A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana
مسعودرانا کا فنی سفر
مسعودرانا کے 241 ساتھی فنکاروں پر معلوماتی مضامین
26 ..... گلوکار
- زبیدہ خانم
- علی بخش ظہور
- منور سلطانہ
- مسعود رانا
- عنایت حسین بھٹی
- حامدعلی بیلا
- فضل حسین
- تصورخانم
- اعظم چشتی
- رونا لیلیٰ
- آصف جاوید
- نگہت سیما
- ملکہ ترنم نور جہاں
- نذیر بیگم
- سائیں اختر
- سلیم رضا
- روبینہ بدر
- نسیم بیگم
- شوکت علی
- مالا
- احمد رشدی
- نسیمہ شاہین
- منیر حسین
- آئرن پروین
- محمد رفیع
- مہدی حسن
32 ..... نغمہ نگار
- حکیم احمد شجاع
- شیون رضوی
- سلطان محمود آشفتہ
- سلیم کاشر
- طفیل ہوشیارپوری
- کلیم عثمانی
- اسماعیل متوالا
- اختریوسف
- ظہیر کاشمیری
- تسلیم فاضلی
- ریاض الرحمان ساغر
- منظورجھلا
- سعیدگیلانی
- صہبااختر
- ظہورناظم
- خواجہ پرویز
- مظفروارثی
- ساحل فارانی
- قتیل شفائی
- سرور بارہ بنکوی
- حبیب جالب
- احمد راہی
- تنویر نقوی
- بابا عالم سیاہ پوش
- حزیں قادری
- مشیر کاظمی
- موج لکھنوی
- منیر نیازی
- وارث لدھیانوی
- مسرور انور
- حمایت علی شاعر
- فیاض ہاشمی
44 ..... موسیقار
- راگنی
- رفیق غزنوی
- ماسٹر غلام حیدر
- طافو
- اعظم بیگ
- مشتاق علی
- امجدبوبی
- غلام حسین شبیر
- وجاہت عطرے
- علی حسین
- اے حمید
- کریم شہاب الدین
- صفدرحسین
- وزیر افضل
- ناشاد
- کمال احمد
- رحمان ورما
- حسن لطیف
- روبن گھوش
- نذیرجعفری
- نذیرعلی
- سیف چغتائی
- خواجہ خورشید انور
- سلیم اقبال
- اخترحسین اکھیاں
- غلام نبی ، عبداللطیف
- طفیل فاروقی
- ماسٹر عنایت حسین
- ماسٹر عبد اللہ
- سہیل رعنا
- خلیل احمد
- فیروز نظامی
- بخشی وزیر
- خان عطا الرحمان
- ماسٹر عاشق حسین
- نثار بزمی
- ماسٹر تصدق حسین
- ماسٹر رفیق علی
- رشید عطرے
- ایم اشرف
- لال محمد اقبال
- مصلح الدین
- جی اے چشتی
- دیبو بھٹا چاریہ
56 ..... ہدایتکار
- اے آر کاردار
- داؤد چاند
- نذرالاسلام
- آغا حسینی
- ایم صادق
- حسن عسکری
- اسلم ڈار
- قدیرغوری
- الطاف حسین
- ایم ایس ڈار
- شوکت حسین رضوی
- ایس ایم یوسف
- خواجہ سرفراز
- حمیدچوہدری
- آغا جی اے گل
- عزیز میرٹھی
- لقمان
- کے خورشید
- پرویز ملک
- ایم سلیم
- سیف الدین سیف
- بھائیا اے حمید
- خلیل قیصر
- اکبرعلی اکو
- ریاض احمد راجو
- وحیدڈار
- ریاض احمد
- افتخارخان
- ارشدکاظمی
- ظہیرریحان
- ایم اکرم
- الحامد
- ریاض شاہد
- نذیر
- انورکمال پاشا
- شریف نیر
- راجہ حفیظ
- مسعودپرویز
- ایم اے رشید
- ایس سلیمان
- رشیداختر
- منوررشید
- رفیق رضوی
- اقبال کاشمیری
- جمیل اختر
- جعفر بخاری
- شباب کیرانوی
- احتشام ، مستفیض
- ایس اے بخاری
- ایم جے رانا
- رضا میر
- حیدر چوہدری
- امین ملک
- اسلم ایرانی
- اقبال شہزاد
- حسن طارق
83 ..... اداکار
- ہمالیہ والا
- آشا پوسلے
- سنگیتا
- سلطان راہی
- آسیہ
- عمرشریف
- شبنم
- قوی
- افضل خان
- شاہد
- ننھا
- کیفی
- لیلیٰ
- ساقی
- ناصرہ
- علی اعجاز
- حسنہ
- ناہید
- اقبال حسن
- عالیہ
- رخسانہ
- ماسٹر مراد
- نسیمہ خان
- تانی
- الیاس کاشمیری
- شبانہ
- نبیلہ
- ایم اسماعیل
- روزینہ
- ندیم
- خلیفہ نذیر
- کمار
- سیما
- مسرت نذیر
- ساون
- آئٹم گرلز
- غزالہ
- دیبا
- زینت
- سلونی
- یاسمین
- منورظریف
- زیبا
- طلعت صدیقی
- حیدر
- اعجاز
- رانی
- زلفی
- ابو شاہ
- آصف جاہ
- سلمیٰ ممتاز
- نورمحمدچارلی
- شیریں
- یوسف خان
- علاؤالدین
- وحیدمراد
- فردوس
- شمیم آرا
- لہری
- مظہر شاہ
- طالش
- نغمہ
- رضیہ
- سنتوش کمار
- رنگیلا
- دلجیت مرزا
- اکمل
- اے شاہ
- نذر
- سدھیر
- حنیف
- طارق عزیز
- صبیحہ خانم
- محمد علی
- درپن
- امداد حسین
- البیلا
- اطہر شاہ خان
- نیلو
- نرالا
- اسد بخاری
- سید کمال
- حبیب
ریاض الرحمان ساغر
چالیس سال سے زائد عرصہ فلمی دنیا میں گزرانے کے باوجود ریاض الرحمان ساغر نے بہت کم کام کیا تھا۔۔!
ریاض الرحمان ساغر کی پہلی فلم ، ہدایتکار اور مصنف عزیز میرٹھی کی اردو فلم عالیہ (1967) تھی۔ موسیقار ماسٹرعنایت حسین کی دھن میں پہلا گیت تھا:
- کہو ، وعدہ ہوا ، رسم وفا ، ہر دم نبھانے کا۔۔
یہ ایک دوگانا تھا جسے احمدرشدی اور مالا نے گایا تھا اور فلم میں کمال اور شمیم آرا پر فلمایا گیا تھا۔
پہلا ہٹ گیت فلم شریک حیات (1968) میں تھا:
- میرے دل کے صنم خانے میں اک تصویر ایسی ہے ، جو بالکل آپ جیسی ہے۔۔
مسعودرانا کے گائے ہوئے اس گیت کی دھن اے حمید نے بنائی تھی۔
فلم شریک حیات (1968) کی یاد
اپنے ایک انٹرویو میں ساغرصاحب اس گیت کا پس منظر بیان کرتے ہیں کہ جب انھوں نے یہ گیت لکھا تو اس وقت تک فلم کا نام نہیں رکھا گیا تھا لیکن جب اس گیت کی ریکارڈنگ سے فلم کی افتتاحی تقریب ہوئی تو ان کے لکھے ہوئے مکھڑے "سنیئے ، بُرا نہ مانئیے ، سننے کی بات ہے ، درکار مجھ کو ایک 'شریکِ حیات' ہے۔۔" سے فلم کا نام منتخب کیا گیا تھا۔
اسی سال عزیز میرٹھی کی ایک اور فلم لالہ رخ (1968) میں ساغر صاحب نے ایک مزاحیہ گیت بھی لکھا تھا "دنیا تو جھکی ہے آج میرے یار کے آگے۔۔" مسعودرانا اور آئرن پروین کی آوازیں تھیں اور موسیقار سلیم اقبال صاحبان تھے۔
شباب کیرانوی کے ساتھ ریاض الرحمان ساغر کی جوڑی
ریاض الرحمان ساغر کے فلمی کیرئر میں ایک خوشگوار موڑ اس وقت آیا جب ان کا ساتھ معروف فلمساز ، ہدایتکار ، مصنف اور نغمہ نگار شباب کیرانوی کے ساتھ ہوا تھا۔ انھوں نے شباب صاحب اور ان کے دونوں صاحبزادوں ، ظفرشباب اور نذرشباب کی فلموں میں نہ صرف گیت لکھے بلکہ بیشتر فلموں کے مکالمے اور سکرین پلے وغیرہ بھی لکھے تھے۔ شمع (1974) ، نوکر (1975) ، شبانہ (1976) ، سسرال (1977) ، آواز (1978) وغیرہ چند بڑی بڑی فلمیں اس اشتراک میں بنی تھیں۔
فلم میری دوستی میرا پیار (1968) پہلی فلم تھی جس کے مکالموں کے علاوہ بیشتر گیت ساغرصاحب نے لکھے تھے۔
شباب صاحب ، فلمسازی میں بڑے دلیرانہ فیصلے کیا کرتے تھے۔ اس فلم میں انھوں نے ایک نیا تجربہ کیا تھا۔ دو ہیروئنوں میں سے ایک روزی نامی اداکارہ غالباً مشرقی پاکستان سے تعلق رکھتی تھی جو پاکستان کی پہلی رنگین فلم سنگم (1964) کی ہیروئن تھی جبکہ انارکلی ایک نیا چہرہ تھا جو پھر کبھی نظر نہیں آیا۔
اداکار مسعود اختر
فرسٹ ہیرو کے طور پر مسعوداختر کا نام تھا جو سٹیج کے ایک نامور اداکار تھے جو اسی سال کی فلم سنگدل (1968) میں ولن کے طور پر متعارف ہوئے تھے۔
سو سے زائد فلموں میں کام کرنے کے باوجود ہیرو کے طور پر کبھی کامیاب نہیں ہوئے اور زیادہ تر سیکنڈ ہیرو ، معاون اداکار یا ولن کے کرداروں میں نظر آتے تھے۔
اداکار زاہد خان
دوسرے ہیرو زاہدخان تھے جو فلم زمین (1965) میں پہلی بار نظر آئے تھے اور عام طور پر ایک معاون اداکار کے طور پر تین درجن سے زائد فلموں میں کام کیا تھا۔ انھیں اس فلم میں فرسٹ ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا تھا لیکن ناکام رہے۔
زاہدخان کی واحد پہچان فلم آنسو (1971) میں فردوس کے شوہر اور خانصاحب مہدی حسن کے مشہور زمانہ گیت "جان جان ، تو جو کہے ، گاؤں میں گیت نئے۔۔" کی وجہ سے تھی۔
موسیقار تصدق حسین کی دھنوں میں فلم میری دوستی میرا پیار (1968) میں ریاض الرحمان ساغر کے لکھے ہوئے دو کورس گیتوں میں مسعودرانا کی آواز شامل تھی اور ساتھی گلوکاران احمدرشدی ، مالا اور تانی تھے۔ گیتوں کے بول تھے:
- جوانی کے دن ہیں ، امنگوں کی راتیں۔۔
- ساتھ ہے میرا ہمسفر اور دنیا جوان ہے۔۔
یہ دونوں کورس گیت روزی ، انارکلی ، مسعوداختر ، زاہدخان اور ساتھیوں پر فلمائے گئے تھے۔
ریاض الرحمان ساغر کے چند مشہور گیت
اس دور میں ریاض الرحمان ساغر کے چند مقبول عام گیت کچھ اس طرح سے تھے:
- ڈھولک بجا کے ، سہیلیاں بلا کے ، بنرے کے گیت۔۔ (مالا ، فلم مسٹربدھو 1973)
- چلو کہیں دور یہ سماج چھوڑ دیں۔۔ (مالا ، مہدی حسن ، فلم سماج 1974)
- تیرا بابل صدقے تیرے ، نی بھاگاں والیئے۔۔ (مہدی حسن فلم بابل صدقے تیرے 1974)
- دل لگی میں ایسی دل کو لگی کہ دل کھو گیا۔۔ (نورجہاں ، فلم دل لگی 1974)
- ہار گیا انسان خدا سے ، ہار گیا انسان۔۔ (مسعودرانا ، فلم ہارگیا انسان 1975)
- دلدارا ، دلدارا ، تیرا ایک اشارہ۔۔ (مالا ، منیر حسین ، فلم ہارگیا انسان 1975)
- لکھ دی ہم نے آج کی شام ، آپکی خاطر۔۔ (ناہیداختر ، فلم نیک پروین 1985)
- شربت کے بدلے پلا دی شراب ، تیرا خانہ خراب۔۔ (ناہیداختر ، فلم عورت ایک پہیلی 1976)
- تمہارا پیار نہ ملتا تو مر گئے ہوتے۔۔ (نورجہاں ، فلم عورت ایک پہیلی 1976)
- پانڈے کلی کرالو ، پرانے نویں بنا لو۔۔ (مہدی حسن ، فلم سسرال 1977)
- اپنی دنیا آپ بنائیں گے ہم دل والے۔۔ (اخلاق احمد ، فلم انمول محبت 1978)
- دنیا سے کیا غرض ، میری دنیا تو آپ ہیں۔۔ (مہناز ، فلم انمول محبت 1978)
- اچھا اچھا لاگے رے ، پیارا پیارا لاگے رے۔۔ (نیرہ نور ، اے نیر ، فلم بندش 1980)
- لوٹا قرار میرے من کا ، ہائے رے ہائے مس لنکا۔۔ (اخلاق احمد ، فلم نادانی 1983)
- او سلمیٰ ، میری تم سے ایک گزارش ہے۔۔ (انوررفیع ، فلم تیرے گھر کے سامنے 1983)
ریاض الرحمان ساغر کی یادگار فلم سرگم (1995)
ریاض الرحمان ساغر نے 1980 کی دھائی میں ایکشن پنجابی فلموں کے طوفان میں کنارہ کشی کو غنیمت جانا۔
معروف فلمساز ، ہدایتکار اور مصنف سیدنور نے بطور ہدایتکار اپنی پہلی فلم قسم (1993) بنائی تو ساغرصاحب کو مجبور کیا کہ وہ ان کی فلم کے گیت لکھیں۔ اس دوران ان کی سب سے بڑی نغماتی فلم سرگم (1995) تھی۔
مجھے ذاتی طور پر سیدنور کی سبھی فلموں میں سے یہ فلم بہت پسند آئی تھی حالانکہ اس دور کی فلموں سے میری دلچسپی بڑی محدود ہوتی تھی۔
عدنان سمیع خان نے گلوکاری اور موسیقاری کے علاوہ اداکاری بھی کی تھی۔ یہ اس کی اکلوتی پاکستانی فلم تھی اور بلاشبہ ایک کمال کی فلم تھی جس کی کہانی ، مکالمے ، سکرین پلے ، گیت ، سیٹ اور ڈائریکشن اعلیٰ پائے کی تھی۔
ایک بھارتی فلم سے شہرت حاصل کرنے والی پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار کی بیٹی زیبا بختیار کی پہلی پاکستانی فلم تھی جبکہ ایک موسیقار مہاراج حسین کتھک نے اپنی اس اکلوتی فلم میں بڑی نیچرل اداکاری کی تھی۔
واحد بوریت ندیم صاحب کا کردار تھا جو انتہائی غیرضروری اور طویل تھا اور فلم پر بوجھ تھا لیکن کراچی میں فلم چلانے کے لیے کاروباری مجبوری بھی تھی۔
فلم سرگم (1995) کے سبھی گیت بڑے زبردست تھے۔ خاص طور پر
- ذرا ڈھولکی بجاؤ گوریو۔۔
- پیار ہے ، یہی تو پیار ہے۔۔
وغیرہ دل میں اتر جانے والے گیت تھے۔ اس فلم کے گیارہ میں سے دس گیت ریاض الرحمان ساغر نے لکھے تھے جبکہ ایک گیت "اے خدا ، جس نے کی جستجو۔۔" مظفروارثی کا لکھا ہوا تھا۔
ایک فلم میں زیادہ سے زیادہ گیت گانے کا ریکارڈ
عدنان سمیع خان نے اس فلم میں دس گیت گا کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ میری معلومات کے مطابق آج تک پاکستان کے کسی گلوکار نے کسی ایک فلم کے لیے اتنے گیت نہیں گائے۔
فلم عشق لیلیٰ (1957) میں عنایت حسین بھٹی کے نو گیت تھے۔ فلم عظمت اسلام (1965) میں سلیم رضا اور فلم درشن (1967) میں بشیراحمد نے آٹھ آٹھ گیت گائے تھے۔ فلم پیارکرن توں نئیں ڈرنا (1991) میں مسعودرانا کے کل گیارہ گیت تھے جبکہ ان کا گایا ہوا بارہواں گیت فلم میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ یہ ایک ڈبل ورژن پنجابی/اردو فلم تھی جس کے چھ پنجابی گیتوں کو اردو میں بھی گایا گیا تھا ، اس لیے ایک فلم کے لیے زیادہ سے زیادہ گیت گانے کا ریکارڈ بدستور عدنان سمیع خان کے نام برقرار رہتا ہے۔
ہو سکے تو میرا ایک کام کرو
نوے کی دھائی میں بھی ریاض الرحمان ساغر نے کئی ایک فلموں کے لیے سپرہٹ گیت لکھے تھے۔ سیدنور ہی کی فلم دوپٹہ جل رہا ہے (1998) میں گلوکار ارشدمحمود کا گایا ہوا ایک خوبصورت گیت
- ہو سکے تو میرا ایک کام کرو۔۔
اس دور میں بڑا مقبول ہوا تھا۔ ستر کی دھائی کے بعد کی فلموں ، فنکاروں اور فلمی موسیقی کے متعلق اپنے محدود علم اور جہالت کا اعتراف ہے ، اس لیے مزید تفصیلات پیش کرنے سے قاصر ہوں۔
موجودہ صدی کے آغاز میں ایک بار پھر ایکشن پنجابی فلموں کے سیلاب میں ساغرصاحب نے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ زندگی کے آخری برسوں میں پھر سرگرم ہوگئے تھے اور کئی ایک فلموں کے گیت لکھے تھے۔ ان کی آخری فلم عشق خدا (2013) کا ذکر ملتا ہے۔
ریاض الرحمان ساغر کا پس منظر
یکم دسمبر1941ء کو بھارتی پنجاب کی ایک ریاست پٹیالہ کے شہر بھٹنڈہ میں پیدا ہونے والے 'ریاض الرحمان' کو 1947ء میں قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرنا پڑی۔ دوران سفر انھوں نے اپنے باپ کو سکھ بلوائیوں کے ہاتھوں قتل ہوتے دیکھا اور ایک بے گوروکفن لاش چھوڑ کر بچپن کی انتہائی تلخ یادیں لیے ملتان پہنچے۔ دوران تعلیم ، شاعری کا شوق پیدا ہوا اور ایک مقابلہ جیتنے پر اپنے استاد کے نام 'ساغر' کو اپنے نام کا لاحقہ بنا لیا تھا۔
پنجابی زبان میں فاضل اور بی اے بھی کیا۔ زندگی کا بیشتر حصہ روزنامہ نوائے وقت لاہور سے بطور کالم نویس منسلک رہے۔ یکم جون 2013ء کو انتقال ہوا۔
مسعودرانا اور ریاض الرحمان ساغر کے 8 فلمی گیت
| 1 | دنیا تو جھکی ہے میرے یار کے آگے..فلم ... لالہ رخ ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: سلیم اقبال ... شاعر: ریاض الرحمان ساغر ... اداکار: ننھا |
| 2 | میرے دل کے صنم خانے میں اک تصویر ایسی ہے ، جو بالکل آپ جیسی ہے..فلم ... شریک حیات ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: اے حمید ... شاعر: ریاض الرحمان ساغر ... اداکار: کمال |
| 3 | جوانی کے دن ہیں امنگوں کی راتیں..فلم ... میری دوستی میرا پیار ... اردو ... (1968) ... گلوکار: احمد رشدی ، مسعود رانا ، مالا ، تانی ... موسیقی: تصدق حسین ... شاعر: ریاض الرحمان ساغر ... اداکار: مسعود اختر ، زاہد خان ، روزی ، انار کلی |
| 4 | ساتھ ہے میرا ہمسفر اور یہ دنیا جوان ہے..فلم ... میری دوستی میرا پیار ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مالا ، تانی ، احمد رشدی ، مسعود رانا ... موسیقی: تصدق حسین ... شاعر: ریاض الرحمان ساغر ... اداکار: روزی ، انار کلی ، زاہد خان ، مسعود اختر |
| 5 | اکھاں اکھاں وچ کرے اشارہ..فلم ... مترئی ماں ... پنجابی ... (1970) ... گلوکار: مالا ، منیر حسین ، مسعود رانا ... موسیقی: اے حمید ... شاعر: ریاض الرحمان ساغر ... اداکار: ؟ |
| 6 | اوہو ، کڑی سیر کرے گی..فلم ... شکار ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: اے حمید ... شاعر: ریاض الرحمان ساغر ... اداکار: شاہد |
| 7 | ہار گیا انسان خدا سے ، ہار گیا انسان..فلم ... ہار گیا انسان ... اردو ... (1975) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: ریاض الرحمان ساغر ... اداکار: ابو شاہ (طارق عزیز) |
| 8 | گورے مکھڑے سے گھونگھٹ سرکا دے ، نہیں تو ہو گی لڑائی رے..فلم ... ہار گیا انسان ... اردو ... (1975) ... گلوکار: مسعود رانا ، نیرہ نور ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: ریاض الرحمان ساغر ... اداکار: ندیم ، ممتاز |
مسعودرانا اور ریاض الرحمان ساغر کے 7 اردو گیت
| 1 | دنیا تو جھکی ہے میرے یار کے آگے ...(فلم ... لالہ رخ ... 1968) |
| 2 | میرے دل کے صنم خانے میں اک تصویر ایسی ہے ، جو بالکل آپ جیسی ہے ...(فلم ... شریک حیات ... 1968) |
| 3 | جوانی کے دن ہیں امنگوں کی راتیں ...(فلم ... میری دوستی میرا پیار ... 1968) |
| 4 | ساتھ ہے میرا ہمسفر اور یہ دنیا جوان ہے ...(فلم ... میری دوستی میرا پیار ... 1968) |
| 5 | اوہو ، کڑی سیر کرے گی ...(فلم ... شکار ... 1974) |
| 6 | ہار گیا انسان خدا سے ، ہار گیا انسان ...(فلم ... ہار گیا انسان ... 1975) |
| 7 | گورے مکھڑے سے گھونگھٹ سرکا دے ، نہیں تو ہو گی لڑائی رے ...(فلم ... ہار گیا انسان ... 1975) |
مسعودرانا اور ریاض الرحمان ساغر کے 1 پنجابی گیت
| 1 | اکھاں اکھاں وچ کرے اشارہ ...(فلم ... مترئی ماں ... 1970) |
مسعودرانا اور ریاض الرحمان ساغر کے 3سولو گیت
| 1 | میرے دل کے صنم خانے میں اک تصویر ایسی ہے ، جو بالکل آپ جیسی ہے ...(فلم ... شریک حیات ... 1968) |
| 2 | اوہو ، کڑی سیر کرے گی ...(فلم ... شکار ... 1974) |
| 3 | ہار گیا انسان خدا سے ، ہار گیا انسان ...(فلم ... ہار گیا انسان ... 1975) |
مسعودرانا اور ریاض الرحمان ساغر کے 2دو گانے
| 1 | دنیا تو جھکی ہے میرے یار کے آگے ...(فلم ... لالہ رخ ... 1968) |
| 2 | گورے مکھڑے سے گھونگھٹ سرکا دے ، نہیں تو ہو گی لڑائی رے ...(فلم ... ہار گیا انسان ... 1975) |
مسعودرانا اور ریاض الرحمان ساغر کے 3کورس گیت
| 1 | جوانی کے دن ہیں امنگوں کی راتیں ...(فلم ... میری دوستی میرا پیار ... 1968) |
| 2 | ساتھ ہے میرا ہمسفر اور یہ دنیا جوان ہے ...(فلم ... میری دوستی میرا پیار ... 1968) |
| 3 | اکھاں اکھاں وچ کرے اشارہ ...(فلم ... مترئی ماں ... 1970) |
Masood Rana & Riazur Rehman Saghar: Latest Online film
Masood Rana & Riazur Rehman Saghar: Film posters
Masood Rana & Riazur Rehman Saghar:
0 joint Online films
(0 Urdu and 0 Punjabi films)Masood Rana & Riazur Rehman Saghar:
Total 13 joint films
(10 Urdu, 3 Punjabi films)| 1. | 1968: Lala Rukh(Urdu) |
| 2. | 1968: Sharik-e-Hayyat(Urdu) |
| 3. | 1968: Meri Dosti Mera Pyar(Urdu) |
| 4. | 1969: Bahu Rani(Urdu) |
| 5. | 1970: Shahi Faqeer(Urdu) |
| 6. | 1970: Matrei Maa(Punjabi) |
| 7. | 1972: 2 Rangeelay(Punjabi) |
| 8. | 1974: Dillagi(Urdu) |
| 9. | 1974: Shikar(Urdu) |
| 10. | 1975: Haar Geya Insan(Urdu) |
| 11. | 1975: Neik Parveen(Urdu) |
| 12. | 1976: Mehboob Mera Mastana(Urdu) |
| 13. | 1986: Shah Zaman(Punjabi) |
Masood Rana & Riazur Rehman Saghar: 8 songs
(7 Urdu and 1 Punjabi songs)| 1. | Urdu filmLala Rukhfrom Tuesday, 2 January 1968Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, Music: Saleem Iqbal, Poet: Riazur Rehman Saghar, Actor(s): Nanha, Husn Ara |
| 2. | Urdu filmSharik-e-Hayyatfrom Friday, 24 May 1968Singer(s): Masood Rana, Music: A. Hameed, Poet: Riazur Rehman Saghar, Actor(s): Kemal |
| 3. | Urdu filmMeri Dosti Mera Pyarfrom Friday, 2 August 1968Singer(s): Ahmad Rushdi, Masood Rana, Mala, Tani & Co., Music: Tasadduq Hussain, Poet: Riazur Rehman Saghar, Actor(s): Masood Akhtar, Zahid Khan, Rozi, Anar Kali & Co. |
| 4. | Urdu filmMeri Dosti Mera Pyarfrom Friday, 2 August 1968Singer(s): Mala, Tani, Ahmad Rushdi, Masood Rana & Co., Music: Tasadduq Hussain, Poet: Riazur Rehman Saghar, Actor(s): Rozi, Anar Kali, Zahid Khan, Masood Akhtar |
| 5. | Punjabi filmMatrei Maafrom Tuesday, 1 December 1970Singer(s): Mala, Munir Hussain, Masood Rana, Music: A. Hameed, Poet: Riazur Rehman Saghar, Actor(s): ? |
| 6. | Urdu filmShikarfrom Friday, 23 August 1974Singer(s): Masood Rana, Music: A. Hameed, Poet: Riazur Rehman Saghar, Actor(s): Shahid |
| 7. | Urdu filmHaar Geya Insanfrom Friday, 21 March 1975Singer(s): Masood Rana, Nayyara Noor, Music: Nisar Bazmi, Poet: Riazur Rehman Saghar, Actor(s): Nadeem, Mumtaz |
| 8. | Urdu filmHaar Geya Insanfrom Friday, 21 March 1975Singer(s): Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: Riazur Rehman Saghar, Actor(s): Abbu Shah (Tariq Aziz) |

Peindu Prince
(2014)

Rangeela
(1970)

Atif Chohdary
(2002)

Ham Aur Tum
(1985)

Meri Zindagi Hay Naghma
(1972)

Ajj Di Taza Khabar
(1976)
Pakistan Film Magazine
Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.
پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔
یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔
اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔


































Arifa Siddiqi
Abid Butt
Ilyas Rasheedi
Zubaida Khanum
Nakhshab
Ghulam Nabi, A. Latif
Zeenat
Tripti Mitra
Mustafa Ali Hamdani
Saeed Gilani
Saqi
Abid Ali
Bakhshi Wazir
Kathana
Rafi Peer
Agha Waheedur Rehman








