنچایا جن میں فردوس ، شمع اور کیپٹل سینما شامل تھے۔ اسی دن کوئٹہ کے ڈیلائٹ سینما کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

    صرف 11 فیصد فلم بین

    2012ء کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں صرف 11 فیصد لوگ فلمیں دیکھتے تھے جن میں سے صرف 34 لاکھ یا 17 فیصد ہر ہفتے فلم دیکھا کرتے تھے۔
2019

بھارتی فلموں کی نمائش پر ایک بار پھر پابندی

    5 اگست 2019ء کو بھارتی حکومت نے ایک آئینی ترمیم کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے ریاست کو دو حصوں ، جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرتے ہوئے مرکز میں ضم کر دیا تھا۔ ان میں پاکستانی کشمیر اور گلگت و بلتستان کے علاقے بھی شامل ہیں۔ "جنرل باجوہ کی ہائبرڈ حکومت" اور اس کا کٹھ پتلی وزیراعظم عمران خان بے بسی کی تصویر بنے محض تماشا دیکھتے رہے۔ ہر جمعہ کو نہ صرف احتجاج کا اعلان کیا گیا بلکہ اس دن ریلیز ہونے والی بھارتی فلموں پر پابندی بھی لگا دی گئی تھی۔
    2006ء سے 2019ء تک بھارتی فلمیں مسلسل 13 برسوں تک پاکستانی سینماؤں میں چلتی رہیں۔ مجموعی طور پر پاکستان میں بھارتی فلمیں 32 سال تک دکھائی جاتی رہیں۔
2022

مولا جٹ کی واپسی

فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ (2022)
2023

ایک فلم ، تین کہانیاں

    29 جون 2023ء کو ریلیز ہونے والی فلم "تیری میری کہانیاں" ، تین مختلف کہانیوں پر مشتمل فلم تھی جس کے تین ہدایتکار ، نبیل قریشی ، مرینہ خان اور ندیم بیگ تھے جبکہ تین ہی رائٹرز بھی تھے ، خلیل الرحمان قمر ، واسے چوہدری اور علی عباس نقوی۔ کراچی ٹی وی کے فنکاروں نے اس فلم میں کام کیا تھا۔


Behrupia
Behrupia
(1960)
Roti
Roti
(1988)
Saperan
Saperan
(1961)
Bobby
Bobby
(1984)
Mujahid
Mujahid
(1978)
Susral
Susral
(1977)

Laray
Laray
(1950)
Ann Daata
Ann Daata
(1976)
Akhar
Akhar
(1976)

Alam Ara
Alam Ara
(1931)
Mubarak
Mubarak
(1941)
Kurmai
Kurmai
(1941)



241 فنکاروں پر معلوماتی مضامین




PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.