PAK Magazine | An Urdu website on the Pakistan history
Saturday, 14 February 2026, Day: 45, Week: 07

PAK Magazine |  پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان ، ایک منفرد انداز میں


حروفِ تہجی کی تاریخ




پاکستانی زبانوں کے حروفِ تہجی

پاکستان میں بولی جانے والی 70کے قریب زبانوں میں سے درجن بھر زبانیں لکھی بھی جاتی ہیں جن میں ایک بات مشترک ہے کہ ان کے حروفِ تہجی، حروفِ ہجا، طرزِ تحریر یا الفابیٹ، عربی زبان سے ماخوذ ہیں۔

گو پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں میں سے جو زبانیں پڑوسی ممالک میں بھی بولی جاتی ہیں، وہ دیگر طرزِ تحریر میں بھی لکھی جاتی ہیں جیسے کہ پنجابی/سرائیکی کو سکھوں کی مذہبی زبان "گورمکھی" کے علاوہ ہندوؤں کی مقدس زبان "سنسکرت یا دیوناگری" میں بھی لکھا جاتا ہے جس میں اردو، سندھی، کشمیری، ڈوگری، بلتی اور شینا زبانیں بھی لکھی جاتی ہیں۔

بلتی زبان کو تبتی زبان میں بھی لکھا جاتا ہے جبکہ بروہی زبان کا رومن رسم الخط بھی ہے۔ سندھی اور پشتو زبانیں صرف خطِ نسخ ہی میں لکھی جاتی ہیں لیکن دیگر زبانیں خطِ نستعلیق میں بھی لکھی جاتی ہیں۔ دورِ حاضر میں سوشل میڈیا پر یہ سبھی زبانیں رومن حروف میں بھی لکھی جاتی ہیں۔

پاکستانی زبانوں میں اردو، پنجابی/ڈوگری اور کشمیری زبانوں کے حروفِ تہجی یکساں ہیں لیکن دیگر زبانوں کے علاوہ پنجابی زبان کی دو بولیوں، سرائیکی اور ہندکو کے حروفِ تہجی میں اضافی حروف بھی شامل ہیں۔

حروفِ تہجی کا ارتقاء

روایت ہے کہ اردو/پنجابی حروفِ تہجی کا باقاعدہ آغاز فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں 1800ء میں انگریز پروفیسر گلکرسٹ نے کیا تھا۔ فارسی طرزِ تحریر سے متاثر اردو/پنجابی رسم الخط کے ابتدائی دور میں متعدد خامیاں تھیں، مثلاً دوچشمی "ھ" اور بڑی "ے" جیسے اہم حروف شامل نہیں تھے۔ ہندی حروف (ٹ،ڈ،ڑ) پر "ط" کی جگہ چار چار نقطے لگائے جاتے تھے۔ نصف صدی بعد 1857ء تک اردو/پنجابی حروفِ تہجی کی موجودہ شکل مکمل ہوگئی تھی۔

1843ء میں انگریز دور ہی میں سندھی کو موجودہ عربی رسم الخط ملا۔ 1970ء کی دھائی میں پشتو، بلوچی، بروہی، سرائیکی اور ہندکو حروفِ تہجی بھی وجود میں آئیں۔

کتنے حروف ہیں؟

اردو حروفِ تہجی کے حروف کی تعداد ہمیشہ سے متنازعہ رہی ہے۔ ماہرینِ لسانیات مختلف تعداد بتاتے رہے ہیں لیکن پاکستان میں پہلی جماعت کے اردو قاعدے میں کل 37 حروف پڑھائے جاتے رہے ہیں جن میں 16 مرکب اور ہائیہ حروف شامل نہیں ہیں۔ ادارہ فروغِ قومی زبان کے مطابق اردو حروفِ تہجی کے کل 54 حروف ہیں جن میں یہ سبھی حروف نون غنہ سمیت شامل ہیں۔

دنیا کی پہلی حروفِ تہجی

اب تک کی تحقیق کے مطابق، دنیا میں پہلی بار پانچ ہزار سال قبل مشرقِ وسطیٰ کے عرب ملک عراق میں واقع دجلہ اور فرات دریاؤں کےتاریخی علاقے میں آباد اشوری قوم نے باقاعدہ لکھنے کا آغاز کیا جو موجودہ چینی اور جاپانی طرزِتحریر کی طرح علامات کی شکل میں تھا۔ مصریوں نے اس فن کو خوبصورت تصاویر کے ساتھ بامِ عروج پر پہنچایا۔

دنیا کی پہلی باقاعدہ حروفِ تہجی کی ایجاد، قریباً ساڑھے تین ہزار سال پہلے، بحیرہ روم کے کنارے شام اور لبنان کے علاقے فونیشیا میں ہوئی جس میں انسانی دہن کے مخارج کو حروف کی شکل دی گئی جو دورِ حاضر کی سات ہزار کے قریب زبانوں کے حروف کی بنیاد بنی۔ اس پہلی حروفِ تہجی کے کل 22 حروف تھے جو الگ الگ دائیں سے بائیں لکھے جاتے تھے اور مختلف مظاہرِقدرت سے متاثر ہو کر تخلیق کیے گیے تھے۔

علم الاعداد

فونیشین حروفِ تہجی کے حروف جس ترتیب سے لکھے گئے، اسی ترتیب سے انھیں اعداد بھی دیے گئے یعنی یہ حروف صرف لکھنے کے نہیں بلکہ گننے کے لیے بھی استعمال ہوتے تھے۔ یہیں سے "حسابِ ابجد" یا "علم الاعداد" (Numerology) کا آغاز بھی ہوا۔

فونیشین حروفِ تہجی کے کل 22 حروف کے "حسابِ ابجد"، پہلے حرف "ایلپ" کے ایک سے آخری حرف "تاؤ" کے 400 عدد پر ختم ہو جاتے تھے۔ 27 یونانی حروف 900 تک جاتے تھے لیکن عربی کے چھ اضافی حروف سے 28 حروف کے اعداد 1000 تک پہنچ جاتے ہیں۔

ان حروف کے اعداد کی تقسیم ایسے تھی کہ پہلے نو حروف کو اکائیوں میں ایک سے نو تک، اگلے نو حروف کو دھائیوں میں دس سے نوے تک، اس سے اگلے نو حروف کو سینکڑوں میں یعنی 100 سے 900 تک اور آخری عربی حرف "غ" کو 1000 کا عدد دیا گیا۔ مکمل ترتیب حسبِ ذیل ہے:

  • الف، ب، ج، د (ابجد) = 1، 2، 3، 4
  • ہ، و، ز (ہوز) = 5 ، 6، 7
  • ح، ط، ی (حطی) = 8، 9، 10
  • ک، ل، م، ن (کلمن) = 20، 30، 40، 50
  • س،ع، ف، ص (سعفص) = 60 ، 70، 80، 90
  • ق، ر، ش، ت (قرشت) = 100، 200، 300، 400
  • ث، خ، ذ (ثخذ) = 500، 600، 700
  • ض، ظ، غ (ضظغ) = 800، 900، 1000
یونانیوں نے 22 فونیقی حروف میں مزید تین حروف کا اضافہ کیا اور حروف کی گنتی کا تسلسل جاری رکھا حالانکہ اس حروفِ تہجی کے تین حروف استعمال نہیں کرتے تھے۔ باقی یورپ میں حروف کی گنتی صرف نو تک چلتی ہے جس کو "علم الاعداد" یا "علم نجوم" وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ عربوں نے اسی حروفِ تہجی میں مزید چھ حروف کا اضافہ کیا اور گنتی کا تسلسل بھی جاری رکھا اور 28 حروف کے کل 1000 تک کے حروف بن گئے تھے۔

حروف کو گنتی کے طور پر استعمال کا طریقہ ایک ہزار سال تک چلتا رہا۔ پہلی بار ہندوستان میں چوتھی صدی میں گنتی کے الگ حروف ایجاد ہوئے جن میں "صفر" بھی تھا لیکن اس کو باقی دنیا میں 8ویں صدی میں عرب ایرانی سائنسدان الخوارزمی (850-780ء) نے متعارف کروایا تھا۔ یورپ میں 10ویں صدی میں گنتی کا یہ نظام سامنے آیا اس سے قبل رومن حساب ہوتا تھا جس میں اگر 2026 لکھنا ہوتا تو اس کو MMXXVI کی طرح سے لکھنا پڑتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اہلِ عرب اس کو ذرا اختصار سے یعنی "غ غ ٰک و" (غغکو) کی صورت میں لکھتے ہوں گے۔۔؟

"ابجد" کی تعریف

دنیا کی پہلی فونیشین حروفِ تہجی کو "ابجد" کہا جاتا ہے جس کی وجہ تسمیہ پہلے چار حروف، "ایلپ، بیت، جمل اور دیلت" ہیں جو عربی زبان میں "الف، با،جیم، دال" بن گئے تھے۔

علمِ لسانیات میں "ابجد" اس تحریر کو بھی کہا جاتا ہے کہ جوحروفِ علت یا مصموتوں (vowels) کے بغیر لکھی جائے جیسے کہ عربی، فارسی اور اردو وغیرہ۔ گو ان زبانوں کے ہر حرف پر پوشیدہ اعراب و علامات وغیرہ ہوتے ہیں لیکن لکھے نہیں جاتے، پڑھے جاتے ہیں جو کسی نوآموز کے لیے سیکھنا بہت بڑا امتحان ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال ملاحظہ فرمائیں کہ "مظہر" کو بغیر اعراب کے لکھا جاتا ہے لیکن "زبر زیر پیش" کے فرق سے مطلب بدل جاتا ہے مثلاً:

  • مَظْہَر (Mazhar): "میم" اور "ہ" پر زبر، "ظ" پر جزم اور "ر" ساکن، مطلب ہے "ظاہر ہونے کی جگہ، سٹیج یا تھیٹر"
  • مُظْہَر (Muzhar): "میم" پر پیش، "ظ" پر جزم، "ہ" پر زبر اور "ر" ساکن، مطلب ہے "ظاہر کیا گیا، واضح، عیاں"
  • مُظْہِر (Muzhir): "میم" پر پیش، "ظ" پرجزم، "ہ" کے نیچے زیر اور "ر" ساکن، مطلب ہے "بیان کرنے والا، گواہ، شاہد"

"الفابیٹ" کی تعریف

علِم لسانیات کے مطابق دنیا کی سات ہزار سے زائد بولی جانے والی زبانوں میں سب سے زیادہ یعنی تین ہزار سے زائد زبانوں میں استعمال ہونے والا طرزِ تحریر رومن "الفا بیٹ" (Alphabet)، یونانی رسم الخط "الفا بیٹا" سے متاثر تھا جو خود فونیشین حروفِ تہجی سے اخذ کیا گیا تھا۔ رومن زبانوں یعنی اطالوی، فرانسیسی، ہسپانوی اور پرتگالی کے علاوہ جرمن زبانوں یعنی جرمن، انگلش، ڈچ وغیرہ اور دیگر روسی یا سلاوک زبانوں کے حروفِ تہجی کی بنیاد بھی فونیشین حروفِ تہجی ہی تھی۔

فونیشین حروفِ تہجی میں حروفِ علت (vowels) نہیں تھے لیکن یونانیوں میں ان میں کچھ حروف کو حسبِ ضرورت حروفِ علت بنا لیا۔ لاطینی اور روسی زبانوں نے بھی اسی طرز کو برقرار رکھا اور کوئی لفظ بغیر واؤل کے نہیں لکھتے۔ انگریزی میں A,E,I,O,U,Y قریباً ہر لفظ میں آتے ہیں مثلاً اگر عربی لفظ "مظہر" کو حرف بہ حرف لکھا جائے تو MZHR لکھا جائے گا لیکن یورپین زبانوں میں بغیر واؤل کے نہیں لکھا جا سکتا۔ گو ان میں A یا E کے حروف صحیح تلفظ نہیں دیتے لیکن یہ خوبیاں اور کمزوریاں سبھی زبانوں میں پائی جاتی ہیں جو ایک مسلسل ارتقائی عمل ہے۔

"ابوجیدا" کی تعریف

دنیا میں حروفِ تہجی کی تیسری بڑی قسم ہندوستان میں پائی جاتی ہے جس کو ابوجیدا (abugida) یا "براہمی رسم الخط" بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں حروفِ علت (vowels) اور حروفِ صحیحہ (consonant) کو الگ الگ سے لکھا جاتا ہے۔ ہر حرف میں "زبر" کی آواز موجود ہوتی ہے لیکن "زیر یا پیش" وغیرہ لکھنا پڑتے ہیں مثلاً "مظہر" (Mazhar) کو ہندی یا دیوناگری میں بغیر کسی واؤل کے मज़हर لکھا جاتا ہے لیکن اگر "مظاہر" (Mazahir) لکھنا ہو تو پھر "زبر" کے بغیر لیکن "الف اور زیر" کے ساتھ मज़ाहिर لکھنا پڑے گا۔

پاک میگزین پر حروفِ تہجی کی معلومات

"پاک میگزین" پر اردو/پنجابی حروفِ تہجی کے کل 54 حروف کی تاریخ، تشکیل اور تلفظ کے علاوہ دیگر زبانوں/بولیوں کے حروف کے بارے میں مفید اور نایاب معلومات پیش کی جارہی ہیں۔ ان کے لیے چند مخصوص اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں جن کا سمجھنا بہت ضروری ہے:

  • ہر حرف کے ساتھ "علم الاعداد" یا "حسابِ ابجد" کا حوالہ دیا گیا ہے جو مندرجہ بالا معلومات کی روشنی میں ہر حرف، گنتی کے طور پر بھی استعمال ہوتا تھا جو بعد میں مختلف علوم، مثلاً علمِ نجوم وغیرہ میں بھی استعمال ہونے لگا لیکن سائنسی طور پر ثابت نہیں ہے۔
  • "علمِ تجوید" یا "علمِ ہجا" کا تعلق تلاوتِ قرآن پاک سے ہے جو ہر حرف کو اس کے صحیح تلفظ سے پڑھنے کا علم ہے۔
  • عربی گرامر کے مطابق "قمری" اور "شمسی" اور "مذکر" اور "مونث" حروف کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔
  • ہر حرف کو لکھنے کے لیے فنِ خطاطی کے فنِ نستعلیق کا حوالہ دیا گیا ہے، دیگر خطوط کے بارے میں تحقیق مکمل نہیں ہے۔
ان کے علاوہ کچھ حروف دیگر علوم میں بھی استعمال ہوتے ہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ تمام تر معلومات میری ذاتی دلچسپی، معلومات اور تحقیق تک محدود ہیں اور ان میں غلطی کا امکان بھی ہو سکتا ہے۔



پاک میگزین، ایک منفرد ویب سائٹ

پاک میگزین پر پاکستان کے سال بسال اہم ترین تاریخی اور سیاسی واقعات کے علاوہ پاکستانی زبانوں کا ڈیٹا بیس، حروفِ تہجی کی تاریخ اور پاکستان کی فلمی تاریخ پر نایاب معلومات دستیاب ہیں۔



پاکستان کی سیاسی تاریخ



پاکستان کے اہم تاریخی موضوعات



تاریخِ پاکستان کی اہم ترین شخصیات



تاریخِ پاکستان کے اہم ترین سنگِ میل



پاکستان کی اہم معلومات

Pakistan

چند مفید بیرونی لنکس


پاک میگزین کی پرانی ویب سائٹس

"پاک میگزین" پر گزشتہ پچیس برسوں میں مختلف موضوعات پر مستقل اہمیت کی حامل متعدد معلوماتی ویب سائٹس بنائی گئیں جو موبائل سکرین پر پڑھنا مشکل ہے لیکن انھیں موبائل ورژن پر منتقل کرنا بھی آسان نہیں، اس لیے انھیں ڈیسک ٹاپ ورژن کی صورت ہی میں محفوظ کیا گیا ہے۔



PAK Magazine
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.

Old site mazhar.dk

پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔

یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔

اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔



PAK Magazine
Pakistan Film Magazine
Pakistan Media
Namaz timetable for Copenhagen, Denmark
Back to the top of the page