A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana
مسعودرانا کا فنی سفر
مسعودرانا کے 241 ساتھی فنکاروں پر معلوماتی مضامین
26 ..... گلوکار
- زبیدہ خانم
- علی بخش ظہور
- منور سلطانہ
- مسعود رانا
- عنایت حسین بھٹی
- حامدعلی بیلا
- فضل حسین
- تصورخانم
- اعظم چشتی
- رونا لیلیٰ
- آصف جاوید
- نگہت سیما
- ملکہ ترنم نور جہاں
- نذیر بیگم
- سائیں اختر
- سلیم رضا
- روبینہ بدر
- نسیم بیگم
- شوکت علی
- مالا
- احمد رشدی
- نسیمہ شاہین
- منیر حسین
- آئرن پروین
- محمد رفیع
- مہدی حسن
32 ..... نغمہ نگار
- حکیم احمد شجاع
- شیون رضوی
- سلطان محمود آشفتہ
- سلیم کاشر
- طفیل ہوشیارپوری
- کلیم عثمانی
- اسماعیل متوالا
- اختریوسف
- ظہیر کاشمیری
- تسلیم فاضلی
- ریاض الرحمان ساغر
- منظورجھلا
- سعیدگیلانی
- صہبااختر
- ظہورناظم
- خواجہ پرویز
- مظفروارثی
- ساحل فارانی
- قتیل شفائی
- سرور بارہ بنکوی
- حبیب جالب
- احمد راہی
- تنویر نقوی
- بابا عالم سیاہ پوش
- حزیں قادری
- مشیر کاظمی
- موج لکھنوی
- منیر نیازی
- وارث لدھیانوی
- مسرور انور
- حمایت علی شاعر
- فیاض ہاشمی
44 ..... موسیقار
- راگنی
- رفیق غزنوی
- ماسٹر غلام حیدر
- طافو
- اعظم بیگ
- مشتاق علی
- امجدبوبی
- غلام حسین شبیر
- وجاہت عطرے
- علی حسین
- اے حمید
- کریم شہاب الدین
- صفدرحسین
- وزیر افضل
- ناشاد
- کمال احمد
- رحمان ورما
- حسن لطیف
- روبن گھوش
- نذیرجعفری
- نذیرعلی
- سیف چغتائی
- خواجہ خورشید انور
- سلیم اقبال
- اخترحسین اکھیاں
- غلام نبی ، عبداللطیف
- طفیل فاروقی
- ماسٹر عنایت حسین
- ماسٹر عبد اللہ
- سہیل رعنا
- خلیل احمد
- فیروز نظامی
- بخشی وزیر
- خان عطا الرحمان
- ماسٹر عاشق حسین
- نثار بزمی
- ماسٹر تصدق حسین
- ماسٹر رفیق علی
- رشید عطرے
- ایم اشرف
- لال محمد اقبال
- مصلح الدین
- جی اے چشتی
- دیبو بھٹا چاریہ
56 ..... ہدایتکار
- اے آر کاردار
- داؤد چاند
- نذرالاسلام
- آغا حسینی
- ایم صادق
- حسن عسکری
- اسلم ڈار
- قدیرغوری
- الطاف حسین
- ایم ایس ڈار
- شوکت حسین رضوی
- ایس ایم یوسف
- خواجہ سرفراز
- حمیدچوہدری
- آغا جی اے گل
- عزیز میرٹھی
- لقمان
- کے خورشید
- پرویز ملک
- ایم سلیم
- سیف الدین سیف
- بھائیا اے حمید
- خلیل قیصر
- اکبرعلی اکو
- ریاض احمد راجو
- وحیدڈار
- ریاض احمد
- افتخارخان
- ارشدکاظمی
- ظہیرریحان
- ایم اکرم
- الحامد
- ریاض شاہد
- نذیر
- انورکمال پاشا
- شریف نیر
- راجہ حفیظ
- مسعودپرویز
- ایم اے رشید
- ایس سلیمان
- رشیداختر
- منوررشید
- رفیق رضوی
- اقبال کاشمیری
- جمیل اختر
- جعفر بخاری
- شباب کیرانوی
- احتشام ، مستفیض
- ایس اے بخاری
- ایم جے رانا
- رضا میر
- حیدر چوہدری
- امین ملک
- اسلم ایرانی
- اقبال شہزاد
- حسن طارق
83 ..... اداکار
- ہمالیہ والا
- آشا پوسلے
- سنگیتا
- سلطان راہی
- آسیہ
- عمرشریف
- شبنم
- قوی
- افضل خان
- شاہد
- ننھا
- کیفی
- لیلیٰ
- ساقی
- ناصرہ
- علی اعجاز
- حسنہ
- ناہید
- اقبال حسن
- عالیہ
- رخسانہ
- ماسٹر مراد
- نسیمہ خان
- تانی
- الیاس کاشمیری
- شبانہ
- نبیلہ
- ایم اسماعیل
- روزینہ
- ندیم
- خلیفہ نذیر
- کمار
- سیما
- مسرت نذیر
- ساون
- آئٹم گرلز
- غزالہ
- دیبا
- زینت
- سلونی
- یاسمین
- منورظریف
- زیبا
- طلعت صدیقی
- حیدر
- اعجاز
- رانی
- زلفی
- ابو شاہ
- آصف جاہ
- سلمیٰ ممتاز
- نورمحمدچارلی
- شیریں
- یوسف خان
- علاؤالدین
- وحیدمراد
- فردوس
- شمیم آرا
- لہری
- مظہر شاہ
- طالش
- نغمہ
- رضیہ
- سنتوش کمار
- رنگیلا
- دلجیت مرزا
- اکمل
- اے شاہ
- نذر
- سدھیر
- حنیف
- طارق عزیز
- صبیحہ خانم
- محمد علی
- درپن
- امداد حسین
- البیلا
- اطہر شاہ خان
- نیلو
- نرالا
- اسد بخاری
- سید کمال
- حبیب
سلونی
اداکارہ سلونی ، مسعودرانا کی پہلی ہیروئن تھی۔۔!
عظیم گلوکار مسعودرانا ، اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر مقبولیت اور مصروفیت کے اس مقام تک جا پہنچے تھے کہ جہاں فلمسازوں اور ہدایتکاروں سے اپنے فلمی ہیرو بننے کی دیرینہ خواہش پوری کروانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ گلوکارہ مالا کے شوہر فلمساز عاشق بٹ نے انھیں یہ موقع فراہم کیا اور فلم دو مٹیاراں (1968) میں اداکارہ سلونی کے مقابل ہیرو کاسٹ کیا تھا۔
مسعودرانا بطور اداکار
فلم کی کہانی کے مطابق دونوں حسینائیں (دو مٹیاراں) ، فردوس اور سلونی ، فلم کے فرسٹ ہیرو حبیب پر فدا ہیں۔ دوسری طرف مسعودرانا ، ایک شرمیلا اور بزدل عاشق ، اپنی مالکن زمیندارنی سلونی سے خاموش اور یکطرفہ محبت کرتا ہے اور اس کی اداؤں پر اپنے رومانوی اشعار کے علاوہ اپنا یہ دلکش گیت بھی نچھاور کرتا ہے "دل چیر کلیجیوں پار گیاں ، دو نیویاں نظراں مار گیاں۔۔"
سلونی کو جب حبیب کی پسند کا پتہ چلتا ہے تو اس کا دل ٹوٹ جاتا ہے لیکن اسے اپنے کامے 'صادقا' یا مسعودرانا کا یہ گیت حوصلہ اور سہارا دیتا ہے "ہن گل کر دلا ، پہلاں نئیں سیں من دا ، ویکھ لیا ای مزہ پیار کرن دا۔۔"
حال ہی میں یہ شاہکار گیت گلوکار آصف جاوید کو بڑی خوبصورتی سے گاتے ہوئے سنا اور ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے معروف گلوکار انوررفیع بڑی حیرت سے پوچھ رہے تھے کہ یہ گیت بھی مسعودرانا نے گایا تھا۔ اب اگر ایک پروفیشنل گلوکار مسعودرانا کے گیت سن کر حیرت میں پڑھ سکتا ہے تو مجھ جیسے اناڑی لوگ بھلا کس باغ کی مولی ہیں۔۔؟
فلم دومٹیاراں ، 10 مارچ 1968ء کو ریلیز ہوئی تھی اور بڑی اچھی فلم تھی۔ ہدایتکار وحیدڈار تھے جنھوں نے چالیس سے زائد فلمیں بنائیں اور شاید واحد ہدایتکار تھے کہ جنھوں نے کبھی کوئی اردو فلم نہیں بنائی تھی۔
فردوس ، حبیب ، سلونی ، مظہرشاہ ، اسدبخاری ، ایم اسماعیل ، سلمیٰ ممتاز ، منورظریف ، رنگیلا اور مسعودرانا اہم کردار تھے۔ منورظریف اور رنگیلا کی مزاحیہ اداکاری نے اس فلم کو چار چاند لگا دیے تھے ، باقی اداکار اپنے اپنے کرداروں میں خوب رہے۔
فلم کے مصنف حزیں قادری اور موسیقار وزیرافضل تھے۔ تمام نسوانی گیت مالا کی آواز میں تھے جن میں ایک دوگانے میں نسیم بیگم بھی شامل تھی لیکن صرف مسعودرانا کے گائے ہوئے دونوں گیت ہی مقبول ہوئے تھے۔
اس فلم میں مسعودرانا سے کئی اشعار بھی کہلوائے گئے تھے ، جنھیں اگر گوایا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔
فلم دومٹیاراں (1968) کے پہلے رن کے بزنس کی معلومات دستیاب نہیں لیکن 1986ء میں اس پرانی بلیک اینڈ وہائٹ فلم نے لاہور کے رٹز اور کوہ نور سینماؤں میں ایک ایسے دور میں سلورجوبلی منائی تھی جب ہر طرف ایکشن فلموں کا دور دورہ تھا ، یہ ایک غیرمعمولی کامیابی تھی۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور میں جب پہلے ہفتے کا اشتہار دیکھا تو اس پر مسعودرانا کی تصویر فریم میں لگا کر لکھا ہوا تھا کہ "عظیم گلوکار مسعودرانا کو اس فلم میں ہیرو کے طور پر دیکھیں۔۔"
مسعودرانا ، ایک ناکام اداکار
مسعودرانا کو جو کردار دیا گیا تھا اس میں ان کی اداکاری اچھی تھی لیکن بطور اداکار کامیاب نہیں ہوئے تھے۔
اگر پیچھے مڑ کر دیکھیں تو یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ انھیں اپنی ساری توجہ گلوکاری کی طرف مبذول کرنا چاہیئے تھی۔ انھوں نے اپنے اداکاری کے شوق میں جو وقفہ لیا یا دوسروں کو موقع دیا ، اس سے دوسرے گلوکاروں نے فائدہ اٹھایا جن میں ایک بڑا نام مہدی حسن کا تھا جو شہنشاہ غزل تو تھے لیکن فلمی گائیکی میں کسی طور بھی مسعودرانا کے پائے کے گلوکار نہیں تھے۔
ساٹھ کے عشرہ میں ان کے گیتوں کی تعداد بہت کم ہوتی تھی لیکن 1969ء میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ مہدی حسن کے اردو گیتوں کی تعداد مسعودرانا کے اردو گیتوں سے زیادہ ہوگئی تھی اور وہ احمدرشدی کے بعد اردو فلموں کے دوسرے مقبول ترین گلوکار بن گئے تھے۔
پاکستانی اردو اور پنجابی فلموں میں جس آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ مسعودرانا نے کیا تھا ، پاکستان کا کوئی گلوکار کبھی وہاں تک نہیں پہنچ سکا لیکن وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا اور نہ ہی کسی کے جانے سے وقت رک جاتا ہے۔
مسعودرانا کو فلم دومٹیاراں (1968) کے بعد فلم شاہی فقیر (1970) میں بھی غزالہ کے مقابل سولو ہیرو کے طور پر بھی کام کرنے کا موقع ملا تھا لیکن ان کا نام بھی ناکام فلمی ہیروز کی صف میں شامل ہوتا ہے۔ مسعودرانا کو البتہ اپنے ہم عصر گلوکار احمدرشدی پر یہ برتری حاصل تھی وہ بھی اداکاری کا شوق رکھتے تھے اور کئی فلموں میں ایکسٹرا کے طور پر کام بھی کیا تھا لیکن کسی فلم میں ہیرو کے رول تک نہیں پہنچ پائے تھے بلکہ حیرت ہوتی ہے کہ ایک فلم جھلک (1964) میں تو احمدرشدی پر سلیم رضا کا گایا ہوا ایک گیت بھی فلمایا گیا تھا۔
سلونی ، ایک کامیاب سیکنڈ ہیروئن
سلونی ، ساٹھ کے عشرہ کی ایک مقبول اداکارہ تھی۔ وہ فرسٹ ہیروئن کے طور پر تو کامیاب نہ ہو سکی تھی لیکن سائیڈ ہیروئن کے طور پر اس کے کریڈٹ پر کئی ایک بڑی بڑی فلمیں تھیں۔ فلم غدار (1964) سے فلمی کیرئر کا آغاز کیا۔ فلم پھنے خان (1965) کے سپرہٹ گیت "جیو ڈھولا۔۔" نے جہاں میڈم نورجہاں کو پنجابی فلموں میں پلے بیک سنگر کے طور پر بریک تھرو دیا تھا وہاں سلونی کو بھی پہچان ملی۔ سوال ، لوری (1966) ، دل دا جانی (1967) ، چن مکھناں ، باؤجی ، سجن پیارا (1968) ، وریام ، جندجان (1969) اور انورا (1970) جیسی بڑی بڑی فلموں سمیت کل 66 فلموں میں کام کیا تھا۔ سلونی کے فلمی کیرئر پر ایک تفصیلی مضمون پاکستان فلم میگزین کے سابقہ ورژن میں لکھا جا چکا ہے۔
سلونی کے لیے مسعودرانا کے گیت
مسعودرانا کا سلونی کے ساتھ پہلا ساتھ فلم جانباز (1966) میں ہوا تھا۔ اس فلم کا ایک مزاحیہ گیت
- تجھے تیری ماں کی قسم ، جان جاناں، کہیں بھاگ نہ جانا۔۔
- نذر اور سلونی پر فلمایا گیا تھا۔ دوسری بار ان کا ساتھ فلم لٹ دا مال (1967) میں ہوا تھا اور یہ قوالی
- عاشقاں دی ریت ایخو ، رہندے چپ کر کے۔۔
گانے والوں میں سلونی بھی شامل تھی۔
ان دونوں کا آخری ساتھ فلم شہنشاہ جہانگیر (1968) میں ہوا تھا جب
- میرے محبوب تجھے پیار نبھانا ہوگا۔۔
جیسا ایک دلکش رومانٹک گیت سلونی اور اعجاز پر فلمایا گیا تھا۔
ان تین دوگانوں کے علاوہ مسعودرانا کے متعدد گیت بطور خاص سلونی کے لیے گائے گئے تھے جن میں سے دو گیتوں کا ذکر فلم دو مٹیاراں (1968) کے ضمن میں ہو چکا ہے۔ ان کے علاوہ فلم باؤجی (1968) میں اعجاز پر فلمایا ہوا مسعودرانا کا یہ سپرہٹ گیت
- دل دیاں لگیاں جانیں نہ۔۔
بڑا یادگار تھا جس میں سلونی کا بے خودی کے عالم میں رقص ناقابل فراموش تھا۔
سلونی نے پاکستان کے سب سے بڑے نگار خانے باری سٹوڈیو کے مالک باری ملک سے شادی کی تھی اور 2010ء میں انتقال ہوا تھا۔
سلونی پر فلمائے ہوئے چند سپرہٹ گیت
سلونی پر متعدد سپرہٹ گیت فلمائے گئے تھے جن کی ایک فہرست یہاں پیش کی جارہی ہے:
- جیو ڈھولا ، ٹٹ گئی انجوآں دی اج مالا۔۔ (گلوکارہ نورجہاں ، فلم پھنے خان 1965)
- ایک ہمیں آوارہ کہنا ، کوئی بڑا الزام نہیں۔۔ (گلوکارہ مالا ، فلم قبیلہ 1966)
- چاند تو جب بھی مسکراتا ہے۔۔ (گلوکار نورجہاں ، مہدی حسن ، فلم سرحد 1966)
- تمہارے پیار نے ہمیں ، دیا ہے ایک نیا جہاں۔۔ (گلوکار منیر حسین ، مالا فلم سوال (1966)
- شمع کا شعلہ بھڑک رہا ہے ، دل دیوانہ دھڑک رہا ہے۔۔ (گلوکارہ مالا ، فلم عادل 1966)
- دیکھو دیکھو رے جلم ، نہیں آئے سانوریا۔۔ (گلوکارہ نورجہاں ، فلم جلوہ 1966)
- تیرے جہے پت جمن مانواں کدرے کدرے کوئی۔۔ (گلوکارہ نورجہاں ، فلم چن مکھناں 1968)
- جتھے رو وے راضی رو ، تیرا جیا مینوں ہور نہ کوئی۔۔ (گلوکارہ مالا ، فلم چن مکھناں 1968)
- چٹی گھوڑی تے کاٹھی تلے دار نی سیو۔۔ (گلوکارہ نورجہاں ، فلم بدلہ 1968)
- مٹھی پے گئی چن تاریاں دی لوہ ، تو اجے وی نہ آئیوں۔۔ (گلوکارہ نورجہاں ، فلم بدلہ 1968)
- کاہنوں کیتا پیار تیرے نال ، بے دردا وے۔۔ (گلوکارہ نورجہاں ، فلم سوہنا 1968)
- دل دیاں لگیاں جانیں نہ ، میرا پیار پچھانیں نہ۔۔ (گلوکارہ نورجہاں ، فلم باؤجی 1968)
- سانوں کلیاں ویکھ کے آیاں یاداں تیریاں۔۔ (گلوکارہ نورجہاں ، فلم حمیدا 1968)
- ہال اوئے ربا ، شکی نہ ہووے دلدار۔۔ (گلوکارہ نورجہاں ، فلم سجن پیارا 1968)
- گورا مکھڑا تے اکھ مستانی تے پل پل بھئی جاناں۔۔ (گلوکارہ نورجہاں ، فلم وریام 1969)
- وے مینوں تیرے پین پلیکھے ، ہائے وے جند۔۔ (گلوکارہ نورجہاں ، فلم وریام 1969)
- او نہ جا ، نہ جا ، نی جانی مٹیارے۔۔ (گلوکار عنایت حسین بھٹی ، نورجہاں ، فلم جندجان 1968)
- لاج محبتاں دی رکھ وے ، میرے پنڈ دیا چھوروآ۔۔ (گلوکارہ نورجہاں ، فلم انورا 1970)
مسعودرانا اور سلونی کے فلمی گیت
| 1 | تجھے تیری ماں کی قسم ، جان جاناں، کہیں بھاگ نہ جانا..فلم ... جانباز ... اردو ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: ظہور ناظم ... اداکار: نذر ، سلونی |
| 2 | عاشقاں دی ریت ایخو ، رہندے چپ کر کے..فلم ... لٹ دا مال ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: شوکت علی ، مسعود رانا ، نسیم بیگم مع ساتھی ... موسیقی: سلیم اقبال ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: امداد حسین ، سلونی مع ساتھی |
| 3 | میرے محبوب تجھے پیار نبھانا ہوگا..فلم ... شہنشاہ جہانگیر ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا ... موسیقی: کمال احمد ... شاعر: مشیر کاطمی ... اداکار: سلونی ، اعجاز |
مسعودرانا اور سلونی کے 2 اردو گیت
| 1 | تجھے تیری ماں کی قسم ، جان جاناں، کہیں بھاگ نہ جانا ...(فلم ... جانباز ... 1966) |
| 2 | میرے محبوب تجھے پیار نبھانا ہوگا ...(فلم ... شہنشاہ جہانگیر ... 1968) |
مسعودرانا اور سلونی کے 1 پنجابی گیت
| 1 | عاشقاں دی ریت ایخو ، رہندے چپ کر کے ...(فلم ... لٹ دا مال ... 1967) |
مسعودرانا اور سلونی کے 0سولو گیت
مسعودرانا اور سلونی کے 2دوگانے
| 1 | تجھے تیری ماں کی قسم ، جان جاناں، کہیں بھاگ نہ جانا ...(فلم ... جانباز ... 1966) |
| 2 | میرے محبوب تجھے پیار نبھانا ہوگا ...(فلم ... شہنشاہ جہانگیر ... 1968) |
مسعودرانا اور سلونی کے 1کورس گیت
| 1 | عاشقاں دی ریت ایخو ، رہندے چپ کر کے ... (فلم ... لٹ دا مال ... 1967) |
Masood Rana & Saloni: Latest Online film
Masood Rana & Saloni: Film posters
Masood Rana & Saloni:
0 joint Online films
(0 Urdu and 0 Punjabi films)Masood Rana & Saloni:
Total 20 joint films
(10 Urdu and 10 Punjabi films)| 1. | 1965: Aisa Bhi Hota Hay(Urdu) |
| 2. | 1966: Tasvir(Urdu) |
| 3. | 1966: Sarhad(Urdu) |
| 4. | 1966: Taqdeer(Urdu) |
| 5. | 1966: Janbaz(Urdu) |
| 6. | 1967: Nadira(Urdu) |
| 7. | 1967: Dil Da Jani(Punjabi) |
| 8. | 1967: Hatim Tai(Urdu) |
| 9. | 1967: Lut Da Maal(Punjabi) |
| 10. | 1968: Shehanshah-e-Jahangir(Urdu) |
| 11. | 1968: 2 Mutiyaran(Punjabi) |
| 12. | 1968: Badla(Punjabi) |
| 13. | 1968: Mera Babul(Punjabi) |
| 14. | 1968: Bau Ji(Punjabi) |
| 15. | 1968: Hameeda(Punjabi) |
| 16. | 1969: Veryam(Punjabi) |
| 17. | 1970: Yeh Rastay Hayn Pyar Kay(Urdu) |
| 18. | 1970: Matrei Maa(Punjabi) |
| 19. | 1972: Sipah Salar(Urdu) |
| 20. | 1978: Ameer Tay Gharib(Punjabi) |
Masood Rana & Saloni: 3 songs
(2 Urdu and 1 Punjabi songs)| 1. | Urdu filmJanbazfrom Friday, 25 November 1966Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, Music: G.A. Chishti, Poet: Zahoor Nazim, Actor(s): Nazar, Saloni |
| 2. | Punjabi filmLut Da Maalfrom Friday, 26 May 1967Singer(s): Shoukat Ali, Masood Rana, Naseem Begum & Co., Music: Saleem Iqbal, Poet: Waris Ludhyanvi, Actor(s): Imdad Hussain, Saloni & Co. |
| 3. | Urdu filmShehanshah-e-Jahangirfrom Friday, 9 February 1968Singer(s): Mala, Masood Rana, Music: Kemal Ahmad, Poet: Mushir Kazmi, Actor(s): Saloni, Ejaz |

Dulla Bhatti
(1940)

Daku Ki Larki
(1933)

Gul Baloch
(1944)

Director
(1947)

Nadan
(1943)

Ek Din ka Sultan
(1945)
Pakistan Film Magazine
Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.
پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔
یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔
اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔

















































Khawaja Akmal
Robina Badar
Ghazala
Moamar Rana
Dadasaheb Phalke
Dukhi Premnagri
Ustad Fateh Ali Khan
Iftikhar Khan
Khanum
Munawar Rasheed
Asha Poslay
Bhai Booray Khan
Mastana
Rekha
Sikandar Shaheen
Rehana


