Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


Pakistan Film History

Pakistani film music timeline

An Urdu/Punjabi article on the timeline of Pakistani film music.

گیتوں کی ٹائم لائن

پاکستانی فلمی موسیقی کے اہم ترین سنگ میل

1948

پاکستان کا پہلا فلمی گیت

    پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) کے دس گیتوں میں سے جو واحد گیت سننے میں آتا ہے ، وہ ہے:
  • او تیری یاد آئے ، تیری یاد آئے ، بیتی باتوں کے افسانے دھرائے۔۔
  • آشا پوسلے
    آشا پوسلے
    فلم کی ہیروئن ، اداکارہ آشا پوسلے نے یہ گیت گایا تھا جو خود ایک پروفیشنل گلوکارہ نہیں تھی۔
    اس فلم کے گیتوں کے گراموفون ریکارڈز نہیں بنے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آن لائن گیت میں اس کی اپنی آواز نہیں لگتی اور یہ بعد میں کسی دوسری گلوکارہ کی ریکارڈنگ معلوم ہوتی ہے۔ فلم غلط فہمی (1950) میں آشا پوسلے کے گائے ہوئے گیتوں سے اس گیت کا موازنہ کریں تو آواز کا فرق صاف سنائی دیتا ہے۔

    پہلے فلمی گلوکار

    پاکستان کے پہلے گلوکار علی بخش ظہور
    پاکستان کی پہلی گلوکارہ منورسلطانہ

    منور سلطانہ اور
    علی بخش ظہور
    پہلے فلمی گلوکار تھے
    فلم تیری یاد (1948) کے پروفیشنل گلوکاروں میں تقسیم سے قبل لاہور کی فلموں کی مستقل گلوکارہ منورسلطانہ اور ریڈیو گلوکار علی بخش ظہور کے نام آتے ہیں جنھوں نے سولو گیتوں کے علاوہ پاکستان کا پہلا فلمی دوگانا بھی گایا تھا۔ فلم کی بک لیٹ کے مطابق اس فلم کا پہلا گیت منورسلطانہ کی آواز میں تھا:
  • ہمیں چھوڑ نہ جانا جی ، مونہہ موڑ نہ جانا جی۔۔ (منورسلطانہ)
  • محبت کا مارا چلا جارہا ہے۔۔ (علی بخش ظہور)
  • بول بول ویرنیا ، میں گئی تھی کہاں۔۔ (منورسلطانہ ، علی بخش ظہور)
  • پہلے فلمی موسیقار

    پاکستانی فلموں کے پہلے موسیقار عنایت علی ناتھ تھے جنھوں نے فلم تیری یاد (1948) کے علاوہ صرف ایک اور فلم غلط فہمی (1950) کی موسیقی ترتیب دی تھی۔ اس فلم میں آئی اے نازش کے نام سے شاعری بھی کی تھی۔ اس فلم کے بیشتر گیت بھی اپنی بیٹی اور فلم کی ہیروئن آشا پوسلے کے علاوہ مزاحیہ اداکار نذر سے گوائے تھے۔
    پچاس کی دھائی کی نامور گلوکارہ کوثرپروین کے علاوہ دو معاون اداکارائیں ، رانی کرن اور نجمہ بیگم بھی ان کی بیٹیاں بتائی جاتی ہیں۔

    پہلے فلمی شاعر

    قتیل شفائی
    قتیل شفائی
    سیف الدین سیف
    سیف الدین سیف
    طفیل ہوشیارپوری
    طفیل ہوشیارپوری
    تنویر نقوی
    تنویر نقوی
    پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) کے شاعروں میں سب سے بڑا نام تنویر نقوی کا تھا جو تقسیم سے قبل انمول گھڑی (1946) اور جگنو (1947) جیسی شاہکار نغماتی فلموں کے سپرہٹ گیتوں کی وجہ سے شہرت یافتہ تھے۔ ان کے ساتھ طفیل ہوشیارپوری ، سیف الدین سیف اور قتیل شفائی نے بھی گیت نگاری کا آغاز کیا تھا۔ ان قابل قدر شاعروں نے اپنی کارکردگی سے پاکستانی فلمی تاریخ پر بڑے گہرے اثرات مرتب کیے تھے۔
1949

پاکستان کی پہلی نغماتی فلم

    بابا عالم سیاہ پوش
    بابا عالم سیاہ پوش
    جی اے چشتی
    جی اے چشتی
    عنایت حسین بھٹی
    عنایت حسین بھٹی
    پاکستان کی پہلی نغماتی فلم پھیرے (1949) کے بیشتر گیت مقبول ہوئے تھے۔
    اس فلم کے موسیقار جی اے چشتی تھے جو پاکستان کے ابتدائی دور کے کامیاب ترین موسیقار تھے۔ انھوں نے سب سے پہلے سو فلموں کی موسیقی ترتیب دینے اور ایک ہزار سے زائد گیت کمپوز کرنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔
    پاکستان کا پہلا سپرہٹ گیت اور دوگانا منورسلطانہ نے گایا تھا۔ ساتھی گلوکار عنایت حسین بھٹی تھے جنھوں نے اسی سال فلم سچائی (1949) سے فلمی کیرئر کا آغاز کیا اور انھیں پاکستان کا پہلا ہٹ مردانہ گیت گانے کا اعزاز حاصل ہوا تھا:
  • مینوں رب دی سونہہ تیرے نال پیار ہو گیا ، وے چناں سچی مچی۔۔ (منورسلطانہ)
  • اوئے اکھیاں لاویں نہ ، او فیر پچھتاویں نہ ، انجانا۔۔ (منورسلطانہ ، عنایت حسین بھٹی)
  • جے نئیں اوں پیار نبھانا ، سانوں دس جا کوئی ٹھکانہ۔۔ (عنایت حسین بھٹی)
  • مندرجہ بالا گیتوں میں سے پہلے دو سپرہٹ گیت جی اے چشتی نے خود ہی لکھے جبکہ تیسرا گیت بابا عالم سیاہ پوش کا لکھا ہوا تھا جو ابتدائی دور کے نامور گیت اور مکالمہ نگار تھے۔

    پہلا بھولا بسرا گیت

    عام طور پر "بھولے بسرے گیت" وقتی مقبولیت کے حامل ہوتے تھے جو بہت کم لوگوں کی یادوں میں محفوظ رہتے تھے۔ ایسے ہی بھولے بسرے گیتوں میں سیف الدین سیف کا لکھا ہوا اور موسیقار ماسٹر عنایت حسین کی دھن میں فلم ہچکولے (1949) میں گلوکار علی بخش ظہور کا گایا ہوا سب سے بہترین گیت بھی تھا:
  • میں پیار کا دیا جلاتا ہوں ، تو چپکے چپکے ، چھپ چھپ کے آجا۔۔
  • 1949ء کی نغماتی فلمیں

    پھیرے ، مندری

    1949ء کے فنکار

    ماسٹرغلام حیدر ، جی اے چشتی ، حکیم احمد شجاع اور عبدالشکور بیدل فلم شاہدہ (1949) ، ماسٹرعنایت حسین ، اقبال بیگم لائلپوری ، نسیم اختر اور سلمیٰ بیگم فلم ہچکولے (1949) ، عنایت حسین بھٹی فلم سچائی (1949) ، ملکہ پکھراج ، امدادحسین ، امیربائی اور فتح علی خان فلم دو کنارے (1949) ، بابا عالم سیاہ پوش اور علاؤلدین فلم پھیرے (1949) ، اقبال بانو ، زاہدہ پروین ، نورمحمد چارلی ، ایف ڈی شرف اور قادرفرید فلم مندری (1949)
1950

پہلی نغماتی اردو فلم

    ماسٹر غلام حیدر
    ماسٹر غلام حیدر
    پاکستان کی پہلی نغماتی اردو فلم بے قرار (1950) تھی جس کے متعدد گیت مقبول ہوئے تھے۔ تقسیم سے قبل کے عظیم موسیقار ماسٹر غلام حیدر کی دھن میں طفیل ہوشیارپوری کے لکھے ہوئے یہ دو گیت پسند کیے گئے تھے:
  • او پردیسیا ، بھول نہ جانا ، او پردیسیا۔۔ (منورسلطانہ)
  • دل کو لگا کے کہیں بھول نہ جانا ، ظالم زمانہ ہے یہ ، ظالم زمانہ۔۔ (منورسلطانہ ، علی بخش ظہور)
  • تیرے لونگ دا پیا لشکارا

    لارے (1950) ، پاکستان کی پہلی فلم تھی جس کے سبھی گیت بڑے مقبول ہوئے تھے۔ خاص طور پر جی اے چشتی کی دھن میں عنایت حسین بھٹی اور منورسلطانہ کا گایا ہوا یہ سدا بہار دوگانا ایک لوک گیت کا درجہ اختیار کر گیا تھا:
  • تیرے لونگ دا پیا لشکارا تے ہالیاں نے ہل ڈھک لے آپے ، تریکاں پغتن گے تیرے ماپے۔۔
  • 1950ء کی نغماتی فلمیں

    لارے ، بے قرار

    1950ء کے فنکار

    زینت بیگم اور ظہور راجہ فلم جہاد (1950) ، رشیدعطرے ، احمدراہی ، پکھراج پپو ، ناظم پانی پتی ، قیوم نظر ، مسعود پرویز اور امرتاپریتم فلم بیلی (1950) ، عرش لکھنوی اور نذر فلم غلط فہمی (1950) ، فیروز نظامی اور مشیرکاظمی فلم ہماری بستی (1950) ، حزیں قادری ، ساغر صدیقی ، مبارک علی خان اور استاد برکت علی خان فلم دو آنسو (1950) ، حسن لطیف فلم جدائی (1950) ، نذیر جعفری اور عطا محمد قوال فلم امانت (1950) ، منشی دل فلم شمی (1950) ، عزیز میرٹھی فلم کندن (1950)
1951

ملکہ ترنم نورجہاں کی آمد

    ایف ڈی شرف
    فیروز نظامی
    ملکہ ترنم نورجہاں
    ملکہ ترنم نورجہاں کی لاہور واپسی پر پہلی فلم چن وے (1951) تھی جو سال کی سب سے بڑی نغماتی فلم ثابت ہوئی تھی۔ فیروز نظامی کی دھنوں میں ایف ڈی شرف کے لکھے ہوئے اس فلم کے بیشتر گیت بڑے مقبول ہوئے جن میں خاص طور پر یہ گیت ایک سٹریٹ سانگ ثابت ہوا تھا:
  • تیرے مکھڑے دا کالا کالا تل وے ، ساڈا کڈھ کے لے گیا دل وے ، وے منڈیا سیالکوٹیا۔۔
  • اسی فلم میں پہلی بار استاد دامن نے بھی ایک فلمی گیت لکھا تھا "بچ جا منڈیا موڑ توں ، میں صدقے تیری ٹوہر توں۔۔"

    1951ء کے فنکار

    نجم الحسن ، سریندر کور اور ایس ڈی باتش فلم عید (1951) ، میڈم نورجہاں اور استاد دامن فلم چن وے (1951) ، مایہ دیوی فلم ہم وطن (1951) ، مظفر طاہر اور طالب حسین جعفری فلم غیرت (1951) ، عیدن بائی (میڈم نورجہاں کی بہن) فلم بلو (1951)
1952

پہلی سپرہٹ اردو نغماتی فلم

    مشیرکاظمی
    مشیرکاظمی
    پاکستان کی پہلی سپرہٹ نغماتی اردو فلم دوپٹہ (1952) ریلیز ہوئی جس کے بیشتر گیت بڑے مقبول ہوئے تھے۔ میڈم نورجہاں کے علاوہ موسیقار ماسٹر فیروز نظامی کی کارکردگی عروج پر تھی جن کی یہ آخری نغماتی فلم ثابت ہوئی تھی۔ نغمہ نگار مشیرکاظمی کا لکھا ہوا یہ گیت خاص طور پر بڑا مقبول ہوا تھا:
  • چاندنی راتیں ، سب جگ سوئے ، ہم جاگیں ، تاروں سے کریں باتیں۔۔
  • دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ گیت ، مشیرکاظمی نے اپنی بھوک و افلاس سے تنگ آکر لکھا تھا جو فلم کا سپرہٹ گیت ثابت ہوا تھا۔
    اسی فلم میں معروف نغمہ نگار فیاض ہاشمی نے اپنا پہلا فلمی گیت لکھا تھا "مصیبت ہے ، بلا ہے ، اور میں ہوں۔۔"
1953

زبیدہ خانم کی آمد

    وارث لدھیانوی
    رشیدعطرے
    زبیدہ خانم
    1950 کی دھائی کی سب سے مقبول اور مصروف گلوکارہ زبیدہ خانم کی فلم شہری بابو (1953) میں آمد ہوئی جس میں ان کے دو گیت بڑے مقبول ہوئے تھے:
  • گلاں سن کے ماہی دے نال میریاں ، دوپٹہ بے ایمان ہو گیا۔۔
  • راتاں میریاں بنا کے ربا نیریاں ، نصیباں والے تارے ڈب گئے۔۔
  • ان گیتوں کی دھنیں تقسیم سے قبل کے عظیم موسیقار رشید عطرے نے بنائی تھیں۔ یہ دونوں گیت وارث لدھیانوی کے لکھے ہوئے تھے جو پنجابی فلموں کے ایک مقبول گیت نگار ثابت ہوئے۔ اسی فلم میں بابا عالم سیاہ پوش کا لکھا ہوا سب سے یادگار گیت عنایت حسین بھٹی کی آواز میں تھا جو انھی پر فلمایا گیا تھا:
  • بھاگاں والیو ، نام جپھو مولا نام۔۔
  • 1953ء کی نغماتی فلمیں

    شہری بابو ، گلنار

    1953ء کے فنکار

    گلوکار فضل حسین فلم غلام (1953) ، نذیر بیگم اور فریدہ خانم فلم سیلاب (1953) ، ساحل فارانی فلم آواز (1953) ، طفیل فاروقی فلم برکھا (1953) ، زبیدہ خانم ، وارث لدھیانوی فلم شہری بابو (1953) ، روشن آرا بیگم فلم گلنار (1953)
1954

پہلی سپرہٹ فلمی غزل

    اقبال بانو
    پاکستان کی پہلی سپرہٹ فلمی غزل فلم گمنام (1954) میں گائی گئی تھی:
  • پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے ، تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے۔۔
  • اس شاہکار غزل کو سیف الدین سیف نے لکھا ، دھن ماسٹر عنایت حسین نے بنائی اور گلوکارہ اقبال بانو تھیں جن کے پانچ درجن فلمی گیتوں میں سے یہ سب سے مقبول فلمی گیت تھا۔

    نہ یہ چاند ہوگا ، نہ تارے رہیں گے

    پکھراج پپو
    کوثرپروین
    اسی سال پاکستان کی پہلی گولڈن جوبلی اردو فلم سسی (1954) ریلیز ہوئی جس میں موسیقار جی اے چشتی نے تقسیم سے قبل اپنے ہی ایک غیرریلیز شدہ فلم "ششی" کے گیت کو ری میک کیا تھا۔ کوثرپروین اور پکھراج پپو کی آوازیں تھیں:
  • نہ یہ چاند ہوگا ، نہ تارے رہیں گے ، مگر ہم ہمیشہ تمہارے رہیں گے۔۔
  • دو نسوانی آوازوں میں یہ پہلا سپرہٹ دوگانا تھا۔

    1954ء کے فنکار

    رفیق غزنوی فلم پرواز (1954)
1955

سلیم رضا کی آمد

    پاکستانی اردو فلموں کے پہلے کامیاب ترین گلوکار سلیم رضا نے اس سال فلم قاتل (1955) میں اپنا پہلا گیت گایا جو موسیقار عنایت حسین کی دھن میں قتیل شفائی کا لکھا ہوا تھا:
  • آتے ہو یاد بار بار ، کیسے بھلائیں تمھیں۔۔
  • 1965ء تک کی پاکستانی فلموں میں زیادہ تر مقبول عام اردو گیت سلیم رضا ہی کے گائے ہوئے ہوتے تھے۔

    صفدرحسین اور اخترحسین کی آمد

    موسیقار صفدرحسین ، پاکستان کے پہلے موسیقار تھے جن کی پہلی ہی فلم ہیر (1955) ایک بہت بڑی نغماتی فلم تھی۔ اسی فلم سے پنجابی فلموں کے عظیم شاعر حزیں قادری کو بھی بریک تھرو ملا تھا۔
    موسیقار اخترحسین اکھیاں نے بھی فلم پاٹے خان (1955) جیسی نغماتی فلم سے اپنے فلمی کیرئر کا آغاز کیا تھا جس میں وقت کی دو بڑی گلوکاراؤں ، میڈم نورجہاں اور زبیدہ خانم نے اداکاری بھی کی تھی جبکہ تیسری اداکارہ مسرت نذیر تھی جس پر میڈم نورجہاں کا ایک گیت بھی فلمایا گیا تھا۔

    پاکستان کی پہلی سپرہٹ فلمی لوری

    اسی سال پاکستان کی دوسری گولڈن جوبلی فلم نوکر (1955) میں پاکستانی فلمی تاریخ کی پہلی سپرہٹ لوری گائی گئی تھی:
  • راج دلارے ، میری اکھیوں کے تارے ، تیرے واری واری جاؤں۔۔
  • منورسلطانہ اور کوثر پروین کی الگ الگ گائی ہوئی ہوئی یہ لوری قتیل شفائی کی لکھی ہوئی تھی جس کی دھن جی اے چشتی نے بنائی تھی۔ ایک ہی گیت کو دو گلوکاراؤں سے الگ الگ گوانے کا یہ منفرد تجربہ تھا۔

    فضل حسین کا واحد سپرہٹ فلمی گیت

    فضل حسین
    1950 کی دھائی کے ایک نامور گلوکار فضل حسین کے فلمی کیرئر کا سب سے مقبول ترین گیت فلم طوفان (1955) میں تھا:
  • آج یہ کس کو نظر کے سامنے پاتا ہوں میں ، پیار کی بھولی ہوئی یادوں سے ٹکراتا ہوں میں۔۔
  • موسیقار جی اے چشتی کی دھن میں یہ گیت سیف الدین سیف نے لکھا تھا۔

    1955ء کی نغماتی فلمیں

    قاتل ، پتن ، ہیر ، پاٹے خان

    1955ء کے فنکار

    سلیم رضا ، مسرت نذیر فلم قاتل (1955) ، تصدق حسین فلم نوکر (1955) ، اسماعیل متوالا فلم پتن (1955) ، خورشید بیگم ، غلام نبی عبداللطیف فلم ہماری زبان (1955) ، شباب کیرانوی فلم جلن (1955) ، صفدرحسین فلم ہیر (1955) ، اخترحسین اکھیاں فلم پاٹے خان (1955) ، کلیم عثمانی فلم انتخاب (1955)
1956

احمدرشدی اور مہدی حسن کی آمد

    مہدی حسن ، دیبو اور احمدرشدی
    پاکستان میں اردو بولنے والوں میں "لوک گلوکار" کا درجہ اختیار کرجانے والے اور سب سے زیادہ اردو فلموں میں سب سے زیادہ اردو گیت گانے والے عظیم گلوکار احمدرشدی کی پہلی فلم انوکھی (1956) ریلیز ہوئی جس میں ان کا گایا ہوا پہلا گیت تھا:
  • ماری لیلیٰ نے ایسی کٹار ، میاں مجنوں کو آیا بخار۔۔
  • یہ مزاحیہ گیت فیاض ہاشمی نے لکھا اور اس گیت کی دھن ایک بھارتی موسیقار تمربرن نے بنائی تھی۔
    اسی سال ، اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والوں میں سب سے زیادہ مقبول گلوکار ، شہنشاہ غزل مہدی حسن کی پہلی فلم کنواری بیوہ (1956) بھی ریلیز ہوئی جس میں انھوں نے کوثر پروین کے ساتھ تین دو گانے گائے تھے۔ قادرفریدی اور فتح علی خان کی موسیقی تھی۔ یہ احمدرشدی کی دوسری فلم تھی۔

    خواجہ خورشید انور کی آمد

    خواجہ خورشید انور
    اسی سال تقسیم سے قبل کے عظیم موسیقار خواجہ خورشید انور کی لاہور واپسی پر پہلی پاکستانی فلم انتظار (1956) بھی ریلیز ہوئی تھی۔ قتیل شفائی کے لکھے ہوئے اس فلم کے بیشتر گیت بڑے مقبول ہوئے تھے۔ ملکہ ترنم نورجہاں کی بطور اداکارہ اور گلوکارہ اس فلم کا یہ گیت سدا بہار ہے:
  • جس دن سے پیا دل لے گئے ، دکھ دے گئے ، اس دن سے گھڑی پل چین نہ آئے۔۔
  • واسطہ ای رب دا توں جائیں وے کبوترا

    1956ء کا مقبول ترین سٹریٹ سانگ پاکستان کی پہلی بلاک باسٹر فلم دلا بھٹی (1956) میں منورسلطانہ کی آواز میں تھا:
  • واسطہ ای رب دا توں جائیں کبوترا ، چٹھی میرے ڈھول نوں پہنچائیں وے کبوترا۔۔
  • موسیقار جی اے چشتی کا یہ میگا ہٹ گیت طفیل ہوشیارپوری کا لکھا ہوا تھا جو فلم کی ریکارڈ توڑ کامیابی کی بڑی وجہ بھی تھا۔

    رناں والیاں دے پکن پرونٹھے

    1950 کی دھائی کا شریر ترین گیت احمدراہی کا لکھا ہوا تھا جس کی دھن بھی جی اے چشتی نے بنائی تھی۔ اس عوامی گیت کو گانے کا اعزاز وقت کے مقبول ترین گلوکار عنایت حسین بھٹی کو حاصل ہوا تھا۔ بول تھے:
  • رناں والیاں دے پکن پرونٹھے تے چھڑیاں دی اگ نہ بلے۔۔
  • تینوں بھل گیاں ساڈیاں چاہواں

    1950 کی دھائی میں زبیدہ خانم کے بعد دوسری مقبول اور مصروف ترین پس پردہ گلوکارہ کوثر پروین کا گایا ہوا مقبول ترین پنجابی گیت فلم پینگاں (1956) میں تھا جس کے بول تھے:
  • تینوں بھل گیاں ساڈیاں چاہواں تے اساں تینوں کی آکھناں۔۔
  • اس گیت کی دھن بھی جی اے چشتی نے بنائی تھی۔ احمد راہی کے بول تھے۔

    1956ء کی نغماتی فلمیں

    حمیدہ ، لخت جگر ، ماہی منڈا ، چھوٹی بیگم ، انتظار ، سرفروش ، گڈی گڈا ، چن ماہی

    1956ء کے فنکار

    احمد رشدی فلم انوکھی (1956) ، خورشید فلم فنکار (1956) ، خواجہ خورشید انور فلم انتظار (1956) ، مہدی حسن فلم کنواری بیوہ (1956) ، ماسٹر عاشق حسین فلم جبرو (1956) ، رحمان ورما فلم باغی (1956) ، سائیں اختر فلم حاتم (1956) ، ولی صاحب فلم گڈی گڈا (1956)
1957

شاہ مدینہ ﷺ

    نعیم ہاشمی
    حسن لطیف
    سلیم رضا
    1957ء کا سال فلمی گائیکی کے لحاظ سے ایک یادگار سال تھا۔ بہت سے سپرہٹ گیت گائے گئے تھے۔ سال کا سب سے مقبول ترین گیت ایک نعتیہ کلام تھا:
  • شاہ مدینہ ﷺ ، یثرب کے والی ، سارے نبی ، تیرے در کے سوالی۔۔
  • اس لازوال نعتیہ کلام کی دھن حسن لطیف نے بنائی جبکہ بول نعیم ہاشمی کے بتائے جاتے ہیں۔ اس امر نعت کو گانے کا اعزاز آنجہانی سلیم رضا کو حاصل ہوا جنھیں اسی سال بریک تھرو ملا تھا۔

    اے قائداعظمؒ ، تیرا احسان ہے

    پاکستانی فلموں کا پہلا مقبول ترین ملی ترانہ گانے کا اعزاز گلوکارہ منور سلطانہ کو حاصل ہوا جب فلم بیداری (1957) میں موسیقار فتح علی خان نے خاور زمان کا لکھا ہوا یہ گیت گوایا تھا:
  • یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران ، اے قائداعظمؒ ، تیرا احسان ہے ، تیرا احسان۔۔
  • جگر چھلنی ہے ، دل گبھرا رہا ہے

    پاکستان کے پہلے ممتاز گلوکار عنایت حسین بھٹی کی اکلوتی نغماتی اردو فلم عشق لیلیٰ (1957) تھی جس میں ان کے گائے ہوئے بیشتر گیت سپرہٹ ہوئے تھے۔ موسیقار صفدرحسین کی دھن میں قتیل شفائی کا لکھا ہو یہ گیت بھٹی صاحب کا مقبول ترین اردو فلمی گیت ہے:
  • جگر چھلنی ہے ، دل گبھرا رہا ہے ، محبت کا جنازہ جا رہا ہے۔۔
  • 1950 کی دھائی کے بیشتر مقبول عام گیت بھٹی صاحب ہی نے گائے تھے لیکن سلیم رضا کی آمد سے زوال پذیر ہو گئے تھے۔

    جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں

    اسی سال موسیقار رشیدعطرے نے ایک ریڈیو گلوکار شرافت علی سے فلم وعدہ (1957) میں سیف الدین سیف کا لکھا ہوا ایک سپرہٹ گیت گوایا تھا:
  • تیری رسوائیوں سے ڈرتا ہوں ، جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں۔۔
  • اس لازوال گیت کے بعد شرافت علی خود کو ناگزیر سمجھنے لگے تھے لیکن جب رشیدعطرے نے اپنی اگلی فلم کے لیے سلیم رضا کا انتخاب کیا تو بطور احتجاج فلمی دنیا سے کنارہ کش ہو گئے تھے۔

    استاد اور شاگرد کا مقابلہ

    موسیقار صفدرحسین ایک اعلیٰ پائے کے موسیقار تھے۔ وہ رشتہ میں عظیم موسیقار رشید عطرے کے بھانجے اور شاگرد بھی تھے۔ ان دونوں (استاد/شاگرد یا ماموں/بھانجے) کا اس سال ایک ہی کہانی پر بننے اور ایک ہی دن ریلیز ہونے والی دو فلموں ، لیلیٰ مجنوں اور عشق لیلیٰ (1957) میں زبردست مقابلہ ہوا۔ بھانجے نے ماموں کو چاروں شانے چت گرا دیا اور پاکستان کی سب سے بڑی نغماتی فلم میں ڈیڑھ درجن سدا بہار گیتوں کی ایک گیت مالا بنا کر نیا ریکارڈ قائم کر دیا جبکہ ماموں یا استاد کی فلم کا ایک بھی گیت مقبول نہ ہو سکا تھا۔

    1957ء کی نغماتی فلمیں

    یکے والی ، عشق لیلیٰ ، وعدہ ، نوراں ، سات لاکھ ، بیداری

    1957ء کے فنکار

    منیرحسین فلم یکے والی (1957) ، اے حمید فلم انجام (1957) ، دیبو بھٹا چاریہ فلم مسکہ پالش (1957) ، ناہید نیازی فلم لیلیٰ مجنوں (1957) ، شرافت علی ، استاد فتح علی خان فلم وعدہ (1957)
1958

نسیم بیگم اور آئرن پروین کی آمد

    فلم بے گناہ (1958) سے ایک نئی گلوکارہ نسیم بیگم نے اپنی گائیکی کی صلاحیتوں کی دھاک بٹھا دی تھی۔ اسے "نورجہاں ثانی" بھی کہا جاتا تھا۔ اس فلم میں نسیم بیگم کی گائی ہوئی میاں شہریار کی دھن میں عاشور کاظمی کی لکھی ہوئی یہ غزل بڑی مقبول ہوئی تھی:
  • نینوں میں جل بھر آئے ، مورکھ من پرجائے رے ، روٹھ گیا میرا پیار۔۔
  • ایک روایت کے مطابق نسیم بیگم کی پہلی فلم گڈی گڈا (1956) تھی۔
    اسی سال 1960 کی دھائی کی ایک بہت بڑی گلوکار آئرن پروین کی فلم ممتاز (1958) میں آمد ہوئی تھی۔ مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ چار سو سے زائد فلموں میں آٹھ سو سے زائد گیت گائے تھے۔ سب سے مقبول گیت فلم آئینہ (1966) میں تھا "تمہی ہو محبوب میرے۔۔"

    اے مرد مجاہد جاگ ذرا

    اسی سال فلم چنگیز خان (1958) میں پاکستان کی فلمی تاریخ کا پہلا اور مقبول ترین جنگی ترانہ رشیدعطرے کی دھن میں طفیل ہوشیارپوری نے لکھا اور عنایت حسین بھٹی اور ساتھیوں نے گایا تھا:
  • اللہ اکبر ، اللہ کی رحمت کا سایہ ، توحید کا پرچم لہرایا ،
    اے مرد مجاہد ، جاگ ذرا ، اب وقت شہادت ہے آیا۔۔
  • اس لازوال جنگی ترانے کو پاک فوج کے سرکاری بینڈ میں شامل کیا گیا تھا۔

    برے نصیب میرے

    ظریف
    فلم چھومنتر (1958) میں موسیقار رفیق علی نے اپنی پہلی ہی فلم میں ایک لازوال گیت تخلیق کیا تھا جو کسی پروفیشنل گلوکار کی بجائے ایک شوقیہ گلوکار ظریف کی آواز میں تھا:
  • برے نصیب میرے ، ویری ہویا پیار میرا ، نظر ملا کے کوئی لے گیا قرار میرا۔۔
  • احمدراہی نے یہ سپرہٹ گیت لکھا تھا جو دوگانے کی صورت میں زبیدہ خانم نے بھی گایا تھا۔

    دلا ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے

    منیرحسین
    اسی سال موسیقار رشیدعطرے کی دھن میں وارث لدھیانوی کا لکھا ہوا یہ گیت ، گلوکار منیرحسین کے فلمی کیرئر کا مقبول ترین گیت تھا:
  • دلا ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے ، کوئی جاندی واری سجناں نوں گل کہن دے۔۔
  • منیرحسین ، سلیم رضا کے بعد دوسرے مقبول ترین گلوکار ہوتے تھے۔

    1958ء کی نغماتی فلمیں

    چھومنتر ، زہرعشق ، انارکلی ، جٹی ، مکھڑا ، آدمی

    1958ء کے فنکار

    سلیم اقبال فلم شیخ چلی (1958) ، نسیم بیگم فلم بے گناہ (1958) ، رفیق علی فلم چھومنتر (1958) ، منیرنیازی فلم نئی لڑکی (1958) ، آئرن پروین فلم ممتاز (1958) ، مصلح الدین فلم آدمی (1958) ،
1959

زبیدہ خانم کا منفرد اعزاز

    1950 کی دھائی کی مقبول ترین گلوکار زبیدہ خانم نے ایک کیلنڈر ایئر میں سو سے زائد فلمی گیت گانے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ 1955ء سے 1961ء تک سب سے زیادہ گیت گائے۔ پہلی گلوکارہ تھیں جنھوں نے سو سے زائد فلموں میں چھ سو کے لگ بھگ فلمی گیت گانے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔

    تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں

    ایس بی جون
    اس سال فلم سویرا (1959) میں موسیقار منظور نے ایک گمنام گلوکار ایس بی جون سے ایک سدا بہار گیت گوایا تھا:
  • تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ، یہ مانا کہ محفل جوان ہے ، حسین ہے۔۔
  • فیاض ہاشمی کا لکھا ہوا یہ گیت ایس بی جون کا اکلوتا سپرہٹ گیت تھا۔ انھوں نے کل پانچ فلموں میں دس گیت گائے تھے۔

    دیساں دا راجہ

    1959ء کی سب سے بڑی فلم کرتارسنگھ تھی جو ایک بہت بڑی نغماتی فلم بھی تھی۔ موسیقاروں کی جوڑی سلیم اور اقبال کی جوڑی نے بڑے کمال کی دھنیں بنائی تھیں جن میں وارث لدھیانوی کا لکھا ہوا نسیم بیگم کا یہ کورس گیت ایک لوک گیت بن گیا تھا:
  • دیساں دا راجہ ، میرے بابل دا پیارا ، امڑی دے دل دا سہارا ، نی ویر میرا گھوڑی چڑھیا۔۔
  • اس فلم میں ایک زیادتی کی گئی تھی جب عنایت حسین بھٹی پر سلیم رضا کا گایا ہوا ایک گیت فلمایا گیا تھا۔

    چلی رے چلی رے چلی رے

    ناہید نیازی
    اس دور کی ایک ممتاز گلوکار ناہید نیازی نے اپنے فلمی کیریر کا مقبول ترین گیت فلم جھومر (1959) میں گایا تھا:
  • چلی رے ، چلی رے ۔ چلی رے ، میں تو دیس پیا کے چلی رے۔۔
  • تنویر نقوی کا لکھا ہوا یہ گیت خواجہ خورشید انور کی دھن میں تھا۔
    ناہید نیازی نے ڈیڑھ سو سے زائد فلموں میں تین سو سے زائد گیت گائے تھے۔ موسیقار مصلح الدین سے شادی کے بعد فلمی دنیا کو خیرآباد کہہ دیا تھا۔

    1959ء کی نغماتی فلمیں

    کرتار سنگھ ، ناگن ، نیند ، جھومر ، کوئل

    1959ء کے فنکار

    فیض احمد فیض فلم جاگو ہوا سویرا (1959) ، سیف چغتائی فلم اپنا پرایا (1959)
1960

مالا کی آمد

    1960 کی دھائی کی مقبول اور مصروف ترین گلوکارہ مالا نے فلم ڈاکو کی لڑکی (1960) سے فلمی کیرئر کا آغاز کیا تھا۔ رشید عطرے کی دھن میں کلیم عثمانی کا لکھا ہوا پہلا گیت تھا:
  • اے میرے دل بتا ، کیسے کہہ دوں بھلا۔۔
  • مالا کو بریک تھرو فلم محبوب (1962) کے گیت "سپنوں میں اڑی اڑی جاؤں۔۔" سے ملا اور پانچ سو سے زائد فلموں میں نغمہ سرائی کی تھی۔

    ہم بھول گئے ہر بات

    گلوکارہ نسیم بیگم کے فلمی کیرئر کی سب سے بڑی نغماتی فلم سہیلی (1960) تھی جس کے بیشتر گیت سپرہٹ ہوئے تھے۔ یہی فلم نامور موسیقار اے حمید اور نغمہ نگار فیاض ہاشمی کی بھی پہلی پہلی بڑی فلم تھی۔ اس فلم کا یہ گیت ضرب المثل بنا:
  • ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے۔۔
  • نسیم بیگم نے پونے چار سو سے زائد فلموں میں گیت گائے تھے۔

    میڈم نورجہاں بطور پس پردہ گلوکارہ

    اسی سال ملکہ ترنم نورجہاں نے بطور پلے بیک سنگر باقاعدگی سے فلم سلمیٰ (1960) سے آغاز کیا تھا۔ اس سے قبل وہ صرف اپنی فلموں کے لیے گاتی تھیں۔ میڈم کا پہلا گیت تنویر نقوی کا لکھا ہوا تھا اور اس کی دھن رشید عطرے نے بنائی تھی اور یہ گیت اداکارہ بہار پر فلمایا گیا تھا:
  • زندگی ہے یا کسی کا انتظار ، بدلیوں کی اوڑھنی سے چاندنی ، جانے کس کو جھانکتی ہے بار بار۔۔
  • گلوکار باتش

    فلم سلمیٰ (1960) ہی میں رشید عطرے نے گلوکار باتش سے ان کا اکلوتا سپرہٹ گیت گوایا تھا جو ظہورنذر کا لکھا ہوا تھا اور علاؤالدین پر فلمایا گیا تھا جو پہلی بار سیکنڈ ہیرو کے طور سامنے آئے تھے۔ گیت کے بول تھے:
  • کالی کالی رات میں ، بھیا برسات میں ، گورا گورا ہاتھ دے ، کوئی میرے ہاتھ میں۔۔
  • 1960ء کی نغماتی فلمیں

    سلمیٰ ، مٹی دیاں مورتاں

    1960ء کے فنکار

    خواجہ پرویز فلم کلرک (1960) ، حمایت علی شاعر فلم اور بھی غم ہیں (1960) ، مالا فلم ڈاکو کی لڑکی (1950)
1961

ایم اشرف کی آمد

    پاکستانی فلموں میں چار سو سے زائد فلموں کی ریکارڈ موسیقی ترتیب دینے والے موسیقار ایم اشرف کی پہلی فلم سپیرن (1961) تھی جس میں ان کے ساتھ ایک منظور نامی پارٹنر تھے۔ ان دونوں نے دو درجن سے زائد فلموں میں "منظور اشرف" کے نام سے موسیقی دی تھی ، پھر علیحدگی کے بعد منظور تو چند فلموں کی موسیقی دینے کے بعد گمنام ہو گئے لیکن ایم اشرف نے بڑا نام کمایا تھا۔
    اس فلم میں شباب کیرانوی کا لکھا ہوا یہ گیت بڑا مقبول ہوا جو احمدرشدی کا پہلا ہٹ فلمی گیت بھی تھا:
  • چاند سا مکھڑا ، گورا بدن ، جل میں لگائے گوری اگن ۔۔
  • 1961ء کی نغماتی فلمیں

    غالب ، گلفام

    1961ء کے فنکار

    مظفر وارثی فلم فرشتہ (1961) ، ثریا ملتانیکر فلم گل بکاؤلی (1961) ، بخشی وزیر فلم بے خبر (1961) ، منظور اشرف فلم سپیرن (1961) ، لال محمد اقبال فلم بارہ بجے (1961)
1962

مسعودرانا اور مسرور انور کی آمد

    فلم انقلاب (1962) میں گلوکار مسعودرانا متعارف ہوئے۔ پہلا گیت حاصل مرادآبادی کا لکھا ہوا ایک سیاسی ترانہ تھا جس کی دھن نتھو خان نے بنائی تھی:
  • مشرقی کی تاریک فضا میں نیا سویرا پھوٹا ہے ، اب یہ راز کھلے گا سب پر کس نے کس کو لوٹا ہے۔۔
  • یہ فلم صرف کراچی تک محدود رہی لیکن دوسری فلم بنجارن (1962) پورے ملک میں ریلیز ہوئی جس میں مسرور انور نے بھی فلمی کیرئر کا آغاز کیا اور اردو فلموں کے کامیاب ترین گیت نگار ثابت ہوئے تھے۔

    روبن گھوش اور ماسٹر عبداللہ کی آمد

    مشرقی پاکستان کی اردو فلم چندا (1962) سے موسیقار روبن گھوش کی آمد ہوئی۔ 1968ء میں اپنی اداکارہ بیوی شبنم کے ساتھ مغربی پاکستان منتقل ہوئے جہاں بڑی کامیابی ملی۔ آئینہ (1977) ، سب سے بڑی فلم تھی۔
    پنجابی فلموں کے صاحب طرز موسیقار ماسٹر عبداللہ نے بھی اسی سال فلم سورج مکھی (1962) سے فلمی کیرئر کا آغاز کیا۔ فلم ملنگی (1965) ان کی سب سے بڑی نغماتی فلم تھی۔

    احمدرشدی کو بریک تھرو ملا

    گلوکار احمدرشدی کو فلم مہتاب (1962) کے مشہور زمانہ گیت:
  • گول گپے والا آیا ، گول گپے لایا ، گلی گلی گاتا پھرے ، ہنستا ہنساتا پھرے۔۔
  • سے بریک تھرو ملا۔ موسیقار منظور اشرف کی دھن میں یہ گیت ، پنجابی فلموں کے عظیم شاعر حزیں قادری کا لکھا ہوا اکلوتا سپرہٹ اردو گیت تھا۔

    مہدی حسن کا پہلا ہٹ گیت

    شہنشاہ غزل مہدی حسن کو طویل جدوجہد کے بعد فلم سسرال (1962) میں پہلا ہٹ گیت گانے کا موقع ملا:
  • جس نے میرے دل کو درد دیا ، اس شکل کو میں نے بھلایا نہیں۔۔
  • منیر نیازی کے لکھے ہوئے بول اور موسیقی حسن لطیف کی تھی۔

    1962ء کی نغماتی فلمیں

    شہید ، عذرا ، قیدی ، موسیقار ، اولاد ، مہتاب ، بنجارن ، سسرال ، گھونگھٹ ، محبوب ، آنچل

    1962ء کے فنکار

    ایم کلیم فلم چراغ جلتا رہا (1962) ، استاد امانت علی خان فلم دروازہ (1962) ، مسعودرانا ، نسیمہ شاہین فلم انقلاب (1962) ، سلیم کاشر فلم پہاڑن (1962) ، روبن گھوش ، سروربارہ بنکوی فلم چندا (1962) ، ماسٹر عبداللہ فلم سورج مکھی (1962) ، مسرور انور فلم بنجارن (1962) ، خلیل احمد فلم آنچل (1962)
1963

بشیر احمد کی آمد

    مشرقی پاکستان کی اردو فلموں کے مقبول ترین گلوکار بشیراحمد نے فلم تلاش (1963) میں پہلا گیت گایا تھا:
  • کچھ اپنی سنیے ، کچھ میری سنیے۔۔
  • اس فلم کا آئن لائن بنگالی ورژن بھی دستیاب ہے جس میں یہی گیت اسی دھن میں بنگالی زبان میں بھی ہے۔ اس طرح سے یہ پاکستان کا پہلا ڈبل ورژن گیت بھی ہے۔

    نمبوآں دا جوڑا

    ڈیڑھ سو فلموں میں تین سو کے قریب گیت گانے والی نامور گلوکارہ نذیربیگم کے فلمی کیرئر کا مقبول ترین گیت فلم تیس مار خان (1963) میں تھا:
  • نمبوآں دا جوڑا اساں باگے وچوں توڑیا۔۔
  • بابا عالم سیاہ پوش کے اس سپرہٹ گیت کی دھن ایم اشرف (یا منظوراشرف) نے بنائی تھی۔

    احمدرشدی کا منفرد ریکارڈ

    1963ء میں ریلیز ہونے والی چھ کی چھ یا سو فیصدی پنجابی فلموں میں احمدرشدی نے نغمہ سرائی کی تھی جو ایک منفرد ریکارڈ ہے۔ اسی سال انھوں نے فلم چوڑیاں (1963) میں تین گیت گائے تھے جو کسی ایک پنجابی فلم میں ان کے زیادہ سے زیادہ گیتوں کا ریکارڈ ہے۔

    1963ء کی نغماتی فلمیں

    باجی ، تلاش ، شرارت ، تیس مار خان ، دامن ، ہمیں بھی جینے دو ، اک تیر سہارا

    1963ء کے فنکار

    نخشب فلم فانوس (1963) ، شوکت علی فلم ماں کے آنسو (1963) ، سہیل رعنا ، نگہت سیما فلم جب سے دیکھا ہے تمہیں (1963) ، شیون رضوی فلم یہودی کی لڑکی (1963) ، بشیراحمد فلم تلاش (1963) ، وزیرافضل فلم چاچا خوامخواہ (1963) ، ظہور ناظم فلم تیرانداز (1963)
1964

پاکستان کی پہلی سپرہٹ فلمی قوالی

    پاکستانی فلموں کی پہلی سپرہٹ قوالی فلم توبہ (1964) میں گائی گئی تھی۔ بول تھے:
  • نہ ملتا گر یہ توبہ کا سہارا ، ہم کہاں جاتے۔۔
  • منیرحسین ، سلیم رضا ، آئرین پروین ، سائیں اختر اور ساتھیوں کی آوازوں میں اے حمید کی دھن اور فیاض ہاشمی کے بول تھے۔

    ناشاد اور نثاربزمی کی آمد

    پاکستانی فلموں کے دو اعلیٰ پائے کے موسیقاروں ، ناشاد اور نثاربزمی نے مسلسل ناکامیوں سے تنگ آکر اپنی جنم بھومی بھارت کو ترک کر کے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا جہاں کامیابیوں اور کامرانیوں نے ان کے قدم چومے۔ ناشاد کی پہلی فلم مہ خانہ (1964) اور نثار بزمی کی پہلی فلم ہیڈ کانسٹیبل (1964) تھی۔ ان دونوں کے کریڈٹ پر بڑی تعداد میں سپرہٹ اردو گیت ہیں۔
    اسی سال فلم چاند اور چاندنی (1968) کی سپرہٹ موسیقی ترتیب دینے والے موسیقار کریم شہاب الدین نے بھی فلم یہ بھی ایک کہانی (1964) سے اپنے فلمی کیرئر کا آغاز کیا تھا۔

    مسعود رانا اور مہدی حسن کو بریک تھرو ملا

    فلم ڈاچی (1964) میں موسیقار جی اے چشتی کی دھن میں حزیں قادری کے لکھے ہوئے سپرہٹ گیت:
  • ٹانگے والا خیر منگدا ، ٹانگہ لاہور دا ہووے تے پاویں جھنگ دا۔۔
  • سے مسعودرانا کو ایسا عروج ملا کہ پاکستان کے واحد گلوکار تھے جنھوں نے 1962ء میں اپنی پہلی فلم سے 1995ء میں اپنے انتقال تک مسلسل نغمہ سرائی کی اور سب سے زیادہ فلموں میں سب سے زیادہ گیت گانے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
    اسی سال فلم فرنگی (1964) میں رشید عطرے کی دھن میں فیض احمد فیض کی لکھی ہوئی ایک مشہور ریڈیو غزل سے شہنشاہ غزل مہدی حسن کو بھی بریک تھرو ملا تھا:
  • گلوں میں رنگ بھرے ، باد نو بہار چلے ، چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے۔۔
  • مہدی حسن کے فلمی کیرئر پر ان کی غزل گائیکی کی بڑی گہری چھاپ رہی۔

    احمدرشدی پر سلیم رضا کا گیت فلمایا گیا۔۔!

    گلوکار احمدرشدی ، ہلکے پھلکے شوخ و شریر گیتوں کے بہترین گلوکار تھے لیکن مشکل گیت نہیں گا سکتے تھے۔ یہی وجہ تھی فلم جھلک (1964) میں انھوں نے اداکاری کی اور ان پر سلیم رضا کا گایا ہوا ایک کلاسیکل گیت "من مندر میں لے انگڑائی ، سر سنگیت کی۔۔" فلمایا گیا تھا۔ موسیقار خلیل احمد تھے۔

    1964ء کی نغماتی فلمیں

    ڈاچی ، توبہ ، خاموش رہو ، پیغام ، آشیانہ ، چنگاری ، حویلی ، ہتھ جوڑی ، ہیرا اور پتھر ، فرنگی

    1964ء کے فنکار

    کریم شہاب الدین فلم یہ بھی ایک کہانی (1964) ، ناشاد فلم مہ خانہ (1964) ، نثاربزمی فلم ہیڈ کانسٹبل (1964) ، صہبا اختر فلم چھوٹی بہن (1964) ، عالم لوہار فلم لائی لگ (1964)
1965

نورجہاں کو بریک تھرو ملا

    ملکہ ترنم نورجہاں کو پلے بیک سنگر کے طور پر اردو فلموں میں بڑا ٹف ٹائم ملا۔ پہلے نسیم بیگم تھی تو پھر مالا اور رونا لیلیٰ آگئیں۔ ستر کی دھائی میں ناہید اختر اور مہناز نے میڈم نورجہاں کو پنجابی فلموں تک محدود کردیا تھا۔ میڈم کی پہلی پنجابی فلم رانی خان (1960) تھی لیکن پنجابی فلموں میں بریک تھرو فلم پھنے خان (1965) میں حزیں قادری کے لکھے ہوئے اور سلیم اقبال کے کمپوز کیے ہوئے اس سپرہٹ گیت سے ملا تھا:
  • ٹٹ گئی اج انجوآں دی مالا ، گھر آیا نئیں کرماں والا ، خیر ہووے شالا ، جیو ڈھولا۔۔
  • 1968ء کے بعد اگلی تین دھائیوں تک میڈم نورجہاں سالانہ سو سے زائد گیت گاتی رہیں اور پنجابی فلمی گائیکی میں ان کا دور دور تک کوئی مد مقابل نہیں ہوتا تھا۔

    مالا کی سب سے بڑی نغماتی فلم

    اسی سال گلوکارہ مالا کے فلمی کیرئر کی سب سے بڑی نغماتی فلم نائیلہ (1965) بھی ریلیز ہوئی جس کے سبھی گیت بڑے مقبول ہوئے تھے۔ ماسٹر عنایت حسین کی موسیقی میں قتیل شفائی اور حمایت علی شاعر کے گیت تھے۔ 1966ء سے 1969ء تک مالا نے سالانہ سو سے زائد کی تعداد میں گیت گائے تھے۔

    جاگ اٹھا ہے سارا وطن

    فلم مجاہد (1965) ، پاک بھارت جنگ کے دوران ریلیز ہوئی۔ اس میں شامل کیا گیا حمایت علی شاعر کا لکھا ہوا ترانہ اس دور کا مقبول ترین جنگی ترانہ ثابت ہوا تھا:
  • ساتھیو ، مجاہدو ، جاگ اٹھا ہے سارا وطن۔۔
  • اس لازوال ترانے کو مسعودرانا ، شوکت علی اور ساتھیوں نے خلیل احمد کی دھن میں گایا تھا۔

    خواجہ پرویز کی آمد

    پاکستان میں سب سے زیادہ اردو اور پنجابی فلموں کے گیت لکھنے والے فلمی شاعر خواجہ پرویز نے بطور اداکار فلم کلرک (1960) سے فلمی سفر کا آغاز کیا تھا۔ بطور گیت نگار ان کی پہلی فلم رواج (1965) تھی۔ ان کا لکھا ہوا پہلا گیت مالا نے ماسٹر عنایت حسین کی دھن میں گایا تھا:
  • دور دور رہ کے گزارا نہیں ہوگا ، تمہارا نہیں ہوگا ، ہمارا نہیں ہوگا۔۔
  • ندیم کی آمد

    کراچی سے تعلق رکھنے والے مرزا نذیر بیگ مغل عرف ندیم کو گلوکاری کا شوق تھا۔ ڈھاکہ میں اپنی ملازمت کے دوران ایک فلم کیسے کہوں (1965) میں اپنا پہلا فلمی گیت گانے کا موقع ملا:
  • کیسے کہوں میں جاناں او جاناں۔۔
  • یہ ایک دوگانا تھا جو فردوسی بیگم کے ساتھ گایا گیا۔ الطاف محمود موسیقار اور سروربارہ بنکوی شاعر تھے۔

    1965ء کی نغماتی فلمیں

    ایسا بھی ہوتا ہے ، عید مبارک ، نائیلہ ، ملنگی ، جی دار ، کنیز ، زمین
1966

رونا لیلیٰ اور مجیب عالم کی آمد

    1966ء میں ایک ٹین ایج گلوکارہ رونا لیلیٰ کی آمد ہوئی۔ موسیقار ناشاد کی دھن میں کلیم عثمانی کا لکھا ہوا یہ گیت سپرہٹ ہوا تھا:
  • ان کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا ، دل یہ سمجھا کہ چھلکتا ہوا اک جام ملا۔۔
  • اسی سال فلم مجبور (1966) میں ایک اور خوبصورت آواز کا اضافہ ہوا۔ گلوکار مجیب عالم کو موسیقار تصدق حسین نے ایک لوری میں موقع دیا تھا:
  • آجا پیاری نندیا ، آجا چوری چوری۔۔
  • قتیل شفائی کے لکھے ہوئے اس گیت میں دوسری آواز آئرن پروین کی تھی۔

    "پاکستانی رفیع"

    ایک بھارتی فلم دوستی (1964) کی نقل میں پاکستانی فلم ہمراہی (1966) بنائی گئی۔ محمدرفیع کے مشہور زمانہ گیتوں کے مقابلے میں مسعودرانا کا انتخاب ہوا جن کی بے مثل اور آل راؤنڈ کارکردگی سے ناقدین انھیں "پاکستانی رفیع" کہنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
    پاکستان کی فلمی تاریخ میں کبھی کسی گلوکار نے کسی ایک فلم میں اتنے متنوع اور سپرہٹ گیت نہیں گائے جو مسعودرانا نے فلم ہمراہی (1966) میں گائے تھے۔ سپرہٹ نعت ، ترانہ ، غزل ، المیہ اور طربیہ گیتوں کی دھنیں بنانے کا اعزاز موسیقار تصدق حسین اور گیت لکھنے کا اعزاز مظفر وارثی کو حاصل ہوا تھا۔
    اسی سال مسعودرانا نے ایک کیلنڈر ائیر میں ستر سے زائد گیت گا کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ اپنے فلمی کیرئر کے بیشتر سپرہٹ اردو گیت بھی انھوں نے اسی سال گائے جن میں "تمھی ہو محبوب میرے ، میں کیوں نہ تمھیں پیار کروں۔۔" کے علاوہ سال کا سپرہٹ پنجابی گیت "سجناں نے بوہے اگے چک تن لئی۔۔" بھی شامل تھا۔

    کوکو کورینا۔۔

    فلم ارمان (1966) میں موسیقار سہیل رعنا نے ایک پاپ دھن تخلیق کی جو شوخ گیتوں کے ماہر گلوکار احمدرشدی سے گوائی تھی:
  • میرے خیالوں پہ چھائی ہے اک صورت متوالی سی ، کوکو کورینا۔
  • اس سپرہٹ گیت اور وحیدمراد کے سٹائل نے نوجوان فلم بینوں کو دیوانہ بنا دیا تھا۔ بول مسرور انور کے تھے۔

    بڑے بے مروت ہیں یہ حسن والے

    پاکستان کی ایک کلاسک فلم بدنام (1966) میں ریڈیو گلوکارہ ثریا ملتانیکر نے ایک سپرہٹ غزل گائی تھی:
  • بڑے بے مروت ہیں یہ حسن والے ، کہیں دل لگانے کی کوشش نہ کرنا۔۔
  • روایت ہے کہ موسیقار دیبو کی دھن میں مسرور انور کی اس غزل کی رائلٹی سے فلم کے جملہ اخراجات پورے ہو گئے تھے۔

    سلیم رضا کے آخری سپرہٹ گیت

    احمدرشدی اور مسعودرانا کی مقبولیت نے سلیم رضا اور منیرحسین کو زوال پذیر کر دیا تھا۔ اس سال کی فلم پائل کی جھنکار (1966) میں اردو فلموں کے پہلے چوٹی کے گلوکار سلیم رضا نے اپنے آخری دو سپرہٹ گیت گائے تھے:
  • حسن کو چاند ، جوانی کو کنول کہتے ہیں ، ان کی صورت جو نظر آئے تو غزل کہتے ہیں۔۔
  • ہم نے تو تمہیں دل دے ہی دیا ، اب تم یہ بتاؤ کیا دو گے۔۔ (مع نسیم بیگم)
  • سلیم رضا کی آخری فلم یار دیس پنجاب دے (1971) تھی۔

    نذیرعلی کی آمد

    فلم پیداگیر (1966) میں موسیقار نذیرعلی نے پہلی بار ایک خودمختار موسیقار کے طور پر موسیقی ترتیب دی تھی۔ اس سے قبل وہ ایم اشرف کے معاون تھے۔ ڈیڑھ سو سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دی اور بڑے بڑے سپرہٹ گیت تخلیق کیے تھے۔

    1966ء کی نغماتی فلمیں

    جوکر ، آگ کا دریا ، ارمان ، سرحد ، ہمراہی ، سوال ، جاگ اٹھا انسان ، عادل ، جلوہ ، بھریا میلہ ، تقدیر ، لاڈو ، بدنام ، میرے محبوب ، بھیا ، مادر وطن ، ماں بہو اور بیٹا ، پائل کی جھنکار ، آئینہ

    1966ء کے فنکار

    مجیب عالم فلم مجبور (1966) ، اختر یوسف فلم اجالا (1966) ، اعظم چشتی فلم گونگا (1966) ، رونالیلیٰ فلم ہم دونوں (1966) ، نذیرعلی فلم پیداگیر (1966) ، عاشق جٹ فلم ہڈحرام (1966) ، موسیقار علی حسین فلم ڈاک بابو (1966) ، ثریا حیدرآبادی فلم لوری (1966)
1967

بشیراحمد کا منفرد ریکارڈ

    مشرقی پاکستان کی اردو فلموں کے مقبول ترین گلوکار بشیراحمد نے فلم درشن (1967) میں ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا جب ایک ہی فلم میں آٹھ گیت گائے ، انھیں لکھا بھی خود ہی اور ان کی موسیقی بھی ترتیب دی تھی۔ اس فلم کے بیشتر گیت پسند کیے گئے اور سب سے مقبول گیت تھا:
  • یہ موسم یہ مست نظارے ، پیار کرو تو ان سے کرو۔۔
  • موسیقار کمال احمد کی آمد

    اردو/پنجابی فلموں کے مقبول ترین موسیقار کمال احمد کی پہلی فلم نادرہ (1967) ریلیز ہوئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم میں ان کے استاد رحمان ورما نے بھی گیت کمپوز کیے تھے۔

    1967ء کی نغماتی فلمیں

    جگری یار ، انسانیت ، چکوری ، دل دا جانی ، لاکھوں میں ایک ، دیوربھابھی ، دوراہا ، درشن ، آگ ، مرزا جٹ

    1967ء کے فنکار

    کمال احمد فلم نادرہ (1967) ، شہناز بیگم فلم نواب سراج الدولہ (1967) ، دینا لیلیٰ اور محمدافراہیم فلم استادوں کا استاد (1967) ، ریاض الرحمان ساغر فلم عالیہ (1967)
1968

مہدی حسن ، سلورسکرین پر

    شہنشاہ غزل مہدی حسن اپنے فلمی کیرئر میں صرف ایک بار سلورسکرین پر نمودار ہوئے تھے۔ فلم شریک حیات (1968) میں ان پر انھی کی گائی ہوئی ایک غزل فلمائی گئی تھی جس کی دھن اے حمید نے بنائی اور بول بہادر شاہ ظفر کے تھے:
  • بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی۔۔
  • عوامی گلوکار ، عنایت حسین بھٹی

    فلم چن مکھناں (1968) میں جی اے چشتی کی دھن میں حزیں قادری کا لکھا ہوا ایک سپرہٹ گیت تھا:
  • چن میرے مکھناں تے ہس کے اک پلے ایدھر تکناں۔۔
  • اس گیت کو گانے پر پاکستان کے پہلے ممتاز گلوکار عنایت حسین بھٹی کو ایک بار پھر پنجابی فلموں میں مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔ گو بھٹی صاحب کے گیت صرف ان پر اور ان کے بھائی کیفی پر فلمائے جاتے تھے لیکن جو گاتے وہ مقبول ہوتا۔ فلموں کے علاوہ میلے ٹھیلوں میں گانے کی وجہ سے انھیں "عوامی گلوکار" کا خطاب ملا تھا۔

    1968ء کی نغماتی فلمیں

    سنگدل ، چن مکھناں ، محل ، سمندر ، چاند اور چاندنی ، دل میرا دھڑکن تیری ، بدلہ ، سسی پنوں ، کمانڈر ، باؤ جی ، جماں جنج نال ، سجن پیارا

    1968ء کے فنکار

    طفیل نیازی فلم دھوپ اور سائے (1968) ، حامدعلی بیلا فلم 14 سال (1968) ، تسلیم فاضلی فلم عاشق (1968)
1969

پاکستان کی پہلی سپرہٹ دھمال

    یوں تو پاکستانی فلموں میں بہت سی دھمالیں گائیں گئیں لیکن جو شہرت فلم دلاں دے سودے (1969) میں ملکہ ترنم نورجہاں کی آواز میں اس دھمال کو ملی ، وہ کسی اور کو نہ مل سکی:
  • لال میری پت رکھیو بلا جھولے لالن ، سندھڑی دا ، سہیون دا ، سخی شہباز قلندرؒ۔۔
  • مشیرکاظمی کی لکھی ہوئی اس دھمال کی دھن ، دھمالوں کے بادشاہ نذیرعلی نے بنائی تھی۔

    گا میرے منوا گاتا جا رے

    مزاحیہ اداکار رنگیلا نے فلمی حلقوں کو حیران کر دیا جب بطور اداکار ، فلمساز ، ہدایتکار ، مصنف ، گیت نگار اور گلوکار کے فلم دیا اور طوفان (1969) میں ایک سدا بہار گیت گایا تھا:
  • گا میرے منوا گاتا جارے ، جانا ہے ہم کا دور۔۔
  • یہ گیت رنگیلا کا اپنا ہی لکھا ہوا تھا اور دھن کمال احمد نے بنائی تھی۔

    وجاہت عطرے کی آمد

    پاکستانی فلموں میں ایم اشرف کے بعد سب سے زیادہ فلموں میں موسیقی ترتیب دینے والے موسیقار وجاہت عطرے نے فلم نکے ہندیاں دا پیار (1969) کے ایک سپرہٹ گیت سے فلمی کیرئر کا آغاز کیا تھا:
  • آندا تیرے لئی ریشمی رومال تے اتے تیرا نال کڈھیا وے میں بڑیاں ای چاہواں نال۔۔
  • میڈم نورجہاں کا گایا ہوا یہ سدابہار گیت احمدراہی نے لکھا تھا۔

    جب نذیرعلی نے بابا چشتی کا سحر توڑا

    پنجابی فلموں کے عظیم شاعر حزیں قادری نے فلم جنٹرمین (1969) کا ایک سپرہٹ گیت لکھا:
  • ساتھوں کاہنوں پھیریاں نی اکھیاں وے بابوآ ، اللہ کرے دونیاں ترقیاں وے بابوآ۔۔
  • ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس گیت کی دھن بابا چشتی کے سوا کوئی دوسرا موسیقار نہیں بنا سکتا۔ نذیرعلی نے اس چیلنج کو قبول کیا اور ایسی لازوال دھن بنائی کہ حزیں قادری کو شرمندہ ہونا پڑا اور تلافی کے طور پر بطور فلمساز اکلوتی فلم سجناں دور دیا (1970) اور بطور ہدایتکار اکلوتی فلم بڈھا شیر (1974) بنائیں تو موسیقار کے طور پر نذیرعلی ہی کو منتخب کیا تھا۔

    1969ء کی نغماتی فلمیں

    سالگرہ ، نئی لیلیٰ نیا مجنوں ، تمہی ہو محبوب میرے ، آسرا ، درد ، داغ ، وریام ، جیسے جانتے نہیں ، دلاں دے سودے ، ناجو ، نازنین ، عندلیب ، عشق نہ پچھے ذات ، جندجان ، مکھڑا چن ورگا ، تیرے عشق نچایا ، ناز ، زرقا ، جنٹرمین ، آنچ ، سزا

    1969ء کے فنکار

    وجاہت عطرے فلم نکے ہندیاں دا پیار (1969) ، سلطان محمود آشفتہ فلم پیار دا پلا (1969) ، امجد بوبی فلم اک نگینہ (1969) ، غلام حسین شبیر فلم وریام (1969) تصورخانم فلم تہاڈی عزت دا سوال اے (1969)
1970

موسیقار طافو کی دھماکہ خیز آمد

  • سن وے بلوری اکھ والیا ، اساں دل تیرے نال لا لیا ، تیری مہربانی ، میرے ہانی ، میرا بن جا۔۔
  • میڈم نورجہاں کا گایا ہوا یہ پنجابی گیت کشمیر سے کراچی تک سٹریٹ سانگ بنا۔ خواجہ پرویز کے لکھے ہوئے اس گیت کی دھن ایک نئے موسیقار طافو نے مرتب کی تھی۔

    رجب علی کی آمد

    پاکستانی فلموں کے ایک اور نامور گلوکار رجب علی نے ایم اشرف کی دھن میں فلم سردارا (1970) میں میڈم نورجہاں کے ساتھ اس گیت کے ساتھ فلمی کیریر کا آغاز کیا تھا:
  • بوہے خوشیاں نے ڈھو لے نیں ، ویری پیار دیاں ، میرے ہاسے کھو لے نیں۔۔
  • مجیب عالم بمقابلہ مہدی حسن

    موسیقار نثار بزمی نے فلم شمع اور پروانہ کا مشہور گیت "میں تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا۔۔" پہلے مہدی حسن کی آواز میں ریکارڈ کروایا تھا لیکن ان کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہوئے۔ یہی گیت انھوں نے مجیب عالم سے گوایا تو اتنے خوش ہوئے کہ انعام کے طور پر ان سے اسی فلم کے چھ گیت گوائے جو مجیب عالم کے فلمی کیرئر کا واحد موقع تھا۔

    خواجہ خورشید انور کی عظمت

    پاکستان کے عظیم موسیقار خواجہ خورشید انور نے جب فلم ہیررانجھا (1970) کا مشہور دوگانا "وے ونجلی والڑیا۔۔" تخلیق کیا تو بابا چشتی سے باقاعدہ اجازت لی تھی جن کی فلم پھیرے (1949) کے گیت "اؤے اکھیاں لاویں نہ۔۔" سے یہ دھن متاثر تھی۔

    1970ء کی نغماتی فلمیں

    شمع اور پروانہ ، انورا ، ہنی مون ، سجناں دور دیا ، ماں پتر ، نصیب اپنا اپنا ، بازی ، دل دیاں لگیاں ، انسان اور آدمی ، ہیررانجھا ، انجمن ، رنگیلا ، ات خدا دا ویر ، سوغات ، چاند سورج

    1970ء کے فنکار

    مشتاق علی فلم محلے دار (1970) ، طافو فلم انورا (1970) ، حبیب ولی محمد فلم بازی (1970) ، ریشماں فلم نوری جام تماچی (1970) ، رجب علی فلم سردارا (1970)
1971

پہلا ڈبل ورژن پنجابی/اردو گیت

    پاکستان میں 1990 کی دھائی میں بہت سی ڈبل ورژن پنجابی/اردو فلمیں بنائی گئیں جن میں گیت بھی دونوں زبانوں میں الگ الگ گوائے جاتے تھے۔ پاکستانی فلموں کا پہلا ڈبل ورژن گیت تو فلم تلاش (1963) میں تھا جو بنگالی/اردو فلم تھی لیکن پہلا پنجابی/اردو گیت فلم بندہ بشر (1971) میں گایا گیا جس کے بول خواجہ پرویز نے لکھے ، دھن موسیقار وجاہت عطرے کی تھی اور گانے والے ملکہ ترنم نورجہاں اور مسعودرانا تھے ، بول تھے:
  • دوویں رل کے قسماں کھایئے ، دلاں نوں گواہ رکھیے/دونوں مل کر قسمیں کھائیں ، دلوں کو گواہ رکھیں۔۔
  • 1971ء کی نغماتی فلمیں

    نیند ہماری خواب تمہارے ، سچا سودا ، دوستی ، دنیا پیسے دی ، افشاں ، یادیں ، انصاف اور قانون ، آسو بلا ، سلام محبت ، یار بادشاہ ، چراغ کہاں روشنی کہاں ، مستانہ ماہی ، دل اور دنیا ، عشق دیوانہ ، تہذیب ، یہ امن

    1971ء کے فنکار

    گلنار بیگم فلم درہ خیبر (1971)
1972

اخلاق احمد کی آمد

    اردو فلموں کے ممتاز گلوکار اخلاق احمد کی پہلی فلم پازیب (1972) ریلیز ہوئی تھی۔ پہلا گیت لال محمد اقبال کی دھن میں فیاض ہاشمی نے لکھا تھا:
  • او ماما میرے ، او چاچا میرے۔۔
  • اخلاق احمد کو شہرت فلم چاہت (1974) کے گیت "ساون آئے ، ساون جائے۔۔" سے ملی تھی۔

    کیوں دور دور رہندے او

    نامور لوک گلوکار شوکت علی کی پہلی فلم ماں کے آنسو (1963) تھی لیکن انھیں پلے بیک سنگر کے طور پر کامیابی نہیں ملی تھی۔ ان کے فلمی کیرئر کا سب سے مقبول گیت فلم اک ڈولی دو کہار (1972) میں تھا جو طالب چشتی کا لکھا ہوا تھا اور دھن غلام حسین شبیر کی تھی:
  • کیوں دور دور رہندے او حضور میرے کولوں ، مینوں دس دیو ہویا کی قصور میرے کولوں۔۔
  • پہلی واری اج انھاں اکھیاں نے تکیا

    غزل کے نامور گلوکار استاد غلام علی کی پہلی فلم ، ہیررانجھا (1970) تھی۔ اپنی مخصوص آواز اور انداز کی وجہ سے پلے بیک سنگر کے طور پر کامیابی نہ ملی حالانکہ جو گایا ، وہ مقبول ہوا۔ پہلا مقبول ترین گیت فلم ٹھاہ (1972) میں تھا۔ صفدرحسین کی دھن میں وارث لدھیانوی کے بول تھے:
  • پہلی واری اج انھاں اکھیاں نے تکیا ، ایخو جیا تکیا کہ ہائے مار سٹیا۔۔
  • رونا لیلیٰ کے پنجابی گیت

    بنگال کی ساحرہ رونا لیلیٰ نے سو سے زائد پنجابی فلمی گیت گائے تھے جن میں بہت سے مقبول عام ہوئے۔ فلم ذیلدار (1972) کے اس گیت کے بارے میں خواجہ پرویز کا دعویٰ تھا کہ اس کے ایک لاکھ گراموفون ریکارڈز بکے تھے:
  • دو دل اک دوجے کولوں دور ہو گئے ، ویری دنیا دے ہتھوں مجبور ہو گئے۔۔
  • بابا چشتی کی دھن میں اس گیت کو فردوس پر فلمایا گیا تھا جس کے لیے میڈم نورجہاں نے پلے بیک دینے سے انکار کر دیا تھا۔

    نورجہاں ، نثار بزمی تنازعہ

    موسیقار نثار بزمی اپنی تمام تر کوشش کے باوجود فلم امراؤ جان ادا (1972) کا آخری گیت "جو بچا تھا وہ لٹانے کے لیے آئے ہیں۔۔" اپنی پسندیدہ گلوکار رونا لیلیٰ سے نہ گوا سکے اور بڑی بددلی سے میڈم نورجہاں سے گوانا پڑا۔ ریکارڈنگ کے بعد انھوں نے میڈم کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا جس پر بعد میں معذرت بھی کر لی تھی لیکن نورجہاں ، مہدی حسن جیسی بے ضرر ہستی تو نہیں تھیں ، طیش میں آگئیں اور ان کے حکم پر لاہور کی سنگرز ایسوسی ایشن نے بزمی صاحب کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔

    1972ء کی نغماتی فلمیں

    افسانہ زندگی کا ، میرے ہمسفر ، اک ڈولی دو کہار ، خان چاچا ، ذیلدار ، الزام ، ناگ منی ، بشیرا ، محبت ، سجن بے پرواہ ، بہارو پھول برساؤ ، پنوں دی سسی ، انگارے ، ایک رات ، دو رنگیلے ، سلطان ، من کی جیت ، ٹھاہ ، احساس ، امراؤ جان ادا

    1972ء کے فنکار

    اخلاق احمد فلم پازیب (1972)
1973

نیرہ نور کی آمد

    گلوکارہ نیرہ نور کو پہلی بار ماسٹرعبداللہ کی پہلی فلم ضدی (1973) میں دو گیت گانے کا موقع ملا تھا۔ بریک تھرو فلم گھرانہ (1973) کے اس سپرہٹ گیت سے ملا تھا:
  • تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا ، پلکیں بچھا دوں ، ساری عمر بتا دوں۔۔
  • تک چن پیا جاندا ای

    پنجابی فلموں میں "بابائے موسیقی" کہلانے والے جی اے چشتی نے اپنا آخری سپرہٹ گیت فلم چن تارا (1973) میں کمپوز کیا تھا:
  • تک چن پیا جاندا ای ، ویکھ ویکھ میرے چن نوں پیا مکھڑا چھپاندا ای۔۔
  • یہ ایک دوگانا تھا جس میں ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ ریڈیو گلوکار پرویز مہدی کو موقع دیا گیا تھا جن کے فلمی کیریر کا یہ مقبول ترین گیت تھا۔

    1973ء کی نغماتی فلم

    ضدی ، گھرانہ ، بادل اور بجلی ، خواب اور زندگی ، عظمت ، نیا راستہ ، آس ، انمول ، بنارسی ٹھگ ، دامن اور چنگاری ، خوشیا ، رنگیلا اور منورظریف ، جیرا بلیڈ ، غلام

    1973ء کے فنکار

    نیرہ نور فلم ضدی (1973) ، پرویز مہدی فلم چن تارا (1973)
1974

رونا لیلیٰ نے پاکستان چھوڑا

    8 جنوری 1974ء کو ممتاز گلوکارہ رونا لیلیٰ ، پاکستان چھوڑ کر اپنے آبائی وطن بنگلہ دیش چلی گئی تھی لیکن اس کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑا کیونکہ اسی سال ناہید اختر اور مہ ناز جیسی مایہ ناز گلوکارائیں متبادل کے طور پر سامنے آ گئی تھیں۔

    ناہید اختر کی آمد

    موسیقار ایم اشرف نے فلم ننھا فرشتہ (1974) میں پہلی بار ناہید اختر کو متعارف کروایا جو دیکھتے ہی دیکھتے فلمی گائیکی پر چھا گئی تھی۔ اس فلم میں اس کے گائے ہوئے دو گیتوں میں سے یہ کورس گیت بڑا مقبول ہوا تھا:
  • دل دیوانہ دل ، نجانے کیوں دھڑکتا رہتا ہے۔۔
  • مہ ناز کی آمد

    1980 کی دھائی میں اردو فلموں کی مقبول ترین گلوکارہ مہناز کو موسیقار اے حمید نے فلم حقیقت (1974) میں متعارف کروایا تھا۔ پہلا ایک دوگانا تھا جس میں دوسری آواز احمدرشدی کی تھی:
  • میں نے تجھے بلایا تھا۔۔
  • افشاں کی آمد

    موسیقار وجاہت عطرے نے فلم نوکر ووہٹی دا (1974) میں مشہور گلوکارہ افشاں سے پہلی بار گوایا تھا۔ یہ گیت بڑا مقبول ہوا تھا:
  • زندگی تماشا بنی ، دنیا دا ہاسا بنی ، کدے وی نہ پیار ملیا۔۔
  • اے نیر کی آمد

    موسیقار اے حمید ہی نے فلم بہشت (1974) گلوکار اے نیر کو متعارف کروایا تھا۔ یہ بھی ایک دو گانا تھا اور ساتھ روبینہ بدر کی آواز تھی:
  • یونہی دن کٹ جائیں ، یونہی رات ڈھل جائے ، یونہی دیکھتا رہوں میں ، تمہیں سامنے بٹھائے۔۔
  • 1974ء کی نغماتی فلمیں

    دو بدن ، عشق میرا ناں ، سماج ، شہنشاہ ، دل لگی ، تم سلامت رہ ، یار مستانے ، چاہت ، منجی کتھے ڈاہواں ، سدھا رستہ ، نوکر ووہٹی دا ، شرافت ، بہشت ، دیدار ، شمع

    1974ء کے فنکار

    افشاں فلم نوکرووہٹی دا (1974) ، ناہید اختر فلم ننھا فرشتہ (1974) ، مہ ناز فلم حقیقت (1974) ، اے نیر فلم بہشت (1974)
1975

غلام عباس کی آمد

    1970 کی دھائی کی ایک اور بڑی دریافت گلوکار غلام عباس تھے جن کی پہلی فلم بے اولاد (1975) تھی لیکن اس سال کی فلم دو ساتھی (1975) کے اس گیت سے بریک تھرو ملا تھا:
  • کیسے وہ شرمائیں ، جیسے میگھا چھائے۔۔
  • روبن گھوش کی دھن میں تسلیم فاضلی کے بول تھے۔

    عالمگیر کی آمد

    پاکستان کے پہلے پاپ سنگر عالمگیر ، ٹی وی کی حد تک بڑے مقبول تھے۔ انھیں پہلی فلم جاگیر (1975) میں گانے کا موقع اتفاقاً ملا۔ یہ گیت احمدرشدی نے گانا تھا لیکن سنگر ایسوسی ایشن کے بائیکاٹ کی وجہ سے موسیقار نثار بزمی نے مسرور انور کا لکھا ہوا یہ گیت کراچی میں عالمگیر سے ریکارڈ کروا لیا جو بڑا مقبول ہوا تھا:
  • ہم چلے تو ہمارے سنگ سنگ نظارے چلے۔۔
  • اردو فلم بینوں کے پسندیدہ گلوکار

    فلم دلربا (1975) میں احمدرشدی اور ساتھیوں کا گایا ہوا ایک مزاحیہ گیت تھا "ہے کوئی سنگر اعظم ، ہمارے سامنے آئے۔۔" تسلیم فاضلی کے لکھے ہوئے اور ایم اشرف کی دھن میں اس گیت میں رونا لیلیٰ ، احمدرشدی ، مالا اور مہدی حسن کا ذکر ملتا ہے جو اس دور میں اردو بولنے والوں کے پسندیدہ ترین گلوکار تھے۔

    1975 کی نغماتی فلمیں

    ہار گیا انسان ، پیار کا موسم ، آرزو ، خانزادہ ، تیرے میرے سپنے ، زینت ، محبت زندگی ہے ، دو ساتھی ، شریف بدمعاش ، اناڑی ، پہچان ، میرا نام ہے محبت ، پالکی ، ہتھکڑی ، جب جب پھول کھلے ، امنگ ، دلہن ایک رات کی ، نوکر ، سجن کملا

    1975 کے فنکار

    غلام عباس فلم بے اولاد (1975) ، عالمگیر فلم جاگیر (1975)
1976

احمدرشدی کا انگلش گیت

    فلم دیکھا جائے گا (1976) میں گلوکار احمدرشدی نے تسلیم فاضلی کا لکھا ہوا ایک انگلش گیت گایا تھا جو "دم مست قلندر" کی دھن پر تھا۔ ایم اشرف نے دھن بنائی تھی۔

    پیار کی یاد نگاہوں میں

    فلم تلاش میں موسیقار نثاربزمی نے مسرورانور کا لکھا ہوا ایک مشہور گیت کمپوز کیا تھا:
  • پیار کی یاد نگاہوں میں سجائے رکھنا ، ان چراغوں کو ہواؤں میں بھی جلائے رکھنا۔۔
  • یہ گیت ناہید اختر کے علاوہ گلوکار سلیم شہزاد سے بھی گوایا تھا جو ان کے فلمی کیریر کا مقبول ترین گیت تھا۔
    فلم سویرا (1959) ، گلوکار سلیم شہزاد کی بطور گلوکار پہلی فلم تھی لیکن بریک تھرو انھیں فلم ہیرا اور پتھر (1964) سے ملا تھا جبکہ فلم اپنا پرایا (1959) میں بطور اداکار سلیم شہزاد پر احمدرشدی کا گایا ہوا ایک گیت بھی فلمایا گیا تھا۔

    1976ء کی نغماتی فلمیں

    زبیدہ ، تلاش ، حکم دا غلام ، الٹی میٹم ، راستے کا پتھر ، عورت ایک پہیلی ، سوسائٹی گرل ، وقت ، طلاق ، سوہنی مہینوال ، واردات ، خریدار ، وارنٹ ، محبت اور مہنگائی ، ان داتا ، گاما بی اے ، شبانہ ، حشرنشر
1977

ایک فلم کے نو موسیقار

    فلم انسان (1977) میں ایک منفرد ریکارڈ قائم ہوا جب اس فلم کے لیے نو موسیقاروں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ سات موسیقاروں یعنی خواجہ خورشید انور ، ماسٹر عنایت حسین ، صفدر حسین ، اے حمید ، ناشاد ، نذیر علی اور کمال احمد نے ایک ایک گیت کمپوز کیا اور گانے والی گلوکارہ مہ ناز تھی۔ دو موسیقاروں میں سے وزیرافضل نے پس پردہ موسیقی دی جبکہ وجاہت عطرے نے ایک ڈانس کی دھن بنائی تھی۔

    مہدی حسن کا مختلف انداز

    موسیقار ایم اشرف نے فلم سسرال (1977) میں شہنشاہ غزل مہدی حسن سے ان کے سٹائل سے ہٹ کر شوخ اور مزاحیہ گیت گوائے جو فلم بینوں کے لیے ایک خوشگوار حیرت تھی لیکن خود خانصاحب ایسے گیتوں سے مطمئن نہیں تھے جو غزل کے مخصوص گلوکار تھے اور اپنے فلمی کیرئر کے عروج پر تھے۔

    1977 کی نغماتی فلمیں

    پرستش ، دو چور ، محبت ایک کہانی ، اف یہ بیویاں ، آئینہ ، دادا ، بیگم جان ، جاسوس ، عاشی ، عشق عشق ، شمع محبت ، بھروسہ ، جبرو ، میرے حضور ، سسرال ، محبت مر نہیں سکتی ، سلاخیں

    1977 کے فنکار

    اسد امانت علی خان فلم شمع محبت (1977)
1980

1980 کی دھائی

    1980 کی دھائی میں اردو فلمیں زوال پذیر تھیں جبکہ ایکشن پنجابی فلموں کو انتہائی عروج حاصل ہوا۔ ان پرتشدد فلموں میں ہیرو کا کام مخالفین کو گاجر مولیوں کی طرح کاٹنا ہوتا تھا ، اس لیے ان پر گیت فلمانے کی گنجائش نہیں ہوتی تھی لیکن یہ کمی ہیروئن سے پوری کی جاتی تھی جس کا واحد کام میڈم نورجہاں کے فی فلم آدھ درجن گیت گانا ہوتا تھا۔
    پاکستان کی فلمی تاریخ کی ابتدائی تین دھائیوں کے بعد میری ذاتی دلچسپی اور تحقیق و جستجو بڑی محدود رہی لیکن پاکستان فلم میگزین پر مکمل تاریخ اور اعدادوشمار کو مسلسل اپ ڈیٹ کیا جاتا رہا ہے اور کیا جاتا رہے گا۔ یہاں چند اہم ترین واقعات پر بات کی جارہی ہے۔

    ایک گیت ، چھ گلوکار

    موسیقار ایم اشرف نے فلم کھوٹے سکے (1981) کے لیے ایک ملی نغمہ ریکارڈ کروایا تھا:
  • تم کون ہو ، پہچان بتاؤ ، کس دیس کے باسی ہو ، میری جان بتاؤ۔۔
  • اس کورس گیت کی ریکارڈنگ کے لیے چھ نامور گلوکاروں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ ناہید اختر کے سوال پر شوکت علی خود کو پنجابی ، رجب علی سندھی ، اے نیر بلوچی اور غلام عباس پختون بتاتے ہیں لیکن اخلاق احمد صوبائیت کی نفی کرتے ہوئے اسے انگریزوں کی سازش قرار دیتے ہیں اور نظریہ پاکستان پر زور دیتے ہیں۔ تسلیم فاضلی کا لکھا ہوا یہ گیت تھا جو جنرل ضیاع مردود کے مسلسل آٹھ سالہ سخت ترین مارشل لاء دور میں گایا گیا تھا۔

    مسعودرانا ، دو نسلوں کے گلوکار

    اس دور کی ایک فلم شکرا (1985) میں ایک نیا ریکارڈ قائم ہوا جب فلم کے ہیرو شہباز اکمل پر مسعودرانا کا یہ گیت فلمایا گیا تھا:
  • ڈگ ڈگی وجائی جا ، دل پرجھائی جا۔۔
  • اسی دھن پر بیس سال پہلے مسعودرانا نے شہباز کے والد اکمل کے لیے بھی فلم ڈولی (1965) میں نغمہ سرائی کی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں گیتوں کی دھنیں بھی ایم اشرف نے بنائی تھیں۔ اس طرح سے مسعودرانا ، پاکستان کے واحد گلوکار رہے ہیں جنھوں نے اصل باپ بیٹوں کے لیے گیت گائے تھے۔ یہ کارنامہ انھوں نے ایک دو بار نہیں ، پانچ بار سرانجام دیا تھا۔

    1980 کی دھائی کے اہم فنکار

    بھارتی فلموں سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ اور گلوکارہ سلمیٰ آغا نے پاکستانی فلم ہم اور تم (1985) سے فلمی کیریر کا آغاز کیا۔ ماضی کی معروف اداکارہ مسرت نذیر نے بھی بطور گلوکارہ چند فلموں میں نغمہ سرائی کی جبکہ پاپ سنگر نازیہ حسن کو بھی ایک آدھ فلموں میں گانے کا موقع ملا۔ انور رفیع فلم تیرے گھر کے سامنے (1984) اور حمیراچنا (غالباً) فلم مکھڑا (1987) میں متعارف ہوئے۔ آخری بڑے موسیقاروں میں ایم اشرف کے بیٹے ایم ارشد نے فلم ذرا سی بات (1982) اور عطرے خاندان سے تعلق رکھنے والے ذوالفقار علی نے فلم نوکر تے مالک (1982) سے آغاز کیا تھا۔ ان کے علاوہ ترنم ناز ، ثریا خانم ، حسن صادق وغیرہ کے نام بھی ملتے ہیں۔
1990

1990 کی دھائی

    1990 کی دھائی کے آغاز میں پاکستان میں ڈبل ورژن فلموں کا دور دورہ تھا۔ پنجابی فلموں کو اردو میں ڈب کر کے چھوٹے سرکٹ یعنی کراچی میں پیش کیا جاتا تھا۔ ان فلموں کے گیتوں کو بھی عام طور پر دونوں زبانوں میں لفظ بہ لفظ ترجمہ کر کے گوایا جاتا تھا۔ ملکہ ترنم نورجہاں کے گیت اسی دھن میں اردو ورژن میں حمیراچنا اور عذراجہاں سے گوائے جاتے لیکن مسعودرانا کے گیت گانا عام طور پر دیگر گلوکاروں کے لیے ممکن نہیں ہوتا تھا۔ اسی لیے انھیں سب سے زیادہ پنجابی/اردو ڈبل ورژن گیت گانے کا موقع ملا۔

    انور رفیع کا عروج

    1990 کی دوسری دھائی انوررفیع کے نام رہی جن کے فلم جیوا (1995) کے گیت "جانو سن ذرا۔۔" نے دھوم مچا دی تھی۔
    ان کے علاوہ اس دور کے دیگر کامیاب فلمی گلوکاروں میں سائرہ نسیم ، شبنم مجید ، شازیہ منظور ، حمیرا ارشد ، وارث بیگ ، ارشد محمود وغیرہ کے علاوہ غیر فلمی گلوکاروں مثلاً ابرارالحق ، سجاد علی ، جواد احمد ، عارف لوہار ، عطااللہ عیسیٰ خیلوی وغیرہ سے بھی گیت گوائے جاتے تھے۔

    عدنان سمیع خان کا ریکارڈ

    اسی دور میں فلم سرگم (1995) میں پہلی اور آخری بار عدنان سمیع خان کو اداکاری اور گلوکاری کے علاوہ فلم کی موسیقی ترتیب دینے کا موقع بھی ملا۔ اس اکلوتی فلم میں عدنان نے ایک منفرد اور ناقابل شکست ریکارڈ بنایا۔ فلم کے گیارہ کے گیارہ یعنی سو فیصدی گیت گائے ، ان کی دھنیں بنائیں اور سبھی گیت خود پر ہی فلمائے گئے تھے۔ مہاراج کتھک ، حامد علی خان اور حدیقہ کیانی کے علاوہ بھارتی گلوکارہ آشا بھونسلے نے بھی گیت گائے تھے۔ فلم کا یہ گیت سب سے زیادہ مقبول ہوا تھا:
  • ذرا ڈھولکی بجاؤ گوریو ، میرے سنگ سنگ گاؤ گوریو۔۔
2023

فلمی گائیکی کا خلاصہ

    2000ء کے بعد زیادہ تر فلموں میں نصیبو لال کے گیت ہوتے تھے جن میں سے بیشتر ذومعنی اور قابل اعتراض ہوتے تھے۔ البتہ اس دور میں چند گنی چنی فلموں ، خاص طور پر فلم مجاجن (2006) کے گیت انتہائی قابل تعریف تھے۔ گزشتہ دو دھائیوں سے فلمی گائیکی زوال پذیر ہو چکی ہے اور بیشتر گیت جو سننے میں آتے ہیں ، انھیں سننے والوں سے زیادہ خود گانے والوں کو مزہ آتا ہوگا۔۔!

    آخر میں پاکستانی اردو/پنجابی فلمی گائیکی کا خلاصہ یا ایک مختصراً ٹائم لائن پیش کی جارہی ہے:

    گلوکاراؤں کی ٹائم لائن

  • پاکستان کے ابتدائی دور کی مقبول اور مصروف ترین گلوکارہ منورسلطانہ تھیں۔ زینت بیگم ، اقبال بانو اور پپو پکھراج دیگر گلوکارائیں تھی۔
  • 1955ء میں زبیدہ خانم کی اجارہ داری شروع ہوئی جو 1959ء تک جاری رہی۔ کوثر پروین ، نذیربیگم اور ناہید نیازی دیگر اہم گلوکارائیں تھیں۔
  • 1960ء سے گلوکارہ نسیم بیگم نے عروج حاصل کیا۔ آئرن پروین ایک اور بڑا نام تھا جبکہ اسی سال سے میڈم نورجہاں نے بھی پلے بیک سنگر کے طور فلمی کیرئر کا آغاز کیا تھا۔
  • 1965ء سے گلوکارہ مالا کا عروج شروع ہوا۔ اس دوران 1968ء سے میڈم نورجہاں کو اگلی تین دھائیوں تک خصوصاً پنجابی فلموں میں بلا شرکت غیرے مکمل اجارہ داری حاصل رہی۔
  • 1970ء سے رونالیلیٰ کے عروج کا دور شروع ہوا۔ اس دور میں تصورخانم اور نیرہ نور بھی سامنے آئیں۔
  • 1974ء سے ناہیداختر اور مہ ناز کا دور شروع ہوا جو 1980 کی دھائی تک جاری رہا۔
  • 1990 کی دھائی میں حمیراچنا ، سائرہ نسیم ، عذراجہاں اور شاذیہ منظور وغیرہ کا دور تھا۔
  • 2000ء کے بعد نصیبو لال کے علاوہ غیرفلمی گلوکاروں کو فلموں میں گوایا گیا۔
  • گلوکاروں کی ٹائم لائن

  • 1948ء سے 1956ء تک عنایت حسین بھٹی کا دور رہا۔ ان کے معاون علی بخش ظہور اور فضل حسین تھے۔ اس دوران احمدرشدی اور مہدی حسن بھی سامنے آئے۔
  • 1957ء سے 1965ء تک سلیم رضا کی اجارہ داری کا دور تھا۔ منیر حسین دوسرے مقبول ترین گلوکار تھے۔ اس دوران مسعودرانا اور بشیراحمد بھی سامنے آئے۔
  • 1966ء سے پاکستانی فلموں پر مسعودرانا اور احمدرشدی کی اجارہ داری کا دور شروع ہوا۔ مسعودرانا ، پاکستان کی فلمی تاریخ کے واحد گلوکار ہیں جو تاحیات فلموں کی ضرورت رہے۔ 1976ء تک اردو/پنجابی فلموں میں یکساں مقبول تھے لیکن پھر پنجابی فلموں تک محدود ہو کر رہ گئے تھے جبکہ احمدرشدی ، صرف اردو فلموں کے مقبول ترین گلوکار تھے۔
  • 1972ء سے مہدی حسن کے عروج کا دور شروع ہوا جو 1970 کی دھائی کی اردو فلموں کے مقبول اور مصروف ترین گلوکار رہے۔ اس دوران اخلاق احمد ، اے نیر اور غلام عباس کی آمد جو 1980ء کی دھائی کی اردو فلموں کے مقبول گلوکار رہے۔
  • 1990 کی دھائی کے بعد سے صرف دو ہی بڑے فلمی گلوکار ملتے ہیں ، ایک انوررفیع اور دوسرے وارث بیگ جبکہ اس دوران غیرفلمی گلوکاروں کو بھی فلموں میں مواقع ملتے رہے۔


Wafadar
Wafadar
(1978)
Rajput
Rajput
(1987)
Rahm
Rahm
(2016)
Zindagi
Zindagi
(1978)

Rajjo
Rajjo
(1975)
Bau Ji
Bau Ji
(1968)
Barood
Barood
(1984)

Challenge
Challenge
(1937)
Noukar
Noukar
(1943)
Nishani
Nishani
(1942)



241 فنکاروں پر معلوماتی مضامین




پاک میگزین کی پرانی ویب سائٹس

"پاک میگزین" پر گزشتہ پچیس برسوں میں مختلف موضوعات پر مستقل اہمیت کی حامل متعدد معلوماتی ویب سائٹس بنائی گئیں جو موبائل سکرین پر پڑھنا مشکل ہے لیکن انھیں موبائل ورژن پر منتقل کرنا بھی آسان نہیں، اس لیے انھیں ڈیسک ٹاپ ورژن کی صورت ہی میں محفوظ کیا گیا ہے۔

پاک میگزین کا تعارف

"پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔

Old site mazhar.dk

یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔

اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔

سالِ رواں یعنی 2024ء کا سال، "پاک میگزین" کی مسلسل آن لائن اشاعت کا 25واں سلور جوبلی سال ہے۔




PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor, I am not responsible for the content of any external site.