100th Birthday celebration of
Melody Queen Madam Noor Jehan
Part 5: Noor Jehan: Classic era (1951-61)
Madam Noor Jehan’s classic era as a top singer-actress in Pakistan. ... This article covers her films, songs, press praise and the broader 1950s film context...
نورجہاں کا کلاسیکل دور
ملکہ ترنم نورجہاں کے پاکستان میں بطورِ اداکارہ/گلوکارہ فلمی کیرئر کے دس سالہ " کلاسیکل دور" کا سال بہ سال احوال جس میں برصغیر کی فلمی تاریخ کے اہم ترین واقعات اور سنگِ میل بھی شامل ہیں۔
1951ء کا سال
میڈم نورجہاں کی تین سالہ پراسرار خاموشی کے بعد پاکستان میں پہلی فلم چن وے (1951) تھی۔۔!
شائقینِ موسیقی، فلم بینوں اور فلمی تاریخ پر یہ کتنا بڑا ظلم تھا کہ برصغیر پاک و ہند کی سب سے بڑی گلوکارہ اور اداکارہ ملکہ ترنم نورجہاں، یکدم منظر سے غائب ہوگئی تھی۔۔!!!
مسلسل تین سال یعنی 1945ء، 1946ء اور 1947ء میں باکس آفس پر نمبر ون رہنے کے بعد مسلسل تین سال یعنی 1948ء، 1949ء اور 1950ء میں اس کی کوئی ایک بھی فلم ریلیز ہوئی نہ کوئی گیت سننے کو ملا تھا۔۔!
اس سے پہلے کہ میڈم نورجہاں کی واپسی کی فلم چن وے (1951) پر تفصیل سے بات کریں، پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ تقسیم کے بعد میڈم، عروج کا وہ بے مثل دور چھوڑ کر پاکستان کیوں آئیں اور اگر آنا ہی تھا تو پھر لاہور کیوں نہ آئیں اور کراچی کیوں رہیں جہاں اس وقت تک فلم انڈسٹری نہیں تھی۔۔؟
نورجہاں نے ہندوستان کیوں چھوڑا؟
1947ء ایک انتہائی المناک، خونی اور تلخ سال تھا جس میں ہندوستان کی تقسیم کے نتیجہ میں لاکھوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ لاتعداد لوگ بے گھر اور لاپتہ ہوئے اور بے شمار قیمتی املاک تباہ و برباد ہوئیں۔ نسل کشی، جبری نقلِ مکانی اور فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔ بڑے پیمانے پر قتل و غارت، لوٹ مار، آتش زنی، اغواء اور آبروریزی کی گئی۔ انسانیت دشمن شیطانی قوتیں، اپنے پورے جوبن پر تھیں۔۔!
میڈم نورجہاں نے 1982ء میں اپنے دورہ بھارت میں دوردرشن ٹی وی پر دلیپ کمار کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے جس باڈی لینگویج میں بمبئی چھوڑنے کی وجہ بتائی، اس سے ایک عام شخص بھی یہ اندازہ لگا لیتا ہے کہ ہجرت کا فیصلہ ان کا اپنا نہیں بلکہ ان کے شوہر سید شوکت حسین رضوی کا تھا۔ بھلا اتنا شاندار فلمی کیرئر، دولت و شہرت اور ہنستا بستا گھر بار کون آسانی سے چھوڑتا ہے۔۔؟
رضوی صاحب نے بھریا میلہ چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا تھا۔۔؟
اپنی کوئی رائے قائم کرنے، قیاس آرائی کرنے یا کوئی غیرمستند سنی سنائی سنائے بغیر اس سوال کا جواب ممتاز بھارتی فلمی میگزین "فلم انڈیا" کے جنوری 1948ء کے شمارے میں کراچی سے 10 دسمبر 1947ء کی ایک خبر میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے:
-
"یہ مصدقہ اطلاع ہے کہ فلمساز اور ہدایتکار عبدالرشید کاردار (فلم دل لگی فیم)، فلمساز اور ہدایتکار محبوب خان (فلم مدرانڈیا فیم)، فلمساز، ہدایتکار اور اداکار نذیر (سورن لتا فیم) اور اداکارہ/گلوکارہ خورشید (فلم تان سین فیم) نے کراچی میں رہائشی بنگلوں کے علاوہ انتہائی سستے داموں وسیع جائیدادیں خریدی ہیں۔
پاکستان نے ان لوگوں کو زمیندار بنا دیا ہے۔.!"
"فلم انڈیا" کے اسی شمارے میں اس خبر پرایک انتہائی تضحیک آمیز تبصرہ بھی شامل ہے جس میں میڈم نورجہاں کا نام بھی ملتا ہے۔ اس کا ترجمہ کچھ اس طرح سے بنتا ہے:
-
"غریب اور پریشان حال 'کاردار'، قیامِ پاکستان سے پہلے بہت خوش تھا لیکن اس نے میاں محبوب کا مقابلہ کرنے کے لیے کراچی میں ایک شاندار گھر خرید لیا ہے۔ یہی کچھ نورجہاں، 'بے بی سٹار' اور اداکارہ خورشید نے اپنے 'قطبی ریچھ نما شوہر' (یعقوب) نے بھی کیا ہے۔
پاکستان میں اس وقت، ہندووں کی متروکہ جائیدادیں اتنی سستی ہو گئی ہیں کہ 'فورس روڈ' (بمبئی کی ہیرامنڈی) کی حسینائیں بھی انھیں صرف ایک ماہ کی کمائی سے خرید سکتی ہیں۔
اداکار غلام محمد (فلم خاندان فیم)، اپنی روٹی روزی کمانے کے لیے بمبئی واپس آتے ہوئے اپنے خاندان کو پاکستان (لاہور) میں محفوظ چھوڑ آیا ہے۔ حیرت ہے کہ کیا یہاں اس کا خاندان زیادہ محفوظ نہیں ہو گا البتہ غلام محمد ان اچھے مسلمانوں میں سے ایک ہے جو ابھی تک پاکستان کی زہر آلود سیاست سے متاثر نہیں ہوئے۔"
"الاٹ منٹ اور لوٹ مار"
تقسیم کے فسادات کے نتیجہ میں اس دور میں ہندوؤں اور سکھوں کی متروکہ املاک کی "الاٹ منٹ" کو "لوٹ مار" کہا جاتا تھا جس میں بہت سے "مہذب" اور مالدار لوگوں نے خوب ہاتھ رنگے تھے۔۔!
نورجہاں اور شوکت حسین رضوی
لاہور میں فلم انڈسٹری تباہ و برباد ہو چکی تھی اور صوبہ پنجاب میں بھارتی پنجاب سے لٹے پٹے مہاجرین کا سخت دباؤ بھی تھا، اس لیے فوری طور پر وہاں کسی "الاٹ منٹ" کی گنجائش نہیں تھی۔
رضوی صاحب، اردو سپیکنگ تھے، لکھنو میں پیدا ہوئے، کلکتہ میں فلمی ایڈیٹر (تدوین کار) بنے، "بے بی نورجہاں" کے ساتھ لاہور آئے جہاں فلم خاندان (1942) میں ہدایتکار بنے اور پھر بمبئی کی زینت (1945) اور جگنو (1947) جیسی بلاک باسٹر فلموں کے کامیاب ترین فلمساز اور ہدایتکار ثابت ہوئے تھے۔
رضوی صاحب کے بھارت چھوڑنے کی ایک وجہ ان پر غداری کے سنگین الزامات، معاندانہ میڈیا پروپیگنڈہ اور فلم جگنو (1947) کے سنسر کے مسائل بھی ہو سکتے ہیں۔ بمبئی میں سو فیصد کامیاب فلموں کے خالق سے معاصرین کا حسد اور سازشیں بھی ہو سکتی ہیں۔
بلاشبہ شوکت صاحب، بہت بڑے کاروباری اور دوراندیش شخص تھے۔ انھوں نے بہترین حکمتِ عملی اور اثررسوخ سے صبرو تحمل کا پھل پایا اور لاہور میں ملتان روڈ پر واقع ایک بہت بڑا لیکن فسادات میں تباہ شدہ فلم سٹوڈیو (شوری)، مال روڈ کے قریب میکلوڈروڈ پر ایک اہم سینما گھر (ریجنٹ) اور گلبرگ میں ایک کوٹھی بھی "الاٹ" کروانے میں کامیاب رہے تھے۔۔!
قائدِاعظمؒ کے خلاف ہرزہ سرائی
تقسیمِ ہند کے نتیجہ میں ہونے والے ہولناک فسادات کے ذمہ دار کے طور پر قائدِاعظم محمدعلی جناحؒ کا نام لیا جاتا ہے اور یہ پروپیگنڈہ آج کے سوشل میڈیا پر بھی سننے کو ملتا ہے جس میں ہمارے بھی کچھ نام نہاد تاریخ دان شامل ہیں۔
"فلم انڈیا" کے جنوری 1948ء کے شمارے میں قائدِاعظمؒ، پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف خاصا زہر اگلا گیا تھا۔ ایک قاری کے سوال کے جواب میں کہ "جناح کون ہے۔۔؟" اس رسالے کا جواب تھا (ترجمہ):
جواب ہے کہ "نہیں، بالکل نہیں، قطعاً نہیں۔۔!!!"
یہ سراسر بکواس اور تاریخ سے کھلواڑ ہے۔ قائدِاعظمؒ، ایک حقیقت پسند، لبرل اور سیکولر سیاستدان تھے جو ہندو مسلم اتحاد کے بہت بڑے اور مخلص علمبردار اور متحدہ ہندوستان کے حامی تھے۔ ایک طویل عرصہ تک کانگریس کے ممبر رہے لیکن جب 1937ء کے انتخابات کے نتیجہ میں کانگریس پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع ملا تو قائدِاعظمؒ سمیت سبھی لبرل مسلمانوں کی آنکھیں کھل گئی تھیں اور عملی طور پر ثابت ہو گیا تھا کہ ہندوؤں کو اپنی عددی برتری کے بل بوتے پر ایک جمہوری نظام کی بدولت صدیوں بعد ملنے والی حکومت میں اپنے سابق "جابراور غاصب حکمرانوں " یعنی مسلمانوں سے گن گن کر بدلہ لینے کا موقع مل گیا ہے۔
ہندوؤں کی اسی عددی برتری کے خوف اور کانگریس کی اڑھائی سالہ حکومت کے تلخ تجربات کے پس منظر میں 1940ء کی قراردادِ لاہور میں ایک الگ تھلگ پاکستان کا مطالبہ نہیں تھا بلکہ ہندوستان کی آئینی حدودمیں رہتے ہوئے مسلم اکثریتی علاقوں کے لیے مکمل صوبائی خودمختاری کی ڈیمانڈ تھی جس کو کانگریس نے تسلیم نہیں کیا اور یہی تنازعہ ہندوستان کی تقسیم کا باعث بنا تھا۔
1946ء کا کیبنٹ مشن پلان بھی ایک بہت بڑی مثال تھی کہ قائدِاعظمؒ، آخری وقت تک ہندوستان کی تقسیم نہیں چاہتے تھے۔ تقسیم کے نتیجہ میں جو فسادات ہوئے، وہ سکھوں، سماج دشمن عناصر اور مفاد پرستوں کی کارستانی تھی جس کا الزام جناح صاحب کو کسی طور بھی نہیں دیا جا سکتا۔
گوشہ نشینی کے تین سال
1947ء میں ہندوستان سے واپسی پر میڈم نورجہاں نے اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں خودساختہ گوشہ نشینی اختیار کی جہاں اطلاعات کے مطابق انھوں نے اپنی جائیداد خریدی ہوئی تھی۔
یہ دور کیسا تھا؟ اس پر ہمیں زیادہ سوچ بچار کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم کسی بھی فنکار کو اس کے فن کے حوالے سے جانتے ہیں اور ہر کسی کو اپنی پرائیویٹ لائف جینے کا پورا حق حاصل ہے۔ البتہ یہ طے ہے کہ کسی کے جانے سے وقت رک نہیں جاتا، نظامِ حیات چلتا رہتا ہے۔
آئیے دیکھیں کہ ان تین برسوں میں میڈم نورجہاں کی عدم موجودگی میں پاکستان اور بھارت کی فلمی تاریخ میں کیا کچھ ہوا۔۔؟
1948ء کی فلمی تاریخ
1948ء میں گو میڈم نورجہاں کی بمبئی میں فلم مرزاصاحباں (1947) ریلیز ہوئی لیکن شمال ہند میں یہ فلم گزشتہ سال ریلیز ہوچکی تھی۔ اس لیے اس سال میڈم "گمنام" یا "گمشدہ" تھیں لیکن اسی سال، پاکستان کی پہلی اور اکلوتی فلم تیری یاد (1948) ریلیز ہوئی تھی۔
پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948)
تقسیم سے قبل، لاہور کی فلموں کی مستقل اور مقبول ترین اداکاراؤں میں سے نمبر ون اداکارہ راگنی کی بمبئی میں مصروفیت اور دوسری مقبول اداکارہ منورما کی زبردستی کی نقل مکانی کی وجہ سے تیسری مشہور اداکارہ آشا پوسلے کو پاکستان کی پہلی فلمی ہیروئن ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ دلیپ کمار کے بھائی ناصرخان کو یہ ناقابلِ شکست اعزاز حاصل ہوا کہ آزادی کے بعد بھارت کی پہلی فلم شہنائی (1947) کے بعد پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) کے ہیرو بھی بنے۔
فلم تیری یاد (1948) کے سبھی فنکار تقسیم سے قبل کی لاہور اور بمبئی/کلکتہ وغیرہ کی فلموں میں کام کرتے رہے تھے جن میں گلوکارہ منورسلطانہ بھی شامل تھیں جنھیں پاکستانی فلموں کی پہلی فلم تیری یاد (1948) کی مرکزی گلوکارہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ اس فلم پر تفصیلی مضمون لکھا جا چکا ہے۔
1948ء کی بھارتی فلمی تاریخ
پاکستان کی طرح، 1948ء کا سال، بھارت کے لیے بھی پہلا مکمل سال تھا جس میں 147 ہندی/اردو فلمیں ریلیز ہوئیں۔
- اس سال کی کامیاب ترین فلم شہید (1948) میں دلیپ کمار کے بچپن کا رول ششی کپور نے کیا تھا۔ موسیقار ماسٹرغلام حیدر کی بھارت میں یہ آخری بڑی فلم تھی۔ روایت ہے کہ ماسٹرصاحب، اس فلم کے گیت لتا منگیشکر سے گوانا چاہتے تھے لیکن فلمساز نے اجازت نہیں دی تھی۔
- دلیپ کمار کی فلم میلہ (1948) بھی سال کی چوتھی کامیاب ترین فلم تھی جس میں پاکستان کے عظیم اداکار علاؤالدین نے اداکارہ نرگس کے باپ کا رول کیا تھا۔ اس فلم میں محمدرفیع کا گیت "یہ زندگی کے میلے، دنیا میں کم نہ ہوں گے، افسوس، ہم نہ ہوں گے۔۔" بڑا مقبول ہوا تھا۔
- اسی سال کی فلم ضدی (1948) نے بھارتی فلموں کو دلیپ کمار اور راج کپور کے بعد تیسرا بڑا اداکار، دیوآنند بھی دیا جس کی یہ پہلی سپرہٹ فلم تھی۔
-
فلم ضدی (1948) میں بھارت کے نامور گلوکار کشورکمار نے اپنا پہلا سولو گیت "مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں۔۔" گایا تھا۔ اسی سال، لتا منگیشکر کو بھی موسیقار ماسٹرغلام حیدر نے فلم مجبور (1948) میں پہلا سولو سانگ "دل میرا توڑا، مجھے کہیں کا نہ چھوڑا۔۔" گوایا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ لتا اور کشور، پہلے کورس گیتوں میں ایکسٹرا کے طور پر گاتے تھے، فلم ضدی (1948) میں انھوں نے پہلا فلمی دوگانا "یہ کون آیا رے، کر کے سولہ سنگھار۔۔" بھی گایا تھا۔
1948ء کے اہم واقعات
- 1948ء میں جہاں ماہِ جنوری میں مہاتما گاندھی کا قتل ہوا وہاں ماہِ ستمبر میں قائدِاعظمؒ بھی جہانِ فانی سے کوچ کر گئے تھے۔
- برٹش انڈیا کی مختلف ریاستوں کو دونوں ممالک ہڑپ کرنے میں مصروف رہے۔ جوناگڑھ کے بعد بھارت نے ریاست حیدرآباد پر بھی قبضہ کر لیا جبکہ کشمیر کے حصول کے لیے دونوں ممالک کے درمیان پورا سال عجیب و غریب قسم کی جنگ تھی جس میں ایک طرف بھارت کی باقاعدہ فوج تھی تو دوسری طرف پاکستان کے قبائلی مجاہدین تھے۔
- اسی سال 14 مئی 1948ء کو اسرائیل کا قیام عمل میں آیا جو ساتھ میں پہلی عرب اسرائیل جنگ بھی لایا جس میں عربوں کو شکست ہوئی اور اسرائیلیوں نے طاقت کے بل بوتے پر یو این منڈیٹ سے کہیں زیادہ علاقے ہتھیا لیے تھے۔
1949ء کی فلمی تاریخ
1949ء میں بھی میڈم نورجہاں کی کوئی فلم یا گیت سامنے نہیں آیا لیکن زمانے کی رفتار حسبِ معمول اپنی رفتار سے چل رہی تھی۔
1949ء میں پاکستان میں کل چھ فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں سے پاکستان کی پہلی پنجابی فلم، پھیرے (1949)، پاکستان کی پہلی سپرہٹ، پہلی سلورجوبلی اور پہلی ہی نغماتی فلم ثابت ہوئی تھی۔
فلم پھیرے (1949) میں چند اہم سنگِ میل عبور ہوئے:
پاکستان کی پہلی سپرہٹ فلم پھیرے (1949)
- پاکستانی فلموں کا پہلا سپرہٹ فی میل رومانٹک سانگ "مینوں رب دی سونھ تیرے نال پیار ہو گیا وے چناں سچی مچی۔۔" گانے کا اعزاز منورسلطانہ کو حاصل ہوا تھا۔
- پاکستانی فلموں کا پہلا ہٹ سنجیدہ گیت "کی کیتا تقدیرے، کیوں روڑ دتے دو ہیرے۔۔" بھی منورسلطانہ نے گایا تھا۔
- پاکستانی فلموں کا پہلا سپرہٹ دوگانا "وے اکھیاں لاویں نہ تے فیر پچھتاویں نہ انجانا۔۔" بھی منورسلطانہ نے عنایت حسین بھٹی کے ساتھ گایا تھا۔
- پاکستانی فلموں کا پہلا ہٹ سنجیدہ مردانہ گیت "جے نئیں سی پیار نبھانا، سانوں دس جا کوئی ٹھکانہ۔۔" عنایت حسین بھٹی نے گایا تھا۔ یہ بابا عالم سیاہ پوش نے لکھا تھا۔
- پاکستان کے پہلے کامیاب ترین موسیقار جی اے چشتی تھے جنھوں نے منورسلطانہ کے تینوں سپرہٹ گیت بھی لکھے تھے۔
1949ء کی بھارتی فلمی تاریخ
ملکہ ترنم نورجہاں کی عدم موجودگی میں لتا منگیشکر کی قسمت جاگ اٹھی جو 1942ء سے چھوٹے موٹے کورس گیتوں میں گانے کے علاوہ اداکاری بھی کر رہی تھی لیکن میڈم جیسی شہرت اور مقبولیت سے محروم رہی تھی۔ یاد رہے کہ ان دونوں کی واحد مشترکہ فلم بڑی ماں (1945) تھی جس میں دونوں نے اداکاری کے علاوہ گلوکاری بھی کی تھی۔
- 1949ء میں پاکستان کی 6 فلموں کے مقابلے میں بھارت میں کل 159 ہندی/اردو فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔
- لتا منگیشکر کو پہلی مقبولیت فلم محل (1949) کے اس گیت سے ملی: "آئے گا آنے والا۔۔" اسی فلم سے مدھو بالا کو سپرسٹار کا مقام ملا تھا۔
- فلم برسات (1949)، سال کی کامیاب ترین فلم تھی جس میں لتا کا گایا ہوا گیت "ہوا میں اڑتا جائے، میرا لال دوپٹہ ململ کا۔۔" سپرہٹ ہوا تھا۔
- اس سال کی دوسری سپرہٹ فلم انداز (1949) میں پہلی اور آخری بار دلیپ کمار اور راج کپور کو ایک ساتھ پیش کیا گیا تھا، نرگس ہیروئن تھی۔ پاکستان میں اس فلم کا چربہ، جلے نہ کیوں پروانہ (1970) بنائی گئی جس میں مندرجہ بالا فنکاروں کے کردار بالترتیب ندیم، کمال اور شبنم نے کیے تھے۔
- دل لگی، بڑی بہن اور دلاری (1949) دیگر سپرہٹ فلمیں تھیں۔ فلم دلاری (1949) میں محمدرفیع کا گیت "سہانی رات ڈھل چکی۔۔" امر سنگیت میں شامل ہے۔
1949ء کے اہم واقعات
- یکم جنوری 1949ء کو سوا سال سے جاری کشمیر جنگ بندہوئی تھی۔ بھارت نے 26 نومبر 1949ء کو اپنا مستقل آئین منظور کر لیا تھا لیکن پاکستان میں آئین سازی میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا اور اس کی جگہ 12 مارچ 1949ء کو "قراردادِ مقاصد" منظور کروا کر مذہبی انتہا پسندی کی دلدل میں پھینک دیا گیا تھا۔
- 1949ء ہی میں روس، ایٹمی طاقت بننے والا دوسرا ملک بنا جبکہ چین میں ماؤزے تنگ کی قیادت میں کمیونسٹ انقلاب کامیاب ہوا۔
1950ء کی فلمی تاریخ
1950 کا سال، میڈم نورجہاں کے بغیر مسلسل تیسرا سال تھا جس میں پاکستان کی کل 13 فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں پنجابی فلم لارے (1950) سب سے بڑی نغماتی فلم تھی جبکہ پہلی اردو فلم بےقرار (1950) کے متعدد گیت بھی مقبول ہوئے تھے۔
فلم لارے (1950)
- 1950 کا مقبول ترین فلمی گیت "تیرے لونگ دیا پیا لشکارا تے ہالیاں نیں ہل ڈھک لے۔۔" تھا جس کو منورسلطانہ اور عنایت حسین بھٹی نے گایا اور موسیقار جی اے چشتی نے دھن بنائی تھی۔
- اردو فلموں میں پہلی بار بے قرار (1950) کے دو گیت سپرہٹ ہوئے: "دل کو لگا کے کہیں بھول نہ جانا۔۔" اور "او پردیسا، بھول نہ جانا۔۔" ان گیتوں کو بھی منورسلطانہ نے گایا جن میں سے ایک میں علی بخش ظہور کا ساتھ تھا۔ ان گیتوں کی دھنیں ماسٹرغلام حیدر نے بنائی تھیں جو واپس لاہور چلے آئے تھے۔ طفیل ہوشیارپوری، شاعر تھے۔
1950ء کی بھارتی فلمی تاریخ
1950ء میں بھارتی فلموں کا "سنہرا دور" شروع ہو چکا تھا جس میں 106 ہندی/اردو فلموں کا ذکر ملتا ہے۔
- سمادھی، بابل، داستان اور جوگن وغیرہ کامیاب ترین فلمیں تھیں۔ دلیپ کمار، نرگس، اشوک کمار اور راج کپور چوٹی کے اداکار تھے۔
- موسیقار نوشاد علی کی دھن میں فلم بابل (1950) کے اس خوبصورت دوگانے "ملتے ہی آنکھیں، دل ہوا دیوانہ کسی کا۔۔" نے طلعت محمود کو غزل گائیک کے طور پر بامِ عروج پر پہنچا دیا تھا۔ شمشاد بیگم ساتھ تھیں۔
1950ء کے اہم واقعات
- 26 جنوری 1950ء کو بھارت کا آئین نافذ ہوا جبکہ پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان نے روس کا دورہ مسترد کرکے امریکہ کا سرکاری دورہ کیا جس نے پاکستان کی مستقبل کی خارجہ پالیسی کی راہیں متعین کر دی تھیں۔
- 1950 کی دھائی کی مشہور "کوریا جنگ" شروع ہوئی جب شمالی کوریا نے 25 جون 1950ء کو جنوبی کوریا پر حملہ کر دیا تھا۔
1951ء کا سال
1951ء میں پاکستانی فلمی تاریخ کی سب سے بڑی خبر یہ تھی کہ ملکہ ترنم نورجہاں، تین سالہ خودساختہ گوشہ نشینی کے بعد واپس سلورسکرین پر جلوہ گر ہوئیں۔
سیاسی طور پر یہ بڑا تلخ سال تھا جب پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان قتل ہوئے۔ قبل ازیں، ان کا تختہ الٹنے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔ ان تلخ واقعات کی ساری کڑیاں جنوری 1951ء کے اس تاریخی واقعہ سے ملتی ہیں جب جنرل ایوب خان پہلے "مسلمان" آرمی چیف مقرر ہوئے تھے۔۔!
1951ء میں پاکستان میں 8 اردو/پنجابی اور بھارت میں 99 ہندی/اردو فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی راج کپور کی مشہورِ زمانہ فلم آوارہ (1951) تھی۔ اس فلم کو بین الاقوامی شہرت ملی تھی۔ گلوکار مکیش کا گیت "آوارہ ہوں۔۔" ایک سٹریٹ سانگ بنا۔ بازی، البیلا، دیدار اور بہار، دیگر کامیاب فلمیں تھیں۔
میڈم نورجہاں کی واپسی
تین طویل برسوں کے صبرآزما انتظار کے بعد اداکارہ اور گلوکار ملکہ ترنم نورجہاں کی فلمی دنیا میں واپسی ہوئی اور وہ بھی ایک پنجابی فلم چن وے (1951) کی صورت میں۔ یہ ایک بہت بڑی نغماتی فلم ثابت ہوئی تھی۔
فلم چن وے (1951) کے گیت
فلم چن وے (1951) کی موسیقی فیروز نظامی نے دی جو اس سے قبل فلم جگنو (1947) سے برصغیر کے مشہور موسیقار بن چکے تھے۔ اس فلم کے بیشتر گیت سپرہٹ ہوئے جنھیں میڈم نورجہاں نے گایا اور انھی پر فلمائے گئے تھے۔
- فلم چن وے (1951) کا سب سے مقبول گیت "وے منڈیا سیالکوٹیا، تیرے مکھڑے دا کالا کالا تل وے، ساڈا کڈھ کےلے گیا دل وے۔۔" تھا۔ ایف ڈی شرف کا لکھا ہوا یہ سدا بہار گیت ایک ضرب المثل بن گیا تھا۔ فلم میں نورجہاں پر فلمایا گیا لیکن جس کے لیے گا رہی تھیں، وہ کہیں نظر نہیں آتا۔
- ایسا ہی ایک اور سپرہٹ گیت "چن دیا ٹوٹیا وے دلاں دیا کھوٹیا۔۔" میں نورجہاں کے ساتھ موسیقار فیروز نظامی کی آواز بھی تھی جو فلم کے ہیرو جہانگیر پر فلمائی گئی تھی۔
- فلم کا ایک اور سپرہٹ لیکن شرارتی گیت تھا "جادوکوئی پا گیا، دل ساڈا آگیا، کسے دی جوانی اتے، دل ساڈا آگیا۔۔" ایک بار گنگناتے ہوئے "جوانی" کی بجائے "زنانی" کہہ گیا جو بیگم نے کبھی معاف نہیں کیا۔۔!
- "چنگا بنایا ای سانوں کچ دا کھڈونا، آپے بنانا تے آپےمٹانا۔۔" ایک سنجیدہ گیت تھا جو ملکہ ترنم نورجہاں کی مترنم آواز میں دل میں اتر جاتا ہے۔
- "بچ جا منڈیا موڑ توں، میں صدقے تیری ٹوہر توں۔۔" ایک سپرہٹ کورس گیت تھا جس میں میڈم نورجہاں کے ساتھ پپو پکھراج اور سکھیاں تھیں۔
یہ گیت میڈم کے علاوہ ان کی پہلی سوتن، اداکارہ یاسمین اور ساتھیوں پر فلمایا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم کے عکاس جعفربخاری تھے جو یاسمین کے شوہر تھے۔ عین ممکن ہے کہ یہی فلم اور گیت میڈم نورجہاں اور شوکت حسین رضوی کی ازدواجی زندگی میں چنگاری بن گیا ہو۔۔؟
اس فلم کا یہ واحد گیت تھا جو معروف پنجابی شاعر استاد دامن نے لکھا تھا۔ باقی سبھی گیت ایف ڈی شرف کے لکھے ہوئے تھے۔ - فلم چن وے (1951) میں ایک اور کورس گیت تھا "تیرے لونگ دا پیا لشکارا تے ہالیاں نے ہل ڈھک لے۔۔" ممکن ہے کہ یہ کوئی لوک گیت ہو البتہ پہلی بار فلم لارے (1950) میں بابا چشتی نے عنایت حسین بھٹی اور منورسلطانہ سے گوایا تھا اور اس گیت کا مکھڑا ایک بھارتی فلم میں محمدرفیع اور لتا منگیشکر نے بھی نقل کیا تھا۔
فلم چن وے (1951)
میڈم نورجہاں کی پاکستان میں پہلی فلم چن وے (1951)، ان کی اپنی مادری زبان "پنجابی" میں، اپنی فلم کمپنی "شاہ نور فلمز" کے بینر تلے، اپنے فلمی سٹوڈیو "شاہ نور فلم سٹوڈیو" میں تیار ہوئی اور اپنے ہی سینما، ریجنٹ میں جمعرات 29 مارچ 1951ء کو ریلیز ہوئی جہاں مسلسل 18 ہفتے یعنی ساڑھے چار ماہ تک چلتی رہی لیکن سلورجوبلی نہیں کر سکی البتہ ایک کامیاب فلم شمار ہوئی تھی۔
فلم چن وے (1951)
فلم چن وے (1951) کے فلمساز اور سپروائزر، میڈم کے شوہر سید شوکت حسین رضوی اور ہدایتکارہ اور مرکزی ہیروئن (اور گلوکارہ)، میڈم خود تھیں جو پاکستان کی فلمی تاریخ کی پہلی خاتون ڈائریکٹر بھی ریکارڈ ہوئیں۔ لیکن اصل ہدایتکار تو شوکت حسین رضوی تھے جنھیں زعم تھا کہ وہ خالص اردو بولنے والے ایک برتر شخص ہیں اور پنجابی بولنے والے کم تر لوگ ہوتے ہیں، اس لیے انھوں نے ایک پنجابی فلم کے لیے اپنا نام دینا پسند نہیں کیا تھا۔
"انارکلی" جیسی لافانی کہانی لکھنے والے ممتاز ادیب، سید امتیاز علی تاج کی کسی کہانی کو (غالباً) پہلی بار پنجابی زبان میں فلمایا گیا تھا۔
فلم چن وے (1951) کے اداکاروں میں ہیروئن، میڈم نورجہاں کے علاوہ سنتوش، جہانگیر، غلام محمد اور سلیم رضا اہم کردار تھے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ نورجہاں کی جوڑی جہانگیر کے ساتھ تھی جو پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) میں سیکنڈ ہیرو تھے۔ اداکار جہانگیر، اداکار شامل خان کے والد اور ماضی کے دو مشہور اداکاروں، سلطان اور اورنگزیب کے بڑے بھائی بتائے جاتے ہیں۔ غلام محمد نے ولن کا رول کیا اور میڈم نورجہاں کی "پہلی سوتن" یاسمین نے ایک معاون اداکارہ کا رول کیا تھا۔
ایک پنجابی فلم کیوں۔۔؟
اس دور کے کچھ ناقدین کے خیال میں یہ میڈم نورجہاں کی تنزلی تھی کہ کہاں بمبئی کی بڑی بڑی ہندی/اردو کی سپرسٹار اور کہاں ایک علاقائی اور "غیر مہذب زبان" میں بننے والی پنجابی فلم، ان کے خیال میں کم از کم کسی پاکستانی اردو فلم ہی میں آ جاتیں تو کوئی فخر کی بات ہوتی۔۔!
سوال یہ تھا کہ پھر پنجابی فلم بنانے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی۔۔؟
اصل میں چن وے (1951) سے قبل جو 22 پاکستانی فلمیں ریلیز ہوئیں، ان میں سے صرف ایک پنجابی فلم پھیرے (1949) ہی سپرہٹ تھی جس نے مسلسل چھ ماہ چلتے ہوئے اصل سلورجوبلی کی تھی۔
یاد رہے کہ اس وقت تک بھارتی فلمیں، پاکستانی سینماؤں میں آزادانہ طور پر ریلیز ہوتی تھیں اور فلم بینوں اور سینما مالکان کے لیے ملک کی تقسیم سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔
ایک اردو فلم دو آنسو (1950) کو بھی "سلورجوبلی" فلم کہا جاتا ہے لیکن وہ "جعلی جوبلی" تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ صرف 13 ہفتے چلی لیکن کراچی کے دیگر سینماؤں کو ملا کر اس کے کل 26 ہفتے بنا لیے گئے تھے۔ ایسی دھاندلی صرف پاکستان میں ہوتی ہے، ہمارے پڑوسی ملک میں تقسیم سے قبل یا بعد میں کبھی نہیں ہوئی۔
فلم چن وے (1951) کی کہانی
-
فلم چن وے (1951) کی کہانی نورجہاں کے گرد گھومتی ہے جو یتیم ہونے کے بعد اپنے چچا (غلام محمد) کے ساتھ رہتی ہے جو جائیداد کے لالچ میں اس کی ماں (نفیس بیگم) سے شادی کر لیتا ہے اور نورجہاں کی شادی اپنے بیٹے (سلیم رضا) سے کرنا چاہتا ہے۔
فلم چن وے (1951)
سنتوش کی عجیب و غریب محبت پر اس وقت بم گرتا ہے جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ نورجہاں کو گاؤں میں آئے ہوئے ایک ڈاکٹر (جہانگیر) سے محبت ہو گئی ہے۔ وہ شکستہ دل سے ان کے راستے سے ہٹ جاتا ہے۔
چچا (غلام محمد) کی مخالفت کے باوجود جہانگیر کا نورجہاں سے خفیہ نکاح ہو جاتا ہے لیکن دوسرے ہی دن اسے بیرونِ ملک جانا پڑتا ہے۔ کچھ عرصہ بعد نورجہاں، امید سے ہوتی ہے تو اس کو عدم ثبوت کی بنا پر بدچلنی کے الزام میں دیس نکالا مل جاتا ہے۔ وہ، ایک بیٹے کو جنم دیتی ہے۔ اس دوران سنتوش اس کی حفاظت کرتا ہے۔
جہانگیر واپسی پر نورجہاں اور سنتوش کی قربت سے شک میں مبتلا ہو جاتا ہے لیکن ایک آتشزدگی میں اسے بچاتے ہوئے سنتوش، اپنی جان پر کھیل جاتا ہے اور زخمی چچا، مرنے سے قبل سچ بولتے ہوئے نورجہاں کی پاکدامنی کی گواہی دیتا ہے جس پر ہیرو ہیروئن مل جاتے ہیں اور فلم کا خوشگوار اختتام ہو جاتا ہے۔
فلم کی کہانی خاصی طویل تھی جو بور کرتی ہے۔ اگر فلم میں سپرہٹ گیت نہ ہوتے تو شاید فلم بری طرح سے پٹ جاتی۔
"بدصورت اور بھدی ہیروئن"
میڈم نورجہاں کی فلم چن وے (1951) پر تحقیق کرتے ہوئے لاہور سے شائع ہونے والے ایک ممتاز ماہانہ ادبی رسالے 'نیرنگ خیال' کے ستمبر 1951ء کے شمارے میں اس فلم پر ایک دلچسپ تبصرہ نظر سے گزرا جو بلا تبصرہ پیش کیا جارہا ہے:
-
"پاکستانی فلم انڈسٹری کا مستقبل کتنا تاریک ہے؟ اسکا اندازہ فلم 'چن وے' سے ہو سکتا ہے۔۔!
پبلک کی تمام توقعات بری طرح مجروح ہوئیں۔ کمپنی کے پاس نئی مشینری، اپنا سٹوڈیو، قابل ڈائریکٹر، مقبول ہیروئن، ممتاز افسانہ نگار لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔.!
افسانہ، ایسا مہمل کہ اسے سید امتیاز علی تاج کے نام سے نسبت دیتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔ سید شوکت حسین صاحب ایسے سوجھ بوجھ سے خالی ثابت ہوئے۔ یہ جانتے ہوئے کہ ہیروئن کی سب سے بڑی خصوصیت صرف اسکی موسیقی ہے جس کی کشش ہیروئن کی بدصورتی اور بھدے پن کو زائل کر سکتی تھی لیکن 'چن وے' میں صرف دو گانے ہیروئن کے کامیاب ہوئے ہیں۔ اگر شوکت صاحب کوشش کرتے ہو تو چار پانچ گانے کا میاب ہوسکتے تھے۔ اس فلم کے جملہ عیوب کی کچھ تو پردہ پوشی ہو جاتی مگر لال بجھکڑوں کو کون سمجھائے۔۔؟
فلم 'چن دے' دیکھ کر محسوس ہوا کہ پاکستان میں اس صنعت کے لیے شاید کبھی میدان نہ بن سکے گا۔۔!"
ماہنامہ 'نیرنگ خیال' لاہور کا اجراء 1924ء میں ہوا۔ مدیراعلیٰ حکیم یوسف حسن تھے۔ اس رسالے نے "سال نمبر" شائع کرنے کی ابتداء کی اور علامہ اقبالؒ کی زندگی ہی میں ان کی شاعری پر "اقبال نمبر" شائع کیا تھا۔ غالباً ابھی چھپ رہا ہے۔
فلم چن وے(1951) کا پوسٹر
اس مضمون کے آغاز میں فلم چن وے (1951) کا جو پوسٹر ہے، وہ AI کی مدد سے بنایا گیا ہے۔۔!
عام طور پر جعل سازی کے سخت خلاف ہوں لیکن بدقسمتی سے ماضی میں پیشہ ور جعل سازوں نے بہت سے حقائق مسخ کیے ہیں اور اب تو AI کی مدد سے کچھ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اس کا بہترین جواب یہی ہے کہ اس جعل سازی کو مثبت انداز میں استعمال کیا جائے۔
گزشتہ مضمون میں فلم جگنو (1947) کا پوسٹر "مجبوراً" بنانا پڑا جو ایک دلچسپ اور کامیاب تجربہ تھا۔ اس مضمون کے لیے فلم تیری یاد (1948)، پھیرے (1949) اور لارے (1950) فلموں کے پوسٹرز بھی بنائے۔ فلم چن وے (1951) کے پوسٹروں میں سے تین پوسٹر سامنے تھے لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی معیاری نہیں تھا۔
ایسے میں "مصنوعی ذہانت" یا "اے آئی" کو دعوت دی کہ وہ اپنے طور پر فلم چن وے (1951) کے ایک پوسٹر کو ری ڈیزائن کرے لیکن مایوسی ہوئی۔
نتیجہ مندرجہ بالا تصاویر میں سے اوپر بائیں طرف کی پہلی تصویر تھی جس میں نورجہاں کی تصویر کے علاوہ باقی سب فضولیات تھیں۔ AI کی اردو بھی خاصی کمزور نظر آئی جس میں اس کا اپنا کوئی قصور نہیں کیونکہ گوگل سرچ ہو یا مصنوعی ذہانت، ان کی تمام تر معلومات انٹرنیٹ پر موجود مواد تک محدود ہیں اور اسی مواد کی روشنی میں وہ "سوچ" سکتے ہیں یا کوئی کام کر سکتے ہیں۔
اس کے بعد فلم پوسٹر کے ڈیزائن کے بارے میں ایک واضح تحریری "پرامپٹ" دیا۔ اب کی بار نتیجہ قدرے بہتر تھا لیکن نورجہاں کی تصویر واضح نہیں تھی۔ چند مزید کوششوں کے بعد جو نتیجہ سامنے آیا، وہ اس مضمون کے آغاز میں دیا گیا فلم چن وے (1951) کا پوسٹر ہے۔
ویسے AI تصوراتی تصاویر تو بہت اچھی بنا لیتا ہے لیکن حقیقی عکس کے ساتھ تھوڑا بہت مسئلہ ہے۔ تصاویر کو رنگین کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا ہے جبکہ گرافک اور کوڈنگ میں گھنٹوں کا کام منٹوں میں ہو جاتا ہے۔ سرچ کی جگہ سمری آسان ہے لیکن تحقیقی کام پھر بھی خود ہی کرنا پڑتا ہے۔
بلاشبہ AI یا "مصنوعی ذہانت"، مجھ جیسے لوگوں کے لیے بہت بڑی نعمت ثابت ہوئی ہے جو اپنا ہر کام خود کرنے کے عادی رہے ہیں، الحمدللہ۔۔!
Noorjahan: 9 film songs in 1951
(0 Urdu and 9 Punjabi songs)
1. | 1951(Film:Chann Vay -Punjabi)Singer(s): Noorjahan, Pukhraj Pappu & Co., Music: Feroz Nizami, Poet: Ustad Daaman, Actor(s): Noorjahan, Yasmin & Co. |
2. | 1951(Film:Chann Vay -Punjabi)Singer(s): Noorjahan, Music: Feroz Nizami, Poet: F.D. Sharf, Actor(s): Noorjahan |
3. | 1951(Film:Chann Vay -Punjabi)Singer(s): Noorjahan, Feroz Nizami, Music: Feroz Nizami, Poet: F.D. Sharf, Actor(s): Noorjahan, Jahangir |
4. | 1951(Film:Chann Vay -Punjabi)Singer(s): Noorjahan, Music: Feroz Nizami, Poet: F.D. Sharf, Actor(s): Noorjahan |
5. | 1951(Film:Chann Vay -Punjabi)Singer(s): Noorjahan, Music: Feroz Nizami, Poet: F.D. Sharf, Actor(s): Noorjahan |
6. | 1951(Film:Chann Vay -Punjabi)Singer(s): Noorjahan, Music: Anwar Karimdad, Poet: F.D. Sharf, Actor(s): |
7. | 1951(Film:Chann Vay -Punjabi)Singer(s): Noorjahan, ?, Ali Bakhsh Zahoor & Co., Music: Feroz Nizami, Poet: F.D. Sharf, Actor(s): Noorjahan, Santosh & Co. |
8. | 1951(Film:Chann Vay -Punjabi)Singer(s): Noorjahan, ? & Co., Music: Feroz Nizami, Poet: F.D. Sharf, Actor(s): Noorjahan & Co. |
9. | 1951(Film:Chann Vay -Punjabi)Singer(s): Noorjahan, Music: Feroz Nizami, Poet: F.D. Sharf, Actor(s): Noorjahan |
Pakistan Film Magazine
Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.
پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔
یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔
اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔

