100th Birthday celebration of
Melody Queen Madam Noor Jehan
The page is a tribute to Madam Noor Jehan, marking 2026 as her 100th birth anniversary. ...
It outlines a major archival project by Pakistan Film Magazine to document her life, music, films, and legacy in the most complete and authentic way.
It highlights her early life, classical training, rise as “Malika‑e‑Tarannum,” her decades‑long career in acting and playback singing, and her lasting cultural impact.
نورجہاں کی 100ویں سالگرہ
2026ء کا سال، ملکہ ترنم نورجہاں کی پیدائش کا 100واں سال ہے۔۔!
پاکستان فلم میگزین، اپنی روایات کے عین مطابق، 2026ء کا پورا سال، پاکستان کی فلمی تاریخ کی سب سے بڑی اور انتہائی قابلِ فخر فلمی شخصیت، ملکہ ترنم نورجہاں کے نام کر رہا ہے جو سات دھائیوں کے طویل فنی کیرئر میں اپنے بچپن سے اپنے انتقال تک سپرسٹار رہیں اور کبھی زوال پذیر نہیں ہوئیں۔۔!
اس سال یعنی 2026ء میں پاکستان فلم میگزین پر میڈم نورجہاں کا مکمل فلمی ریکارڈ مرتب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ گزشتہ نصف صدی کے اخبارات و جرائد، ریڈیو اور ٹی وی کے علاوہ مختلف کتابوں، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے اب تک جتنا بھی مستند مواد ملا ہے، اس کو آن لائن محفوظ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
علاوہ ازیں، ملکہ ترنم نورجہاں کے فنی سفر پر ذاتی تجربات اور مشاہدات بھی پیش کیے جائیں گے۔ میں خود پاکستانی فلمی تاریخ کےانتہائی عروج کے دور کا عینی شاہد اور میڈم کے فن کا بہت بڑا مداح رہا ہوں۔
میڈم نورجہاں کے بارے میں انٹرنیٹ پر انتہائی ناقص اور گمراہ کن مواد موجود ہے۔ وکی پیڈیا، گوگل، اے آئی اور سوشل میڈیا پر سرچ کرتے ہوئے بڑی مایوسی ہوئی، اس لیے یہ اور بھی ضروری ہے کہ آئندہ نسلوں کی رہنمائی کے لیے پاکستان کی اس عظیم فنکارہ کا مستند ریکارڈ موجود ہو۔
زندگی رہی تو 21 ستمبر 2026ء کو ملکہ ترنم نورجہاں کی 100ویں سالگرہ کے نادر موقع پر عظیم الشان خراجِ تحسین کے طور پر ایک بھرپور انگلش ویب سائٹ بھی لانچ کرنے کی کوشش کروں گا جس میں تمام تر مستند تحقیقی مواد ہوگا، ان شاء اللہ۔۔!
پیدائش سے انتقال تک
21 ستمبر 1926ء کو پیدا ہونے والی "اللہ وسائی" کو گانے کا فن وراثت میں ملا تھا۔ اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت صرف چھ سال کی عمر ہی میں گانے لگی اور چندبرسوں میں کلاسیکل موسیقی اور راگ راگنیوں پر مکمل عبور حاصل ہو گیا اور بڑے بڑے موسیقی کے مقابلوں میں اپنی دھاک بٹھانے لگی تھی۔
- 1930ء کی دھائی میں "اللہ وسائی"، صرف نو دس سال کی عمر میں لاہور سٹیج پر پہلی بار گاتے ہی "سٹار" بن گئی تھی۔
- کلکتہ (کولکتہ) گئی جہاں سے کلاسیکل موسیقی پر عبور حاصل کیا اور "بے بی نورجہاں" کے نام سے "فلم سٹار" بن کر واپس لاہور آئی تھی۔
- 1930/40 کی دھائیوں میں لاہور کی فلموں نے نہ صرف "سپرسٹار" بنا دیا بلکہ اس کی بے مثل گائیکی اور سادہ اداکاری نے پورے برِصغیر پاک و ہند کی "نورِجہاں" بنا دیا تھا۔
-
1940ء کی دھائی میں بمبئی (ممبئی) میں اپنی بے مثل گائیکی سے "ملکہ ترنم" کا خطاب حاصل کیا اور صرف پانچ برسوں میں بطورِ اداکارہ ایک ایسا ریکارڈ بنایا کہ جو آج تک پاکستان اور بھارت کی کوئی دوسری اداکارہ نہیں توڑ سکی۔
میڈم نورجہاں کی فنی عظمت کا اعتراف، 1982ء میں بھارت میں فقیدالمثل تاریخی استقبال تھا۔۔! - 1950 کی دھائی میں واپس لاہور آئیں اور بطورِ اداکارہ اور گلوکارہ اپنے عروج پر رہیں۔
- 1960ء کی دھائی میں پس پردہ گلوکاری شروع کی اور 1990 کی دھائی یعنی مسلسل چار دھائیوں تک ناقابلِ شکست رہیں۔ اس دوران ہزاروں اردو اور پنجابی فلموں میں گیت گانے کے علاوہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر غزلیں اور ملی ترانے بھی گائے۔
نورجہاں کی پیدائش
عیدمیلادالنبیؐ کے دن اور
انتقال لیلتہ القدر کی رات
کو ہوا تھا
ملکہ ترنم نورجہاں کی کراچی کے ڈیفنس فیز 2 قبرستان میں آخری آرام گاہ کے کتبے پر تاریخ پیدائش "23 ستمبر 1929"درج ہے لیکن برتھ سرٹیفیکیٹ پر "21 ستمبر 1926" کی تاریخ ملتی ہے جو واقعات کے تناظر میں درست معلوم ہوتی ہے۔
21 ستمبر 1926ء کی تاریخ اگر درست ہے تو یہ بڑا زبردست اتفاق اور ایک قابلِ رشک سعادت ہے کہ میڈم نورجہاں کی پیدائش کا دن، منگلوار 12 ربیع الاول 1345 ہجری یعنی عید میلادالنبی ؐ کا مبارک دن تھا جبکہ انتقال کا دن، ہفتہ 26 رمضان المبارک 1421 ہجری اور تدفین اسی شام، 27 رمضان المبارک کی متبرک لیلتہ القدر کی رات کو ہوئی تھی۔
استاد غلام محمد کے ایک ویڈیو انٹرویو کے مطابق، میڈم کی پیدائش 1920ء میں ہوئی جو درست معلوم نہیں ہوتی۔
نورجہاں کا خاندان
میڈم نورجہاں، پنجابی زبان کے عظیم صوفی شاعر بابا بلھے شاہؒ (1757-1680ء) کے شہر قصور کے ایک گاؤں کوٹ مراد خان میں ایک انتہائی غریب گانے بجانے والے "میراثی" گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ فتح بی بی اور مددحسین، والدین تھے۔ 13 بہن بھائیوں میں سے سب سے چھوٹی تھیں۔
-
میڈم نورجہاں کی چھ بہنوں میں سے گلزار بیگم اورعمدہ بیگم کے علاوہ نامور فلمی شاعر تنویرنقوی کی زوجہ سب سے بڑی بہن عیدن بائی بھی خوب گاتی تھی اور اس نے اپنی سب سے چھوٹی بہن "اللہ وسائی" کے لیے اپنا کیرئر تک قربان کر دیا تھا۔
ایک بہن کو گانے کا اتنا جنون تھا کہ وہ "گلزار جھلی" کے نام سے مشہور ہوگئی تھی۔ دوسری بہن گانے میں اتنی ماہر تھی کہ لوگ اس کو گانے کی "عمدہ مشین" کہنے لگے تھے۔ دیگر دونوں بہنیں، آمنہ بیگم اور بہارو بیگم گمنام رہیں البتہ ایک اور گلوکارہ اور اداکارہ حیدرباندی کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے کہ وہ ان کی بہن تھی یا کزن؟ - میڈم نورجہاں کے چھ بھائی تھے جن میں میاں نواب دین، گل محمد، محمدحسین، صدیق، عنایت حسین اور محمدشفیع کے نام ملتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک نے بھی کوئی نام نہیں کمایا۔ روایت ہے کہ تین بھائی ذہنی طور پر معذور ہوگئے تھے۔
- میڈم نورجہاں کی پہلی شادی 1942ء میں سید شوکت حسین رضوی سے ہوئی جن سے تین بچے پیدا ہوئے۔ اکبر، اصغر اور ظلِ ہما۔ تیسری نسل میں شوبز میں اکبر کے بچے سکندررضوی اور سونیا جہاں جبکہ ظلِ ہما کے بیٹے احمدعلی بٹ ہیں۔ اداکار عقیل بٹ ان کے والد تھے۔
- میڈم نورجہاں کی دوسری شادی 1959ء میں اداکار اعجاز درانی سے ہوئی جن سے تین بیٹیاں، حنا، شاذیہ اور ٹینا پیدا ہوئیں۔ معروف ہاکی کھلاڑی حسن سردار ایک داماد ہیں جبکہ گلوکار خالدوحید، سابقہ داماد تھے۔ اب ان کی اگلی نسلیں بھی شو بز میں ہیں۔
- یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ گلوکارہ عذرا جہاں اور سائرہ نسیم کا بھی میڈم نورجہاں کے خاندان سے تعلق ہے۔
نورجہاں کی تعلیم و تربیت
میڈم نورجہاں نے صرف چار سال کی عمر میں گانا بجانا شروع کیا۔ چھ سال کی عمر میں پہلے استاد فضل حسین اور پھر ان کے بھانجے استاد غلام محمد قصوری عرف گامےخان کی شاگردی اختیار کی جو تاحیات ان کے ساتھ رہے۔
صرف گیارہ بارہ سال کی عمر میں "اللہ وسائی"، کلاسیکل موسیقی سے مکمل طور پر واقف ہو چکی تھی اور اپنے کمالِ فن سے بڑے بڑے موسیقاروں کو حیران کر دیتی تھی۔ استاد غلام محمد کے بقول، بڑے غلام علی خان نے نورجہاں کو سن کر اعتراف کیا تھا کہ وہ ان سے بہتر گا رہی ہے۔
میڈم نورجہاں، روایتی سکول اور دینی تعلیم سے محروم رہیں لیکن ان کے شعروشاعری کرنے اور نماز پڑھنے کی روایات ملتی ہیں۔ لکھنا پڑھنا نہ جاننے کے باوجود حافظہ بڑے غضب کا تھا اور جو گیت ایک بار سن لیتیں، ازبر ہوجاتا تھا۔ ایک ٹھیٹھ اور ان پڑھ پنجابن ہونے کے باوجود اردو تلفظ بڑے کمال کا تھا۔مہذب افراد میں بیٹھنے اور سیکھنے کی خداداد صلاحیت، میڈم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بمبئی میں قیام کے بعد ہمیشہ ساڑھی میں ملبوس رہیں۔
اللہ تعالیٰ کا میڈم نورجہاں پر خاص کرم تھا کہ زندگی بھر کبھی کسی کی محتاج نہیں ہوئیں اور موت سے پہلے اپنی گلبرگ کی کوٹھی بیچی اور اپنے علاج و معالجے کے لیے رقم مختص کرنے کے علاوہ کروڑوں روپے اپنی اولاد میں تقسیم کیے تھے۔
نورجہاں کی پہلی پرفارمنس
میڈم نورجہاں، نے سٹیج پر پہلی پرفارمنس نو دس سال کی عمر میں دی جو اپنے پندرہ افراد کے بڑے کنبے کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوئیں اور زندگی بھر ان کی کفالت کرتی رہیں۔
1930 کی دھائی میں میڈم نورجہاں کا خاندان بہتر مستقبل کی تلاش میں قصور سے لاہور پہنچا جہاں ایک گراموفون کمپنی سے وابستہ نامور موسیقار جی اے چشتی نے نوعمر "اللہ وسائی" کو لاہور کے ہیرامنڈی کے علاقہ ٹکسالی گیٹ میں واقع "عزیز تھیٹر" (جو بعد میں "پاکستان ٹاکیز" کہلایا) کے سٹیج پر گیت، غزلیں اور نعتیں گانے کا موقع دیا جنھیں انھوں نے خود ہی لکھا اور کمپوز کیا تھا۔ نورجہاں کی پہلی پبلک پرفارمنس میں یہ نعت بڑی مقبول ہوئی تھی:- "جوگن کی جھولی بھر دے،اے شاہ مدینے والے ﷺ۔۔"
انورمقصود کے 1983ء میں پاکستان ٹیلی ویژن پر مشہورِ زمانہ "سلورجوبلی" ٹاک شو میں میڈم نے بتایا تھا کہ لاہور کےقیام کے دوران انھوں نے ریڈیو پر بھی گایا اور دن بھر سولہ سترہ گیتوں کے 35 روپے ملا کرتے تھے۔
1930 کی دھائی میں لاہور میں زیادہ فلمیں نہیں بنتی تھیں البتہ آج کی طرح سٹیج اپنے عروج پر تھا جہاں ڈراموں کے علاوہ ناچ گانا بھی ہوتا تھا۔ لاہور میں زبردست کامیابیوں کے بعد "اللہ وسائی"، اپنے خاندان اور موسیقار جی اے چشتی کے ساتھ ایک میوزیکل گروپ "پنجاب میل" میں شامل ہوئی جو پرفارمنس کے لیے کلکتہ گیا جہاں سے "اللہ وسائی، بے بی نورجہاں" بن کر واپس لاہور آئی تھی۔
اس موضوع پر تفصیل سے اگلی قسط میں بات ہوگی، ان شاء اللہ۔۔!
نورجہاں روڈ لاہور
ملکہ ترنم نورجہاں کے نام پر لاہور میں "نورجہاں روڈ" ہے جو گلبرگ کے علاقے میں لبرٹی مارکیٹ کے قریب ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی روڈ کے متوازی "فردوس مارکیٹ روڈ" بھی ہے جو میڈم کی سوتن کے نام پر ہے۔۔!
Pakistan Film Magazine
Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.
پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔
یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔
اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔








