پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان
منگل 30 ستمبر 1947
پاکستان ، اقوام متحدہ کا رکن بنا
پاکستان اپنی آزادی کے صرف ڈیڑھ ماہ بعد ہی 30 ستمبر 1947ء کو اقوامِ متحدہ کا "رکن نمبر 56" بن گیا تھا۔.!
پاکستان کو ممبر بنانے کی تجویز برطانیہ نے پیش کی جس کی تائید بھارت ، ایران ، ترکی ، مصر ، عراق ، لبنان ، برازیل اور امریکہ نے کی جبکہ افغانستان واحد ملک تھا جس نے پاکستان کی اقوام متحدہ کی ممبر شپ کی مخالفت کی تھی۔
اقوامِ متحدہ میں پہلا پاکستانی وفد
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے پہلے پانچ رکنی وفد کی قیادت سر ظفراللہ خان کر رہے تھے جبکہ دیگر ارکان ، مرزا ابوالحسن اصفہانی (جو 20 اکتوبر 1947ء کو امریکہ میں پاکستان کے پہلے سفیر بھی مقرر ہوئے) ، عبدالستار پیرزادہ ، میر لائق علی اور بیگم سلمیٰ تصدق حسین تھے۔
اقوامِ متحدہ کا قیام
دوسری جنگ عظیم کے بعد جب سابقہ عالمی تنظیم "لیگ آف نیشنز" ناکام ہو چکی تھی تو ایک نئی عالمی تنظیم کی ضرورت محسوس کی گئی جو دنیا کو جنگ و جدل سے محفوظ رکھ سکے۔ 25 اپریل 1945ء کو سان فرانسسکو میں پچاس ممالک کے ایک اجلاس میں اقوام متحدہ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد بین الاقوامی امن و امان اور بھائی چارے کا فروغ ، عالمی اقتصادی ، سماجی اور ثقافتی تعاون نیز بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ اور مساوی ترقی کے امکانات پیدا کرنا تھا۔ 24 اکتوبر 1945ء کو یہ بین الاقوامی ادارہ وجود میں آیا تھا۔ اس کے ممبران کی تعداد 193 ہے اور اس کی چھ سرکاری زبانیں ہیں ، انگریزی ، عربی ، فرانسیسی ، ہسپانوی ، چینی اور روسی۔ اس کا ہیڈ کوارٹر نیو یارک ، امریکہ میں ہے۔
Pakistan became UN-member
Tuesday, 30 September 1947
Pakistan was elected member of the United Nations on September 30, 1947..
پاک میگزین، ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین پر پاکستان کے سال بسال اہم ترین تاریخی اور سیاسی واقعات کے علاوہ پاکستانی زبانوں کا ڈیٹا بیس، حروفِ تہجی کی تاریخ اور پاکستان کی فلمی تاریخ پر نایاب معلومات دستیاب ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ
-
16-05-2020: دنیا بھر میں مذہبی رحجانات
13-05-1960: چیف جسٹس ایلون رابرٹ کارنیلیئس
25-04-1996: پاکستان تحریکِ انصاف
پاکستان کے اہم تاریخی موضوعات
تاریخِ پاکستان کی اہم ترین شخصیات
تاریخِ پاکستان کے اہم ترین سنگِ میل
پاکستان کی اہم معلومات
چند مفید بیرونی لنکس
پاک میگزین کی پرانی ویب سائٹس
"پاک میگزین" پر گزشتہ پچیس برسوں میں مختلف موضوعات پر مستقل اہمیت کی حامل متعدد معلوماتی ویب سائٹس بنائی گئیں جو موبائل سکرین پر پڑھنا مشکل ہے لیکن انھیں موبائل ورژن پر منتقل کرنا بھی آسان نہیں، اس لیے انھیں ڈیسک ٹاپ ورژن کی صورت ہی میں محفوظ کیا گیا ہے۔










