پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان
منگل 16 اکتوبر 1951
لیاقت علی خان کا قتل

نوابزادہ لیاقت علی خان
پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو 16 اکتوبر 1951ء کے دن راولپنڈی کے ایک جلسہ عام میں قتل کر دیا گیا تھا۔۔!
اپنی تقریر میں انھوں نے ابھی "برادران ملت" ہی کہا تھا کہ سید اکبر نامی ایک افغان شخص کی دو گولیاں ان کے سینے میں پیوست ہوگئی تھیں جن سے وہ موقع پر ہی جان بحق ہو گئے تھے۔ ان کے قاتل کو اہلکاروں نے موقع پر ہی ہلاک کر دیا تھا۔ قتل کے محرکات کا کبھی پتہ نہیں چل سکا تھا۔
قائداعظمؒ کے دست راست کے طور پر نوابزادہ لیاقت علی خان کو پاکستان کا پہلا وزیراعظم نامزد کیا گیا تھا۔ اس عہدے پر وہ چار سال سے زائد عرصہ تک برقرار رہے تھے۔ قائداعظمؒ کی زندگی میں وہ ان کے زیراثر تھے لیکن ان کے انتقال کے بعد سے وہ ایک مکمل بااختیار وزیراعظم تھے۔
انھوں نے صرف 55 سال کی عمر پائی تھی۔ ان کی شریک حیات بیگم رعنا لیاقت کو ستر کی دھائی میں بھٹو دور حکومت میں سندھ کا گورنر بنایا گیا تھا ، اس عہدے پر فائز ہونے والی وہ پہلی خاتون اہلکار تھیں۔

Assassinatin of Liaqat Ali Khan
(The Civil & Military Gazette on October 17, 1951)
Liaqat Ali Khan killed
Tuesday, 16 October 1951
The first Prime Minister of Pakistan, Nawabzada Liaqat Ali Khan was assassinated on October 16, 1951 in Rawalpindi. He started the speech by calling "Brothers of the Nation.." and then an Afghan man named Syed Akbar killed him. The killer was also killed on the spot.
Liaqat Ali Khan killed (video)
Credit: Pak Broad Cor
Credit: British Movietone
Credit: British Movietone
پاک میگزین، ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین پر پاکستان کے سال بسال اہم ترین تاریخی اور سیاسی واقعات کے علاوہ پاکستانی زبانوں کا ڈیٹا بیس، حروفِ تہجی کی تاریخ اور پاکستان کی فلمی تاریخ پر نایاب معلومات دستیاب ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ
-
15-08-1947: لاکھوں مہاجرین کی پاکستان آمد
05-12-1969: بنگلہ دیش
16-02-1979: انتخابات اور جنرل ضیاع
پاکستان کے اہم تاریخی موضوعات
تاریخِ پاکستان کی اہم ترین شخصیات
تاریخِ پاکستان کے اہم ترین سنگِ میل
پاکستان کی اہم معلومات
چند مفید بیرونی لنکس
پاک میگزین کی پرانی ویب سائٹس
"پاک میگزین" پر گزشتہ پچیس برسوں میں مختلف موضوعات پر مستقل اہمیت کی حامل متعدد معلوماتی ویب سائٹس بنائی گئیں جو موبائل سکرین پر پڑھنا مشکل ہے لیکن انھیں موبائل ورژن پر منتقل کرنا بھی آسان نہیں، اس لیے انھیں ڈیسک ٹاپ ورژن کی صورت ہی میں محفوظ کیا گیا ہے۔









