A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana
مسعودرانا کا فنی سفر
مسعودرانا کے 241 ساتھی فنکاروں پر معلوماتی مضامین
26 ..... گلوکار
- زبیدہ خانم
- علی بخش ظہور
- منور سلطانہ
- مسعود رانا
- عنایت حسین بھٹی
- حامدعلی بیلا
- فضل حسین
- تصورخانم
- اعظم چشتی
- رونا لیلیٰ
- آصف جاوید
- نگہت سیما
- ملکہ ترنم نور جہاں
- نذیر بیگم
- سائیں اختر
- سلیم رضا
- روبینہ بدر
- نسیم بیگم
- شوکت علی
- مالا
- احمد رشدی
- نسیمہ شاہین
- منیر حسین
- آئرن پروین
- محمد رفیع
- مہدی حسن
32 ..... نغمہ نگار
- حکیم احمد شجاع
- شیون رضوی
- سلطان محمود آشفتہ
- سلیم کاشر
- طفیل ہوشیارپوری
- کلیم عثمانی
- اسماعیل متوالا
- اختریوسف
- ظہیر کاشمیری
- تسلیم فاضلی
- ریاض الرحمان ساغر
- منظورجھلا
- سعیدگیلانی
- صہبااختر
- ظہورناظم
- خواجہ پرویز
- مظفروارثی
- ساحل فارانی
- قتیل شفائی
- سرور بارہ بنکوی
- حبیب جالب
- احمد راہی
- تنویر نقوی
- بابا عالم سیاہ پوش
- حزیں قادری
- مشیر کاظمی
- موج لکھنوی
- منیر نیازی
- وارث لدھیانوی
- مسرور انور
- حمایت علی شاعر
- فیاض ہاشمی
44 ..... موسیقار
- راگنی
- رفیق غزنوی
- ماسٹر غلام حیدر
- طافو
- اعظم بیگ
- مشتاق علی
- امجدبوبی
- غلام حسین شبیر
- وجاہت عطرے
- علی حسین
- اے حمید
- کریم شہاب الدین
- صفدرحسین
- وزیر افضل
- ناشاد
- کمال احمد
- رحمان ورما
- حسن لطیف
- روبن گھوش
- نذیرجعفری
- نذیرعلی
- سیف چغتائی
- خواجہ خورشید انور
- سلیم اقبال
- اخترحسین اکھیاں
- غلام نبی ، عبداللطیف
- طفیل فاروقی
- ماسٹر عنایت حسین
- ماسٹر عبد اللہ
- سہیل رعنا
- خلیل احمد
- فیروز نظامی
- بخشی وزیر
- خان عطا الرحمان
- ماسٹر عاشق حسین
- نثار بزمی
- ماسٹر تصدق حسین
- ماسٹر رفیق علی
- رشید عطرے
- ایم اشرف
- لال محمد اقبال
- مصلح الدین
- جی اے چشتی
- دیبو بھٹا چاریہ
56 ..... ہدایتکار
- اے آر کاردار
- داؤد چاند
- نذرالاسلام
- آغا حسینی
- ایم صادق
- حسن عسکری
- اسلم ڈار
- قدیرغوری
- الطاف حسین
- ایم ایس ڈار
- شوکت حسین رضوی
- ایس ایم یوسف
- خواجہ سرفراز
- حمیدچوہدری
- آغا جی اے گل
- عزیز میرٹھی
- لقمان
- کے خورشید
- پرویز ملک
- ایم سلیم
- سیف الدین سیف
- بھائیا اے حمید
- خلیل قیصر
- اکبرعلی اکو
- ریاض احمد راجو
- وحیدڈار
- ریاض احمد
- افتخارخان
- ارشدکاظمی
- ظہیرریحان
- ایم اکرم
- الحامد
- ریاض شاہد
- نذیر
- انورکمال پاشا
- شریف نیر
- راجہ حفیظ
- مسعودپرویز
- ایم اے رشید
- ایس سلیمان
- رشیداختر
- منوررشید
- رفیق رضوی
- اقبال کاشمیری
- جمیل اختر
- جعفر بخاری
- شباب کیرانوی
- احتشام ، مستفیض
- ایس اے بخاری
- ایم جے رانا
- رضا میر
- حیدر چوہدری
- امین ملک
- اسلم ایرانی
- اقبال شہزاد
- حسن طارق
83 ..... اداکار
- ہمالیہ والا
- آشا پوسلے
- سنگیتا
- سلطان راہی
- آسیہ
- عمرشریف
- شبنم
- قوی
- افضل خان
- شاہد
- ننھا
- کیفی
- لیلیٰ
- ساقی
- ناصرہ
- علی اعجاز
- حسنہ
- ناہید
- اقبال حسن
- عالیہ
- رخسانہ
- ماسٹر مراد
- نسیمہ خان
- تانی
- الیاس کاشمیری
- شبانہ
- نبیلہ
- ایم اسماعیل
- روزینہ
- ندیم
- خلیفہ نذیر
- کمار
- سیما
- مسرت نذیر
- ساون
- آئٹم گرلز
- غزالہ
- دیبا
- زینت
- سلونی
- یاسمین
- منورظریف
- زیبا
- طلعت صدیقی
- حیدر
- اعجاز
- رانی
- زلفی
- ابو شاہ
- آصف جاہ
- سلمیٰ ممتاز
- نورمحمدچارلی
- شیریں
- یوسف خان
- علاؤالدین
- وحیدمراد
- فردوس
- شمیم آرا
- لہری
- مظہر شاہ
- طالش
- نغمہ
- رضیہ
- سنتوش کمار
- رنگیلا
- دلجیت مرزا
- اکمل
- اے شاہ
- نذر
- سدھیر
- حنیف
- طارق عزیز
- صبیحہ خانم
- محمد علی
- درپن
- امداد حسین
- البیلا
- اطہر شاہ خان
- نیلو
- نرالا
- اسد بخاری
- سید کمال
- حبیب
شیون رضوی
- میرے دل کی ہے آواز کہ بچھڑا یار ملے گا
مجھے اپنے رب سے آس کہ میرا پیار ملے گا۔۔
مسعودرانا کے گائے ہوئے اس لازوال اور شاہکار گیت کے نغمہ نگار شیون رضوی تھے۔ وہ ، برصغیر کی فلمی تاریخ کے نامور گیت نگاروں میں سب سے سینئر اور بولتی فلموں کے ابتدائی دور کے شاعر تھے۔ ان کی پہلی فلم زندہ لاش (1932) بتائی جاتی ہے جوفلمی گائیکی کی دنیا کے پہلے سپرسٹار ، کندن لال سہگل کی بطور اداکار اور گلوکار تیسری فلم تھی۔ رضوی صاحب کی اس دور کی دیگر فلموں کی تفصیل نہیں ملتی۔
شیون رضوی کی وجہ شہرت
شیون رضوی کی وجہ شہرت ، ملکہ ترنم نورجہاں کی بطور اداکارہ اور گلوکارہ شہرہ آفاق فلم زینت (1945) تھی جس میں ان کے لکھے ہوئے دو گیت سپرہٹ ہوئے تھے:
- آندھیاں غم کی یوں چلی کہ باغ سارا اجڑ گیا۔۔ اور
- بلبلو ، مت روؤ یہاں آنسو بہانا ہے منع۔۔
محمدرفیع کا گایا ہوا فلم عرب کا ستارا (1946) کا یہ گیت بھی رضوی صاحب کا لکھا ہوا تھا "ملتا ہے کیا نماز میں سجدے میں جاکے دیکھ۔۔"
تقسیم کے بعد انھوں نے بہت سی بھارتی فلموں کے لیے نغمات لکھے تھے جوعام طور پر دوسرے اور تیسرے درجہ کی مسلم سوشل فلموں کے گیت ہوتے تھے۔
ہمیں تو لوٹ لیا مل کے حسن والوں نے
ہدایتکار اکبرعلی اکو کی بھارتی فلم الہلال (1958) کی مشہورزمانہ قوالی:
- ہمیں تو لوٹ لیا مل کے حسن والوں نے ،
کالے کالے بالوں نے ، گورے گورے گالوں نے۔۔
بھی انھی کی لکھی ہوئی تھی۔ شیون رضوی نے بڑے بڑے بھارتی گلوکاروں اور موسیقاروں کے لیے گیت لکھے تھے لیکن کسی بڑی کامیابی سے محروم رہے تھے۔
دلچسپ بات تھی کہ اس دوران ایک پاکستانی فلم یہودی کی لڑکی (1963) میں ان کا لکھا ہوا ایک 'بھارتی گیت' شامل کیا گیا تھا جس کے بول تھے "کل کی امید پہ یہ وقت نہ کھو۔۔" اس گیت کو بمبئی میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ موسیقار حفیظ خان نے دھن بنائی تھی جبکہ آشا بھونسلے کی آواز میں یہ گیت رقاصہ اداکار پنا زریں پر فلمایا گیاتھا۔
شیون رضوی کی پاکستان آمد
اپنے آبائی وطن ہندوستان میں مسلسل ناکامیوں سے گبھرا کر 1968ء میں شیون رضوی ، ترک وطن کرکے پاکستان چلے آئے تھے جہاں موسیقار ناشاد نے انھیں فلم سالگرہ (1969) کے گیت لکھنے کا موقع دیا تھا۔
ناشاد صاحب بھی چند سال قبل ، شیون رضوی ہی کی طرح بھارت کو چھوڑ کر پاکستان چلے آئے تھے اور سفر وسیلہ ظفر کے مصداق ان کی بھی کایا پلٹ گئی تھی اور وہ صف اول کے موسیقار بن گئے تھے۔
اس فلم میں ملکہ ترنم نورجہاں کے دو گیت سپرہٹ ہوئے تھے ، پہلا گیت تھا:
- میری زندگی ہے نغمہ ، میری زندگی ترانہ ،
میں صدائے زندگی ہوں ، مجھے ڈھونڈ لے زمانہ۔۔
جبکہ دوسرے گیت کا تعلق میری زندگی کے ایک انتہائی اہم واقعہ سے ہے۔ 20 دسمبر 1976ء کی صبح جب ایک ماہ میں دس ملکوں کے آٹھ ہزار کلومیٹر طویل بائی روڈ سفر کے بعد ڈنمارک سے پاکستان پہنچا تھا تو اپنے آبائی شہر کے درودیوار دیکھ کر میرے لبوں پر شیون رضوی کا یہ شاہکار گیت مچل رہا تھا:
- لے آئی پھر کہاں پر ، قسمت ہمیں کہاں سے ،
یہ تو وہی جگہ ہے ، گزرے تھے ہم جہاں سے۔۔!
زندگی رہی تو اپنے اس ناقابل فراموش سفر کا تفصیلی احوال لکھوں گا ، ان شاء اللہ۔۔!
شیون رضوی اور مسعودرانا کا ساتھ
فلم چاندسورج (1970) میں شیون رضوی کا لکھا ہوا گیت "یہ زمین اور ہو ، آسمان اور ہو۔۔" مسعودرانا کے ساتھ پہلا گیت تھا۔ ساتھی گلوکارہ میڈم نورجہاں تھیں جن کا گایا ہوا یہ گیت بھی بڑا مشہور ہوا تھا "آ بھی جاؤ ساجنا ، ارمانوں کے گلزاروں میں۔۔" اسی فلم کا ایک مشہور گیت مہدی حسن اور میڈم نورجہاں نے الگ الگ گایا تھا "انھی کو ڈھونڈ رہی ہے نگاہ شوق میری ، جو محفل میں اجنبی آئے بیٹھے ہیں ، یہی تو ہیں جو میرا دل چرائے بیٹھے ہیں۔۔"
فلم رم جھم (1971) میں بھی میڈم کا یہ گیت سپرہٹ ہوا تھا "میں نے اک آشیاں بنایا تھا ، اب بھی شاید وہ جل رہا ہوگا۔۔"
فلم بہاروپھول برساؤ (1972) بھی ایک بہت بڑی نغماتی فلم تھی۔ اس فلم کا سب سے مقبول گیت مسعودرانا کا گایا ہوا یہ شاہکار گیت تھا "میرے دل کی ہے آواز کہ بچھڑا یار ملے گا۔۔" میڈم کے دو گیت بھی بڑے مقبول ہوئے تھے "یہ گھر میرا گلشن ہے ، گلشن کا خداحافظ۔۔" اور "چندا رے چندا ، کچھ تو ہی بتا ، میرا افسانہ۔۔" شوکت علی ، تصورخانم اور آئرن پروین کا یہ کورس گیت بھی بڑے کمال کا تھا "اے محبت تیرا جواب نہیں ہے۔۔"
فلم سہرے کے پھول (1973) میں یہ لاجواب نظم "آج تک یاد ہے وہ پیار کا منظر مجھ کو ، جس کی تصویر نگاہوں میں لیے پھرتا ہوں۔۔" اور فلم پالکی (1975) کا یہ شاہکار گیت "یہ جھکی جھکی نگاہیں ، انھیں میں سلام کرلوں ، یہیں اپنی صبح کرلوں ، یہیں اپنی شام کرلوں۔۔" خانصاحب مہدی حسن کے گائے ہوئے یہ دونوں گیت میرے پسندیدہ ترین گیتوں میں رہے ہیں۔ ان سبھی گیتوں کے موسیقار ناشاد صاحب تھے جنھوں نے رضوی صاحب کے لکھے ہوئے بیشتر گیتوں کی دھنیں بنائی تھیں۔
شیون رضوی بطور ہدایتکار
شیون رضوی کو فلم بنانے کا بھی شوق تھا۔ انھوں نے دو فلمیں بنائی تھیں جبکہ تیسری فلم 'نغمات کی رات' نامکمل رہی تھی۔
ہدایتکار ، مصنف اور نغمہ نگار کے طور پر ان کی پہلی فلم میری زندگی ہے نغمہ (1972) تھی ، فلمساز کے طور پر عذراجبیں کا نام دیا گیا تھا جو شاید ان کی بیگم تھیں۔ اس فلم میں انھوں نے مزاحیہ اداکار رنگیلا کو ہیرو لیا تھا جو اس وقت ہیرو کے طور بام عروج پر تھے ، سنگیتا ، قوی اور اسلم پرویز دیگر فنکار تھے۔
نثاربزمی کی موسیقی میں مہدی حسن کا شاہکار گیت "اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا۔۔" اس فلم کی پہچان بن گیا تھا۔ میڈم نورجہاں اور رنگیلا کا الگ الگ گایا ہوا یہ گیت بھی سپرہٹ ہوا تھا "تیرا کسی پہ آئے دل ، تیرا کوئی دکھائے دل ، تو بھی کلیجہ تھام کے ، مجھ سے کہے کہ ہائے دل۔۔" رنگیلا ہی کا گایا ہوا ایک اور گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا "یہاں قدرکیا دل کی ہوگی ، یہ دنیا ہے شیشہ گروں کی۔۔" یہ ایک گولڈن جوبلی سپرہٹ فلم تھی۔
شیون رضوی کی ایک فلم میں مسعودرانا کے پانچ گیت
پہلی فلم کی کامیابی سے حوصلہ پا کر شیون رضوی نے دوسری فلم بات پہنچی تیری جوانی تک (1974) بنائی تھی۔ اس فلم کے چاروں اہم شعبوں یعنی فلمساز ، ہدایتکار ، مصنف اور نغمہ نگار کے طور پر ان کا نام آتا تھا۔ اس فلم میں بھی انھوں نے رنگیلا ہی کو فرسٹ ہیرو کے طور پر منتخب کیا تھا جو اس وقت تک بطور ہیرو زوال پذیرہوچکے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ایک اچھی فلم ہونے کے باوجود ناکامی ہوئی تھی۔ اس فلم میں سنگیتا ، منورظریف ، صاعقہ ، ننھا اور قوی دیگر اہم کردار تھے۔
اس فلم کا ایک سین بے چارے شاعر حضرات کی حسرتوں کی ترجمانی کرتا ہے کہ وہ اپنی شاعری کی کتابوں کو لاکھوں کی تعداد میں ہاتھوں ہاتھ بکتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ کروڑوں کی آبادی کے ملک پاکستان میں کتابیں چند ہزار کی تعداد میں چھپتی ہیں اور شاعری کی کتابیں تو عام طور پر ردی کے بھاؤ بکتی ہیں۔
اس فلم کے موسیقار بھی نثاربزمی تھے لیکن کوئی گیت ہٹ نہیں تھا۔ یہ اکلوتی فلم تھی جس میں بزمی صاحب نے مسعودرانا سے پانچ گیت گوائے تھے جن میں سے ایک سولو گیت بڑے کمال کا تھا:
- یہ دنیا سنگدل ہے اور نازک میرا دل ہے ،
نہ میں دنیا کے قابل ہوں ، نہ دنیا میرے قابل ہے۔۔
میڈم نورجہاں کے ساتھ یہ رومانٹک گیت بھی زبردست تھا:
- اس حُسن سے نہیں ہے مجھے تم سے پیار ہے ،
دو دن کی اس خوشی کا کیا اعتبار ہے۔۔
میڈم اور مہدی حسن کا الگ الگ گایا ہوا یہ گیت بھی بڑا اچھا تھا "میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ محبت نہ کرو۔۔"
تقسیم ہند پر فنکاروں کی تقسیم
شیون رضوی نے سب سے زیادہ گیت ناشاد صاحب کے لیے لکھے تھے اور عین ممکن ہے کہ انھی کی ترغیب پر پاکستان بھی آئے ہوں۔ لیکن جب انھوں نے اپنی فلمیں بنائیں تو ان کی تینوں فلموں کے موسیقار نثاربزمی تھے۔ بزمی صاحب بھی ساٹھ کی دھائی میں پاکستان چلے آئے تھے اور ان کی ہجرت کی کہانی بھی ناشاد اور شیون رضوی سے مختلف نہیں تھی۔ ذیل میں ایک غیرحتمی اور سرسری سا جائزہ پیش کیا جارہا ہے کہ قیام پاکستان کے وقت جو نامور مسلمان فنکار فلموں میں کام کرتے تھے ، ان کی تقسیم کس طرح سے ہوئی تھی :
ہندوستانی فنکاروں کی فوری پاکستان آمد
- ایسے فنکار جو پاکستان میں پیدا نہیں ہوئے تھے لیکن مسلمان ہونے کی وجہ سے تقسیم کے فوراً بعد پاکستان چلے آئے تھے ، ان میں شاہ نواز ، منشی دل ، کلاوتی ، ببو ، مایہ دیوی ، شمیم ، نورمحمد چارلی ، سید شوکت حسین رضوی ، یاسمین ، عزیز میرٹھی اور ظہور راجہ وغیرہ شامل تھے۔
ہندوستانی فنکاروں کی دیر سے پاکستان آمد
- ایسے فنکار جو پاکستان میں پیدا نہیں ہوئے تھے لیکن تقسیم کے کافی عرصہ بعد پاکستان آئے تھے ، ان میں وزیرعلی ، رتن کمار ، ڈبلیو زیڈ احمد ، ایس ایم یوسف ، نخشب ، کمار ، ریحانہ ، ناشاد ، نثاربزمی ، اعظم بیگ ، اکبرعلی اکو وغیرہ شامل تھے۔
نوآموز ہندوستانی فنکاروں کی پاکستان آمد
- ایسے فنکار جو پاکستان میں پیدا نہیں ہوئے تھے اور جنھوں نے بھارت میں فلمی کیرئر کا آغاز کیا لیکن بعد میں پاکستان چلے آئے تھے ، ان میں احمدرشدی اور ادیب کے نام ملتے ہیں جبکہ درپن ، بھارت جاکر واپس آگئے تھے۔
پاکستانی فنکاروں کی وطن واپسی
- ایسے فنکار جو بمبئی اور کلکتہ کی فلموں کے بڑے نام تھے لیکن تقسیم کے بعد اپنے آبائی وطن یعنی موجودہ پاکستان لوٹ آئے تھے ، ان میں مختار بیگم ، ممتاز شانتی ، ماسٹرغلام حیدر ، جی اے چشتی ، فیروز نظامی ایم صادق ، غلام محمد ، نذیر ، سورن لتا ، رفیق غزنوی ، ضیاء سرحدی ، ولی صاحب ، نجم الحسن ، اے شاہ شکارپوری ، ملکہ ترنم نورجہاں ، تنویر نقوی ، مسعود پرویز ، شریف نیر ، لقمان ، سعادت حسن منٹو ، سنتوش ، علاؤالدین ، مسعود ، خواجہ خورشید انور ، مینا شوری اور زینت وغیرہ شامل تھے۔
پاکستانی فنکاروں کا بھارت میں قیام
- ایسے فنکار جو موجودہ پاکستان میں پیدا ہوئے یا جنھوں نے لاہور سے فلمی سفر کا آغاز کیا لیکن تقسیم کے بعد انھوں نے بھارت میں رہنا پسند کیا ، ان میں کاردار ، ثریا ، دلیپ کمار ، محمدرفیع ، شمشاد بیگم ، پران ، اوم پرکاش ، شوری ، سرداری لال ، دلسکھ پنچولی ،گلزار اور عزیز کاشمیری وغیرہ شامل تھے۔
ہندوستانی فنکاروں کی پاکستان سے واپسی
- ایسے فنکار جو تقسیم کے بعد پاکستان آئے لیکن یہاں کے حالات سے مایوس ہوکر بھارت لوٹ گئے تھے ان میں بڑے غلام علی خان ، ناصرخان ، اور محبوب خان وغیرہ کے نام ملتے ہیں۔
پاکستانی فنکار جو پاکستان ہی میں رہے
- ایسے فنکار جنھوں نے فلمی کیرئر کا آغاز لاہور سے کیا اور قیام پاکستان کے بعدبھی یہیں رہے ، ان میں ایم اسماعیل ، اجمل ، گل زمان ، ظہورشاہ ، شیخ اقبال ، ریکھا ، داؤدچاند ، زینت بیگم ، راگنی ، آغا سلیم رضا ، رشید عطرے ، ماسٹرعنایت حسین ، طفیل فاروقی ، منور سلطانہ ، آشا پوسلے ، نذر ، سدھیر ، ہمالیہ والا ، طالش اور الیاس کاشمیری وغیرہ شامل ہیں۔
مسعودرانا اور شیون رضوی کے 7 فلمی گیت
| 1 | وہ زمین اور ہو ، آسمان اور ہو ، اب جہاں ہم رہیں ، وہ جہاں اور ہو..فلم ... چاند سورج ... اردو ... (1970) ... گلوکار: مسعود رانا ، نورجہاں ... موسیقی: ناشاد ... شاعر: شیون رضوی ... اداکار: ننھا، نیلوفر |
| 2 | میرے دل کی ہے آواز کہ بچھڑا یار ملے گا ، مجھے اپنے رب سے آس کہ میرا پیار ملے گا..فلم ... بہارو پھول برساؤ ... اردو ... (1972) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ناشاد ... شاعر: شیون رضوی ... اداکار: وحید مراد |
| 3 | یہ دنیا سنگدل ہے ، اوربہت نازک میرا دل ہے ، نہ میں دنیاکے قابل ہوں ، نہ دنیا میرے قابل ہے..فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: شیون رضوی ... اداکار: منور ظریف |
| 4 | حسن کو حسن زمانے میں بنایا میں نے ، ناز کرنے کا انداز سکھایا میں نے..فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ، تصورخانم ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: شیون رضوی ... اداکار: رنگیلا ، سنگیتا |
| 5 | جوگی کا برن ہم نے لیا یار کی خاطر ، صورت ہی بدل ڈالی ہے دیدار کی خاطر..فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ، شوکت علی ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: شیون رضوی ... اداکار: رنگیلا ، منور ظریف |
| 6 | راستے میں یوں نہ بے پردہ چلو ، کوئی دیوانہ گلے پڑ جائے گا..فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ، شوکت علی مع ساتھی ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: شیون رضوی ... اداکار: ننھا ، منور ظریف مع ساتھی |
| 7 | اس حسن سے نہیں ہے مجھے تم سے پیار ہے ، دو دن کے اس شباب کا کیا اعتبار ہے..فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ، نورجہاں ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: شیون رضوی ... اداکار: رنگیلا ، سنگیتا |
مسعودرانا اور شیون رضوی کے 7 اردو گیت
| 1 | وہ زمین اور ہو ، آسمان اور ہو ، اب جہاں ہم رہیں ، وہ جہاں اور ہو ...(فلم ... چاند سورج ... 1970) |
| 2 | میرے دل کی ہے آواز کہ بچھڑا یار ملے گا ، مجھے اپنے رب سے آس کہ میرا پیار ملے گا ...(فلم ... بہارو پھول برساؤ ... 1972) |
| 3 | یہ دنیا سنگدل ہے ، اوربہت نازک میرا دل ہے ، نہ میں دنیاکے قابل ہوں ، نہ دنیا میرے قابل ہے ...(فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... 1974) |
| 4 | حسن کو حسن زمانے میں بنایا میں نے ، ناز کرنے کا انداز سکھایا میں نے ...(فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... 1974) |
| 5 | جوگی کا برن ہم نے لیا یار کی خاطر ، صورت ہی بدل ڈالی ہے دیدار کی خاطر ...(فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... 1974) |
| 6 | راستے میں یوں نہ بے پردہ چلو ، کوئی دیوانہ گلے پڑ جائے گا ...(فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... 1974) |
| 7 | اس حسن سے نہیں ہے مجھے تم سے پیار ہے ، دو دن کے اس شباب کا کیا اعتبار ہے ...(فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... 1974) |
مسعودرانا اور شیون رضوی کے 0 پنجابی گیت
مسعودرانا اور شیون رضوی کے 2سولو گیت
| 1 | میرے دل کی ہے آواز کہ بچھڑا یار ملے گا ، مجھے اپنے رب سے آس کہ میرا پیار ملے گا ...(فلم ... بہارو پھول برساؤ ... 1972) |
| 2 | یہ دنیا سنگدل ہے ، اوربہت نازک میرا دل ہے ، نہ میں دنیاکے قابل ہوں ، نہ دنیا میرے قابل ہے ...(فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... 1974) |
مسعودرانا اور شیون رضوی کے 4دو گانے
| 1 | وہ زمین اور ہو ، آسمان اور ہو ، اب جہاں ہم رہیں ، وہ جہاں اور ہو ...(فلم ... چاند سورج ... 1970) |
| 2 | حسن کو حسن زمانے میں بنایا میں نے ، ناز کرنے کا انداز سکھایا میں نے ...(فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... 1974) |
| 3 | جوگی کا برن ہم نے لیا یار کی خاطر ، صورت ہی بدل ڈالی ہے دیدار کی خاطر ...(فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... 1974) |
| 4 | اس حسن سے نہیں ہے مجھے تم سے پیار ہے ، دو دن کے اس شباب کا کیا اعتبار ہے ...(فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... 1974) |
مسعودرانا اور شیون رضوی کے 1کورس گیت
| 1 | راستے میں یوں نہ بے پردہ چلو ، کوئی دیوانہ گلے پڑ جائے گا ...(فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... 1974) |
Masood Rana & Shevan Rizvi: Latest Online film
Masood Rana & Shevan Rizvi: Film posters
Masood Rana & Shevan Rizvi:
0 joint Online films
(0 Urdu and 0 Punjabi films)Masood Rana & Shevan Rizvi:
Total 6 joint films
(6 Urdu, 0 Punjabi films)| 1. | 1970: Aansoo Ban Geye Moti(Urdu) |
| 2. | 1970: Chand Suraj(Urdu) |
| 3. | 1972: Baharo Phool Barsao(Urdu) |
| 4. | 1974: Baat Pohnchi Teri Javani Tak(Urdu) |
| 5. | 1979: Navabzadi(Urdu) |
| 6. | 1980: Samjhota(Urdu) |
Masood Rana & Shevan Rizvi: 7 songs
(7 Urdu and 0 Punjabi songs)| 1. | Urdu filmChand Surajfrom Friday, 25 December 1970Singer(s): Masood Rana, Noorjahan, Music: Nashad, Poet: , Actor(s): Nanha, Neelufar |
| 2. | Urdu filmBaharo Phool Barsaofrom Friday, 11 August 1972Singer(s): Masood Rana, Music: Nashad, Poet: , Actor(s): Waheed Murad |
| 3. | Urdu filmBaat Pohnchi Teri Javani Takfrom Friday, 29 March 1974Singer(s): Masood Rana, Tasawur Khanum, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Rangeela, Sangeeta |
| 4. | Urdu filmBaat Pohnchi Teri Javani Takfrom Friday, 29 March 1974Singer(s): Masood Rana, Noorjahan, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Rangeela, Sangeeta |
| 5. | Urdu filmBaat Pohnchi Teri Javani Takfrom Friday, 29 March 1974Singer(s): Masood Rana, Shoukat Ali, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Rangeela, Munawar Zarif |
| 6. | Urdu filmBaat Pohnchi Teri Javani Takfrom Friday, 29 March 1974Singer(s): Masood Rana, Shoukat Ali & Co., Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Nanha, Munawar Zarif & Co. |
| 7. | Urdu filmBaat Pohnchi Teri Javani Takfrom Friday, 29 March 1974Singer(s): Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Munawar Zarif |

Tansen
(1943)

Nadan
(1943)

Samaj Ki Bhool
(1934)

Nek Abla
(1932)

Romantic India
(1936)

Shiela as Pind Di Kuri
(1936)
Pakistan Film Magazine
Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.
پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔
یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔
اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔







































Khalil Ahmad
Salma Agha
Taya Barkat
Rakhshi
Maria Khan
Nirma
Shafi Mohammad
Fazil Butt
Zaheer Kashmiri
Anita
Firdousi Begum
Sheila Ramani
Imran Malik
Ustad Jhanday Khan
Kathana
Aslam Irani


