100th Birthday celebration of
Melody Queen Madam Noor Jehan
Part 3: Baby Noor Jehan in Lahore
Noor Jehan returned to Lahore and between 1939–1942 ... starred in four hit films. Her songs became blockbusters and helped establish Lahore’s film industry. The piece also clarifies she wasn’t a courtesan despite briefly living in Heera Mandi and highlights Lahore’s 1940s cinema boom.
سپرسٹار نورجہاں
"بے بی نورجہاں" کی کلکتہ سے واپسی، لاہور کی فلمی صنعت کے لیے انتہائی مبارک ثابت ہوئی جہاں 1927ء میں پہلی فلم بنی اور 1938ء تک کے بارہ برسوں میں صرف تین درجن فلمیں ہی بن سکیں جن میں سے کوئی ایک بھی فلم کسی غیرمعمولی کامیابی سے محروم رہی تھی۔
1939ء میں بنائی گئیں کل پانچ فلموں میں سے لاہور کی پہلی بلاک باسٹر فلم گل بکاؤلی (1939) بھی تھی جس نے "بے بی نورجہاں" کو "سپرسٹار اداکارہ" بنا دیا تھا۔ بے مثل گلوکارہ تو وہ پہلے ہی سے بن چکی تھی اور یہ منفرد اعزاز اسے نصف صدی بعد بھی اپنے صاحبِ فراش ہونے تک حاصل رہا تھا۔
میڈم نورجہاں کو یہ ناقابلِ شکست اعزاز حاصل ہے کہ برصغیر کی پہلی سپرہٹ سلورجوبلی پنجابی فلم ہیرسیال (1938) کے علاوہ پہلی بلاک باسٹر پنجابی فلم گل بکاؤلی (1939) کی کاسٹ میں بھی شامل تھیں۔۔!
"بے بی" سے "ہیروئن" تک
میڈم نورجہاں نے 1930/40 کی دھائیوں میں لاہور میں بننے والی چار ہی فلموں میں کام کیا اور چاروں فلمیں سپرہٹ رہیں۔ چاروں فلمیں "پنچولی" فلم کمپنی کی تھیں جن میں ایک ہندی/اردو فلم کے علاوہ سپرہٹ پنجابی فلموں کی ہٹ ٹرک بھی شامل تھی جو ایک اور ریکارڈ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان چار برسوں کی ان چاروں فلموں میں میڈم نے ایک چائلڈ سٹار سے مکمل ہیروئن کا سفر طے کیا تھا:
- پہلی فلم، گل بکاؤلی (1939) میں 13 سال کی عمر میں "بے بی نورجہاں" کے نام سے کام کیا اور پہلا سپرہٹ فلمی گیت بھی گایا تھا۔
- دوسری فلم، یملاجٹ (1940) میں 14 سال کی عمر میں سائیڈ ہیروئن کا رول کیا اور ان کے نام سے "بے بی" حذف کردیا گیا تھا۔
- تیسری فلم، چوہدری (1941) میں صرف 15 سال کی عمر میں پہلی بار مکمل ہیروئن کے طور پر کام کیا اور پہلی بار رومانٹک گیت بھی گائے تھے۔
- چوتھی اور آخری فلم، 16 سال کی عمر میں پہلی سپرہٹ ہندی/اردو فلم، خاندان (1942) میں سدابہار گیت گانے کے علاوہ ہیروئن کے طور پر بھی کام کیا اور پورے غیرمنقسم ہندوستان یعنی آج کے پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں مشہور ہوگئی تھیں۔
فلم گل بکاؤلی (1939)
لاہور کی پہلی بلاک باسٹر فلم گل بکاؤلی (1939)، "بے بی نورجہاں" کے گائے ہوئے اس سپرہٹ گیت کی وجہ سے جانی جاتی ہے:
- شالا جوانیاں مانیں، آکھا نہ موڑیں پی لے، پی لے۔۔
اصل میں "شالا جوانیاں مانیں۔۔"، اس دور کا "آئٹم سانگ" تھا جو ایک میگاہٹ "سٹریٹ سانگ" ثابت ہوا اور اس فلم کے بلاک باسٹر ہونے کی بڑی وجہ بنا۔
فلم گل بکاؤلی (1939) کے اس تاریخی "آئٹم سانگ" کی ایک انفرادیت یہ بھی تھی کہ گانے اور پرفارم کرنے والی ایک ہی فنکارہ تھی جس کو قدرت نے 1930 کی دھائی میں بچپن سے لے کر 1990 کی دھائی میں بڑھاپے تک بامِ عروج پر رکھا تھا۔۔!
اس یادگار پنجابی گیت کا منظوم اردو خلاصہ ایک اخباری اشتہار پر ملاحظہ فرمائیں جس میں بے بی نورجہاں کی ساغر و مینا کے ساتھ ہاتھ سے بنی ہوئی ایک سٹائلش تصویر ہے جو فلم کے پوسٹر پر بھی ملتی ہے اور یقیناً اس فلم کی ہائی لائٹ ثابت ہوئی ہوگی:
"شالا جوانیاں مانیں۔۔" جیسا لازوال گیت، 1940 کی دھائی کے ممتاز فلمی شاعر ولی صاحب نے لکھا جو اس فلم کے مصنف بھی تھے:
ولی صاحب
ولی صاحب (77-1908ء)، لاہور کے فلمی گیتوں، کہانی، منظرنامہ اور مکالمہ نویسی کا پہلا بڑا نام تھے۔ فلمساز اور ہدایتکار بھی تھے۔ ان کا شمار ان گنے چنے منفرد فنکاروں میں ہوتا ہے کہ جنھوں نے تقسیم سے قبل، لاہور کے علاوہ کلکتہ اور بمبئی کی فلموں کے لیے بھی کام کیا اور بعد میں بھارتی اور پاکستانی فلموں میں بھی یہ سلسلہ جاری رکھا۔ اپنے وقت کی مقبول اداکارہ ممتاز شانتی المعروف "جوبلی ہیروئن"کے شوہرِ نامدار تھے۔
ولی صاحب کی شہرت کا آغاز 1935ء میں ریڈیو پر شمشاد بیگم کی گائی ہوئی مشہورِ زمانہ نعت: "پیغام صباء لائی ہے،گلزارِ نبی ﷺ سے، آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی ﷺ سے۔۔" سے ہوا۔ میڈم نورجہاں کی لاہور کی تینوں پنجابی فلموں کے علاوہ بمبئی کی ہندی/اردو فلم گاؤں کی گوری (1945) کے مشہورِ زمانہ گیت بھی لکھے۔ پاکستان میں فلم گڈی گڈا (1956) میں لکھا ہوا ان کا مشہورِ زمانہ گیت "نئیں ریساں شہر لاہور دیاں۔۔"، ایک ضرب المثل بن گیا تھا۔
فلم گل بکاؤلی (1939) میں بے بی نورجہاں کا یہ گیت بھی بڑا مشہور ہوا تھا: "پنجرے دے وچ قید جوانی مستانی۔۔" اس فلم کی ایک اداکارہ اور گلوکارہ ثریا جبیں کے ساتھ یہ دوگانا بھی تھا: "اک سوہنے جئے جنگل وچ۔۔"
پنچولی پکچرز کی اس پہلی سپرہٹ پنجابی فلم گل بکاؤلی (1939) کے ہدایتکار برکت رام مہرا تھے۔ لاہور کے سینئر اور مقبول ترین اداکار ایم اسماعیل نے اس فلم میں مرکزی کردار ادا کیا۔ باقی کاسٹ میں بے بی نورجہاں کے علاوہ ثریا جبیں، کسم، مالتی اور مزاحیہ اداکار درگا موٹا وغیرہ کے نام ملتے ہیں۔ فلم کی ہیروئن کا کردار ہیم لتا نامی ایک گمنام اداکارہ نے اور ہیرو کا کردار آغا سلیم رضا نے کیا جن کے فلمی کیرئر کی یہ کامیاب ترین فلم تھی:
سلیم رضا
سلیم رضا، تقسیم سے قبل لاہور کی فلموں کے ایک نامور اداکار تھے جو متعدد فلموں میں ہیرو بھی آئے جن میں لاہور کی پہلی بلاک باسٹرفلم گل بکاؤلی (1939) بھی شامل تھی۔ پہلی فلم سورگ کی سیڑھی (1934) اور آخری فلم شطرنج (1964) تھی۔
بمبئی کی فلم زینت (1945) میں انھوں نے میڈم نورجہاں کے شوہر کا مختصر سا کردار کیا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1950 کی دھائی میں زیادہ تر ولن کرداروں میں نظر آئے جن میں سے میڈم کی مشہور فلمیں، چن وے (1951)، نوراں (1957) اور چھومنتر (1958) وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
اداکار سلیم رضا کو گلوکار سلیم رضا سے الگ کرنے کے لیے "آغا سلیم رضا" بھی کہا جاتا تھا۔ وہ 1980 کی دھائی کے مشہور ٹی وی اداکار آغا سکندر کے والد تھے جبکہ عنایت حسین بھٹی کے سمدھی تھے۔ 1965ء میں لاہور میں انتقال ہوا تھا۔
اس کے علاوہ اس فلم میں شمشادبیگم کا ایک مشہور پنجابی گیت "گھوک میری قسمت سوں گئی، جاگو ضرور اوئے، سجناں دے باجوں سانوں مرنا منظور اوئے۔۔" بھی شامل کیا گیا تھا لیکن فلم کی سب سے بڑی کشش صرف "بے بی نورجہاں" تھی جو اس اخباری اشتہار کے اس شعر سے بھی عیاں ہے:
- ساز کی لےَ پر کوئی کافر ادا گردش میں ہے
بھیس میں زہرہ کے، عالم حُسن کا گردش میں ہے
اس ہوشربا بزنس سے فلمساز اور تقسیم کار سیٹھ دل سکھ پنچولی نے اپنے فلم تقسیم کاری اور فلمسازی کے کاروبار کو مزید وسعت دیتے ہوئے لاہور میں اپرمال اور مسلم ٹاؤن کے علاقوں میں دو جدید فلم سٹوڈیوز قائم کیے اور متعدد سینما گھر بھی تعمیر کروائے اور لاہور کے فلمی کاروبار پر چھا گئے تھے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) بھی سیٹھ دل سکھ پنچولی کے سرمائے سے "پنچولی فلم سٹوڈیوزلاہور" میں بنائی گئی تھی۔
فلم گل بکاؤلی (1939) کی کہانی
فلم گل بکاؤلی (1939)، ایک "تاج الملک" نامی شہزادے (سلیم رضا) کی کہانی ہے جو اپنے اندھے بادشاہ باپ (ایم اسماعیل) کی آنکھوں کی بینائی واپس لانے کے لیے پرستان سے "بکاؤلی" کا پھول لینے کے مشن پر جاتا ہے اور قیدوبند کی صعوبتوں اور آزمائشوں میں ثابتِ قدم رہتے ہوئے اپنے سوتیلے بھائیوں کے مقابلے میں نہ صرف کامیاب ہوتا ہے بلکہ پریوں کی شہزادی "بکاؤلی" (ہیم لتا) سے شادی بھی ہو جاتی ہے۔
لاہور کی اس پہلی بلاک باسٹر فلم گل بکاؤلی (1939) سے قبل یہ کہانی متعدد بار فلمائی گئی تھی۔ پہلی بار 1924ء میں ایک خاموش فلم بنی اور گونگی فلموں کے دور کی سپرہٹ فلم ثابت ہوئی جس میں زبیدہ اور خلیل نے مرکزی کردار کیے تھے۔ اس کے علاوہ پہلی بار ہندی/اردو میں 1932ء اور پھر 1947ء میں بھی اس موضوع پر فلمیں بنائی گئی تھیں۔
پاکستان میں گل بکاؤلی نام کی پہلی فلم اردو میں 1961ء میں بنی جو پہلی جزوی رنگین فلم بھی تھی۔ سدھیر اور جمیلہ رزاق نے مرکزی کردار کیے تھے۔ دوسری بار یہ فلم 1970ء میں پنجابی زبان میں بنائی گئی جس میں نغمہ اور کیفی نے نمایاں کردار کیے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ میڈم نورجہاں نے پلے بیک سنگر کے طور پر پاکستان میں بننے والی دونوں (گل بکاؤلی) فلموں کے لیے بھی نغمہ سرائی کی تھی۔
فلم یملاجٹ (1940)
میڈم نورجہاں کی لاہور میں دوسری فلم یملاجٹ (1940) بھی ایک سپرہٹ فلم ثابت ہوئی جس کے اشتہارات میں ان کے نام سے "بے بی" حذف کر دیا گیا تھا کیونکہ اس فلم میں انھوں نے فلم کی ہیروئن کی چھوٹی بہن کا رول کیا جو اپنے بدھو باپ اور گمراہ بہن کو شہریوں کے مکروفریب سے بچاتے ہوئے یہ گیت گاتی ہے جو آن لائن موجود ہے:
- بابل، میں بلہاری وے، چل پنڈ نوں چلیے۔۔
ممتاز گلوکارہ شمشاد بیگم کے گیت فلم کی ہیروئن پر فلمائے گئے جن میں "کنکاں دیاں فصلاں پکیاں نیں۔۔" کے علاوہ فلم کے موسیقار اور گلوکار ماسٹر غلام حیدر کے ساتھ متعدد دوگانوں میں سے یہ گیت بڑا مقبول ہوا تھا: "تسی، اکھیاں دا مل کر لو۔۔"
پنچولی پکچرز کی اس نغماتی پنجابی فلم کے ہدایتکار سندھ سے آئے ہوئے موتی بی گڈوانی اور مصنف ولی صاحب تھے۔ لاہور کے سب سے سینئر اداکار ایم اسماعیل نے ٹائٹل رول کیا جبکہ معروف بھارتی ولن اداکار "پران" کی یہ پہلی فلم تھی جس میں وہ ولن ٹائپ ہیرو تھے۔ فلم کی روایتی ہیروئن "انجنا" نامی گمنام اداکارہ تھی جبکہ بےبی نورجہاں کے "معاون کردار" کے علاوہ ان کی بہن عیدن بائی، اجمل، فضل شاہ اور مزاحیہ اداکار درگا موٹا بھی فلم کی کاسٹ میں شامل تھے۔
میڈم نورجہاں کو اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت بچپن ہی سے لاہور کے میڈیا میں کتنی اہمیت حاصل رہی ہے، اس کی ایک مثال فلم یملاجٹ (1940) کا یہ اخباری اشتہار ہے جس میں باقی ساری کاسٹ کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک ثانوی رول کرنے والی کم عمر اداکارہ اور گلوکارہ ہی کو نمایاں کیا گیا ہے۔ فلم گل بکاؤلی (1939) کے سپرہٹ گیتوں کے بعد اسے "گیتوں کی رانی" اور "فلمی دنیا کی معصوم ساحرہ" کے خطابات اور ہاتھ سے بنی ہوئی تصویر کی صورت میں پیش کیا گیا ہے:
فلم یملاجٹ (1940) کی کہانی
فلم یملاجٹ (1940) کی کہانی دیہات کی سادگی اور شہری زندگی کے تصنع اور مکروفریب کی داستان ہے۔"یملا" کا مطلب، "کملا اور دیوانہ" وغیرہ ہوتا ہے۔ یہ ٹائٹل رول، اداکار ایم اسماعیل نے "دھنا جٹ" کے طور پر کیا جو اپنی بیٹی "مُنی" (بے بی نورجہاں) اور گود لی گئی بڑی بیٹی "رانی" (انجنا) کےساتھ گاؤں میں آرام و سکون کی زندگی بسر کر رہا ہوتا ہے کہ ایک دن شہر سے عدالتی سمن آ جاتا ہے جس کے مطابق "رانی" کا اصلی باپ، اپنی تمام تر جائیداد اس کے نام کر جاتا ہے۔
جائیداد کے حصول میں "رانی" اپنے محبوب "رامو" (ایس پاؤل) کو بھی چھوڑ کر باپ اور بہن کے ساتھ شہر چلی جاتی ہے جہاں ایک لالچی وکیل (اجمل) کے بیٹے "کلدیپ" (پران) کے ہتھے چڑھ جاتی ہے اور لاکھ کوششوں کے باوجود اس کے دام سے نہیں بچ پاتی لیکن ایک دن اس کی بیوی اور ایک شیرخوار بچہ دیکھ کر اس کی آنکھ کھلتی ہے اور اسے اپنا مخلص سوتیلا باپ، چھوٹی سوتیلی بہن اور اپنا بچھڑا ہوا محبوب یاد آجاتے ہیں۔
اس سال لاہور کی دیگر دو فلموں میں سے ایک فلم دلابھٹی (1940) بھی سپرہٹ ہوئی جس نے لاہور کی فلموں کی پہلی سپرسٹار ہیروئن راگنی کو متعارف کروایا تھا۔ رشیدہ بیگم نامی گلوکارہ کے گائے ہوئے گیت بڑے مقبول ہوئے تھے۔ لاہور کے دوسرے کامیاب ترین فلمساز اور ہدایتکار روپ کے شوری کی یہ پہلی کامیاب فلم تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 1940 میں کل 8 پنجابی فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں میڈم نورجہاں کی آئیڈیل گلوکارہ اور اداکارہ مختاربیگم کی بطورِ ہیروئن، کلکتہ میں بنائی گئی پہلی پنجابی فلم متوالی میرا (1940) بھی ریلیز ہوئی تھی۔
فلم چوہدری (1941)
میڈم نورجہاں کی لاہور میں تیسری فلم چوہدری (1941)، مکمل ہیروئن کے طور پر پہلی فلم تھی جس میں میڈم نے پہلی بار رومانٹک گیت گائے جن میں یہ سپرہٹ آن لائن گیت سدابہار ہے:
- بس بس وے ڈھولنا، کی تیرے نال بولنا۔۔
اس گیت میں مردانہ آواز موسیقار ماسٹر غلام حیدر کی تھی جو یقیناً سُر میں گاتے ہوں گے اور موسیقی کی تمام تر باریکیاں بھی سمجھتے ہوں گے لیکن فلمی گائیکی کے لیے ان کی آواز موضوع نہیں تھی۔ ایک پلے بیک سنگر کا سب سے بڑا ہتھیار اس کی آواز ہوتی ہے۔ یہ گیت سن کر بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہر کوئی پلے بیک سنگر نہیں بن سکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند کی کروڑوں اور اربوں کی آبادی میں آج تک چند گنے چنے مستند پلے بیک سنگرز ہی سامنے آئے ہیں جن میں بھارت میں لتا منگیشکر اور محمدرفیع اور پاکستان میں میڈم نورجہاں اور مسعودرانا کا کبھی کوئی ثانی نہیں تھا۔
فلم چوہدری (1941)، میڈم نورجہاں کے علاوہ پنچولی پکچرز، ماسٹرغلام حیدر اور ولی صاحب کی کامیابیوں کی ہٹ ٹرک بھی تھی۔ اس فلم کی خاص بات یہ بھی تھی کہ ایک تدوین کار، سید شوکت حسین رضوی کی معاون ہدایتکار کے طور پر یہ پہلی فلم تھی۔
فلم چوہدری (1941) کی کہانی
فلم چوہدری (1941) کی کہانی، کسی گاؤں کے ایک ان پڑھ اور جاہل شخص (غلام محمد) کی ہے جو سیروتفریح کے لیے شہر جاتا ہے لیکن اتفاق سے ریلوے سٹیشن پر سامان بدلنے سے ایک شہزادے (ایس پال) کی جگہ ایک اعلیٰ ہوٹل میں بڑی شان و شوکت سے قیام کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس کا چیلا (درگا موٹا)، اس جعل سازی میں معاون ہوتا ہے۔ شہزادے کو بخوبی علم ہوتا ہے لیکن وہ مصنوعی شاہانہ زندگی سے تنگ آیا ہوا ہوتا ہے۔ تقدیر اسے چوہدری کے گاؤں لے جاتی ہے جہاں نورجہاں اس کی منتظر ہوتی ہے۔ اس نیم کامیڈی فلم کے آخر میں عقدہ کھلتا ہے لیکن شہزادہ، چوہدری کی جعل سازی معاف کر دیتا ہے۔
ہدایتکار نرنجن پال کی پنجابی فلم چوہدری (1940) کا ٹائٹل رول سینئر اداکار غلام محمد نے کیا جو 1930ء کی دھائی میں بمبئی کی امپیرئل فلم کمپنی کے ممتاز ولن اداکار تھے۔ پہلی فلم مادھوری (1932) تھی۔ برصغیر کی پہلی رنگین فلم کسان کنیا (1937) کے علاوہ تاریخی فلم غازی صلاح الدین (1939) کا ٹائٹل رول بھی کیا تھا۔ پاکستان میں پہلی فلم مندری (1949) اور آخری فلم آواز دے کہاں ہے (1962) تھی۔ ان کا تعلق لاہور سے تھا اور غالباً اپنے آبائی شہر میں ان کی یہ پہلی فلم تھی۔ ان کے معاون کے طور پر لاہور کی فلموں کے پہلے ممتاز مزاحیہ اداکار موٹے تازے "درگا موٹا" تھے۔
فلم چوہدری (1941) کا ری میک فلم خلیفہ (1966) کی صورت میں بنایا گیا جس کا ٹائٹل رول مظہرشاہ نے کیا، چیلے آصف جاہ بنے اور نغمہ حبیب کی لیجنڈ جوڑی کی یہ پہلی پنجابی فلم تھی۔
1941ء میں بننے والی کل پانچ فلموں میں سے لاہور کی پہلی بلاک باسٹر ہندی/اردو فلم خزانچی (1941) بھی تھی جس نے پورے ہندوستان میں باکس آفس پر کامیابیوں کے نئے ریکارڈز قائم کیے تھے۔ پنچولی پکچرز کی اس شاہکار فلم کا ٹائٹل رول ایم اسماعیل نے کیا۔ یہ ان کے قریباً پچاس سالہ فلمی کیرئر کی سب سے بڑی فلم تھی۔ ہدایتکار موتی بی گڈوانی تھے اور موسیقار ماسٹرغلام حیدر تھے جنھوں نے ہندوستانی فلموں کی موسیقی کا ٹرینڈ بدل کر رکھ دیا تھا۔ سارے گیت شمشاد بیگم نے گائے تھے جو پورے ملک میں مقبول ہوگئی تھیں۔ رمولا اور نارنگ کی جوڑی تھی۔
فلم خاندان (1942)
میڈم نورجہاں کی اپنے پہلے دور میں لاہور میں چوتھی اور آخری فلم خاندان (1942) تھی جو ان کی پہلی سپرہٹ ہندی/اردو فلم بھی تھی۔ اس فلم میں گلوکاری کے علاوہ ہیروئن کے طور پر بھی میڈم نے پورے ملک میں دھوم مچا دی تھی۔ اس فلم میں میڈم نورجہاں کے متعدد گیت سپرہٹ ہوئے تھے:
- تو کون سی بدلی میں میرے چاند ہے، آ جا۔۔
- میرے لیے جہاں میں نہ چین ہے، نہ قرار ہے۔۔
- ہم آنکھ مچولی کھیلیں گے۔۔
اسی گیت کے دوران ایک کھیل میں میڈم کا گیٹ اپ مغل ملکہ نورجہاں (1645-1577ء) جیسا ہوتا ہے اور ہیرو پران، شہنشاہ جہانگیر (1627-1569ء) کے روپ میں ہوتے ہیں۔ اس گیت میں ایک بول ہوتا ہے: "میں ہوں نورجہاں۔۔" فلم کے آغاز میں یہ بول سن کر ایسے لگتا ہے کہ جیسے میڈم اپنے بارے میں بتا رہی ہوں کہ میں کون ہوں۔۔!
فلم خاندان (1942) میں ایک خوبصورت کورس گیت "مار گئی رے، ہمیں تیری نجریا، پیاری نجریا۔۔" بھی تھا جس میں میڈم نورجہاں کے علاوہ شمشاد بیگم، نسیم اختر اور سکھیاں تھیں۔ اس کورس کی اداکاراؤں میں میڈم کے علاوہ ایک "بے بی اختری" بھی تھی جو 1940 کی دھائی میں لاہور کی فلموں کی ایک مقبول اداکارہ بنی اور اس پر فلم پگڈنڈی (1947) میں ایک یادگار شوخ گیت فلمایا گیا تھا "بلما، پٹواری ہوگئے، نوکر، سرکاری ہوگئے۔۔"
1940 کی دھائی میں لاہور کی فلموں میں راگنی کے بعد دوسری مقبول ترین اداکارہ منورما ہوتی تھی جس نے اس فلم میں ایک ویمپ کا رول کیا۔ اس پر شمشاد بیگم کے گائے ہوئے متعدد گیت فلمائے گئے لیکن وہ اتنے مقبول نہیں ہوئے تھے۔
ان گیتوں کی خاص بات یہ تھی کہ ان کے شاعر، ایم ڈی تاثیر (محمددین تاثیر) تھے جو مذہبی دہشت گردی کا شکار ہونے والے سابق گورنر پنجاب سلیمان تاثیر کے والدِ گرامی تھے۔ وہ ایک انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص تھے اور اسلامیہ کالج لاہور کے پرنسپل بھی تھے۔
فلم خزانچی (1941) کے بعد خاندان (1942) کی سپرہٹ موسیقی بھی ماسٹر غلام حیدر نے دی لیکن اس کے بعد ایسا اعلیٰ پائے کا کام پھرکبھی نہیں کر سکے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ بمبئی کے قیام کے دوران ان کا میڈم کے ساتھ کوئی گیت نہیں ملتا البتہ پاکستان میں اپنی آخری فلم گلنار (1953) میں انھوں نے میڈم سے یہ سدابہار گیت گوایا تھا: "لو، چل دیے وہ ہم کو تسلی دیے بغیر۔۔"
فلم خاندان (1942) کی کہانی
فلم خاندان (1942) کی کہانی ایک امریکی ناول سے ماخوذ تھی جس کا مرکزی کردار، اداکار غلام محمد نے کیا جو اپنے ان دیکھے قاتل باپ (ابراہیم) سے شدید نفرت کرتا ہے کیونکہ بچپن میں وہ، اس کو اور اس کی ماں کو بے یارومددگار چھوڑ کر ایک طوائف کے عشق اور بے وفائی کا شکار ہو کر قاتل بن کر گمنام ہو جاتا ہے اور وہ ایک قاتل کا بیٹا ہونے کی تہمت سہتے ہوئے بڑی تگ و دو کے بعد صاحبِ حیثیت بنتا ہے۔
تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور اس کا اپنا اکلوتا بیٹا (پران) بھی اپنی منگیتر (نورجہاں) کو چھوڑ کر ایک طوائف (منورما) کے چکر میں پڑ جاتا ہے جو فلم کے ولن (اجمل) وغیرہ کو بھی خوش رکھتی ہے اور اصل مقصد دولت ہتھیانا ہوتا ہے۔
پوتا بھی جوشِ انتقام میں دادا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اسی خاندانی ریوالور سے ہرجائی طوائف کو قتل کرنا چاہتا ہے جس سے اس کے دادا نے کیا تھا۔ باپ نے اس خاندانی ریوالور کو ایک تلخ یاد کے طور پر چھپا کر رکھا ہوا ہوتا ہے کیونکہ اس پر ان کے آباؤاجداد کے نام کندہ ہوتے ہیں۔ پوتے کا کام اس کا "مالی بابا" اپنی جان پر کھیل کر سرانجام دے دیتا ہے جو اصل میں اسی کا اپنا سگا دادا ہوتا ہے جو اسی خاندانی ریوالور سے اپنے خاندان کو پہچانتا ہے۔
فلم خاندان (1942) کے مرکزی کردار غلام محمد اور کلکتہ کے ایک گمنام اداکار ابراہیم نے کیے تھے۔ ہیروئن نورجہاں، گھر کی ہونے والی بہو ہوتی ہے۔ معروف بھارتی ولن اداکار "پران" کی بطورِ ہیرو یہ پہلی ہندی/اردو فلم تھی جس میں انھوں نے ایک ہرجائی ہیرو کا رول کیا۔ لاہور کی فلموں کی معروف اداکارہ منورما نے ویمپ کا اور فلم ہیررانجھا (1970) کے"کیدو"، اداکار اجمل نے اپنی جوانی کے دور میں ایک سوٹد بوٹد ولن کا رول کیا جن کا تکیہ کلام "کم از کم انگلستان میں تو ایسا نہیں ہوتا۔۔" بڑا مقبول ہوا تھا۔ بھارتی پنجابی فلموں کے مشہور کامیڈین، خیراتی لال، ایک چھوٹے سے سین میں اپنی ٹیڑھی آنکھوں کے ساتھ نظر آئے۔
پنچولی پکچرز کی سپرہٹ مسلم سوشل فلم خاندان (1942) کے ہدایتکار سید شوکت حسین رضوی تھے جو کلکتہ سے غالباً میڈم نورجہاں کے عشق میں چلے آئے تھے حالانکہ وہاں امکانات کہیں زیادہ تھے۔ "انارکلی" فیم رائٹر سید امتیاز علی تاج کی کہانی کا بھاری بھر کم سکرین پلے رضوی صاحب کے ساتھ خادم محی الدین نے لکھا جو پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) کے مصنف اور معروف ٹی وی کمپئر ضیاء محی الدین کے والدِ گرامی تھے۔
اتفاق دیکھیے کہ اس فلم کے بعد مسلمان فنکار، نورجہاں، شمشاد بیگم، ماسٹر غلام حیدر، شوکت رضوی اور پھر محمدرفیع بھی لاہور چھوڑ کر بمبئی چلے گئے تھے لیکن ہندو فنکار، فلمساز دل سکھ پنچولی، پران اور منورما وغیرہ 1947ء کے تقسیم کے فسادات کے بعد بھارت گئے تھے۔ غلام محمد بھی واپس بمبئی چلے گئے لیکن دیگر معاون اداکار، بے بی اختری، جی این بٹ اور نفیس بیگم، لاہور کی فلموں تک محدود رہے تھے۔
"ملکہ نغمہ"
بمبئی کے ایک اردو اخبار میں فلم خاندان (1942) کے "ویسٹ اینڈ سینما" پر مسلسل تیسرے ماہ کی نمائش پر ایک اشتہار میں میڈم نورجہاں کو "ملکہ نغمہ" کا خطاب دیاگیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم کے ہیرو اداکار "پران" کو فلم کے پوسٹر کی طرح اس اشتہار پر بھی نظرانداز کیا گیا لیکن غلام محمد، منورما اور اجمل کو نمایاں کیا گیا تھا۔
فلم خاندان (1942) کی کامیابی
1942ء میں برصغیر پاک و ہند میں 117 ریلیز شدہ ہندی/اردو اور پنجابی فلموں کا ریکارڈ ملتا ہے جن میں سے 7 فلمیں لاہور میں بنائی گئی تھیں۔ پورے ملک میں بزنس کے لحاظ سے فلم بسنت (1942)، پہلے نمبر پر رہی جس کی ہیروئن ولی صاحب کی اداکارہ بیوی ممتاز شانتی تھی۔
میڈم نورجہاں کی نغماتی فلم خاندان (1942)، ملک بھر میں بزنس کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر رہی اور گزشتہ سال کی فلم خزانچی (1941) کا ریکارڈ نہ توڑ سکی تھی۔ اس کے باوجود اس فلم کے بزنس کا یہ عالم تھا کہ جب پیلس سینما لاہور میں 25واں سلورجوبلی ہفتہ منا رہی تھی تو کلکتہ میں 24وں، کراچی میں 20واں، بمبئی میں 18واں، دہلی میں 16واں اور مدراس میں 8ویں ہفتے میں چل رہی تھی۔
یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریاں جاری تھیں لیکن 1942ء کا سال لاہور کی فلموں کے انتہائی عروج کا سال تھا۔ اسی سال بیشتر فلمیں کامیاب رہیں جن میں ہدایتکار روپ کے شوری کی پنجابی فلم منگتی (1942) نے لاہور میں پہلی گولڈن جوبلی فلم ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
اس فلم کی ہیروئن، ولی صاحب کی اداکارہ بیوی، ممتاز شانتی تھی جبکہ فردوس اور اعجاز کی شاہکار فلم ہیررانجھا (1970) کے ہدایتکار مسعودپرویز، ہیرو کے رول میں تھے۔ اس فلم کی موسیقی بڑی پاورفل تھی اور تقسیم کے قبل لاہور کی فلموں کی مقبول اور مصروف گلوکارہ زینت بیگم کے فلمی کیرئر کی سب سے بڑی فلم تھی۔ اسی فلم کی کمائی سے لاہور کا دوسرا بڑا، شوری فلم سٹوڈیو قائم ہوا جو قیامِ پاکستان کے بعد میڈم نورجہاں اور ان کے شوہر شوکت حسین رضوی کو الاٹ ہوا تھا اور اس کا نام "شاہ نور فلم سٹوڈیو" رکھا گیا تھا۔
نورجہاں، "ہندوستانی سکرین پر"
تاریخ کا ایک طالبِ علم ہونے کے ناطے میرے لیے فلم محض ایک تفریح نہیں بلکہ تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ فلم خاندان (1942) پر تحقیق کرتے ہوئے ایک دلچسپ اخباری اشتہار نظر سے گزرا جس میں میڈم نورجہاں کی تصویر کے ساتھ انگلش میں لکھا ہے (ترجمہ): "نورجہاں، "شمالی ہند" کے لاکھوں دلوں کی دھڑکن فلم "خاندان" سے اپنی "ہندوستانی سکرین" کا آغاز کر رہی ہے۔۔!"
اس اشتہار کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ میڈیا پالیسی کا ہے جس میڈم نورجہاں کی رنگین تصویر ہے حالانکہ اس دور کے اخبارات پر تصاویر عام نہیں ہوتی تھیں۔ عبارت میں فلم کے نام کے بعد فلمساز دلسکھ پنچولی کا نام نمایاں ہے جو ہندو اکثریتی آبادی کو یہ باور کروانا تھا کہ یہ مسلم سوشل فلم، ایک ہندو کی بنائی ہوئی ہے۔ ہدایتکار شوکت رضوی کا نام نمایاں نہیں جو اس وقت گمنام تھے لیکن سکرین پلے رائٹر سید امتیاز علی تاج کا نام جلی حروف میں لکھا ہوا ہے کیونکہ 1922ء میں لکھے ہوئے اپنے مشہورِ زمانہ ناول "انارکلی" کی وجہ سے شہرت یافتہ تھے اور ان کے اس تاریخی ناول پر بہت سی فلمیں بھی بن چکی ہیں۔
اس اشتہار کا دوسرا حصہ اس کی عبارت ہے جس کو پڑھ کر ایک عام آدمی بھی یقینا ً سوچتا ہوگا کہ "شمالی ہند" اور "ہندوستان" میں کیا فرق ہے۔۔؟
اس کا مختصراً جواب تو یہی ہے کہ دریائے سندھ کے مشرق میں واقع بنگال تک کا جتنا علاقہ ہے، اہلِ فارس کے نزدیک وہ سارا "ہندوستان" ہے لیکن یہاں کے مقامی باشندوں کے مطابق ایسا نہیں ہے کیونکہ یہاں لسانی شناخت بڑی گہری رہی ہے اور پورا خطہ ہمیشہ سے لسانی بنیادوں پر تقسیم رہا ہے۔
اصل میں ہندوستان، ایک چھوٹا سا برِاعظم تھا جس کو "برِصغیر" یا subcontinent بھی کہتے ہیں۔ اس خطے کا سب سے بڑا اور وسیع علاقہ وسطی ہندوستان کا ہے جہاں اکثریتی زبان ہندی کی پچاس کے قریب بولیاں بولی جاتی ہیں اور مرکز دہلی ہے۔ 12ویں صدی میں مسلمانوں کی آمد کے بعد فارسی اور ہندی کے ملاپ سے ایک نئی زبان اردو وجود میں آئی جو اس علاقے کے مسلمانوں کی زبان بن گئی لیکن 19ویں صدی تک ہندی اور اردو، ایک ہی زبان یعنی "ہندوستانی" کہلاتی تھیں۔
19ویں صدی میں انگریز حکمرانوں نے فارسی کی جگہ "ہندوستانی" کو قومی زبان بنانا چاہا تو ہندو مسلم شناخت پر تنازعات پیدا ہوئے اور "ہندوستانی زبان" تقسیم ہوگئی جو ہندوؤں کے لیے سنسکرت زدہ "ہندی" اور مسلمانوں کے لیے فارسی زدہ "اردو" زبانیں بن گئیں۔
اس "ہندی بیلٹ" کے ارد گرد دوسری زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں شمال میں کشمیری، پنجابی اور سندھی، مغرب میں گجراتی اور مرہٹی، جنوب میں دراوڑی اور مشرق میں بنگالی وغیرہ۔ یہ سبھی زبانیں بولنے والے (مقامی ہندو) انھی زبانوں کے ناموں سے پہچانے جاتے تھے لیکن ہندوستان یا برصغیر کے غیر ہندو (مثلاً مسلمانوں اور سکھوں وغیرہ ) کی اپنی مذہبی پہچان ہوتی تھی۔
1947ء میں تقسیم کے بعد بڑی تعداد میں اردو بولنے والے پاکستان آئے اور بڑے شہروں میں مقیم ہوئے۔ ان کے علاقے کی نسبت سے پاکستان میں اردو بولنے والوں کو "ہندوستانی" کہا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ ہم بچپن میں پاکستانی اردو فلموں کو بھی ہندوستانی فلمیں ہی سمجھا کرتے تھے۔
1971ء کی جنگ کے بعد بھارت سے شدید نفرت پیدا ہوئی اور اس دور میں جب ایک انکل نے یہ جملہ کہا کہ "پاکستان کی قومی زبان، ایک ہندوستانی زبان ہے۔۔" تو جی چاہا تھا کہ اس کا منہ نوچ لوں۔ پاکستانی میڈیا کے اثرات تھے جو حقیقت سے زیادہ جذباتی پن تھا۔
وہ جملہ ہمیشہ یاد رہا اور جب تاریخ کا کچھ شعور ہوا تو اپنے بزرگوں سے ایک محفل میں یہ سوال پوچھا کہ "تقسیم سے قبل ہم سب ہندوستانی تھے تو پھر صرف اردو بولنے والوں ہی کو ہندوستانی کیوں کہا جاتا ہے۔۔؟"
ایک دانا قسم کے بزرگ نے گھور کر دیکھا۔ چند لمحے توقف کیا اور بڑی سنجیدگی سے یہ جواب دیا: "تقسیم سے قبل ہم صرف مسلمان تھے۔۔!!!"
یہ ایک ایسا مکمل جواب ہے کہ دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا دانشور یا تاریخ دان بھی، اس سے بہتر جواب نہیں دے سکتا۔۔!
میڈم نورجہاں کا لاہور میں قیام
لاہور کے ہیرامنڈی کے علاقہ میں ایک مکان پر ایک کتبہ جڑا ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ملکہ ترنم نورجہاں نے 1938ء سے 1942ء تک اس مکان میں قیام کیا تھا۔
اس سے بعض نادان لوگوں نے یہ گمان کیا کہ میڈم نورجہاں کا تعلق ہیرا منڈی سے تھا اور شاید وہاں دیگر طوائفوں کی طرح "دھندہ" کیا کرتی تھیں۔۔!
حالات و واقعات کے تناظر میں یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی۔ ۔!
پہلی بات تو یہ ہے کہ میڈم نورجہاں کا لاہور کی ہیرامنڈی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ قصور میں پیدا ہوئیں اور اس دور میں میلوں ٹھیلوں میں اپنے خاندان سمیت گانا بجانے کا کام کیا کرتی تھیں۔ نو دس سال کی عمر میں پہلی بار لاہور گئیں تو قیام مختصر تھا کیونکہ جلد ہی کلکتہ چلی گئی تھیں جہاں سے فلم سٹار بن کر واپس آئیں۔
لاہور واپسی پر ہیرامنڈی کے اس مکان میں رہیں لیکن ضروری نہیں کہ دیگر طوائفوں کی طرح "دھندہ" کیا کرتی تھیں۔ بغیر کسی مستند تحقیق کے بہتان تراشی کرنا اخلاقی پستی کی بدترین مثال ہے۔ ویسے بھی یہ خلافِ عقل ہے کیونکہ کسی بھی فنکار کے لیے دولت و شہرت کے حصول کی معراج ریڈیو، سٹیج اور فلم ہوتی تھی اور اس بازار کی قابل لڑکیاں بڑی تگ و دو اور خوش قسمتی کے ساتھ اس مقام تک پہنچتی تھیں جہاں میڈم نورجہاں پہلے ہی سے موجود تھیں، اس لیے انھیں بلندی سے پستی کی طرف جانے کی ضرورت نہیں تھی۔
اس کتبے کے مطابق، 42-1938ء لاہور میں میڈم نورجہاں کا قیام، ان کے انتہائی عروج کا دور تھا۔ فلموں میں اداکاری اور گلوکاری کے علاوہ ریڈیو اور سٹیج پر بھی گاتی تھیں اور میڈیا کی ڈارلنگ تھیں۔ ساتھ دی گئی بے بی نورجہاں کی تصویر کے کیپشن میں لکھا ہوا ہے "نورجہاں، یکم جنوری کو لاہور سے ان کے گانے سنیے۔"
پاکستان فلم میگزین پر ملکہ ترنم نورجہاں کی 100ویں سالگرہ کے اس عظیم سلسلے کے اس تیسرے مضمون میں ان کی کلکتہ سے لاہور واپسی پر بات ہوئی۔ اگلی نشست میں میڈم کے بمبئی کے فلمی کیرئر پر بات ہوگی، ان شاء اللہ۔۔!
Superstar Noor Jehan in Lahore
- Noor Jehan appeared as actress and playback singer in Lahore-based movies from 1939-42.
4 movies
| 1. | 1939: Gul Bakavli(Punjabi) |
| 2. | 1940: Yamla Jatt(Punjabi) |
| 3. | 1941: Chaudhry(Punjabi) |
| 4. | 1942: Khandan(Hindi/Urdu) |
15 movie songs
| 1. | Punjabi filmGul Bakavlifrom 1939Singer(s): Babay Noorjahan, Suriya Jabeen, Music: Master Ghulam Haider, Poet: Wali Sahib, Actor(s): Baby Noorjahan |
| 2. | Punjabi filmGul Bakavlifrom 1939Singer(s): Noorjahan, Music: Master Ghulam Haider, Poet: Wali Sahib, Actor(s): Baby Noorjahan |
| 3. | Punjabi filmGul Bakavlifrom 1939Singer(s): Baby Noorjahan, Music: Master Ghulam Haider, Poet: Wali Sahib, Actor(s): Baby Noorjahan |
| 4. | Punjabi filmYamla Jattfrom 1940Singer(s): Noorjahan, Music: Master Ghulam Haider, Poet: Wali Sahib, Actor(s): Noorjahan |
| 5. | Punjabi filmYamla Jattfrom 1940Singer(s): Noorjahan, Music: Master Ghulam Haider, Poet: Wali Sahib, Actor(s): Noorjahan |
| 6. | Punjabi filmYamla Jattfrom 1940Singer(s): Noorjahan, Music: Master Ghulam Haider, Poet: Wali Sahib, Actor(s): Noorjahan |
| 7. | Punjabi filmChaudhryfrom 1941Singer(s): Noorjahan, Master Ghulam Haider, Music: Master Ghulam Haider, Poet: F.D. Sharf, Actor(s): Noorjahan |
| 8. | Punjabi filmChaudhryfrom 1941Singer(s): Noorjahan, Music: Master Ghulam Haider, Poet: F.D. Sharf, Actor(s): Noorjahan |
| 9. | Punjabi filmChaudhryfrom 1941Singer(s): Noorjahan, Master Ghulam Haider, Music: Master Ghulam Haider, Poet: F.D. Sharf, Actor(s): Noorjahan, ? |
| 10. | Punjabi filmChaudhryfrom 1941Singer(s): Master Ghulam Haider, Noorjahan, Music: Master Ghulam Haider, Poet: F.D. Sharf, Actor(s): ?, Noorjahan |
| 11. | Hindi/Urdu filmKhandanfrom 1942Singer(s): Noorjahan, Music: Master Ghulam Haider, Poet: Dr. M.D. Taseer, Actor(s): Noorjahan |
| 12. | Hindi/Urdu filmKhandanfrom 1942Singer(s): Noorjahan, Master Ghulam Haider, Music: Master Ghulam Haider, Poet: Dr. M.D. Taseer, Actor(s): Noorjahan, Pran |
| 13. | Hindi/Urdu filmKhandanfrom 1942Singer(s): Noorjahan, Music: Master Ghulam Haider, Poet: Dr. M.D. Taseer, Actor(s): Noorjahan |
| 14. | Hindi/Urdu filmKhandanfrom 1942Singer(s): Noorjahan, Music: Master Ghulam Haider, Poet: Dr. M.D. Taseer, Actor(s): Noorjahan |
| 15. | Hindi/Urdu filmKhandanfrom 1942Singer(s): Shamshad Begum, Noorjahan, Naseem Akhtar, Music: Master Ghulam Haider, Poet: Dr. M.D. Taseer, Actor(s): Noorjahan & Co. |
Pakistan Film Magazine
Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.
پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔
یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔
اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔





