پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان
بدھ 2 دسمبر 2020
اسد درانی کا انٹرویو
پاکستان کی خفیہ ایجنسی ISI کے سابق سربراہ لیفٹینٹ جنرل اسد درانی (ہلال جرات) نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں وہی حقائق بیان کئے ہیں جنھیں پاکستان کی تاریخ سے معمولی سی واقفیت رکھنے والا ہر شخص جانتا اور سو فیصدی درست مانتا ہے۔
پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں اصل حاکم کون ہیں اور یہ بات آج کی نہیں ، 1951ء میں جب جنرل ایوب خان ، آرمی چیف بنے تھے تو فیصلہ ہو گیا تھا کہ پاکستان کے اصل حاکم کون ہو سکتے ہیں یا ہوں گے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ فوج ایک قومی ادارہ ہے جسے کسی طور بھی متنازعہ نہیں ہونا چاہئے لیکن اس مقدس ادارے کی آڑ میں جب کچھ جاہ طلب اور مفاد پرست عناصر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے مروجہ قانون و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اپنی من مانیاں کرتے ہیں اور پھر قوم کے سامنے جوابدہ بھی نہیں ہوتے تو ایسی لاقانونیت کسی بھی مہذب اور با شعور معاشرے کے لئے قابل قبول نہیں ہوتی۔ سیاست کرنا یا ملک چلانا ویسے بھی فوج کا کام نہیں ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کو جتنا نقصان فوجی حکومتوں نے پہنچایا ہے ، اس کا عشر عشیر بھی کبھی کسی سیاسی حکومت نے نہیں پہنچایا۔ المیہ مشرقی پاکستان ، ان تلخ تجربات کی سب سے بڑی مثال ہے۔ چلو ، نواز شریف کے بیانیے کو نظرانداز کردیتے ہیں لیکن گھر کا بھیدی تو جھوٹ نہیں بولتا۔ سچ کو کب تک دبائیں اور چھپائیں گے اور کس کس کو سچ بولنے سے روکیں گے۔۔؟
Asad Durrani's interview on BBC
Wendesday, 2 December 2020
Former ISI Chief Asad Durrani talks about the army's involvement in politics in Pakistan..
Asad Durrani's interview on BBC (video)
Credit: BBC News اردو
پاک میگزین، ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین پر پاکستان کے سال بسال اہم ترین تاریخی اور سیاسی واقعات کے علاوہ پاکستانی زبانوں کا ڈیٹا بیس، حروفِ تہجی کی تاریخ اور پاکستان کی فلمی تاریخ پر نایاب معلومات دستیاب ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ
-
21-11-1960: صدر ایوب کا دورہ سعودی عرب
11-01-1996: آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت
06-01-1968: اگر تلہ سازش کیس
پاکستان کے اہم تاریخی موضوعات
تاریخِ پاکستان کی اہم ترین شخصیات
تاریخِ پاکستان کے اہم ترین سنگِ میل
پاکستان کی اہم معلومات
چند مفید بیرونی لنکس
پاک میگزین کی پرانی ویب سائٹس
"پاک میگزین" پر گزشتہ پچیس برسوں میں مختلف موضوعات پر مستقل اہمیت کی حامل متعدد معلوماتی ویب سائٹس بنائی گئیں جو موبائل سکرین پر پڑھنا مشکل ہے لیکن انھیں موبائل ورژن پر منتقل کرنا بھی آسان نہیں، اس لیے انھیں ڈیسک ٹاپ ورژن کی صورت ہی میں محفوظ کیا گیا ہے۔









