A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana
مسعودرانا کا فنی سفر
مسعودرانا کے 241 ساتھی فنکاروں پر معلوماتی مضامین
26 ..... گلوکار
- زبیدہ خانم
- علی بخش ظہور
- منور سلطانہ
- مسعود رانا
- عنایت حسین بھٹی
- حامدعلی بیلا
- فضل حسین
- تصورخانم
- اعظم چشتی
- رونا لیلیٰ
- آصف جاوید
- نگہت سیما
- ملکہ ترنم نور جہاں
- نذیر بیگم
- سائیں اختر
- سلیم رضا
- روبینہ بدر
- نسیم بیگم
- شوکت علی
- مالا
- احمد رشدی
- نسیمہ شاہین
- منیر حسین
- آئرن پروین
- محمد رفیع
- مہدی حسن
32 ..... نغمہ نگار
- حکیم احمد شجاع
- شیون رضوی
- سلطان محمود آشفتہ
- سلیم کاشر
- طفیل ہوشیارپوری
- کلیم عثمانی
- اسماعیل متوالا
- اختریوسف
- ظہیر کاشمیری
- تسلیم فاضلی
- ریاض الرحمان ساغر
- منظورجھلا
- سعیدگیلانی
- صہبااختر
- ظہورناظم
- خواجہ پرویز
- مظفروارثی
- ساحل فارانی
- قتیل شفائی
- سرور بارہ بنکوی
- حبیب جالب
- احمد راہی
- تنویر نقوی
- بابا عالم سیاہ پوش
- حزیں قادری
- مشیر کاظمی
- موج لکھنوی
- منیر نیازی
- وارث لدھیانوی
- مسرور انور
- حمایت علی شاعر
- فیاض ہاشمی
44 ..... موسیقار
- راگنی
- رفیق غزنوی
- ماسٹر غلام حیدر
- طافو
- اعظم بیگ
- مشتاق علی
- امجدبوبی
- غلام حسین شبیر
- وجاہت عطرے
- علی حسین
- اے حمید
- کریم شہاب الدین
- صفدرحسین
- وزیر افضل
- ناشاد
- کمال احمد
- رحمان ورما
- حسن لطیف
- روبن گھوش
- نذیرجعفری
- نذیرعلی
- سیف چغتائی
- خواجہ خورشید انور
- سلیم اقبال
- اخترحسین اکھیاں
- غلام نبی ، عبداللطیف
- طفیل فاروقی
- ماسٹر عنایت حسین
- ماسٹر عبد اللہ
- سہیل رعنا
- خلیل احمد
- فیروز نظامی
- بخشی وزیر
- خان عطا الرحمان
- ماسٹر عاشق حسین
- نثار بزمی
- ماسٹر تصدق حسین
- ماسٹر رفیق علی
- رشید عطرے
- ایم اشرف
- لال محمد اقبال
- مصلح الدین
- جی اے چشتی
- دیبو بھٹا چاریہ
56 ..... ہدایتکار
- اے آر کاردار
- داؤد چاند
- نذرالاسلام
- آغا حسینی
- ایم صادق
- حسن عسکری
- اسلم ڈار
- قدیرغوری
- الطاف حسین
- ایم ایس ڈار
- شوکت حسین رضوی
- ایس ایم یوسف
- خواجہ سرفراز
- حمیدچوہدری
- آغا جی اے گل
- عزیز میرٹھی
- لقمان
- کے خورشید
- پرویز ملک
- ایم سلیم
- سیف الدین سیف
- بھائیا اے حمید
- خلیل قیصر
- اکبرعلی اکو
- ریاض احمد راجو
- وحیدڈار
- ریاض احمد
- افتخارخان
- ارشدکاظمی
- ظہیرریحان
- ایم اکرم
- الحامد
- ریاض شاہد
- نذیر
- انورکمال پاشا
- شریف نیر
- راجہ حفیظ
- مسعودپرویز
- ایم اے رشید
- ایس سلیمان
- رشیداختر
- منوررشید
- رفیق رضوی
- اقبال کاشمیری
- جمیل اختر
- جعفر بخاری
- شباب کیرانوی
- احتشام ، مستفیض
- ایس اے بخاری
- ایم جے رانا
- رضا میر
- حیدر چوہدری
- امین ملک
- اسلم ایرانی
- اقبال شہزاد
- حسن طارق
83 ..... اداکار
- ہمالیہ والا
- آشا پوسلے
- سنگیتا
- سلطان راہی
- آسیہ
- عمرشریف
- شبنم
- قوی
- افضل خان
- شاہد
- ننھا
- کیفی
- لیلیٰ
- ساقی
- ناصرہ
- علی اعجاز
- حسنہ
- ناہید
- اقبال حسن
- عالیہ
- رخسانہ
- ماسٹر مراد
- نسیمہ خان
- تانی
- الیاس کاشمیری
- شبانہ
- نبیلہ
- ایم اسماعیل
- روزینہ
- ندیم
- خلیفہ نذیر
- کمار
- سیما
- مسرت نذیر
- ساون
- آئٹم گرلز
- غزالہ
- دیبا
- زینت
- سلونی
- یاسمین
- منورظریف
- زیبا
- طلعت صدیقی
- حیدر
- اعجاز
- رانی
- زلفی
- ابو شاہ
- آصف جاہ
- سلمیٰ ممتاز
- نورمحمدچارلی
- شیریں
- یوسف خان
- علاؤالدین
- وحیدمراد
- فردوس
- شمیم آرا
- لہری
- مظہر شاہ
- طالش
- نغمہ
- رضیہ
- سنتوش کمار
- رنگیلا
- دلجیت مرزا
- اکمل
- اے شاہ
- نذر
- سدھیر
- حنیف
- طارق عزیز
- صبیحہ خانم
- محمد علی
- درپن
- امداد حسین
- البیلا
- اطہر شاہ خان
- نیلو
- نرالا
- اسد بخاری
- سید کمال
- حبیب
ماسٹر رفیق علی
برے نصیب میرے ، ویری ہویا پیار میرا ، نظر ملا کے کوئی لے گیا قرار میرا۔۔!
یہ سپر ہٹ گیت فلم چھومنتر (1958) کا تھا جو ایک کلاسک گیت کا درجہ رکھتا ہے۔ اس کے تخلیق کار ماسٹر رفیق علی تھے جن کی یہ پہلی فلم تھی۔
انھوں نے یہ گیت کسی پروفیشنل گلوکار کی بجائے ایک پارٹ ٹائم گلوکار ظریف سے گوایا تھا جو بنیادی طور پر ایک مزاحیہ اداکار تھا اور پاکستان کے ابتدائی دور میں نذر کے بعد دوسرا مقبول ترین کامیڈین تھا۔ وہ پہلا مزاحیہ اداکار تھا جو فلموں کے ٹائٹل رولز تک پہنچا تھا اور اپنے مزاحیہ گیت خود ہی گایا کرتا تھا۔
ظریف نے بیس فلموں میں دو درجن سے زائد گیت گائے تھے جن میں یہ واحد سپرہٹ سنجیدہ گیت تھا ، باقی سبھی مزاحیہ گیت تھے۔
منورظریف کے بڑے بھائی ظریف پر ایک تفصیلی مضمون پاکستان فلم میگزین کے سابقہ ورژن میں لکھا جا چکا ہے۔
ماسٹر رفیق علی کی پہلی فلم چھومنتر (1958)
فلم چھومنتر (1958) کی روایتی ہیروئن ملکہ ترنم نورجہاں تھیں جن کی جوڑی اسلم پرویز کے ساتھ تھی۔
ماسٹر رفیق علی نے میڈم سے دو مقبول عام گیت بھی گوائے تھے
- اینی گل دس دیو ، نکے نکے تاریو ، تسی کہیڑے چن دے وچھوڑیاں دے مارے او۔۔
- اکھیاں وے راتیں سون نہ دیندیاں۔۔
- اپنی پہلی ہی فلم میں انھوں نے ایک نیا تجربہ بھی کیا تھا جب یہ گیت اتھرو مک گئے ، انجو ڈھل گئے ، ڈونگیاں شاماں آئیاں۔۔
کو میڈم نورجہاں اور زبیدہ خانم سے الگ الگ گوایا تھا۔
یہ پہلی فلم تھی جس میں میں نے میڈم نورجہاں کو بطور اداکارہ دیکھا تھا اور میڈم کے حسن سے بے حد متاثر ہوا تھا۔ اس فلم میں میڈم کا ایک مکالمہ میری زندگی میں بڑا یادگار رہا ہے
"بلی ، اتنی دیر توں میاؤں میاؤں کردی اے پر بلے نوں خبر ای نئیں۔۔"
سماج سے چوری چھپے ملاقات کا یہ طریقہ میں نے جس لڑکی کو بڑے مزے لے لے کر بتایا تھا وہ گزشتہ پینتیس برسوں سے میری شریک حیات ہے۔۔!
ماسٹر رفیق علی کے دیگر گیت
ماسٹر رفیق علی کو پہلی فلم کی کامیابی کے بعد اگلی کامیابی کے لیے کئی سال تک انتظار کرنا پڑا تھا۔ اس دوران فلم ماں کا پیار (1964) میں انھوں نے پہلی بار مسعودرانا سے ایک تھیم سانگ گوایا تھا
- کوئی بھی ہے جہاں میں مہربان نہیں ہے۔۔
یہ گیت رشید ساجد نے لکھا تھا جن کی بطور اکلوتے گیت نگار یہ واحد فلم تھی۔
فلم آخری چٹان (1970) اور سخی لٹیرا (1971) میں مالا اور ساتھیوں کے یہ دو کورس گیت بڑے مقبول ہوئے تھے:
- ہم ہیں دیوانے تیرے ، عاشق پروانے تیرے ، ہم سے نگاہیں تو ملا۔۔
- پھول بکھیرو ، نغمے چھیڑو ، پیار لٹاؤ ، آیا ہے جان بہار۔۔
اس دوران ماسٹر رفیق علی نے پنجابی فلم لارالپا (1970) کی موسیقی بھی ترتیب دی تھی۔ یہ واحد فلم تھی جس میں ایک قبول صورت معاون اداکارہ فرزانہ نے اعجاز کے مقابل مرکزی کردار کیا تھا جبکہ سیکنڈ پیئر ناصرہ اور مظہرشاہ کا تھا جن پر مالا اور مسعودرانا کا یہ دوگانا فلمایا گیا تھا:
- اج گیت خوشی دے گاواں ، نی میں نچ نچ پیلاں پاواں ، صدقڑے جاواں۔۔
اس فلم کی ہائی لائٹ حزیں قادری کا لکھا ہوا یہ پرمغز گیت تھا جسے مسعودرانا نے اپنے مخصوص انداز میں بڑے ڈوب کر گایا تھا:
- ڈھلدا پرچھاواں ہو ڈھلدا پرچھاواں ، یاراں دیاں یاریاں تے مان بھراواں ، ڈھلدا پرچھاواں۔۔
یہ سنجیدہ گیت منورظریف پر فلمایا گیا تھا جنھوں نے خلاف معمول بڑی سنجیدگی سے اس گیت کو پکچرائز کروایا تھا۔
ماسٹر رفیق علی کی سب سے بڑی فلم دل لگی (1974)
موسیقار ماسٹر رفیق علی کے فلمی کیرئر کی سب سے بڑی فلم دل لگی (1974) تھی جس کے سبھی گیت بڑے پسند کیے گئے تھے لیکن مسعودرانا کے گائے ہوئے دونوں گیت باقی سبھی گیتوں پر بھاری تھے۔ ان میں سے پہلا گیت فلم کی ہائی لائٹ تھا:
-
آگ لگا کر چھپنے والے ، سن میرا افسانہ
میں گیتوں میں تجھے پکاروں ، لوگ کہیں دیوانہ۔۔
مشیر کاظمی کا لکھا ہوا یہ گیت ندیم صاحب پر فلمایا گیا تھا اور فلم کی کہانی کے مطابق ایک ڈاکٹر ، اپنے مریض کے مرض کی تشخیص کے لیے اس گیت کو نسخہ کے طور پر استعمال کرتا اور مرض دریافت کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے لیکن تب تک وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ اس فلم میں ندیم صاحب پر ہی فلمایا ہوا مسعودرانا کے دوسرا گیت بھی ایک لاجواب گیت تھا:
- مرجھائے ہوئے پھولوں کی قسم ، اس دیس میں پھر نہ آؤں گا۔۔
یہ وہ یادگار گیت ہے جو مئی 1982ء میں میرے لبوں پر مچلتا رہا تھا جب میں اپنے وطن کو آخری بار خیرآباد کہہ رہا تھا۔ اسی فلم میں خانصاحب مہدی حسن کا گیت
- ہم چلے اس جہاں سے ، دل اٹھ گیا جہاں سے۔۔
بھی اسی کیفیت کا ایک دلکش اور یادگار گیت تھا۔
ماسٹر رفیق علی نے دو درجن سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی جن میں ہدایتکار اسلم ڈار کی فلموں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ ایسی ہی فلموں میں ان کی ایک قابل ذکر فلم زبیدہ (1976) بھی تھی جس میں یہ گیت بڑا مقبول ہوا تھا:
- ساتھی میرے ، بن تیرے ، کیسے بیتے گی عمریا بن تیرے۔۔
اس گیت کو میڈم نورجہاں نے بھی گایا تھا لیکن مجھے اخلاق احمد کی آواز میں زیادہ پسند تھا جسے میں اکثر گنگنایا کرتا تھا۔
ماسٹر رفیق علی نے مسعودرانا سے آخری بار فلم مرزا مجنوں رانجھا (1983) میں یہ مزاحیہ کورس گیت گوایا تھا جس میں ساتھی گلوکارائیں ناہیداختر اور تانی تھیں اور فلم میں علی اعجاز ، مسرت شاہین اور ساتھیوں پر فلمایا گیا تھا:
- چل بلیے نی ہن آ بلیے ، آ جا ایتھوں نس چلئے۔۔
مسعودرانا اور رفیق علی کے 6 فلموں میں 6 گیت
| 1 | کوئی بھی ہے جہاں میں مہربان نہیں ہے..فلم ... ماں کا پیار ... اردو ... (1964) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: رفیق علی ... شاعر: رشید ساجد ... اداکار: (پس پردہ) |
| 2 | اج گیت خوشی دے گاواں ، نی میں نچ نچ پیلاں پاواں ، صدقڑے جاواں..فلم ... لارالپا ... پنجابی ... (1970) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا ... موسیقی: ماسٹر رفیق علی ... شاعر: طفیل ہوشیارپوری ... اداکار: ناصرہ ، مظہر شاہ |
| 3 | ڈھلدا پرچھاواں ہو ، ڈھلدا پرچھاواں ، یاراں دیاں یاریاں تے مان بھراواں..فلم ... لارالپا ... پنجابی ... (1970) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ماسٹر رفیق علی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: منور ظریف |
| 4 | آگ لگا کر چھپنے والے ، سن میراافسانہ ، میں گیتوں میں تجھے پکاروں ، لوگ کہیں دیوانہ..فلم ... دل لگی ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ماسٹر رفیق علی ... شاعر: مشیر کاظمی ... اداکار: ندیم |
| 5 | مرجھائے ہوئے پھولوں کی قسم ، اس دیس میں پھر نہ آؤں گا..فلم ... دل لگی ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ماسٹر رفیق علی ... شاعر: مشیر کاظمی ... اداکار: ندیم |
| 6 | چل بلیے نی ہن آ بلیے ، آ جا ایتھوں نس چلئے..فلم ... مرزا ، مجنوں ، رانجھا ... پنجابی ... (1983) ... گلوکار: مسعود رانا ، ناہید اختر ، تانی مع ساتھی ... موسیقی: ماسٹر رفیق علی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: علی اعجاز ، عالیہ مع ساتھی |
مسعودرانا اور رفیق علی کے 3 اردو گیت
| 1 | کوئی بھی ہے جہاں میں مہربان نہیں ہے ...(فلم ... ماں کا پیار ... 1964) |
| 2 | آگ لگا کر چھپنے والے ، سن میراافسانہ ، میں گیتوں میں تجھے پکاروں ، لوگ کہیں دیوانہ ...(فلم ... دل لگی ... 1974) |
| 3 | مرجھائے ہوئے پھولوں کی قسم ، اس دیس میں پھر نہ آؤں گا ...(فلم ... دل لگی ... 1974) |
مسعودرانا اور رفیق علی کے 3 پنجابی گیت
| 1 | اج گیت خوشی دے گاواں ، نی میں نچ نچ پیلاں پاواں ، صدقڑے جاواں ...(فلم ... لارالپا ... 1970) |
| 2 | ڈھلدا پرچھاواں ہو ، ڈھلدا پرچھاواں ، یاراں دیاں یاریاں تے مان بھراواں ...(فلم ... لارالپا ... 1970) |
| 3 | چل بلیے نی ہن آ بلیے ، آ جا ایتھوں نس چلئے ...(فلم ... مرزا ، مجنوں ، رانجھا ... 1983) |
مسعودرانا اور رفیق علی کے 4سولو گیت
| 1 | کوئی بھی ہے جہاں میں مہربان نہیں ہے ...(فلم ... ماں کا پیار ... 1964) |
| 2 | ڈھلدا پرچھاواں ہو ، ڈھلدا پرچھاواں ، یاراں دیاں یاریاں تے مان بھراواں ...(فلم ... لارالپا ... 1970) |
| 3 | آگ لگا کر چھپنے والے ، سن میراافسانہ ، میں گیتوں میں تجھے پکاروں ، لوگ کہیں دیوانہ ...(فلم ... دل لگی ... 1974) |
| 4 | مرجھائے ہوئے پھولوں کی قسم ، اس دیس میں پھر نہ آؤں گا ...(فلم ... دل لگی ... 1974) |
مسعودرانا اور رفیق علی کے 1دو گانے
| 1 | اج گیت خوشی دے گاواں ، نی میں نچ نچ پیلاں پاواں ، صدقڑے جاواں ...(فلم ... لارالپا ... 1970) |
مسعودرانا اور رفیق علی کے 1کورس گیت
| 1 | چل بلیے نی ہن آ بلیے ، آ جا ایتھوں نس چلئے ... (فلم ... مرزا ، مجنوں ، رانجھا ... 1983) |
Masood Rana & Rafiq Ali: Latest Online film
Masood Rana & Rafiq Ali: Film posters


Masood Rana & Rafiq Ali:
0 joint Online films
(0 Urdu and 0 Punjabi films)Masood Rana & Rafiq Ali:
Total 6 joint films
(3 Urdu, 2 Punjabi films)| 1. | 1964: Maa Ka Pyar(Urdu) |
| 2. | 1970: Laralappa(Punjabi) |
| 3. | 1974: Dillagi(Urdu) |
| 4. | 1979: Mout Meri Zindagi(Urdu) |
| 5. | 1983: Mirza, Majnu, Ranjha(Punjabi) |
| 6. | 1994: Puttar Jeeray Blade Da(Punjabi/Urdu double version) |
Masood Rana & Rafiq Ali: 6 songs in 6 films
(3 Urdu and 3 Punjabi songs)| 1. | Urdu filmMaa Ka Pyarfrom Friday, 23 October 1964Singer(s): Masood Rana, Music: Rafiq Ali, Poet: , Actor(s): (Playback) |
| 2. | Punjabi filmLaralappafrom Friday, 10 April 1970Singer(s): Mala, Masood Rana, Music: Master Rafiq Ali, Poet: , Actor(s): Nasira, Mazhar Shah |
| 3. | Punjabi filmLaralappafrom Friday, 10 April 1970Singer(s): Masood Rana, Music: Master Rafiq Ali, Poet: , Actor(s): Munawar Zarif |
| 4. | Urdu filmDillagifrom Friday, 15 February 1974Singer(s): Masood Rana, Music: Master Rafiq Ali, Poet: , Actor(s): Nadeem |
| 5. | Urdu filmDillagifrom Friday, 15 February 1974Singer(s): Masood Rana, Music: Master Rafiq Ali, Poet: , Actor(s): Nadeem |
| 6. | Punjabi filmMirza, Majnu, Ranjhafrom Friday, 16 December 1983Singer(s): Masood Rana, Naheed Akhtar, Tani & Co., Music: Master Rafiq Ali, Poet: , Actor(s): Ali Ejaz, Aliya |

Ek Teri Nishani
(1947)

Gul Bakavli
(1939)

Pagdandi
(1947)

Sikandar
(1941)

Laila Majnu
(1945)

Daku Ki Larki
(1933)
Pakistan Film Magazine
Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.
پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔
یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔
اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔































Mazhar Shah
M. Saleem
Saif Chughtai
Khawaja Khursheed Anwar
Fida Malik
Nakhshab
Masroor Anwar
Kemal Ahmad Rizvi
Yakub
Abid Kashmiri
Ali Ejaz
Nasir Khan
Ustad Chhotay Ghulam Ali Khan
Najma
Sabiha Khanum


