Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi



Pakistan Film History

A.R. Kardar

Pakistan Film Magazine presents detailed Urdu/Punjabi article on the pioneer of Lahore film industry, A.R. Kardar.


اے آر کاردار

اے آر کاردار  ۔  
لاہور ، کلکتہ اور بمبئی کے 
کامیاب فلم ڈائریکٹر تھے
اے آر کاردار
لاہور ، کلکتہ اور بمبئی کے
کامیاب فلم ڈائریکٹر تھے

لاہور فلم انڈسٹری کے معمار ، اے آر کاردار کے ذکر کے بغیر پاکستانی فلمی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔۔!

عبدالرشید کاردار عرف اے آر کاردار نے فلمساز ، ہدایتکار اور مصنف کے طور پر لاہور کی ابتدائی دور کی آدھی سے زائد خاموش فلمیں بنائیں۔ ان کی فلم کمپنی ، لاہور کی پہلی کامیاب ترین فلم کمپنی تھی اور انھیں لاہور کا پہلا باقاعدہ فلم سٹوڈیو بنانے کا موقع بھی ملا۔

کاردار صاحب کو لاہور میں بننے والی پہلی فلم میں اداکاری کے علاوہ برصغیر کی پہلی پنجابی فلم بنانے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہے۔

اے آر کادار ، لاہور کے علاوہ کولکتہ اور ممبئی کی فلموں میں بھی ایک کامیاب فلم ڈائریکٹر ثابت ہوئے اور ممبئی میں بھی ایک فلم کمپنی کے علاوہ ایک جدید ترین فلم سٹوڈیو کے مالک بھی تھے۔

ایک مصور کا فلمی سفر

لاہور کے بھاٹی گیٹ میں پیدا ہونے والے اے آر کاردار ، بنیادی طور پر ایک مصور اور سٹل فوٹو گرافر تھے۔ ان کے بچپن کے دوست اور محلہ دار ، محمد اسماعیل (اداکار ایم اسماعیل) ، ایک سنار کے بیٹے تھے جو فن خوش نویسی جانتے تھے۔ دونوں نے مل کر ARME Artists کے نام سے ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی قائم کی جو 1920 کی دھائی میں لاہور سے شائع ہونے والے اخبارات و جرائد ، کتابوں اور کتابچوں کے علاوہ تھیٹر ، فلموں اور دیگر کاروباری اداروں کے اشتہارات وغیرہ کے لیے آرٹ ڈیزائنگ کی خدمات سر انجام دیتی تھی۔

سو سال پہلے یعنی 1920 کی دھائی میں لاہور میں ممبئی (بمبئی) ، کولکتہ (کلکتہ) اور چنائے (مدراس) کے علاوہ ہالی وڈ کی خاموش فلمیں چلتی تھیں۔

ان دونوں دوستوں کو بھی فلموں کا شوق مال روڈ پر واقع فوٹو گرافی کی ایک دکان پر لے گیا جہاں اس دور کا ایک لینس کا ہاتھ سے چلنے والا جدید مووی کیمرہ خریدا جس کے ساتھ ستر فٹ کی فلم بھی تھی۔ فلم پروسیسنگ کا تمام تر کام بھی اسی دکان پر ہوا۔ ایک مختصر سی فلم بن گئی جو ایک فلم پروجیکٹر پر فلم دیکھنے والے ، خود ہی فلم بنانے اور اس فلم میں کام کرنے والے تھے۔

اس شوقیہ اور گمنام فلم میں ماسٹر غلام قادر ، ہیرو ، ایم اسماعیل ، ولن اور اے آر کاردار ، معاون اداکار کے کرداروں میں نظر آئے۔

کاردار بطور اداکار

اسی دور میں امریکہ سے تربیت یافتہ ایک فوٹو گرافر روشن لال شوری ، ایک فلم بنانے کا منصوبہ بنارہے تھے لیکن کامیاب نہ ہوئے البتہ لاہور میں ریلوے کے ایک افسر گوپال کرشن مہتا ، جرمنی سے فلمسازی کی تربیت حاصل کرنے کے بعد ایک مووی کیمرہ ساتھ لے آئے اور فلمسازی کا پروگرام شروع کیا۔

کاردار اور ایم اسماعیل نے اپنی جمع پونچی بیچی اور ان تینوں نے مل کر دس ہزار روپے کی لاگت سے لاہور کا پہلا فلمساز ادارہ Lahore Premier Film Company کے نام سے قائم کیا۔ ایک عارضی فلم سٹوڈیو بنایا گیا جس میں لاہور کی پہلی فلم آج کی بیٹیاں (1927) یا Daughters of Today بنی۔ کاردار کو اس فلم میں نہ صرف اداکاری بلکہ ڈائریکشن کے گر سیکھنے کا موقع بھی ملا۔ ولایت بیگم ہیروئن اور غلام قادر ہیرو تھے جبکہ ایم اسماعیل نے اپنی پہلی فلم میں بھی اولڈ رول کیا تھا۔

لاہور کی اس پہلی فلم کے بعد کئی سال تک مزید کوئی فلم نہ بن سکی۔ اس دوران کاردار اور ایم اسماعیل ، اداکاری کے شوق میں بمبئی چلے گئے جہاں انھوں نے خاموش فلم ہیر رانجھا (1929) میں بالترتیب "سیدا کھیڑا" اور "کیدو" کے کردار کیے تھے۔ اس دور کی مقبول جوڑی سلوچنا اور ڈی بلیموریا نے "ہیر" اور "رانجھا" کے کردار کیے تھے۔

کاردار کی فلم کمپنی اور فلم سٹوڈیو

دنیا میں پہلی فلم 1906ء میں بنائی گئی جبکہ برصغیر کی پہلی فلم 1913ء میں بنی لیکن لاہور کے ثقافتی محاذ پر دو دھائیوں بعد بھی جمود کی سی کیفیت طاری تھی۔ اہل لاہور ، سٹیج کے علاوہ سینماؤں پر بمبئی ، کلکتہ اور ہالی وڈ کی فلموں سے دل بہلاتے تھے۔

لاہور کی پہلی فلم تو آج کی بیٹیاں (1927) یا Daughters of Today تھی لیکن وسائل کی کمیابی کیوجہ سے فلمسازی کے رحجان میں خاصی سست روی تھی۔

اس دوران کئی ایک فلم کمپنیاں بنیں اور بند ہوئیں ، متعدد عارضی فلم سٹوڈیوز قائم ہوئے اور ختم ہوئے لیکن کاردار صاحب کی ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کا کمال تھا کہ لاہور کی پہلی کامیاب فلم کمپنی اور پہلا باقاعدہ فلم سٹوڈیو بنانے کا اعزاز بھی انھیں حاصل ہوا جو راوی روڈ پر قائم ہوا تھا۔

کاردار کی لاہور کی فلمیں

اے آر کاردار نے لاہور میں فلمسازی کو جلا بخشی اور کچھ کم نہیں ، صرف چار برسوں میں درجن بھر فلمیں بنا ڈالیں۔ لاہور میں بننے والی آدھی سے زائد خاموش فلمیں کاردار صاحب ہی کے کریڈٹ پر ہیں۔

فلمساز ، ہدایتکار اور مصنف اے آر کاردار کی پہلی فلم حسن کا ڈاکو (1930) یا Mysterious Eagle تھی جس کا ترجمہ "پراسرار عقاب" بھی تھا۔ اس فلم میں مس گلزار نامی اداکارہ کے ساتھ خود ہیرو آئے۔ ان کی ذاتی فلم کمپنی United Players Corporation کی یہ پہلی پیش کش تھی جو لاہور میں بنائی گئی دوسری فلم بھی تھی جو کامیاب رہی تھی۔

کاردار کی فلمی سوچ

اپنی اس پہلی فلم کے تعارف کے لیے اے آر کاردار نے سینما مالکان کو جو خط لکھا ، وہ ، 1930 کی دھائی کی فلمی صورتحال کا ایک بہترین عکس اور ان کی فلمی سوچ اور اغراض و مقاصد کی ایک واضح جھلک ہے، ملاحظہ فرمائیں:

    میں نے "پُر اسرار عقاب" یا "حسن کا ڈاکو" نامی فلم میں ایک نئے رجحان کو جنم دیا ہے۔ یہاں کی فلموں میں صرف لڑائی مارکٹائی اور سٹنٹ (بازی گری) کے زور پر دلچسپی پیدا کی جاتی ہے لیکن میں نے ان لوازمات کے ساتھ ساتھ اپنی کہانی میں ڈرامے کے عنصر کو بھی اجاگر کیا ہے۔

    دیسی فلموں کے وسیع مطالعے اور گہرے تجزیےکے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اچھل کود اور لڑائی مار کٹائی کے مناظر کتنے بھی غیر فطری ہوں، عوام کو بہت پسند آتے ہیں اور لوگ قدم قدم پر تالیاں بجاتے اور ہیرو کے محیّرالعقول کارناموں پہ داد دیتے نظر آتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پڑھے لکھے اور سنجیدہ ناظرین اس طرح کے بچگانہ مناظر سے سخت نالاں ہیں۔

    میں نے اپنی فلم میں کیمرہ ٹِرک کے ذریعے کوئی مافوق الفطرت ہیرو تخلیق کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ کیمرے کو حقیقت کا عکاس بنایا ہے اور تیکنیکی کرتب دکھانے کی بجائے اُن باتوں کو فلمایا ہے جو روزمرہ زندگی میں واقعی پیش آ سکتی ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے مجھے اپنے اداکاروں کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈالنا پڑا اور شاید ہی میرا کوئی آرٹسٹ ایسا ہو جسے شوٹنگ کے دوران چوٹیں نہ آئی ہوں۔ ایم اسماعیل کا گھٹنا تو ایسا زخمی ہوا کہ وہ کئی ہفتے تک بستر سے نہ اُٹھ سکا۔

    آخر میں نے یہ سب پاپڑ کیوں بیلے؟ محض فلم میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے!

    مجھے یقین ہے جہاں یہ فلم لڑائی مارکٹائی کے مناظر کی وجہ سے عوام میں مقبول ہو گی وہیں اپنی ڈرامائی کہانی کی بدولت پڑھے لکھے اور سنجیدہ طبقے سے بھی داد حاصل کرے گی۔

کاردار کے عروج کا دور

کاردار صاحب کی دوسری فلم سرفروش (1930) یا Brave Heart بھی ایک کامیاب فلم تھی۔ اس فلم میں مس گلزار کے ساتھ ایک نئے ہیرو گل حمید کو موقع دیا گیا جو اپنے وقت کا ایک انتہائی خوبرو اداکار تھا لیکن جوانی ہی میں کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہو کر فوت ہوگیا تھا۔ اسی فلم میں لاہور کے ایک نامور موسیقار اور پہلی پنجابی فلم کے ہیرو ، رفیق غزنوی کو بھی اداکار کے طور پر پہلا موقع ملا تھا۔

اس دور کی خاموش فلمیں کہنے کو تو خاموش فلمیں ہوتی تھیں لیکن اصل میں انگلش فلمیں ہوتی تھیں۔ فلموں کے نام انگلش میں ہوتے تھے جنھیں اردو/ہندی میں ترجمہ کر لیا جاتا تھا۔ فلموں کے سب ٹائٹلز بھی یقیناً انگلش ہی میں ہوتے تھے۔ ایک فلم کے کم از کم دو دو نام رکھنے کا رواج ہوتا تھا۔

ایک صدی قبل جو کچھ ہوتا تھا ، آج بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ آج بھی فلم چند طبقات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ فلموں کے نام بھی انگلش میں رکھے جاتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ انگریز کا "دور غلامی" ہوتا تھا اور آج ہم نام نہاد "دور آزادی" میں رہتے ہیں۔

کاردار صاحب کی ایک اور یادگار فلم آوارہ رقاصہ (1930) یا Wandering Dancer تھی جس میں مس گلزار اور رقیہ خاتون نامی اداکاراؤں کے ساتھ گل حمید کی جوڑی تھی جبکہ ایم اسماعیل کے علاوہ لاہور کے ایک فنکار لالہ یعقوب بھی فلم کا حصہ تھے۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ اسی فلم کی کہانی پر کاردار نے بعد میں بھارت میں دو فلمیں بنائیں جن میں سے پہلی فلم دلاری (1949) ، محمدرفیع کے پہلے سپرہٹ گیت "سہانی رات ڈھل چکی۔۔" کی وجہ سے مشہور تھی جبکہ دوسری فلم یاسمین (1955) بتائی جاتی ہے۔

اپنے پہلے ہی سال میں کاردار کی بنائی ہوئی پانچ فلموں میں سے ایک سنہرا خنجر (1930) یا Golden Dagger کے علاوہ ایک فلم گڈریا (1930) یا Shepherd بھی تھی۔ ان دونوں فلموں کی کاسٹ ایک جیسی تھی اور مس گلزار کے ساتھ گل حمید اور ایم اسماعیل بھی شامل تھے۔

خاموش فلموں کا زوال

1927ء میں دنیا کی پہلی بولتی فلم بنی۔ چار سال بعد 1931ء میں برصغیر کی فلمیں بھی بولنے لگیں۔ ایسے میں خاموش فلمیں زوال کا شکار ہوئیں اور دھڑادھڑ ناکامی سے دوچار ہونے لگیں۔ لاہور میں بھی خاموش فلموں کا یہ آخری سال تھا۔

فلمساز ، ہدایتکار اور مصنف اے آر کاردار نے 1931ء میں بھی تین خاموش فلمیں بنائیں جن میں سے ایک فلم نقاب پوش ڈاکو (1931) یا Masked Bandit میں پاکستان کے پہلے جوبلی ہیرو نذیر کے علاوہ معروف کیریکٹرایکٹر ظہورشاہ کو بھی متعارف کروایا گیا تھا۔ اس فلم میں حسب معمول مس گلزار ، گل حمید اور ایم اسماعیل موجود تھے۔

کاردار صاحب کی فلم صفدر جنگ (1931) ایک سیاسی نوعیت کی کاسٹیوم فلم تھی جس میں ایس ایف شاہ اور ممتاز بیگم کو لیڈ رول دیے گئے تھے۔

یہ فلم افغانستان کی اس وقت کی قبائلی کشمکش پر بنائی گئی تھی جہاں اقتدار کی ہوس میں خانہ جنگی ایک معمول رہی ہے۔ روس کے ساتھ تعلقات اس وقت بھی کشیدہ تھے۔ اس فلم کے ایک اخباری اشتہار میں قارئین سے یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ "کیا پیرس پلٹ نادر خان ، اپنی بادشاہت قائم رکھ سکیں گے؟"

یاد رہے کہ محمد نادر شاہ ، افغان بادشاہ امان اللہ کے دور میں افغانستان کے "وزیرجنگ" تھے اور پیرس میں تعینات تھے۔ بغاوت کی اور 1929/33ء کے دوران افغانستان کے بادشاہ رہے اور قتل ہوئے۔ ان کے بیٹے ظاہر شاہ ، 1973ء تک افغانستان کے آخری بادشاہ تھے جن کا تختہ ان کے بہنوئی سردار داؤد نے الٹ کر افغانستان میں روسی مداخلت کی راہ ہموار کی تھی۔

نامکمل خاموش فلمیں

اے آر کاردار کی فلموں کے بارے میں حتمی معلومات دستیاب نہیں جس کی بڑی وجہ متضاد معلومات ہیں۔ لاہور کی متعدد ایسی خاموش فلمیں جن کے اعلانات تو ہوئے ، شاید بنیں بھی مگر ریلیز نہ ہو سکیں ، ان میں "سانپ" ، "لالہ رخ" ، "کافر" ، "خواجہ سرا" اور "فردوس" کے علاوہ انگریزی نام The Prisoner, Masked Rider, Passion Flower, The Sacred Flame, House Boat, Golden Temple, The Award, Paradise وغیرہ کے نام ملتے ہیں۔

لاہور میں بننے والی فلمیں امریکی فلموں سے متاثر ہوتی تھیں اور عام طور پر لڑائی مار کٹائی ، مہم جوئی ، بازی گری اور جرم و سزا کے بارے میں ہوتی تھیں۔ ان فلموں کی اوسط لمبائی دس ہزار فٹ ہوتی تھی جبکہ فلم کی پروڈکشن پر اس وقت کے بارہ سے پندرہ ہزار روپے خرچ ہوتے تھے۔

سویٹ ہارٹ یا قاتل کٹار

اسی سال کی فلم قاتل کٹار (1931) اپنے دو مزید ناموں ، "محبوبہ" اور Sweet Heart سے مشہور ہوئی۔ فلمی اشتہار البتہ ان تینوں ناموں کی ایک فلم کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔ اس فلم کا ٹائٹل رول پہلی بار بہار اختر نامی اداکارہ نے کیا تھا۔

فلمبندی کے دوران ، کاردار صاحب پہلی ہی نظر میں گھائل ہوگئے اور یہ برداشت نہ ہو سکا کہ اس سویٹ ہارٹ ، محبوبہ یا قاتل کٹار اور ان کے درمیان کوئی اور ہو۔ بہار اختر کے ساتھ خود ہیرو آئے جبکہ اپنے روایتی ہیرو گل حمید کو بہار اختر کی بہن سردار اختر کے ساتھ پیش کیا جو آگے چل کر مدر انڈیا (1957) فیم ہدایتکار محبوب خان کی بیوی بنی۔ اس طرح سے اے آر کاردار اور محبوب خان ، ہم زلف بھی تھے۔

کچھ ذرائع کے مطابق فلم قاتل کٹار (1931) نامکمل رہی اور کچھ ذرائع کے مطابق ریلیز کے بعد کاردار صاحب نے اس فلم کے پرنٹ جلا دیے تا کہ ان کی بیوی کا فلمی ریکارڈ موجود نہ رہے۔

کاردار صاحب کی بہار اختر سے دوسری شادی نے ان کے لیے بے شمار خانگی ، قانونی اور مالی مسائل پیدا کر دیے تھے حالانکہ دونوں کی جوڑی مستقل رہی اور پانچ بیٹیوں کے والدین بنے۔

بتایا جاتا ہے کہ بہار اختر اور اس کی بہن سردار اختر ، امرتسر کے اس گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں جہاں سے ہماری بیشتر اداکارائیں آتی ہیں۔ کاردار سے شادی کے بعد اس کے گھر والوں نے اغواء کا مقدمہ کردیا تھا جس پر انھیں جیل بھی جانا پڑا۔ خاندانی مسائل ، مقدمہ بازی اور فلموں کی ناکامی سے دلبرداشتہ ہو کر انھوں نے اپنے آبائی شہر لاہور کو خیرآباد کہہ دینے کا فیصلہ کر لیا جہاں ان کا خاندان ، پہلی بیوی اور دو بچے مستقل طور پر مقیم رہے۔

پہلی پنجابی فلم ہیر رانجھا (1932)

1931ء میں برصغیر کی فلموں کو زبان ملی تو پنجاب میں بھی پہلی بولتی فلم ہیررانجھا (1932) بنائی گئی۔ اے آر کاردار کو لاہور کی پہلی بولتی اور پہلی پنجابی فلم کا ہدایتکار ہونے کا ناقابل شکست اعزاز حاصل ہوا۔ اس پر تفصیلی بحث "برصغیر کی پہلی پنجابی فلم" کے موضوع پر کی گئی ہے جس کو یہاں دھرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

ہدایتکار اے آر کاردار کی دوسری پنجابی فلم ، ہندوؤں کی مشہور لوک داستان پر بنائی جانے والی فلم راجہ گوپی چند (1933) تھی جس میں بھارت کی چوٹی کی اداکارہ نرگس کی ماں ، جدن بائی نے ہیروئن کا رول کیا تھا۔ اس فلم کی تکمیل کے دوران ، کاردار ، اپنے گوناگوں مسائل سے گبھرا کر لاہور چھوڑ کر کلکتہ چلے گئے تو باقی کام اختر نواز نامی فلم ڈائریکٹر نے انجام دیا تھا۔ اس طرح سے لاہور میں ان کی یہ آخری فلم ثابت ہوئی تھی۔

کاردار کی کلکتہ کی فلمیں

اے آر کاردار کی کلکتہ میں پہلی فلم عورت کا پیار (1933) تھی جس میں انھیں پہلی بار اس دور کی چوٹی کی گلوکارہ اور اداکارہ مختاربیگم اور ان کے شوہر عظیم ڈرامہ نویس ، آغا حشر کاشمیری کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ گل حمید اور انوری بیگم بھی لاہور سے کلکتہ چلے گئے اور اس پہلی فلم کی کاسٹ میں شامل تھے۔ ایسٹ انڈیا فلم کمپنی کی یہ ایک کامیاب فلم بتائی جاتی ہے۔

کاردار کی ایک اور بہت بڑی تاریخی فلم چندرگپتا (1934) تھی جو ہندوستان کی 184 ماقبل مسیح تک کی "موریا سلطنت" کے بانی کی کہانی تھی۔ اس فلم میں مشہور زمانہ سیاسی ہیر پھیر کے ماہر "چانکیہ" کا تاریخی کردار بھی شامل تھا۔ ٹائٹل رول اداکار نذیر نے کیا جو لاہور چھوڑ کر بہتر مستقبل کی تلاش میں کلکتہ جا پہنچے تھے جو اس وقت بمبئی کے مقابلے کا فلمی سینٹر ہوتا تھا۔

کلکتہ میں متعدد فلمیں بنانے کے بعد اے آر کاردار کی آخری منزل بمبئی تھی جہاں وہ ایک کامیاب ترین ہدایتکار ثابت ہوئے۔

کاردار کی بمبئی کی فلمیں

اے آر کاردار کے لیے بمبئی جانا بڑا مبارک ثابت ہوا جہاں انھوں نے تقسیم سے قبل اور بعد میں بھی دو درجن سے زائد فلمیں بنائیں۔

اس دور کی خاص خاص فلموں میں سے ایک فلم ٹھوکر (1939) میں ہیرو کا رول اداکار کمار نے جبکہ فلم ہولی (1940) میں خورشید نے ہیروئن کا رول کیا۔ فلم پاگل (1940) کا ٹائٹل رول ممتاز مزاحیہ اداکار نورمحمد چارلی نے کیا۔ فلم پوچا (1940) میں سردار اختر کو ظہور راجہ کے ساتھ کاسٹ کیا گیا۔ گلوکارہ ثریا نے اپنا پہلا فلمی گیت بھی کاردار صاحب کی فلم نئی دنیا (1942) میں گایا تھا۔ اسی فلم سے موسیقار نوشاد ، کاردار کے مستقل موسیقار بن گئے تھے۔ فلم سنجوگ (1943) ، پاکستان کے عظیم اداکار علاؤالدین کی پہلی فلم تھی جبکہ فلم پہلے آپ (1944) میں بھی اداکارہ شمیم کے علاوہ علاؤالدین تھے۔ فلم سنیاسی (1945) کا ٹائٹل رول اس دور کے ممتاز ولن اداکار غلام محمد نے کیا جب کہ ہیروئن شمیم تھی۔

بمبئی میں بننے والی پنجابی فلم کڑمائی (1941) ، کے فلمساز ، اے آر کاردار تھے۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ پاکستان کے عظیم موسیقار خواجہ خورشید انور کی یہ پہلی فلم تھی۔

بمبئی میں بنائی جانے والے اے آر کاردار کی ایک یادگار فلم شاردا (1942) بھی تھی جس کا ری میک ان کے بھانجے فلمساز ، ہدایتکار اور سٹوڈیو اونر اشفاق ملک نے پاکستانی فلم سلمیٰ (1960) کے نام سے بنایا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اے شاہ شکارپوری نے دونوں فلموں میں ایک سا رول کیا تھا۔

فلم شاہ جہاں (1946)

بمبئی میں اے آر کاردار نے اپنے فلمی کیرئر کی سب سے بڑی فلم شاہ جہاں (1946) بنائی جس میں انھوں نے لاہور کی مستقل اداکارہ راگنی کو بھاری معاوضہ پر کاسٹ کیا تھا۔

اس فلم میں راگنی نے ملکہ ممتاز محل کا رول کیا جس کے لیے شاہ جہاں نے 1632/53ء میں تاج محل بنوایا جو دنیا کے سات عجوبوں میں شامل ہے۔ ٹائٹل رول راگنی کے پہلے ہیرو ایم ڈی کنور (فلم دلا بھٹی 1940) نے کیا جو جوانی کی موت مر گیا تھا۔

فلم کے اصل ہیرو اس وقت کے ممتاز گلوکار اور اداکار کندن لال سہگل تھے جن کے گائے ہوئے دو سپرہٹ گیت فلم کی جان تھے:

  • جب دل ہی ٹوٹ گیا ، ہم جی کے کیا کریں گے۔۔
  • غم دیے مستقل ، اتنا نازک ہے دل ، یہ نہ جانا ، ہائے ہائے یہ ظالم زمانہ۔۔
یہ دونوں گیت مجروح سلطان پوری نے لکھے جن کا ایک شوخ کورس گیت نوشاد کی موسیقی میں "روحی روحی ، روحی ، میرے سپنوں کی رانی۔۔" بھی تھا جس کی خاص بات یہ تھی کہ یہ اکلوتا گیت ہے جس میں دو عظیم گلوکاروں ، سہگل اور محمدرفیع کا ساتھ ملتا ہے۔

اے آر کاردار کی شاہکار فلم شاہ جہاں (1946) میں "روحی" کا کردار اداکارہ نسرین نے کیا جو پہلی پنجابی فلم ہیررانجھا (1932) کے ہیرو ، رفیق غزنوی کی بیٹی اور معروف اداکارہ اور گلوکارہ سلمیٰ آغا کی ماں تھی۔ نسرین کے باپ کا اہم رول ہمالیہ والا نے کیا جو پاکستانی ابتدائی فلموں کے نامور ولن اداکار تھے اور فلم انار کلی (1958) میں ان کا شہنشاہ اکبر کا کردار بڑا مشہور ہوا تھا۔

کاردار کی بھارتی فلمیں

تقسیم کے بعد اے آر کاردار کی پہلی بڑی بھارتی فلم درد (1947) تھی جس میں انھوں نے اپنے سوتیلے بھائی نصرت کاردار کو ثریا اور منورسلطانہ کے ساتھ ہیرو کے طور پر پیش کیا۔ شکیل بدایونی کا لکھا ہوا اور موسیقار نوشاد کا کمپوز کیا ہوا ایک مشہور گیت "افسانہ لکھ رہی ہوں ، دل بے قرار کا۔۔" گانے والی گلوکارہ اوما دیوی ، بھارتی فلموں میں ٹن ٹن کے نام سے معروف ایک موٹی تازی اور کالی کلوٹی مزاحیہ اداکارہ ہوتی تھی۔ اسی فلم میں یہ کورس گیت شمشاد بیگم اور ساتھیوں کی آوازوں میں بڑا مقبول ہوا تھا:

  • ہم درد کا افسانہ ، دنیا کو سنا دیں گے۔۔

نصرت کاردار ، تقسیم کے بعد واپس پاکستان چلے آئے تھے۔ کسی فلم میں ہیرو نہیں آ سکے لیکن معاون اداکار کے طور پر تین درجن فلموں میں کام کیا۔

اے آر کاردار کے ایک اور سوتیلے بھائی اے جے کاردار کا ذکر بھی ملتا ہے جنھیں ڈھاکہ میں بنائی گئی پہلی اردو فلم جاگو ہوا سویرا (1959) کے ہدایتکار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس فلم نے ماسکو کے فلمی میلے میں بہترین فلم کا گولڈ میڈل جیتا تھا۔

روایت ہے کہ تقسیم کے بعد اے آر کاردار ، اپنے آبائی وطن لاہور واپس آئے لیکن حالات کے ہاتھوں مایوس ہو کر پھر بمبئی چلے گئے جہاں انھوں نے درجن بھر فلمیں بنائیں۔ درد (1947) کے علاوہ یادگار فلموں میں دل لگی ، دلاری (1949) اور داستان (1950) کے علاوہ ایک فلم دل دیا درد لیا (1966) بھی تھی جس میں ان کے معاون ہدایتکار دلیپ کمار تھے جن کی بطور ہیرو پندرہ برسوں میں یہ پہلی ناکام فلم تھی۔

مزے کی بات یہ ہے کہ اس ناکام فلم کی کاپی پاکستان میں فلم دہلیز (1983) کے نام سے بنی اور سپرہٹ ہوئی۔ الٹے بانس بریلی کو ، کے مصداق اس فلم کی سین ٹو سین کاپی بھارت نے فلم اونچے لوگ (1985) بنائی جس میں پاکستانی نژاد اداکارہ اور گلوکارہ سلمیٰ آغا نے بھارتی سپرسٹار راجیش کھنہ کے مقابل ہیروئن کا کردار کیا تھا۔

اے آر کاردار کے فلمی کیرئر کی آخری فلم میرے سرتاج (1975) تھی جو ناکام رہی۔

عبدالرشید کاردار عرف اے آر کاردار ، ایک تھانیدار کے بیٹے تھے۔ 2 اکتوبر 1904ء کو لاہور میں پیدا ہوئے اور 22 نومبر 1989ء کو 85 سال کی عمر میں ممبئی میں انتقال ہوا تھا۔



Qasm
Qasm
(1993)
Kalia
Kalia
(2017)
Shehbaz
Shehbaz
(1960)
Wajood
Wajood
(2013)

Manzil
Manzil
(1981)
Carma
Carma
(2022)
Madaari
Madaari
(2023)

Hamjoli
Hamjoli
(1946)
Ragni
Ragni
(1945)
Sarfarosh
Sarfarosh
(1930)
Sikandar
Sikandar
(1941)
Roti
Roti
(1942)

Zeenat
Zeenat
(1945)
Kamli
Kamli
(1946)
Elan
Elan
(1947)



241 فنکاروں پر معلوماتی مضامین




PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.