100th Birthday celebration of

Melody Queen Madam Noor Jehan

Part 4: Noor Jehan in Bollywood

Madam Noor Jehan’s Bollywood debut made her a top singer-actress. ... This article covers her films, songs, press praise and the broader 1940s film context...


نورجہاں، بالی وڈ میں

میڈم نورجہاں نے کلکتہ اور لاہور کے بعد "بالی وڈ" میں بھی اپنی عظمت کی دھاک بٹھا دی تھی۔۔!

صرف پانچ برسوں یعنی 1943/47ء کی قلیل مدت میں برصغیر کی چوٹی کی گلوکارہ اور اداکارہ بن جانے والی اس عظیم فنکارہ کے سال بہ سال فنی کیرئر کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں:


1943ء کا سال

1943ء میں "بالی وڈ" کی ٹاپ ٹین فلموں میں سے تین فلمیں، میڈم نورجہاں کی تھیں۔۔!

1943ء میں برِصغیر پاک و ہند یا متحدہ ہندوستان (پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش) میں کل 97 ہندی/اردو فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں سے چوتھے، پانچویں اور چھٹے نمبر پر سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلمیں میڈم نورجہاں کی تھیں۔

میڈم نورجہاں کا بمبئی (ممبئی) یا "بالی وڈ" میں یہ پہلا سال تھا اور اپنے پہلے ہی سال، سال کی ٹاپ ٹین فلموں میں آنا غیرمعمولی کامیابی تھی۔ آئیے، ان کی فلموں اور اس دور کے اہم فنکاروں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔۔

فلم نوکر (1943)

میڈم نورجہاں کی "بالی وڈ" میں پہلی فلم نوکر (1943) بزنس کے لحاظ سے اس سال کی سبھی فلموں میں 5ویں کامیاب ترین فلم تھی۔

فلم نوکر، 18 جنوری 1943ء کو ریلیز ہوئی۔ اس سے قبل، میڈم نورجہاں کی لاہور میں بننے والی آخری فلم خاندان 13 مارچ 1942ء کو نمائش کے لیے پیش ہوئی تھی۔

گویا ان دونوں فلموں کے مابین دس ماہ کا فاصلہ تھا اور اس عرصہ میں میڈم، رضوی صاحب کے ساتھ بمبئی کی سن رائز فلم کمپنی کی دعوت پر لاہور سے بمبئی پہنچیں اور اس دوران اس فلم کی تکمیل ہوئی تھی۔ اس فلم کمپنی نے 1930/40 کی دھائیوں میں دو درجن کے قریب فلمیں بنائیں جن میں سے دو فلمیں میڈم نورجہاں کے ساتھ تھیں۔

سن رائز فلم کمپنی کی فلم نوکر (1943) کے ہدایتکار سید شوکت حسین رضوی نے معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو (55-1912) کے ایک افسانے "نوکر" پر یہ فلم بنائی۔ کہانی کے علاوہ مکالمے بھی منٹو صاحب نے لکھے جبکہ سکرین پلے دونوں نے مل کر لکھا تھا۔

فلم نوکر (1943)، ایک مسلم سوشل فلم تھی جس میں ایک وفادار ملازم "فضلو" کو خدمت اور وفاداری کا صلہ دکھ، تکلیف، تنگدستی اور قیدوبندکی صعوبتوں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ پوری فلم میں بار بار ریل انجن کی سیٹی سنائی دیتی ہے جو "فضلو" کو تلخ ماضی سے اور فلم بینوں کو سکرین سے جوڑے رکھتی ہے۔

"فضلو" کا مرکزی کردار چندرموہن نے کیا جو اپنی خوفناک آنکھوں کی وجہ سے مشہور تھے۔ میڈم نورجہاں کے روایتی ہیرو ایک گمنام اداکار اور گلوکار بلونت سنگھ تھے۔ اس وقت کے مقبول فنکار یعقوب، مرزا مشرف اور شوبھنا سمرتھ وغیرہ دیگر اہم فنکار تھے۔

فلم نوکر (1943) کی موسیقی

فلم نوکر (1943) کے موسیقار برصغیر پاک و ہند کی پہلی پنجابی فلم ہیررانجھا (1932) کے ہیرو، گلوکار اور موسیقار، رفیق غزنوی تھے جو اداکارہ/گلوکارہ سلمیٰ آغا کے نانا بھی تھے۔ آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کے علاوہ اکبر شیرانی، منشی شمس اور ناظم پانی پتی کے گیت تھے جنھیں میڈم نورجہاں کے علاوہ راج کماری، شوبھنا سمرتھ اور بلونت سنگھ نے گایا تھا۔ کوئی گیت سپرہٹ نہیں تھا لیکن مندرجہ ذیل تین دلکش گیتوں کو اس دور میں بڑا پسندکیا گیا تھا:

  • جھوم، جھوم، اے گلِ نوبہار، جھوم۔۔
    ملکہ ترنم نورجہاں اور راجکماری کا دوگانا تھا جس میں میڈم نے شوخ اور راجکماری نے المیہ انداز میں گایا تھا۔
  • جنھیں کرنا تھا دل آباد اپنا، وہی چلے آج برباد ہو کر۔۔
    شاعر اکبر شیرانی کے اس گیت کو میڈم نورجہاں نے ہیر کے سٹائل میں گایا جو دل پر بڑ ا گہرا اثر کرتا ہے۔
  • لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں، کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں۔۔
    آخری مغل بادشاہ بہادرشاہ ظفر کی یہ غزل بھی میڈم نورجہاں کی پرسوز آواز میں تھی۔
ان کے علاوہ مشہور بھارتی اداکارہ کاجول کی دادی، اداکارہ نوتن کی ماں اور اداکارہ رتن بائی کی بیٹی، اداکارہ اور گلوکارہ شوبھنا سمرتھ (2000-1916) کے کچھ گیتوں کی تعریف بھی ہوئی لیکن وہ گیت سننے کو نہیں ملے۔ شوبھنا نے فلم نوکر (1943) کے علاوہ اس سال کی تیسری کامیاب ترین فلم رام راجے (1943) میں سیتا کا رول بھی کیا تھا۔

فلم نوکر (1943) پر پریس کی رائے

فلم نوکر (1943) کے اخباری اشتہارات کے مطابق، اس فلم پر اس وقت کے پریس نے بڑی تعریف کی تھی۔ خاص طور پر میڈم کی گائیکی کا ہر کوئی معترف تھا۔ بمبئی سے شائع ہونے والے اردو فلمی رسالے "مصور" نے نورجہاں کو "بلبلِ پنجاب" کا خطاب دیا اور فلم نوکر (1943) کو فلم خاندان (1942) سے بہتر قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ اس وقت لاہور سے مسلم اردو اخبارات، "انقلاب"، "زمیندار" اور "احسان" کے علاوہ ہندو اردو اخبارات، "پرتاپ" اور "ملاپ" بھی شائع ہوتے تھے۔ ان کے علاوہ لاہور، بمبئی اور دہلی سے بڑی تعداد میں مختلف زبانوں میں اخبارات کے علاوہ خالص فلمی رسالے بھی شائع ہوتے تھے جو فلموں اور فنکاروں پر باقاعدگی سے تبصرے شائع کیا کرتے تھے۔

جب نورجہاں گرفتار ہوئیں

مدراس (چنائے) سے شائع ہونے والے "انڈین ایکسپریس" (Indian Express) کے 21 جولائی 1943ء کے شمارے میں یہ دلچسپ خبر شائع ہوئی کہ میڈم نورجہاں، شوکت حسین رضوی اور لقمان کو بمبئی پولیس نے گرفتار کرنے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔ ان پر فلم نوکر (1943) بنانے اور میڈم کو لاہور سے بمبئی آنے کی دعوت دینے والی سن رائز فلم کمپنی کے مالک وشنوکمار ویاس کی طرف سے قیمتی کاسٹیوم چوری کا الزام تھا اور مسروقہ مال برآمد بھی کر لیا گیا تھا۔

31 جولائی 1943ء کو انھیں مقدمے کا سامنا تھا لیکن شاید اس کی نوبت نہیں آئی کیونکہ سن رائز فلم کمپنی کی اگلی فلم دہائی (1943) میں بھی میڈم نے کام کیا تھا۔ البتہ ان دو فلموں کے بعد میڈم نے اس کمپنی کی کسی فلم میں کام نہیں کیا تھا۔

خبر کے متن کے مطابق، اس وقت یعنی 20 جولائی 1943ء تک، میڈم نورجہاں کی سید شوکت حسین رضوی سے شادی ہو چکی تھی۔

فلم نادان (1943)

میڈم نورجہاں کی "بالی وڈ" میں اپنے پہلے سال کی کامیاب ترین فلم نادان (1943) تھی جو اس سال کی جملہ فلموں میں بزنس کے لحاظ سے چوتھی بڑی فلم ثابت ہوئی تھی۔

فلم نادان (1943) کے مصنف، ہدایتکار اور گیت نگار ضیاء سرحدی تھے۔ اداکاروں میں میڈم نورجہاں کے علاوہ امان، مایا دیوی، جلوبائی اور روایتی ہیرو مسعود تھے۔

اداکار مسعود احمد انصاری، ایک خوبرو فلمی ہیرو تھے جنھوں نے تقسیم سے قبل درجن بھر فلموں میں کام کیا۔ پہلی فلم بہو رانی (1940) تھی۔ فلم نادان (1943) کے علاوہ اس سال کی ایک اور کامیاب فلم اشارہ (1943) میں سورن لتا کے ہیرو تھے۔ 1940 کی دھائی کی ممتاز اداکاراؤں ممتاز شانتی، شانتا کماری، انورادھا، لیلا ڈیسائی، رینوکا دیوی اور شمیم وغیرہ کے ساتھ بھی کام کیا تھا۔

1950 کی دھائی میں پاکستان آتے ہی ناکامیوں نے کہیں کا نہ چھوڑا اور پاکستان کی فلمی تاریخ کے پہلے ناکام ترین ہیرو ثابت ہوئے جن کی دس کی دس فلمیں فلاپ ہو گئی تھیں۔ غیرت (1951) پہلی اور بطورِ ہیرو، فلمساز اور ہدایتکار زنجیر (1960)، آخری فلم تھی۔ صبیحہ خانم کے ساتھ ان کی ایک فلم برکھا (1953)، آن لائن موجود ہے۔

فلم نادان (1943) میں میڈم نورجہاں نے ایک خاتون صحافی کا رول کیا جو بچپن میں مسعود کی منگیتر ہوتی ہے لیکن ایک غلط فہمی کی وجہ سے ان میں شدید اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، قسمت انھیں ایک ہی میڈیا ہاؤس میں لے جاتی ہے جہاں کا چیف بھی نورجہاں پر عاشق ہو جاتا ہے۔ محبت کی تکون کی یہ کہانی اس دور میں بڑی مقبول ہوئی تھی۔ سونے پہ سہاگہ میڈم نورجہاں کی دلکش آواز میں آدھ درجن گیت تھے جن میں متعدد آن لائن موجود ہیں:

  • اب تو نہیں کہیں دنیا میں اپنا ٹھکانہ، دشمن ہے زمانہ۔۔
  • روشنی اپنی امنگوں کی لٹا کر چل دیے۔۔
  • دل دوں کہ نہ دوں، باتوں پہ ان کی کیا بھروسہ۔۔
اس فلم کے موسیقار کے دتہ تھے جبکہ کچھ گیت تنویر نقوی نے بھی لکھے تھے۔

The One And Only

فلم نادان (1943) کے انگریزی اشتہار میں میڈم نورجہاں کی تصویر کے ساتھ جو ہیڈنگ جمائی گئی تھی، اس کا ترجمہ بنتا ہے:
  • "دی ون اینڈ اونلی" یعنی "اکلوتی" نورجہاں نے اپنے سریلے انداز میں فلم نادان (1943) میں صرف ایک یا دو نہیں بلکہ چھ گانے گائے ہیں۔
اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ میڈم نورجہاں کی آواز کا جادو کس طرح سر چڑھ کر بول رہا تھا، اور ابھی یہ ان کا بمبئی یا بالی وڈ میں پہلا سال تھا۔۔!

ضیاء سرحدی

فلم نادان (1943) کے ہدایتکار، مصنف اور گیت نگار ضیاء سرحدی کا تعلق پشاور سے تھا۔ نامور موسیقار رفیق غزنوی کے داماد، ٹی وی اداکار خیام سرحدی کے والد اور ٹی وی اداکارہ ژالے سرحدی کے دادا تھے۔

تقسیم سے قبل بطورِ ہدایتکار، ان کی آدھ درجن فلمیں ہیں جن میں سے پہلی فلم پوسٹ مین (1938) کے علاوہ لاہور میں بننے والی پنجابی فلم راوی پار (1942) بھی تھی۔ تقسیم کے بعد انھوں نے بھارت میں ہملوگ (1951) اور فٹ پاتھ (1953) بنائیں۔ پاکستان میں ان کی دو فلمیں، رہگزر (1960) اور شہر اور سائے (1974) تھیں۔

ضیاء سرحدی (97-1914) نے بطورِ مصنف، ڈیڑھ درجن فلموں میں سے فلم عورت (1940) کی کہانی بھی لکھی جس پر ہدایتکار محبوب نے مشہورزمانہ فلم مدرانڈیا (1957) بنائی تھی۔ برصغیر کی پہلی ہندی/اردو اور پنجابی ڈبل ورژن فلم علی بابا چالیس چور (1940) کی کہانی کے علاوہ پاکستان میں بطورِ مصنف، درجن بھر فلموں میں سے ان کی سب سے بڑی فلم لاکھوں میں ایک (1967) تھی۔

فلم دہائی (1943)

1943ء کی جملہ فلموں میں چھٹے نمبر پر سب سے زیادہ بزنس کرنے والی سن رائز پکچرز بمبئی اور ہدایتکار وی ایم ویاس کی ہندی/اردو فلم دہائی (1943) تھی۔

میڈم نورجہاں کی "بالی وڈ" کی چودہ فلموں میں سے یہ واحد فلم ہے جس میں انھوں نے سیکنڈ ہیروئن کا رول کیا تھا۔

فلم دہائی (1943) میں ہیروئن (شانتا آپٹے)، اپنے باپ (انصاری) کی مخالفت کے باوجود ہیرو (کمار) سے شادی کر لیتی ہے، یہ جانے بغیر کہ اس کا بھائی، اس کے خاوند کے باپ کو قتل کر کے مفرور ہے۔ اس دوران ایک نائٹ کلب کی رقاصہ اروشی (نورجہاں) بھی ہیرو کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے لیکن عشق میں ناکام ہو جاتی ہے اور فلم کے آخر میں ہیرو ہیروئن مل جاتے ہیں اور قاتل کو جیل ہو جاتی ہے۔

شانتا آپٹے (64-1916ء)، "مراٹھی فلموں کی نورجہاں" تھی جس نے صرف نو سال کی عمر میں فلمی کیرئر کا آغاز کیا اور پہلی سلورجوبلی مراٹھی اور پہلی سلورجوبلی ہندی فلموں میں کام کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ وہ، مراٹھی فلموں کی مقبول ترین اداکارہ اور گلوکارہ تھی۔ میڈم کے ساتھ اس کی یہ اکلوتی فلم تھی۔

فلم دہائی (1943) کے ہیرو کمار تھے جو پاکستان میں اپنی مشہورِ زمانہ فلم توبہ (1964) کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ وہ، اس فلم کے ہدایتکار ایس اے حافظ کے والد بھی تھے۔ اصل نام، سید میرحسن علی زیدی تھا۔ فلمی کیرئر کا آغاز فلم یاد رفتگان (1932) سے کیا اور تقسیم سے قبل سو کے قریب فلموں میں مختلف کرداروں میں نظر آئے۔ پاکستان میں دو درجن فلموں میں کام کیا، پہلی فلم فیصلہ (1959) اور آخری فلم دھڑکن (1982) تھی۔

فلم دہائی (1943) کی موسیقی بھی رفیق غزنوی نے ترتیب دی تھی۔ ان کے معاون بنسری نواز پنالال گوش اور شانتی رام تھے۔ اس فلم میں بھرت ویاس کے لکھے ہوئے میڈم نورجہاں کے دو گمنام گیتوں کا حوالہ ملتا ہے:

  • اب مست جوانی آئی۔۔
  • بڑے بے وفا ہیں مرد، ان پر بھول ہے مرنا۔۔

"ملکہ موسیقی" نورجہاں

فلم دہائی (1943) کے بمبئی (ممبئی) کے ایک اردو اخباری اشتہار میں شانتا آپٹے کو "سنگیت کی رانی" اور میڈم نورجہاں کو "ملکہ موسیقی" کا خطاب دیا گیا تھا۔

شانتا آپٹے، ایک سینئر اداکارہ اور گلوکارہ تھی اور پھر مقامی ہندو، مرہٹن اور فلم دہائی (1943) کی فرسٹ ہیروئن بھی تھی۔ اس کے باوجود اس کو صرف "رانی" کہا گیا جو عام طور پر کسی ریاست کے چھوٹے موٹے راجہ کی ہوتی تھی لیکن میڈم نورجہاں کو "ملکہ" کہا گیا جو "ملک" یعنی بادشاہ کی تانیث ہوتی ہے اور سبھی چھوٹی بڑی رانیوں پر بھاری ہوتی ہے۔

اس طرح سے اپنی بے مثل گائیکی کی بنیاد پر "بالی وڈ" میں اپنے پہلے ہی سال میں میڈم نورجہاں کو "بلبلِ پنجاب" اور "ملکہ موسیقی" کے خطابات مل چکے تھے۔ اس سے قبل لاہور کی فلم خاندان (1942) کے اشتہارات پر "ملکہ نغمہ" اور پنجابی فلم یملاجٹ (1940) کے اشتہار پر "گیتوں کی رانی" بھی لکھا گیا تھا۔۔!

یاد رہے کہ برِصغیر میں گائیکی کا پہلا بڑا نام گوہرجان (1930-1873ء) کا ہے جس سے پہلا گراموفون ریکارڈ بھی منسوب ہے۔ 1930 کی دھائی میں فلموں کو زبان ملی تو ابتدا میں ان اداکاروں کو ترجیح دی جاتی تھی جو گا بھی سکتے تھے۔ کندن لال سہگل، پہلے مکمل فلمی گلوکار اور اداکار تھے۔ مختاربیگم، اختری فیض آبادی، کجن بائی، امیربائی کرناٹکی، زہرا بائی انبالے والی اور راجکماری وغیرہ، اس دور کی بڑی گلوکارائیں تھیں لیکن ان کا بوجھل کلاسیکل انداز فلم بینوں کو زیادہ اپیل نہیں کرتا تھا۔

1940 کی دھائی میں فلمی گائیکی میں بہت بڑی تبدیلی آئی جب عظیم موسیقار ماسٹر غلام حیدر نے لاہور کی فلم خزانچی (1941) میں فلمی گائیکی کو "لائٹ میوزک" سے روشناس کروایا جو اگلی کئی دھائیوں تک مقبول ترین فلمی میوزک ثابت ہوا۔ گلوکارہ شمشاد بیگم کو اسی فلم سے بے حد مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔

فلم تان سین (1943) سے خورشید بھی صفِ اول کی گلوکارہ اور اداکارہ بن گئی تھی۔ اسی دور میں ثریا بھی اداکاری اور گلوکاری کے میدان میں روشناس ہوئی۔ اس دھائی کے آخر تک لتا منگیشکر اور آشا بھونسلے بھی سامنے آئیں لیکن میڈم نورجہاں کے سامنے کسی کا چراغ نہ جل سکا جو ایک بے مثل سریلی گلوکارہ تو تھیں لیکن اپنے حسن و جمال کی وجہ سے کامیاب ترین اداکارہ بھی ثابت ہوئیں اور 1940 کی دھائی انھی کے نام تھی۔

سعادت حسن منٹو

میڈم نورجہاں کی اس سال کی دو فلموں، نوکر اور دہائی (1943) کے مصنف، معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو (55-1912) نے تقسیم سے قبل متعدد فلموں کی کہانیاں، مکالمے اور منظرنامے لکھے تھے۔

سعادت حسن منٹو، اپنی روشن خیالی، عامیانہ سوچ اور فلمی دنیا کے سکینڈلز عام کرنے کی وجہ سے زیادہ مشہور اور متنازعہ تھے۔ اپنے سمیت دیگر فلمی رائٹروں کو طنزیہ "منشی" کہتے تھے۔

منٹو کو فلمی دنیا میں کوئی خاص کامیابی نہیں ملی لیکن برصغیر پاک و ہند کی پہلی رنگین فلم کسان کنیا (1937) کی کہانی اور مکالمے لکھے۔ ان کے ایک افسانے پر بننے والی فلم جھمکے(1947) کو اسی نام سے فلمایا گیا تھا۔ تقسیم کے بعد پاکستان میں اس کا ری میک بدنام (1966) کی صورت میں بنایا گیا تھا۔ تقسیمِ ہند پر بنائی گئی فلم بیلی (1951) بھی انھی کے ایک افسانے سے ماخوذتھی۔ انتقال کے بعد بھی ان کے متعدد افسانے فلمائے گئے جن میں اک گناہ اور سہی (1975) اور لائسنس (1976) وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

سعادت حسن منٹو پر سرمدکھوسٹ نے ایک فلم منٹو (2015) بنائی جس میں انھوں نے خود ٹائٹل رول کیا تھا۔ بھارت میں بھی منٹو پر 2018ء میں ایک فلم بنائی گئی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم دہائی (1943) کی تکمیل کے دوران، عاشق مزاج موسیقار رفیق غزنوی کے نورجہاں پر لٹو ہونے کا قصہ اس فلم کے رائٹر سعادت حسن منٹو کی مشہور کتاب "نورجہاں، سرورجہاں" میں ملتا ہے۔ اس وقت تک میڈم کی شادی، شوکت حسین رضوی سے نہیں ہوئی تھی اور مذکورہ کتاب میں ان دونوں کے شادی سے قبل کے تعلقات کو بڑے ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا ہے جو Love & Hate کی ایک مثال تھے۔

1943ء کی دیگر ٹاپ ٹین فلمیں

1943ء میں دوسری جنگِ عظیم جاری تھی لیکن متحدہ ہندوستان میں فلمی بزنس اپنے عروج پر تھا۔ اس سال کی ٹاپ ٹین فلموں کا مختصراً حوالہ ملاحظہ فرمائیں:

  • بمبے ٹاکیز کی فلم قسمت (1943)، ہندوستان کی پہلی بلاک باسٹر فلم تھی جس نے اس وقت کا ایک کروڑ روپے کا بزنس کیا تھا۔ یہ برصغیر پاک و ہندد کی پہلی "ڈائمنڈجوبلی" ہندی/اردو فلم تھی جس نے کلکتہ کے راکسی سینما پر مسلسل تین سال چلتے ہوئے 187 ہفتے چلنے کا ایسا ریکارڈ قائم کیا جو 32 سال بعد گبرسنگھ کی فلم شعلے (1975) نے توڑا تھا۔
    فلم قسمت (1943) نے ہیرو اشوک کمار کو ہندی سینما کا پہلا سپرسٹار بنا دیا تھا۔ اسی فلم میں پہلی بار ہیرو کو مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث دکھایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک قومی گیت "آج ہمالا کی چوٹی سے پھر ہم نے للکارا ہے، دور ہٹو اے دنیا والو، ہندوستان ہمارا ہے۔۔" فلم کی جان تھا، جو اس فلم کی غیرمعمولی مقبولیت کی وجہ بھی بنا۔
    ولی صاحب کی بیگم، ممتاز شانتی ہیروئن جبکہ تیسرا اہم کردار اداکار شاہ نواز کا تھا جو تقسیم کے بعد پاکستان چلے آئے اور متعددفلموں کے علاوہ فلم ایاز (1960) میں سلطان محمود غزنوی کا یادگار کردار بھی کیا تھا۔
  • اس سال دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم تان سین (1943) تھی جو اس سال کی سب سے بڑی نغماتی کاسٹیوم فلم بھی تھی۔ اس فلم کے دیگر مقبول گیتوں میں سے برصغیر کے پہلے عظیم گلوکار کندن لال سہگل کا گیت "دیا جلا، جگ مگ جگ مگ، دیا جلا۔۔" ایک سدا بہار گیت ثابت ہوا تھا۔
    نامور گلوکارہ اور اداکارہ خورشید کے متعدد گیت بھی بڑے مقبول ہوئے تھے۔ وہ بھی تقسیم کے بعد پاکستان چلی آئی تھی، دو فلموں میں کام کیا لیکن ناکام ہوئی اور باقی زندگی گوشہ گمنامی میں گزاری تھی۔
  • اس سال کی تیسری بڑی فلم رام راجے (1943) تھی جو اکثریتی آبادی یعنی ہندوؤں کی ایک مذہبی فلم تھی جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ سو ہفتے چلی اور واحد فلم تھی جس کو مہاتما گاندھی نے بھی دیکھا تھا۔
    دوسری جنگِ عظیم کی وجہ سے فلمسازی کے لیے خام مال کی قلت کی وجہ سے انگریز سرکار نے فلموں کی لمبائی کی حد گیارہ ہزار فٹ مقرر کی ہوئی تھی لیکن اس دھارمک فلم کو خاص استثنا حاصل تھا۔
  • 1943ء میں چوتھے، پانچویں اور چھٹے نمبر پر میڈم نورجہاں کی فلمیں، نادان، نوکر اور دہائی (1943) آئیں۔ ساتویں نمبر پر آنے والی فلم گوری (1943) میں پرتھوی راج کپور اور ان کے بیٹے راج کپور کے علاوہ ہیروئن شمیم بھی تھی جو تقسیم کے بعد پاکستان چلی آئی۔ متعدد فلموں میں کام کیا اور فلمساز اور ہدایتکار انورکمال پاشا سے شادی کرنے کے بعد فلمی دنیا کو خیرآباد کہہ دیا تھا۔
  • آٹھویں نمبر پر فلم ہماری بات (1943) آئی جس میں دیوکا رانی اور ثریا کے ساتھ جے راج اور راج کپور تھے جبکہ شاہنواز بھی فلم کی کاسٹ میں شامل تھے۔
  • نویں نمبر پر ہدایتکار محبوب خان کی فلم تقدیر (1943) تھی جس میں معروف اداکارہ نرگس نے صرف 14 سال کی عمر میں ہیروئن کا رول کیا تھا۔ موتی لال ہیرو تھے۔ اس فلم کا ایک اہم کردار نورمحمدچارلی تھے جو 1930/40 کی دھائیوں میں ایک مقبول کامیڈین تھے۔ تقسیم کے بعد پاکستان چلے آئے، متعددفلموں میں کام کیا لیکن کامیابی سےمحروم رہے تھے۔
    فلم تقدیر (1943) کی موسیقی بھی رفیق غزنوی نے دی اور بیشتر گیت شمشاد بیگم نے گائے۔ دیس بھگتی کے گیتوں کے اس دور میں اس فلم کے یہ دو گیت بڑے مقبول ہوئے تھے: "میری ماتا، میری ماتا، بھارت ماتا۔۔" اور "سورج کی طرح روشن تقدیر ہماری ہے، بدلے جو زمانے کو تدبیر ہماری ہے۔۔"
  • اس سال کی دسویں کامیاب ترین فلم معروف گلوکارہ اور اداکارہ ثریا کی جوانی کے کردار میں پہلی فلم اشارہ (1943) تھی جس کےہیرو مسعود اور روایتی ہیروئن سورن لتا تھیں جو تقسیم کے بعد اپنے اداکار،فلمساز اور ہدایتکار شوہر نذیر کے ساتھ پاکستان چلی آئی تھیں اور پاکستان کی پہلی سپرہٹ پنجابی اور نغماتی فلم پھیرے (1949) کی ہیروئن بنی تھیں۔ عظیم موسیقار خواجہ خورشید انور کی یہ پہلی فلم تھی۔

1943ء کے دیگر اہم واقعات

  • 1943ء میں انگریز حکومت نے پہلی بار ملک بھر کے سینماؤں میں سرکاری "نیوز ریل" دکھانا لازمی قرار دیا تھا۔ یہ ہفتہ بھر کی ملکی اور غیرملکی خبروں پر مشتمل دس پندرہ منٹ کی ایک ڈاکومنٹری فلم ہوتی تھی۔ میرے ذہن پر آج بھی اپنے مقامی سینما پر چلنے والی ایسی نیوز ریلیں نقش ہیں۔ ٹی وی کی آمد کے بعد یہ سلسلہ غیر ضروری ہوگیا تھا۔
  • 8 اگست 1942ء کو شروع کی گئی مہاتما گاندھی کی Quit India Movement کی وجہ سے برطانوی سامراج سے آزادی کا جذبہ عروج پر تھا جس کی جھلک اس سال کی متعدد فلموں اور قومی گیتوں میں ملتی ہے۔
  • 1943ء میں جب جرمنی کو روس سے سٹالن گراڈ کے محاصرے میں سخت ناکامی کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی ٹینکوں کی جنگ میں بھی شکست ہوئی تو دوسری جنگِ عظیم کے نتائج واضح ہونا شروع ہو گئے تھے۔ جرمنی کے اتحادی اٹلی کے مسولینی کا تختہ بھی الٹ دیا گیا تھا۔ شمالی افریقہ، سسلی اور بحرالکاہل میں اتحادیوں کی کامیابیوں نے جرمنی کے اتحادی جاپان کو بھی پسپائی پر مجبور کر دیا تھا۔
  • اپریل مئی 1943ء میں ڈکٹیٹر ہٹلر کے نازی جرمنی نے واساوا (پولینڈ) میں یہودیوں کی بغاوت کو کچلنے کے لیے بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیا جس کو تاریخ میں "ہولوکوسٹ" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس میں ساٹھ لاکھ کے قریب یہودی مارے گئے تھے۔
  • اسی سال بنگال کا مشہورِ زمانہ قحط بھی پڑا جس کی بظاہر وجہ اکتوبر 1942ء کا تباہ کن طوفان تھا جس میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بنے۔ متعددی بیماریاں پھیلنے، آپا دھاپی اور اناج کی شدید قلت کی وجہ سے بے شمار لوگ بھوک سے بلک بلک کر جان بحق ہوئے۔ برما پر جاپان کے قبضہ کی وجہ سے مشرقِ بعید سے چاول کی تجارت بھی متاثر ہوئی اور جو اناج باقی بچا، اس کو انگریز سرکار نے فوج کے لیے مختص کر دیا جس پر کڑی تنقید ہوئی لیکن تاریخ میں ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور ہر جنگ کی سب سے بڑی قیمت سویلین آبادی ہی کو چکانا پڑتی ہے۔
  • 1943ء میں کوئی پنجابی فلم ریلیز نہیں ہوئی۔ لاہور میں صرف تین فلمیں بنیں جن میں فلم پونچی (1943)، بطورِ موسیقار ماسٹرغلام حیدر کی آخری فلم تھی، پھر وہ بھی بمبئی چلے گئے تھے۔
  • 1943ء ہی میں عظیم اداکار علاؤالدین نے بمبئی کی فلم سنجوگ (1943) سے فلمی کیرئر کا آغاز کیا۔ معروف بھارتی اداکار راج کپور، معاون اداکار کے طور پر سامنے آئے جبکہ مشہور بھارتی گلوکارہ آشا بھونسلے نے صرف دس سال کی عمر میں اپنا پہلا گیت ایک مراٹھی فلم کے لیے گایا تھا۔

1944ء کا سال

1944ء میں میڈم نورجہاں نے "بالی وڈ" میں اپنا پہلا سپرہٹ گیت گایا تھا۔۔!

میڈم نورجہاں کی اصل پہچان تو گائیکی ہی تھی، اداکاری، ایک اضافی خوبی تھی۔ لاہور میں بننے والی ہندی/اردو فلم خاندان (1942) میں صرف ایک روایتی ہیروئن تھیں لیکن ان کی دلکش آواز میں گائے ہوئے غیرمعمولی گیتوں نے پورے برِصغیر میں دھوم مچا دی تھی اور اسی خوبی کے بل بوتے پر فلمی مرکز بمبئی تک پہنچ گئی تھیں۔

1944ء میں متحدہ ہندوستان میں کل 93 ہندی/اردو اور پنجابی فلموں کا ریکارڈ ملتا ہے جن میں سے دو فلمیں میڈم نورجہاں کی تھیں۔ ان میں فلم دوست (1944)، سالِ رواں کی جملہ فلموں میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی دوسری بڑی فلم تھی جبکہ لال حویلی (1944) بھی ایک کامیاب فلم تھی۔

فلم دوست (1944)

"نوین پکچرز" کی ہندی/اردو فلم دوست (1944) کے ہدایتکار، میڈم نورجہاں کے شوہرِ نامدار، سید شوکت حسین رضوی تھے۔ یہ ان کی فلم خاندان (1942) اور نوکر (1943) کے بعد مسلسل تیسری کامیاب فلم تھی۔ اس طرح سے کامیاب فلموں کی ہٹ ٹرک کرنے میں کامیاب رہے لیکن اس کے لیے مکمل طور پر میڈم نورجہاں کے محتاج تھے جو ان فلموں کی ہیروئن ہونے کے علاوہ گلوکارہ بھی تھیں۔

فلم دوست (1944) کے موسیقار سجادحسین اور گیت نگار شمس لکھنوی تھے۔ اسی فلم میں میڈم نورجہاں نے بمبئی کی فلموں میں پہلا سپرہٹ گیت گایا تھا:

  • بدنام محبت کون کرے اور عشق کو رسوا کون کرے۔۔
یہ گیت آن لائن موجود ہے اور بڑا ہی دلکش ہے۔ میڈم کی گائیکی کے علاوہ اس کی دھن اور خاص طور پر شاعری بڑے کمال کی ہے۔ بچپن میں یہ گیت آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس پر بھولے بسرے گیتوں میں اکثر سننے کا موقع ملتا تھا اور سوچا کرتا تھا کہ کیا انڈیا کے پاس بھی کوئی نورجہاں ہے۔۔؟

فلم دوست (1944) میں میڈم نورجہاں کے دیگر گیت بھی اس دور میں بڑے مقبول ہوئے جن میں مندرجہ ذیل گیت قابلِ ذکر ہیں:

  • اب کون ہے میرا، دکھ درد نے گھیرا مجھے۔۔
  • الم پہ الم،ستم پہ ستم، ہم اٹھائے ہوئے ہیں۔۔
  • کوئی پریم کا دے کے سندیسا، ہائے لوٹ گیا۔۔

فلم دوست (1944) کی کہانی

مصنف ڈی آر زویری کی لکھی ہوئی کہانی ایک ایسے بددیانت شخص کی کہانی ہے جو اپنی یتیم بھتیجی کی جائیداد ضبط کر لیتا ہے اور وہ بے آسرا ہو جاتی ہے۔ ایک مہربان ڈاکٹر اور اس کی رحمدل بیوی، اس بچی کی پرورش کرتے ہیں۔ بڑے ہونے پر اس کا حق دلوانے کے لیے قانونی جنگ لڑتے ہیں جس میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور بڑی تگ و دو کے بعد یتیم بھتیجی کو اس کا حق مل جاتا ہے۔

فلم کی مرکزی جوڑی میڈم نورجہاں اور موتی لال کی ہے۔ حسن بانو، مایا بینرجی، کنہیا لال اور مرزا مشرف کے علاوہ نامور پاکستانی ولن اداکار ہمالیہ والا بھی اس فلم کے اہم کردار تھے۔

فلم لال حویلی (1944)

میڈم نورجہاں کی اس سال کی دوسری اور آخری فلم لال حویلی (1944) تھی جس میں ان کے دو ہیرو تھے۔

بمبے سائن ٹون کی ہندی/اردو فلم لال حویلی (1944) کے ہدایتکار کے بی لال تھے۔ آر ایس چوہدری کی کہانی کے مکالمے وجاہت مرزا اور آغا جانی کاشمیری نے لکھے تھے۔ فلم کی کاسٹ میں میڈم نورجہاں کے علاوہ ان کے دو ہیرو، سریندر اور الہاس تھے جبکہ یعقوب، کنہیا لال، مایا بینرجی، بدری پرساد اور غوری، دیگر اہم کردار تھے۔ ممتاز بھارتی اداکارہ مینا کماری نے میڈم نورجہاں کے بچپن کا رول کیا تھا۔

1944ء کی جن ٹاپ سیون فلموں کی فہرست ملتی ہے، اس میں فلم لال حویلی (1944) کا ذکر نہیں ملتا لیکن اس فلم کو اداکار سریندر کی تین کامیاب ترین فلموں میں سے ایک شمار کیا گیا ہے۔

فلم لال حویلی (1944) کا میوزک

فلم لال حویلی (1944) کے گیت بھی شمس لکھنوی نے لکھے جبکہ موسیقی میرصاحب نے ترتیب دی تھی۔ کوئی گیت سپرہٹ نہیں تھا لیکن متعدد گیت پسند کیے گئے جن میں میڈم نورجہاں کے یہ گیت خاص طور پر شامل ہیں:

  • تیری یاد آئی، سانوریا، دل گبھرائے، سانوریا۔۔
  • بنتی نظر آتی نہیں تقدیر ہماری۔۔
  • موہنیا، سندر مکھڑا کھول، پنچھی، در در نہ ڈول۔۔
  • دل لے کے مکر نہ جانا، نازک ہے بہت زمانہ۔۔
یاد رہے کہ اس فلم کے کل ایک درجن گیتوں میں میڈم نورجہاں نے اپنے سات گیتوں میں سے تین دو گانے اداکار اور گلوکار سریندر کے ساتھ گائے تھے جن کے ساتھ فلم انمول گھڑی (1946) کا لازوال گیت "آواز دے کہاں ہے، دنیا میری جواں ہے۔۔" بھی ہے۔

"سریندر" اور "سریندر"

پنجاب کے شہر بٹالہ میں پیدا ہونے والے اداکار اور گلوکار سریندر (87-1910ء) نے پانچ درجن کے قریب فلموں میں کام کیا تھا۔ انھیں نامور ہدایتکار محبوب خان نے فلم دکن کوئین (1936) میں متعارف کروایا تھا۔ اس کے بعد انھیں مسلسل کاسٹ کرتے رہے۔ انمول گھڑی (1946)، ان کی سب سے بڑی فلم تھی۔ آخری فلم ابھی تو جی لیں (1977) تھیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بمبئی ہی میں بننے والی ہدایتکار محبوب خان کی فلم علی بابا (1940)، برِصغیر پاک و ہند کی پہلی ڈبل ورژن ہندی/اردو/پنجابی فلم تھی جس کا ٹائٹل رول بھی سریندر نے کیا تھا۔ اس فلم کی ہیروئن سردار اختر، محبوب خان کی بیوی تھی جبکہ اس فلم میں غلام محمد بھی تھے۔

یاد رہے کہ "اس سریندر" کے علاوہ ایک اور "سریندر" بھی تھے جو بھارتی پنجابی فلموں کے نامور کامیڈین تھے۔ مشہورِزمانہ بھارتی پنجابی اورنغماتی فلم بھنگڑا (1960) میں سریندر نے وقت کی مقبول ترین اداکارہ "نشی" کے ہیرو کا رول کیا اور ان پر محمدرفیع اور شمشاد بیگم کے سپرہٹ گیت فلمائے گئے تھے جن میں "چٹے دند ہسنوں نئیں اوں رہندے تے لوکی بھیڑے شک کردے۔۔"، "جٹ کڑیاں توں ڈردا مارا۔۔" اور "دس رویا کریں گی سانوں یاد کر کے۔۔"وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

فلم لال حویلی (1944) کی کہانی

فلم لال حویلی (1944) کی کہانی بڑی دلچسپ تھی۔ فلم کی مرکزی ہیروئن نورجہاں کی شادی، سیکنڈ ہیرو الہاس سے محض اس لیے نہیں ہو پاتی کہ ان کی رگوں میں ایک ہی خون دوڑ رہا ہوتا ہے جس سے پنڈت (کنہیا لال) کے بقول، دونوں بہن بھائی بن جاتے ہیں جو دولہا کی طرف سے معمولی احتجاج کے علاوہ سبھی تسلیم کر لیتے ہیں۔ اصل میں الہاس کو زخمی حالت میں جو خون دیا گیا ہوتا ہے، وہ اس کی منگیتر نورجہاں کا ہوتا ہے۔ اس غیر متوقع "خونی رشتے" کے قائم ہونے سے فرسٹ ہیرو سریندر کو اپنے بچپن کی پسند سے شادی کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

"خونی رشتے"

فلم لال حویلی (1944) کی کہانی کی روشنی میں غور کریں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی کو خون کا عطیہ دینے سے اس سے "خونی رشتہ" قائم ہو جاتا ہے۔۔؟

سائنسی،عقلی اور منطقی طور پر جواب بڑا واضح ہے کہ کسی کو خون دینے سے اس سے "خونی رشتہ" نہیں بن جاتا کیونکہ خون، وہ طبی عمل ہے جو ہمارے کھانے پینے سے روزانہ بنتا ہے اور جسم کے خلیات کے لاکھوں کی تعداد میں پیدا ہونے اور مرنے کی صورت میں ختم بھی ہوتا رہتا ہے۔

ایک عام انسانی جسم میں پانچ لیٹر کے قریب خون ہوتا ہے جو ریڑھ، کندھے اور سینے کی ہڈیوں کے گودے میں بنتا ہے، دل کے ذریعے سر سے پاؤں تک پمپ ہوتا ہے۔ اس میں 55فیصد سیال مادہ ہوتا ہے جس میں جسم کے اربوں خلیات تک ایندھن یا خوراک پہنچائی جاتی ہے۔ 44فیصد سرخ خلیے ہوتے ہیں جو پھیپھڑوں سے تازہ ہوا یا آکسیجن لے کر پورے جسم میں پہنچاتے ہیں جبکہ ایک فیصد سفید خلیے ہوتے ہیں جو جسم کا دفاعی نظام ہوتا ہے جو مختلف بیماریوں وغیرہ سے محفوظ رکھتاہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ خون میں جسم کی فرسٹ ایڈ یا ابتدائی طبی امداد کی صورت میں Platelets بھی ہوتے ہیں جو خون کو بہنے سے روکنے کے کام آتے ہیں۔

ہمارے ہاں عام طور پرجسم سے بہہ جانے والے خون کو "گندہ خون" کہتے ہیں۔ ہمارے ایک سابق وزیرِاعظم کا ایسا ہی خون محفوظ رکھنے کے لیے ان کے آقاؤں نے جیل سے نکال کر بغرض علاج ملک سے فرار کروایا تھا تا کہ بوقت ضرورت اس نایاب قسم کے فرمانبردار مہرے کو ایک بار پھر استعمال کیا جا سکے جو بلا حیل و حجت پرانی تنخواہ پر ہی کام کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔

حرمت کے رشتے

اصل میں "خونی رشتہ" وہ رشتہ ہوتا ہے جو "نسبی" ہو۔ یہ رشتہ خون سے نہیں بلکہ "نطفے اور کوکھ" سے چلتا ہے۔ ایسے رشتوں کو مذہبی اصطلاح میں "حرمت کے رشتے" کہتے ہیں جن سے جنسی تعلق رکھنا یا شادی و نکاح کرنا ہر مذہب اور معاشرت میں سخت منع ہے۔ دینِ اسلام میں "حرمت کے رشتے" مندرجہ ذیل ہیں:

  • انسان کا پہلا اور قریب ترین "خونی یا نسبی رشتہ"، ماں باپ کا ہوتا ہے جن کے قریب ترین رشتوں یعنی نانا نانی، دادا دادی یا ان کے اوپر کے نسبی رشتے، ان کے بہن بھائی اور بچے مثلاً ماموں، خالہ، چچا/تایا، پھوپھی وغیرہ سب شامل ہیں۔
  • انسان کا دوسرا رشتہ "بہن بھائی" ہوتے ہیں۔ ان میں اگر ایک شخص کی کئی بیویوں سے اور ایک عورت کی کئی شوہروں سے اولادیں ہیں تو وہ "سوتیلے بہن بھائی" بھی حرمت کے رشتوں میں آتے ہیں۔ "رضاعی بہن بھائی" یعنی دودھ پینے کی عمر تک جن بچوں نے ایک ہی ماں کا دودھ پیا ہے، وہ بھی حرمت کے رشتے ہیں، گویا "خونی رشتے" اصل میں "دودھ کے رشتے" ہیں۔
  • انسان کا تیسرا قریب ترین رشتہ "اولاد" کا ہوتا ہے جن سے انسان کی نسل چلتی ہے۔ اپنی اولاد کی پوری نسل یعنی پوتے پوتیاں وغیرہ بھی حرمت کے رشتے ہیں۔ بوقت نکاح، داماد اور بہو بھی حرمت کے رشتے ہیں۔
  • انسان کا ازدواجی رشتہ "بیوی" اور "شوہر" سے ہوتا ہے جس سے نسلِ انسانی آگے چلتی ہے۔ ایسے میں ان کے ماں باپ یعنی ساس، سسر اور بیک وقت دو بہنوں کا نکاح میں ہونا بھی ممنوع ہے۔
  • ان کے علاوہ، دینِ اسلام میں "کزن میرج" کی اجازت ہے جو دیگر مذاہب میں نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ" کزن میرج" کو "موروثی بیماریوں" کے ساتھ نتھی کیا جاتا ہے جو دو الگ الگ متنازعہ موضوعات ہیں۔
سوشل میڈیا پر بکھرے ہوئے ویڈیوز دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے پڑوسی ملک میں خاص طور پر سکھوں کے لیے یہ سمجھنا خاصا مشکل ہے کہ چچا/تایا، پھوپھی، خالہ یا ماموں کی اولاد سے شادی کیسے ہو سکتی ہے۔ ان کے ہاں تو اپنے محلے یا گاؤں میں شادی کا رواج تک نہیں اور ان سب کو بہن بھائی سمجھا جاتا ہے۔

ایسے میں مجھے اپنے بچپن میں سکول کے زمانے کے وہ سکھ کلاس فیلو یاد آ جاتے ہیں جو اپنی پنجابی میں "بھین دا جار" کی گالی دیا کرتے تھے۔ اس کا لغوی معنی تو "بہن کا آشنا" بنتا ہے لیکن اس وقت حیران ہوتا تھا کہ یہ کیسی عجیب گالی ہے کہ جو ہمارے پنجاب میں نہیں ہوتی تھی۔

بات فلم لال حویلی (1944) کے "خونی رشتے" سے شروع ہوئی اور کہاں تک جا پہنچی۔۔؟

چلتے چلتے ایک اور دلچسپ واقع بیان کر دوں۔ یہ فلم دیکھ کر اپنے اہلِ خانہ کے سامنے مصنوعی فکرمندی کی اداکاری کی۔ وجہ دریافت ہوئی تو فلم لال حویلی (1944) کی کہانی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک مدت تک بلڈ ڈونر رہا ہوں اور ہر چھ ماہ بعد قریباً آدھ لیٹر خون دیا کرتا تھا، نجانے میرا خون، میرے کتنے گمنام "خونی رشتہ دار" بہن بھائیوں کی رگوں میں دوڑ رہا ہوگا جن سے میں آج تک بے خبر ہوں۔۔!

1944ء کی کامیاب ترین فلمیں

1944ء میں ریلیز ہونے والی کامیاب ترین سات فلموں کا ریکارڈ دستیاب ہے جس کے مطابق میڈم نورجہاں کی فلم دوست (1944) دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم تھی لیکن فلم لال حویلی (1944) کا ذکر نہیں ملتا جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ بھی ایک کامیاب فلم تھی۔

اس فہرست میں لاہور میں بننے والی ہندی/اردو فلم داسی (1944) کا ذکر بھی نہیں ملتا جس نے لاہور کے علاوہ کراچی اور بمبئی میں بھی سلورجوبلیاں منائی تھیں۔ اس فلم کا ٹائٹل رول لاہور کی فلموں کی پہلی سپرسٹار ہیروئن راگنی نے کیا تھا اور اس کے ہیرو نجم الحسن تھے جو فلم ہیررانجھا (1970) میں ہیر کے باپ کے رول میں تھے۔ یہ فلم آن لائن موجود ہے جس میں اس وقت کے لاہور شہر کے مناظر بھی ہیں۔ اس فلم کا اخباری اشتہار ملاحظہ فرمائیں:

1944ء کی دیگر کامیاب ترین فلموں کی فہرست ملاحظہ فرمائیں:
  • اس سال پہلے نمبر پر بزنس کرنے والی نغماتی فلم رتن (1944) کے فلمساز، لاہور فلم انڈسٹری کے بانی فلمساز عبدالرشید کاردار تھے۔
    ہدایتکار، پاکستان کی مشہور نغماتی اور رومانوی فلم، بہارو پھول برساؤ (1972) کے ہدایتکار ایم صادق تھے۔ پاکستان کی پہلی سپرہٹ فلم پھیرے (1949) کی ہیروئن سورن لتا کے فلمی کیریر کی یہ سب سے بڑی فلم تھی جس میں اس کےہیرو کرن دیوان تھے جو لاہور کے ایک صحافی تھے۔ موسیقار نوشاد علی کی دھن میں زہرہ بائی انبالے والی اور امیربائی کرناٹکی کے گیت بڑے مشہور ہوئے تھے۔
  • کندن لال سہگل کی فلم بھنورہ (1944)، سال کی تیسری کامیاب ترین فلم تھی۔
  • کندن لال سہگل ہی کی فلم میری بہن (1944)، اس سال کی چوتھی کامیاب ترین فلم تھی۔
  • سریندر اور ممتاز شانتی کی ہندو لوک داستان پر بننے والی فلم بھرتھری (1944)، سال کی پانچویں کامیاب ترین فلم تھی۔
  • اداکارہ اور گلوکارہ خورشید کی ٹائٹل رول میں فلم ممتاز محل (1944)، چھٹی کامیاب ترین فلم تھی۔ چندرموہن نے شاہ جہاں کا رول کیا تھا۔ مدھو بالا نے "بے بی ممتاز" کے نام سے کام کیا تھا۔
  • عظیم موسیقار ماسٹر غلام حیدر کی بمبئی میں پہلی فلم چل چل رے نوجوان (1944)، سال کی ساتویں کامیاب ترین فلم تھی۔ اس فلم میں اشوک کمار اور نسیم بانو کے علاوہ رفیق غزنوی بھی تھے جو معاون موسیقار بھی تھے۔ سعادت حسن منٹو کی کہانی تھی۔

دلیپ کمار کی آمد

1944ء کا اہم ترین واقعہ عظیم اداکار دلیپ کمار کی فلموں میں آمد تھی۔ ان کی پہلی فلم بمبے ٹاکیز کی جواربھاٹا (1944) تھی جس میں آغا جان نامی اداکار کے مقابل سائیڈ ہیرو تھے۔

ایک گمنام اداکارہ مریدولا رانی کے علاوہ اداکارہ شمیم بھی مرکزی کرداروں میں تھی جو تقسیم کے بعد پاکستان چلی آئی اور اس نے پاکستان کی دوسری فلم شاہدہ (1949) میں ٹائٹل رول کرنے کے علاوہ فلمساز اور ہدایتکار انورکمال پاشا سے شادی کر لی تھی۔ روایت ہے کہ پاکستانی فلموں کا پہلا مکالمہ بھی اداکارہ شمیم نے ادا کیا تھا۔ پاکستان کی پہلی سلورجوبلی اردو فلم دو آنسو (1950) کی ہیروئن بھی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی سال یعنی 1944ء میں بھارتی اداکارہ سائرہ بانو بھی پیدا ہوئی جس نے صرف 22 سال کی عمر میں 1966ء میں 44 سالہ دلیپ کمار سے شادی کی تھی۔ دونوں کی عمروں میں 22 سال کا فرق تھا۔ دلیپ کمار، 1922ء میں پیدا ہوئے اور سائرہ بانو کے ساتھ 55 سالہ ازدواجی زندگی کے بعد 99 سال کی طویل عمر کے بعد 2021ء میں فوت ہوئے۔

محمدرفیع کی آمد

1944ء ہی میں برِصغیر کی فلمی تاریخ کے عظیم گلوکار محمدرفیع کی آمد بھی ہوئی تھی۔ لاہور میں بننے والی پنجابی فلم گل بلوچ (1944) میں انھوں نے گلوکارہ زینت بیگم کے ساتھ اپنا پہلا فلمی گیت گایا جس کے بول تھے:

  • سوہنیے نی ، ہیریئے نی ، تیری یاد نے آن ستایا ، ڈاہڈا پھایا۔۔
اس رنجیدہ رومانٹک گیت کی دھن موسیقار شیام سندر نے بنائی جبکہ بول محمد شفیع نامی شاعر نے لکھے تھے۔ فلم میں ہیروئن سلمیٰ اور ہیرو اور ہدایتکار گل زمان پر یہ گیت فلمایا گیا تھا۔ اسی فلم سے پاکستان کے ممتاز مزاحیہ اداکار نذر نے بھی فلمی کیرئر کا آغاز کیا تھا جبکہ بھارتی اداکارہ منورسلطانہ، اداکار سلیم رضا، مزاحیہ اداکار مجنوں اور ولن اجمل بھی فلم کی کاسٹ میں شامل تھے۔

1944ء میں میڈم نورجہاں کی صرف دو فلموں میں کام کرنے کی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ اسی سال ان کی بیٹی ظلِ ہما پیدا ہوئی تھی۔ اسی سال گلوکار شوکت علی، مزاحیہ اداکار ننھا اور خلیفہ نذیر، گیت نگار مسرور انور، ٹی وی اداکار سلیم ناصر اور قاضی واجد بھی پیدا ہوئے تھے۔

1944ء میں دوسری جنگِ عظیم اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اسی سال سبھاش چندربوس کی "آزاد ہند فوج" نے ہندوستان کو انگریزوں سے آزاد کروانے کے لیے جاپانیوں کے ساتھ مل کر ناگالینڈ اور منی پور کے علاقوں پر حملہ کیا جو برٹش انڈیا کی فوج نے بری طرح سے پسپا کر دیا تھا۔

1945ء کا سال

1945ء میں میڈم نورجہاں کو اپنی بے مثل گائیکی پر "ملکہ ترنم" کا خطاب ملا تھا۔۔!

میڈم نورجہاں نے اس سال، برصغیر کی فلمی تاریخ میں ایک منفرد اور تاحال ناقابلِ شکست ریکارڈ قائم کیا کہ جب انھوں نے بیک وقت گلوکاری اور اداکاری کے میدانوں میں اپنی عظمت کی دھاک بٹھا دی اور متحدہ ہندوستان کی کل 74 ریلیز شدہ ہندی/اردو فلموں میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی پہلی تینوں فلموں، "زینت"، " گاؤں کی گوری" اور "بڑی ماں" کی ہیروئن تھیں جبکہ ان کی چوتھی فلم "بھائی جان" بھی ایک کامیاب فلم تھی۔

1945ء، میڈم نورجہاں کے فلمی کیرئر کا انتہائی یادگار سال تھا جب ایک کیلنڈر ایئر میں ان کی ریکارڈ چار فلمیں ریلیز ہوئیں۔ ایسا پہلے یا بعد میں پھر کبھی نہیں ہوا۔ اس سال چوٹی کی اداکارہ ہونے اور "فلمی دنیا کا نور" بننے کے علاوہ گلوکاری کے میدان میں "ملکہ ترنم" کا مستقل خطاب بھی ملا جو ان کے نام کا حصہ بن گیا تھا۔

"ملکہ ترنم"

میڈم نورجہاں نے یوں تو "بالی وڈ" کی فلموں کے لیے بہت سے گیت گا لیے تھے لیکن فلم زینت (1945) کے ان دو لازوال گیتوں کی بات ہی کچھ اور تھی:

  • بلبلو مت روؤ یہاں، آنسو بہانا ہے منع، ان قفس کے قیدیوں کو غل مچانا ہے منع۔۔
  • آندھیاں غم کی یوں چلیں کہ باغ اجڑ کے رہ گیا۔۔
موسیقار حفیظ خان نے ان سدابہار اور ناقابلِ فراموش گیتوں کی ایسی شاندار دھنیں بنائیں کہ اس دور کے فلمی گیتوں سے ان لازوال گیتوں کا موازنہ کریں تو نہ صرف جدت اور انفرادیت نظر آتی ہے بلکہ یہ سمجھنا بھی آسان ہو جاتا ہے کہ کیوں میڈم نورجہاں کو وقت کے سبھی گلوکاروں پر برتری حاصل تھی اور کیوں انھیں "بلبلِ پنجاب"، "گیتوں کی رانی"، "ملکہ موسیقی"، "فلم انڈسٹری کی بہترین گلوکارہ" اور "ملکہ ترنم" کے خطابات دیے گئے تھے۔

فلم زینت (1945) کا سپرہٹ گیت "بلبلو مت روؤ۔۔" شیون رضوی کا لکھا ہوا تھا جنھوں نے پاکستانی فلموں میں بے شمار گیت لکھے اور میڈم کے ساتھ خاص طور پر فلم سالگرہ (1969) میں "لے آئی پھر کہاں پر قسمت ہمیں کہاں سے۔۔" وغیرہ یادگار گیت ہیں۔

اس فلم کا دوسرا گیت "آندھیاں غم کی یوں چلیں۔۔" نخشب کا لکھا ہوا تھا۔ وہ بھی پاکستان چلے آئے اور چند فلمیں بھی بنائیں لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔

فلم زینت (1945) میں ان دو میگاہٹ گیتوں کے علاوہ ایک اور خاص بات یہ بھی تھی کہ اس فلم میں پہلی بار ایک "زنانہ قوالی" پیش کی گئی جس کو میڈم نورجہاں کے علاوہ زہربائی انبالے والی، کلیانی اور سکھیوں نے گایا تھا:

  • "آہیں نہ بھریں، شکوے نہ کیے، کچھ بھی نہ زباں سے کام لیا۔۔"
میڈم نورجہاں کاپلے بیک سنگر کے طور پر یہ پہلا گیت ہو سکتا ہے جو خود ان پر نہیں فلمایا گیا تھا۔ اس قوالی کی دھن بھی موسیقار حفیظ خان نے بنائی اور بول نخشب نے لکھے تھے۔

فلم زینت (1945) کے گیتوں کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ اس فلم کا ایک گیت محمدرفیع کی آواز میں میڈم نورجہاں کے پس منظر میں گایا گیا جس کے بول تھے:

  • "ہائے ری دنیا، کتنی دل آزار ہے دنیا، جھوٹوں کا دربار ہے دنیا۔۔"
ایسے گیت جنھیں "ٹائٹل یا تھیم سانگ" کہا جاتا تھا، فلم کی کہانی کی ضرورت ہوتے تھے جو فلم بینوں پر بڑا گہرا اثر چھوڑتے تھے۔ پاکستانی فلموں میں ایسے پراثر گیتوں پر گلوکار مسعودرانا کو مکمل اجارہ داری حاصل ہوتی تھی۔

میڈم نورجہاں کی اداکاری

1945ء کی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی بلاک باسٹر فلم زینت (1945) میں میڈم نورجہاں نے صرف "ٹین ایج کی عمر" میں جوانی سے بڑھاپے تک کا ایک انتہائی مشکل اور سنجیدہ کردار بخوبی ادا کیا اور اپنی جذباتی اداکاری پر بے حد داد سمیٹی تھی۔

میڈم نورجہاں، مختلف انٹرویوز میں بتایا کرتی تھیں کہ فلم زینت (1945) کے کردار کے لیے ان کے ہدایتکار شوہر شوکت حسین رضوی، انھیں، کم عمری اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے اس کردار کے لیے موزوں نہیں سمجھتے تھے لیکن میڈم نے ضد کر کے یہ رول کیا اور ایسی کامیابی حاصل کی کہ بمبئی کے ایک لوکل اخبار کی طرف سے بہترین اداکارہ اور گلوکارہ کے ایوارڈز ملے اور ساتھ ہی "ملکہ ترنم" کا خطاب بھی ملا تھا۔

اصل میں کسی بھی ایوارڈ سے بڑا اعزاز اور اہمیت فلم بینوں کی پسند تھی جنھوں نے فلم زینت (1945) کو سال کی بلاک باسٹر فلم بنا دیا تھا۔

فلم بینوں کے علاوہ فلمی ناقدین نے بھی فلم زینت (1945) اور اس میں میڈم نورجہاں کی آل راؤنڈ کارکردگی (گلوکاری اور اداکاری) کی دل کھول کر تعریف کی تھی۔ انگلش فلمی میگزین "فلم انڈیا" نے میڈم نورجہاں کی تصویر کے ساتھ یہ کیپشن لگایا، (ترجمہ):
"اس لڑکی، نورجہاں نے فلمساز شیراز علی حکیم کی فلم "زینت" میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔۔"

اسی میگزین کے ایک اور شمارے میں میڈم کی ایک رنگین تصویر کے ساتھ یہ کیپشن بھی پڑھنے کو ملا (ترجمہ):
"ہماری چند ایک آل راؤنڈرز میں سے ایک، نورجہاں نے ایک مظلوم بیوہ کے کردار میں ہدایتکار شوکت حسین رضوی کی فلم "زینت" میں جذباتی اداکاری کی بلندیوں کو چھو لیا ہے۔۔"

فلم زینت (1945) کی اسی لاجواب جذباتی اداکاری کی وجہ سے میڈم نورجہاں کو زیادہ تر سنجیدہ کرداروں میں پیش کیا جاتا تھا حالانکہ شوخ کرداروں میں بہت اچھی اداکاری کیا کرتی تھیں۔

ایسٹرن پکچرز کی اردو فلم "زینت"، 16 نومبر 1945ء کو سب سے پہلے ممبئی (بمبئی) میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم کا نام، اصل میں فلم خاندان (1942) میں میڈم کے فلمی نام "زینت" پر رکھا گیا تھا۔

میڈم کے شوہر سید شوکت حسین رضوی کی بطورِ ہدایتکار یہ مسلسل چوتھی سپرہٹ فلم تھی۔ لقمان، ان کے معاون تھے۔ فلم کی کہانی اور مکالمے وجاہت مرزا چنگیزی نے لکھے جو بعد میں مدرانڈیا (1958) اور مغلِ اعظم (1960) جیسی بڑی بڑی فلموں کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ سکرین پلے، خادم محی الدین نے لکھا جو معروف ٹی وی کمپئر اور اداکار ضیاء محی الدین کے والد اور پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) کے مصنف بھی تھے۔

فلم زینت (1945) میں میڈم نورجہاں کے ہیرو سلیم رضا، ایک مہمان اداکار تھے۔ کرن دیوان اور نسیم جونیئر، سیکنڈ جوڑی تھی۔ فلم قسمت (1943) فیم اداکار شاہ نواز، ببو، جلوبائی، مجید، ہمالیہ والا اور ڈکشٹ دیگر اہم کردار تھے لیکن پوری فلم پر مزاحیہ اداکار یعقوب چھائے ہوئے تھے جن کا تکیہ کلام "رہے نام اللہ کا۔۔" زبان زدِعام ہوا تھا۔

فلم زینت (1945) کی کہانی

فلم زینت (1945)، ایک مسلم سوشل فلم تھی جس میں ٹائٹل رول کرنے والی نورجہاں کی شادی سلیم رضا سے ہوتی ہے لیکن بارات کی آتش بازی میں گھوڑے کے بدکنے سے دولہا گر کر زخمی ہو جاتا ہے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دوسرے ہی دن انتقال کر جاتا ہے۔

چند ماہ بعد جب زینت (نورجہاں) امید سے ہوتی ہے تو خاندان کے بڑوں یعنی جیٹھ اور جیٹھانی (شاہنواز اور ببو) سمیت کوئی فرد اس کی پاکدامنی پر یقین نہیں کرتا، صرف ایک دیور (یعقوب) گواہ ہوتا ہے کہ دلہن، سہاگ رات کو دولہا کے کمرے میں گئی اور صبح کے وقت نکلی تھی لیکن اس کی لاابالی طبیعت، اوٹ پٹانگ شاعری اور جملہ بازی کی عادت کی وجہ سے کوئی اسے سنجیدہ نہیں لیتا۔

نورجہاں اور سلیم رضا، فلم زینت (1945)

بے گھر ہونے کے بعد مظلوم بیوہ، ایک بچی کو جنم دے کر ایک لاوارث کے طور پر اس کے باپ کی قبر پر چھوڑ دیتی ہے۔ اتفاق سے بچی کا چچا یعقوب، اس بچی کو لے کر اپنے ایک عزیز بے اولاد میاں بیوی (مجید اور جلوبائی) کے حوالے کر دیتا ہے جو اس کی پرورش کرتے ہیں۔ نورجہاں (زینت)، کو معلوم ہو جاتا ہے اور وہ اسی گھر میں اپنی ہی بچی کی "آیا" بن کر پرورش کرتی ہے۔

بچی (نسیم جونیئر) جوان ہوتی ہے اور اس کی (کرن دیوان) کے ساتھ شادی کے دن باپ کا پوچھا جاتا ہے تو عقدہ کھلتا ہے کہ وہ، زینت (نورجہاں) کی بیٹی ہے جس پر بارات واپس جانے لگتی ہے لیکن اتفاق سے دولہا مرحوم (سلیم رضا) کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ڈائری مل جاتی ہے جس میں ان کی سہاگ رات کا ذکر ہوتا ہے جو زینت کی بے گناہی کا ثبوت بن جاتا ہے لیکن وہ اپنی بیٹی کو دلہن بنا کر دنیا سے ہی رخصت ہو جاتی ہے۔

فلم زینت (1945) کا بزنس

میڈم نورجہاں کی فلم "زینت"، 1945ء کی جملہ ہندی/اردو فلموں میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی ایک بلاک باسٹر فلم تھی جس نے برصغیر پاک و ہند کے ہر کونے میں مقبولیت حاصل کی تھی۔

لاہور میں فلم زینت (1945)، نشاط سینما (ایبٹ روڈ) میں ریلیز ہوئی اور شاندار سولو سلورجوبلی منانے میں کامیاب ہوئی۔ یہ جوبلی، پاکستان کی جعلی جوبلیوں جیسی نہیں بلکہ اصل جوبلی تھی۔ جون 1946ء کے لاہور سے شائع ہونے والے انگریزی فلمی میگزین "فلم پکچوریل" کے ایک اشتہار کے مطابق میڈم نورجہاں کے چھوٹے سے آبائی شہر قصور کے میجسٹک سینما میں یہ فلم مسلسل 19ویں ہفتے میں چل رہی تھی۔

اگست 1946ء کے انگریزی روزنامہ "انڈین ایکسپریس" کے ایک اخباری اشتہار کے مطابق، فلم زینت (1945)، جنوبی ہندوستان کے "غیرہندی" شہر بنگلور (بنگلورو) کے سٹیٹس سینما میں تیسرے ہفتے میں چل رہی تھی جبکہ مدراس (چنائے) جیسے بڑے شہر میں ریلیز ہونا ابھی باقی تھا۔

اسی اشتہار کے مطابق، اپنی نمائش کے نو ماہ بعد بھی بلاک باسٹر فلم زینت (1945)، متحدہ ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں میں مسلسل چل رہی تھی۔ بمبئی (ممبئی) میں 33ویں، لاہور میں 28ویں، دہلی میں 24ویں، الہ آباد (پریاگ راج) میں 23ویں اور کانپور میں 20ویں ہفتے میں دکھائی جا رہی تھی۔ یہ فلم آن لائن موجود ہے۔

فلم گاؤں کی گوری (1945)

1945ء کی دوسری کامیاب ترین فلم گاؤں کی گوری (1945)، میڈم نورجہاں کی اداکار نذیر کے ساتھ اکلوتی فلم تھی۔۔!

فلم گاؤں کی گوری (1945) کی روایتی کہانی بے شمار فلموں میں فلمائی جا چکی ہے۔ ہیرو (نذیر)، ایک بے کار اور بے روزگار شخص ہے جس کو دوسرے گاؤں کی لڑکی (نورجہاں) سے محبت ہو جاتی ہے لیکن شادی کے لیے کچھ روزگار یا کمائی شرط ہوتی ہے۔

گاؤں کا ایک امیرزادہ، آوارہ اور اوباش نوجوان (جگدیش) بھی نورجہاں پر نظر رکھتا ہے لیکن ساتھ ہی گیتا نظامی کو بھی شادی کے وعدے کر کے بے آبرو کرتا ہے۔ جب وہ اس کے ناجائز بچے کی ماں بننے والی ہوتی ہے تو اسے ٹھکرا دیتا ہے اور اپنے اثرورسوخ سے نورجہاں سے شادی طے کروا لیتا ہے۔

اس دوران نذیر کو اپنی ماں (درگا کھوٹے) کے اصرار پر فوج میں ملازمت مل جاتی ہے اور جب کچھ عرصہ بعد چھٹی پر گھر آتا ہے تو عین اسی دن نورجہاں کی شادی جگدیش سے ہورہی ہوتی ہے۔ لیکن رنگ میں بھنگ پڑ جاتا ہے جب گیتا نظامی، اپنے ناجائز بچے کے ساتھ باراتیوں کو حقیقت بتاتی ہے۔ نورجہاں کے گھر والے شادی سے انکار کر دیتے ہیں اور نذیر کو اپنی منظورِ نظر مل جاتی ہے۔

فلم گاؤں کی گوری (1945) کے گیت

فلم گاؤں کی گوری (1945) میں بھی میڈم نورجہاں نے سپرہٹ اور سدابہار گیت گائے جو انسان بے اختیار گنگنانے پر مجبور ہو جاتا ہے:

  • کس طرح بھولے گا دل، ان کا خیال آیا ہوا۔۔
  • بیٹھی ہوں تیری یاد کا لے کر یہ سہارا، آ جاؤ کہ چمکے میری قسمت کا ستارہ۔۔
  • یہ کون ہنسا، کس نے ستاروں کو ہنسایا۔۔
  • سجن پردیسی، بلم پردیسی، من کو ستائے۔۔
فلم گاؤں کی گوری یا ویلیج گرل (1945) کے گیتوں کے شاعر ولی صاحب اور موسیقار شیام سندر تھے۔ یہ دونوں معروف فنکار، لاہور کی فلموں کے مستقل فنکار تھے۔ انھیں میانوالی میں پیدا ہونے والے اس فلم کے ہدایتکار "کے امرناتھ" نے بطورِ خاص بمبئی بلوا کر اس فلم کے گیت ریکارڈ کروائے۔ اپنے ساتھ وہ، محمدرفیع کو بھی لے گئے جو اس فلم میں گلوکار جی ایم درانی کے ساتھ اس کورس گیت کو ہندی/اردو فلموں میں اپنا پہلا گیت شمار کیا کرتے تھے: "ارے، دل ہو قابو میں تو یار کی ایسی تیسی۔۔"

بتایا جاتا ہے کہ ریلیز کے اعتبار سے محمدرفیع کا پہلا ہندی/اردو گیت فلم پہلے آپ (1944) میں تھا۔ اس سے قبل لاہور میں بننے والی پنجابی فلم گل بلوچ (1944) میں اپنا پہلا فلمی گیت گا چکے تھے اور شیام سندر ہی نے ان سے پہلا گیت گوایا تھا۔

یہ کورس گیت ایکسٹرا اداکاروں اور فلم کے ہیرو اداکار نذیر پر فلمایا گیا جو پاکستان کے سینئر ترین فلمی ہیرو تھے۔ انھوں نے خاموش فلموں کے دور میں فلمی کیرئر کا آغاز کیا۔ پہلی فلم لاہور میں بننے والی ہدایتکار عبدالرشید کاردار کی فلم مسٹریس بینڈیٹ (1930) تھی۔ 1930/40 کی دھائیوں کے ایک مقبول اور مصروف اداکار تھے۔ لیلیٰ مجنوں (1945) اور وامق عذرا (1946) جیسی مشہور فلموں کے ہیرو تھے جن کی ہیروئن سورن لتا سے شادی کر کے تقسیم کے بعد اپنے وطن واپس چلے آئے جہاں پاکستان کی پہلی سلورجوبلی سپرہٹ نغماتی فلم پھیرے (1949) کے ہیرو بنے۔

کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ فلم پھیرے (1949)، فلم گاؤں کی گوری (1945) کا چربہ یا ری میک تھی۔ یہ بات سراسر غلط ہے۔ ان دونوں فلموں میں واحد مشترک بات فلم کے ہیرو نذیر تھے۔ یہ فلم آن لائن موجود ہے جبکہ پاکستان فلم میگزین پر فلم پھیرے (1949) کے بارے میں تفصیلی تحقیقی مضمون موجود ہے۔

فلم بڑی ماں (1945)

1945ء میں تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم بڑی ماں (1945) میں میڈم نورجہاں کے علاوہ لتامنگیشکر اور آشا بھوسلے نے بھی کام کیا تھا۔۔!

پرفلا پکچرز کی اس ہندی/اردو فلم کے ہدایتکار ماسٹر ونائیک تھے جنھوں نے وی ایس کھنڈکر کی کہانی اور ضیاء سرحدی کے مکالموں کو فلم بڑی ماں (1945) کا رنگ دیا جو اصل میں "بھارت دیش" کا دوسرا نام ہے۔

فلم کی کہانی میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپانی جاسوسی نیٹ ورک کی کاروائیوں اور مقامی افراد کی ملی بھگت کو فلمایا گیا تھا۔ دیس بھگتی یا حب الوطنی پر بنائی گئی اس "پروپیگنڈہ فلم" پر اس وقت کے فلمی میڈیا نے بھی بڑی تنقید کی تھی اور اس کو سستی تفریح قرار دیا تھا۔

میڈم نورجہاں کے ہیرو ایشورلال تھے۔ یعقوب، ستارہ، میناکشی اور "بےبی لتا" وغیرہ اہم کردار تھے۔

فلم بڑی ماں (1945) کی خاص بات یہ تھی کہ اس فلم میں میڈم نورجہاں کے علاوہ بھارت کی عظیم گلوکارہ بہنوں، لتا منگیشکر اور آشا بھوسلے نے چائلڈ سٹار کے طور پر کام کیا تھا۔ ایک روایت کے مطابق، لتا جی نے میڈم کے بچپن کا رول کیا تھا۔ اس فلم کے آن لائن جو دو کورس گیت ملتے ہیں، ان میں لتا کی آواز پہچانی جاتی ہے۔ ان دونوں گیتوں کے بول ہیں:

  • ماتا، تیرے چرنوں میں گزر جائے عمریا۔۔
  • جننا جنم بومی، تم ماں ہے، بڑی ماں۔۔
فلم بڑی ماں (1945) کے موسیقار کے دتہ اور گیت نگار ضیاء سرحدی وغیرہ تھے۔ میڈم نورجہاں کے یہ گیت وقت کے مقبول گیت تھے:
  • دیا جلا کر آپ بجھایا، تیرے کام نرالے، دل توڑ کر جانے والے۔۔
  • آ انتظار ہے تیرا، دل بے قرار ہے میرا۔۔
  • تم ہم کو بھلا بیٹھے ہو، ہم تم کو بھلائیں کیسے۔۔
  • کسی طرح سے محبت میں چین پا نہ سکے۔۔
فلم بڑی ماں (1945) کے اردو اشتہار پر میڈم کا نام "ملکہ ترنم نورجہاں" لکھا ہوا ملتا ہے جبکہ اس فلم کے انگریزی اشتہار پر یہ تحریر ملتی ہے (ترجمہ): "فلم انڈسٹری کی سب سے بہترین گلوکارہ۔۔" دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی اشتہار کی فلم کاسٹ میں پہلا نام "نورجہاں" اور آخری نام "بے بی لتا" کا لکھا ہوا ہے۔ اس طرح سے یہ میڈم نورجہاں اور لتا منگیشکر کی واحد مشترکہ فلم ہے۔

نورجہاں بمقابلہ لتا منگیشکر

بعض لوگ یہ فضول قسم کی بحث کرتے ہیں کہ میڈم نورجہاں اور لتا منگیشکر میں سے بہتر گلوکارہ کون ہے۔۔؟

حقیقت یہ ہے کہ ہر فنکار کا اپنا اپنا مقام و مرتبہ اور ہر شخص کا اپنا اپنا خیال ہوتا ہے جو کسی کی ذاتی رائے، خیالات یا پسند ناپسند سے نہیں بدل سکتا۔ ، فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ آپ کسی زاوئیے سے دیکھتے ہیں۔ اگر آپ فنکار شناس ہیں تو ہر فنکار، قابلِ احترام ہے کیونکہ کوئی بھی بغیر محنت اور قابلیت کے نامی نہیں ہوتا۔

میڈم نورجہاں کے دائیں بائیں
لتا منگیشکر اور آشا بھوسلے

میڈم نورجہاں اور لتا جی کی عمروں میں صرف تین سال کا فرق تھا، میڈم تین سال بڑی تھیں۔ صرف دس سال کی عمر میں فلم پنڈدی کڑی (1936) سے فلمی سفر شروع کیا اور پھر زندگی بھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ گلوکاری، اداکاری اور حسن و جمال جیسی جملہ خوبیوں میں میڈم نورجہاں کی برصغیر کی تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ برصغیر پاک ہ ہند کی واحد فن کارہ ہیں کہ جس نے کلکتہ، لاہور اور بمبئی کی فلم انڈسٹری میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے۔

لتامنگیشکر نے 1942ء میں 13 سال کی عمر میں ایک مراٹھی فلم میں اداکاری سے آغاز کیا۔ معمولی شکل و صورت کی مالک تھیں۔ کئی سال کی جدوجہد کے بعد بریک تھرو فلم شہید (1948) میں پس پردہ گلوکارہ کے طور پر ملا۔ عمر بھر صرف گلوکارہ ہی رہیں اور بلاشبہ ایک بہت بڑے ملک کی بہت بڑی گلوکارہ تھیں۔ ان کے گیتوں کی تعداد میڈم کے گیتوں سے کہیں زیادہ ہے، اس کی ایک وجہ تو پاکستان کی نسبت بھارت میں فلموں کی بہت بڑی تعداد ہے اور دوسرا میڈم نے 25 سال کا عرصہ اداکاری کی نذر کیا اور اس دوران ان کے گائے ہوئے گیت صرف انھی پر فلمائے جاتے تھے۔ اگر صرف گلوکارہ ہوتیں تو نجانے کتنے گیت ہوتے۔۔؟

فلم بڑی ماں (1945) کی شوٹنگ کے دوران ہی لتا منگیشکر نے میڈم نورجہاں کو پہلی بار قریب سے دیکھا تھا۔ وہ، گائیکی میں انھیں اپنا آئیڈیل سمجھتی تھیں۔ لتا جی، میڈم کو ہمیشہ بڑے احترام سے "دیدی" یعنی "باجی" کہتی تھیں اور ان سے یہ بیان بھی منسوب ہے کہ فلموں کی شوٹنگ اور گیتوں کی ریکارڈنگ کے دوران انھوں نے میڈم کو نماز کی ادائیگی کرتے ہوئے بھی دیکھا تھا۔ میڈم نورجہاں نے ہمیشہ لتا جی کی عظمت کا اعتراف کیا اور انھیں بڑے پیار سے یاد کیا کرتی تھیں۔

بعض بدفطرت حاسدین کا یہ بے بنیاد دعویٰ سننے میں آتا ہے کہ میڈم نورجہاں، لتا منگیشکر کے خوف سے ہندوستان چھوڑ کر پاکستان چلی آئی تھیں جو سراسر بکواس، تعصب اور ذہنی دیوالیہ پن کی انتہا ہے کیونکہ لتا جی کی شہرت سے قبل ہی میڈم نے بمبئی چھوڑ دیا تھا۔ ہجرت کی وجوہات کچھ اور تھیں جن پر آگے چل کر تفصیل سے بات ہوگی۔

فلم بھائی جان (1945)

بمبئی کی ایک چھوٹی سی فلم کمپنی یونائیٹڈ فلمز کی اولین پیش کش کے لیے ہدایتکار سیدخلیل کی "مسلم سوشل فلم" بھائی جان (1945) میں میڈم نورجہاں نے ایک "بے نظیر" نامی طوائف کا رول کیا جو اپنے ہیرو (کرن دیوان) کے "بھائی جان" (شاہ نواز) کی محبت کو ٹھکرا نے کے علاوہ اپنے محبوب کی منگیتر (مینا شوری) اور بھابھی (انیس خاتون) کا گھر اور عزت و آبرو قائم رکھنے کے لیے زہر کھا کر اپنی جان دے دیتی ہے۔

اس وقت کے ایک ممتاز انگریزی فلمی میگزین ماہنامہ "فلم انڈیا" نے نومبر 1945ء کے شمارے میں فلم بھائی جان (1945) کو ایک معیاری فلم قرار دیا۔ فلم کی کہانی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اگلے تین سو سال میں بھی ہمارا ہندوستانی معاشرہ ایک طوائف کو اپنے خاندان میں قبول نہیں کر سکتا۔ اس تبصرے میں خاص طور پر فلم کے اردو مکالمے، فوٹوگرافی اور کردار نگاری کی تعریف کی گئی البتہ اداکار شاہ نواز کو سٹیج ٹائپ مکالمے نہ بولنے کا مشورہ دیا گیا۔ دلچسپ جملہ وہ تھا جہاں کلوزاپ میں اداکارہ مینا شوری کی مونچھوں کا ذکر ہوا اور اسے بہتر میک اپ کا مشورہ دیا گیا۔

فلم بھائی جان (1945) کے اس دلچسپ فلمی تبصرے میں جہاں میڈم نورجہاں کی اداکاری کی تعریف ہوئی وہاں گائیکی پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہ جملہ بھی لکھا گیا کہ "نورجہاں، کوئی گیت ڈنگ کا نہیں گا سکی۔۔"

اس فلم کے تین گیت آن لائن ملتے ہیں لیکن میڈم کا ان میں کوئی ایک بھی نہیں ہے۔ موسیقار شیام سندر نے لاہور کی فلموں کے دو ممتاز گلوکاروں، زینت بیگم اور باتش سے یہ گیت گوائے اور اتنے برے بھی نہیں تھے لیکن مقبول نہ ہو سکے تھے۔

جہاں تک غیر معیاری گیتوں کا تعلق ہے تو یاد پڑتا ہے کہ میڈم نورجہاں سے پی ٹی وی کے ایک پروگرام میں یہ سوال کیا گیا کہ کیا کبھی انھوں نے کوئی گیت گانے سے انکار بھی کیا ہے۔۔؟

اس پر انھوں نے بتایا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کیونکہ یہ "تکبر" ہے کہ ایک گلوکار کسی موسیقار کا کوئی گیت گانے سے انکار کر دے۔ ویسے بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی فلمی گلوکار اپنی مرضی سے کوئی فلمی گیت نہیں گاتا بلکہ اس سے گوایا جاتا ہے اور گیت کی دھن کا ذمہ دار موسیقار اور شاعری کا شاعر ہوتا ہے۔ کوئی بھی گیت موسیقار کی مرضی کے بغیر ریلیز نہیں ہوتا اور اگر اس میں کوئی کمی بیشی ہو تو ذمہ دار موسیقار ہی ہوتا ہے۔

فلم بھائی جان (1945) کے ری میک

فلم بھائی جان (1945) کی کہانی حکیم احمد شجاع کے ناول "باپ کا گناہ" سے ماخوذ تھی جس کو پاکستان میں تھوڑی بہت تبدیلیوں کے ساتھ متعدد بار فلمایا گیا تھا۔ ان میں دو آنسو (1950)، دلاں دے سودے (1969) اور انجمن (1970)، بہت بڑی فلمیں تھیں۔ ان پر مختصراً معلومات ملاحظہ فرمائیں:

فلم دو آنسو (1950)

کہانی نویس حکیم احمد شجاع کے ہونہار صاحبزادے، ممتاز فلمساز اور ہدایتکار انور کمال پاشا نے اس کہانی پر پہلی فلم، دو آنسو (1950) بنائی جس میں میڈم نورجہاں کا کردار اداکارہ گلشن آرا نے کیا۔ ہیرو سنتوش اور ان کی منگتیر کا کردار صبیحہ خانم نے کیا تھا۔ اس فلم میں "بھائی جان" کا کردار نہیں تھا لیکن اس کی جگہ ایک بگڑے ہوئے نوابزادے کا کردار اداکار آزاد نے کیا۔ اس فلم میں بھابھی کا کردار بھی نہیں تھا۔ اس کے برعکس باپ (ہمالیہ والا) کا کردار ڈالا گیا جو ایک نواب ہے اور اس کی خاندانی بیوی سے ایک اور طوائف سے دوسری بیٹی ہوتی ہیں۔

ہمالیہ والا، اپنی بیٹی کو ہیرامنڈی کے غلیظ ماحول سے نکالنے کی قیمت ادا کرنے کے باوجود دھوکہ دہی کی وجہ سے قتل کا جرم کر کے جیل چلا جاتا ہے۔ اس کی غیرموجودگی میں اس کی بیوی (شمیم) اور بچی (صبیحہ) کی نگرانی اس کا وفادار ملازم (شاہ نواز) کرتا ہے جبکہ ایک قریبی دوست (اجمل)، ہیرامنڈی میں بیٹی کو طوائف (گلشن آرا) بنا دیتا ہے۔ دیگر تینوں فلموں کے برعکس، اس فلم میں طوائف سرخرو ہوتی ہے اور اس کی ہیرو سے شادی ہو جاتی ہے لیکن منگیتر اس غم میں مر جاتی ہے۔

فلم دوآنسو (1950)، پاکستان کی پہلی سلورجوبلی اردو فلم تھی جو کراچی میں مسلسل 13 ہفتے چلی اور دیگر سینماؤں کو ملا کر 26 ہفتوں کے ساتھ جوبلی فلم بنی۔

فلم دلاں دے سودے (1969)

ہدایتکار ایس اے بخاری کی پنجابی فلم دلاں دے سودے (1969)، فلم بھائی جان (1945) کی کہانی پر بنائی گئی دوسری فلم تھی۔ اس فلم میں "بھائی جان" کا رول، الیاس کاشمیری نے کیا جن کے چھوٹے بھائی، فلم کے ہیرو اعجاز، اپنی ماں جیسی بھابھی (زینت) کا سہاگ بچانے کے لیے نہ چاہتے ہوئے بھی طوائف (فردوس) کی ضد اور خلوص، بدمعاشوں سے اس کے عدم تحفظ اور اپنی عزت و انا کی خاطر دل دے بیٹھتے ہیں حالانکہ اپنی کزن (نغمہ) سے شادی کا خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

اس فلم میں شریف النفس طوائف (فردوس)، اپنے محبوب (اعجاز) کی بھابھی (زینت) کے کہنے پر اپنی قربانی دیتی ہے لیکن مرنے سے قبل اپنے باپ (مظہرشاہ) اور دونوں سوتیلی بہنوں (نغمہ اور زینت) سے بھی مل لیتی ہے۔ فلمساز اور اداکار اسد بخاری نے ولن کے کردار میں ہیرامنڈی کے محافظ اور شیخ اقبال نے ایک دلال کا رول کیا جو اس ماحول کی پہچان ہوا کرتے تھے۔

فلم دلاں دے سودے (1969) کی مقبولیت کی بڑی وجہ میڈم نورجہاں کی گائی ہوئی مشہور ترین دھمال "لال میری پت رکھیو بلا، جھولے لالن۔۔" تھی اور یہ پہلی پنجابی فلم تھی جس نے لاہور کے علاوہ کراچی میں بھی گولڈن جوبلی منائی تھی۔

فلم انجمن (1970)

فلم بھائی جان (1945) کی کہانی کو ہدایتکار حسن طارق نے فلم انجمن (1970) کی صورت میں بنایا جس کا ٹائٹل رول ان کی اداکارہ بیوی، رانی نے کیا۔ عاشق، بے وفا خاوند اور "بھائی جان" کا کردار اداکار سنتوش نے کیا جن کی بیوی صبیحہ اور سالی دیبا ہے۔ چھوٹا بھائی اور روایتی ہیرو، وحیدمراد، اپنے بڑے بھائی کو راہِ راست پر لانے کے لیے اپنی قربانی دیتا ہے لیکن طوائف کو بھابھی کے کہنے پر رحم آ جاتا ہے اور اپنے محبوب کی شادی کی تقریب میں میڈم نورجہاں کا سپرہٹ گیت "اظہار بھی مشکل ہے، چپ رہ بھی نہیں سکتے، مجبور ہیں اف اللہ، کچھ کہہ بھی نہیں سکتے۔۔" پر رقص کرتے ہوئے اپنی جان دے دیتی ہے۔

فلم انجمن (1970)، کراچی میں مسلسل آٹھ ماہ تک یعنی 32 ہفتے تک چلتی رہی اور دیگر سینماؤں کو ملا کر کل 82 ہفتوں کے ساتھ پلاٹینم جوبلی شمار کی گئی تھی۔

1945ء کی دیگر فلمیں

1945ء کی جن سات کامیاب ترین فلموں کا ریکارڈ دستیاب ہے، ان میں سے پہلی تین فلمیں میڈم نورجہاں کی تھیں جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے۔ چوتھے سے ساتویں نمبر پر زیادہ بزنس کرنے والی فلموں کا مختصراً احوال کچھ یوں ہے:

  • مشہورِ زمانہ بھارتی فلم مغلِ اعظم (1960) بنانے والے ہدایتکار کے آصف کی فلم پھول (1945)، سال کی چوتھی کامیاب ترین فلم ثابت ہوئی تھی۔ پرتھوی راج کپور، وینا، ثریا، مظہرخان، واسطی، یعقوب اور درگا کھوٹے وغیرہ اہم فنکار تھے۔ اس فلم کی کہانی کمال امروہی نے لکھی اور موسیقار ماسٹر غلام حیدر تھے جنھوں نے زیادہ تر گیت ثریا سے گوائے جبکہ یہ ترانہ بڑا دلچسپ تھا "اے بہادرو، اے مجاہدو، بڑھے چلو، آگے بڑھے چلو۔۔"
    دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی سال یعنی 1945ء کے فلمی میڈیا میں ہدایتکار کے آصف کی پندرہ سال بعد ریلیز ہونے والی فلم مغلِ اعظم (1960) کے بھرپور اشتہارات شائع ہو رہے تھے لیکن اس وقت کی فلم میں دلیپ کمار اور مدھو بالا کی بجائے چندرموہن، وینا اور نرگس وغیرہ مرکزی کردار تھے۔
  • اس سال کی پانچویں کامیاب ترین فلم تدبیر (1945) تھی جس میں وقت کے دو بڑے گلوکار/اداکار یعنی کندن لال سہگل اور ثریا مرکزی کرداروں میں تھے جبکہ اداکارہ ریحانہ بھی تھی جو پاکستان چلی آئی اورفلم رات کے راہی (1960) میں کام کرنے کے علاوہ اس کے فلمساز اقبال شہزاد سے شادی کر کے فلمی دنیا سے کنارہ کش ہو گئی تھی۔
  • چھٹے نمبر پر ہدایتکار کیدارشرما کی فلم چاند چکوری (1945) تھی جس کے ہیرو سریندر اور ہیروئن "جوبلی گرل" ممتاز شانتی تھی جس کو برِصغیر پاک و ہند کی پہلی گولڈن جوبلی پنجابی فلم منگتی (1942) اور پہلی ڈائمنڈجوبلی ہندی/اردو فلم قسمت (1943) کی ہیروئن ہونے کا ناقابلِ شکست اعزاز حاصل ہے۔ وہ، تقسیم کے بعد ممتاز فلمی شاعر اور میڈم نورجہاں کی فلم گاؤں کی گوری (1945) کے گیت نگار ولی صاحب سے شادی کرنے کے بعد پاکستان چلی آئی لیکن یہاں کسی فلم میں کام نہیں کیا اور گمنامی ہی میں فوت ہوگئی تھی۔
  • سال کی ساتویں کامیاب ترین فلم ہدایتکار محبوب خان کی ہمایوں (1945) تھی جس کا ٹائٹل رول اشوک کمار نے کیا تھا۔ شاہ نواز نے ظہیرالدین بابر کا اور مجید نے شیرشاہ سوری کا کردار کیا تھا۔ دیگر کاسٹ میں وینا، نرگس، چندرموہن، ہمالیہ والا اور کے این سنگھ وغیرہ تھے۔ ماسٹر غلام حیدر کی موسیقی تھی اور اس فلم کے سبھی گیت انھوں نے گلوکارہ شمشاد بیگم سے گوائے تھے۔

1945ء کے دیگر اہم واقعات

1945ء میں چھ سال سے جاری دوسری جنگِ عظیم کا خاتمہ ہوا۔ نصف صدی میں دو عالمی جنگوں نے تباہی مچا دی تھی، خاص طور پر یورپ زیادہ متاثر ہوا لیکن اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس ہوئے۔ اس سال کے چند اہم فلمی اور عالمی واقعات مندرجہ ذیل ہیں:

  • دوسری جنگِ عظیم کی وجہ سے فلم سازی کے لیے خام مال کی شدید قلت تھی جس کی وجہ سے برٹش حکومت نے فلموں کی لمبائی زیادہ سے زیادہ گیارہ ہزار فٹ مقرر کی۔ پورے سال میں مختلف زبانوں میں سو سے بھی کم فلمیں ریلیز ہوئیں۔
  • 1945ء میں لاہور میں کل 6 فلمیں بنیں جن میں کوئی پنجابی فلم نہیں تھی، سبھی ہندی/اردو فلمیں تھیں۔ آدھی فلموں کی ہیروئن راگنی تھی۔
    اسی سال نامور گلوکارہ منورسلطانہ، عظیم موسیقار رشیدعطرے اور ممتاز گیت نگار طفیل ہوشیارپوری نے فلمی دنیا میں قدم رکھے۔ حسین اداکارہ زیبا، مشہور قوال مقبول صابری اور پی ٹی وی لیجنڈ "انکل سرگم" فاروق قیصر کی پیدائش بھی اسی سال ہوئی تھی۔
  • 8 مئی 1945ء کو نازی جرمنی نے ہتھیار ڈالے لیکن ہٹلر کو نہ پکڑا جا سکا۔ 6 اور 9 اگست 1945ء کو نئی سپرپاور امریکہ نے جاپانی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم پھینکے جس نے جاپان کو بھی ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔ دوسری جنگ عظیم کا باقاعدہ اختتام 2 ستمبر 1945ء کو ہوا۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ جنگِ عظیم دوم کے چار بڑے کرداروں میں سے صرف روس کے سٹالن ہی باقی بچے، جرمنی کے ہٹلر اور امریکہ کے روزویلٹ کا انتقال ہوا جبکہ برطانیہ کے چرچل، الیکشن ہار گئے۔ اسی سال "نیا وؤلڈ آرڈر" جاری ہوا اور 24 اکتوبر 1945ء کو اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تھا۔

1946ء کا سال

1946ء میں میڈم نورجہاں کی "بالی وڈ" میں سب سے بڑی فلم ریلیز ہوئی تھی۔۔!

1946ء کا سال، "برٹش انڈیا" یا "متحدہ ہندوستان" یعنی پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کا ایک ملک کے طور پر آخری مکمل سال تھا۔ جنگِ عظیم دوئم کے خاتمے کے بعد فلمی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ گئی تھیں اور گزشتہ سال کی نسبت دگنی فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔

1946ء کی ڈیڑھ سو ہندی/اردو اور پنجابی فلموں میں سے میڈم نورجہاں کی شاہکار نغماتی فلم انمول گھڑی (1946)، سب سے بڑی بلاک باسٹر فلم تھی۔ اس طرح سے میڈم کا "بالی وڈ" یا بمبئی (ممبئی) کی فلموں کے باکس آفس پر بطورِ اداکارہ (اور گلوکارہ) مسلسل دوسرے سال بھی راج قائم رہا۔

میڈم نورجہاں کی اس سال مزید دو فلمیں، دل (1946) اور ہمجولی (1946) بھی ریلیز ہوئیں جن پر زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

فلم انمول گھڑی (1946)

فلم انمول گھڑی (1946)، ملکہ ترنم نورجہاں کی فرسٹ ہیروئن کے علاوہ پانچ سپرہٹ گیتوں کی وجہ سے "بالی وڈ" فلمی کیرئر کی سب سے بڑی نغماتی فلم ثابت ہوئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس فلم سے اگر میڈم کے گیت نکال دیے جائیں تو ایک اوسط درجہ کی فلم باقی رہ جاتی ہے۔ اس یادگار فلم کے سدابہار گیتوں کو میڈم، ہمیشہ بڑے بڑے میوزک فنکشنز میں گا کر خوب دادا پایا کرتی تھیں:

  • آواز دے کہاں ہے، دنیا میری جواں ہے۔۔ (مع سریندر)
  • جواں ہے محبت، حسین ہے زمانہ، لٹایا ہے دل نے، خوشی کا خزانہ۔۔
  • میرے بچپن کے ساتھی، مجھے بھول نہ جانا، دیکھو دیکھو، ہنسے نہ زمانہ۔۔
  • آجا، میری برباد محبت کے سہارے، ہے کون جو بگڑی ہوئی تقدیر سنوارے۔۔
  • کیا مل گیا بھگوان، تمھیں دل کو جلا کے، ارمانوں کی نگری میں میری آگ لگا کے۔۔
میڈم نورجہاں کے گائے ہوئے مندرجہ بالا لازوال گیت خود انھی پر فلمائے گئے تھے۔ ان میں سے پہلا گیت، ایک دوگانا تھا جو فلم کے ہیرو اور پارٹ ٹائم گلوکار سریندر کے ساتھ تھا جو اپنے گیت خود ہی گایا کرتے تھے۔ کاش یہ گیت محمدرفیع کے ساتھ ہوتا جنھوں نے اس فلم میں اپنا پہلا ہٹ سولو گیت گایا تھا۔۔!

فلم انمول گھڑی (1946) کے سبھی گیت میڈم نورجہاں کے بہنوئی فلمی شاعر تنویرنقوی نے لکھے تھے۔ دھنیں عظیم موسیقار نوشاد علی نے بنائیں جن کی معاونت مشہورِ زمانہ فلم پاکیزہ (1972) کے موسیقار غلامحمد نے کی تھی۔

فلم انمول گھڑی (1946) کی کہانی

"انمول گھڑی" کے دو معانی ہیں، پہلا "وقت بتانے والا ایک ایسا آلہ کہ جس کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔" جبکہ دوسرا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ "ایک ایسا لمحہ جو شاید پھر کبھی لوٹ کر نہ آئے۔۔!"

فلم میں البتہ کہانی جیب کی ایک گھڑی کی ہے جو ایک غریب ہیرو کو بچپن میں اپنی امیر محبوبہ سے تحفے میں ملتی ہے۔ محبت میں ناکامی کے بعد اس کی شادی کے دن وہ گھڑی تحفے میں واپس کر دیتا ہے۔

فلم انمول گھڑی (1946) کی کہانی میں بمبئی کے ایک پورش علاقے میں آباد نازونعم میں پلی ہوئی ڈپٹی صاحب (مراد) کی بیٹی "لتا" (نورجہاں)، اپنے گیتوں میں اپنے بچپن کے ساتھی "چندر" (سریندر) کو یاد کرتی رہتی ہے جو اپنے گاؤں میں ایک چکی پیس کر گزارہ کرنے والی ایک غریب بوڑھی بیوہ ماں (لیلا مشرا) کا بیٹا ہے۔ وہ بچپن سے جوانی تک تحفے میں ملی ہوئی جیب کی اس "انمول گھڑی" کو سینے سے لگائے "لتا" کی یاد میں تڑپتا رہتا ہے۔

جوان ہو کر "چندر"، "رینو" نامی شاعرہ سے ملنے کا متمنی ہے کیونکہ اس کی ایک کتاب میں اس کی بچپن کی محبت کی داستان ملتی ہے۔ اصل میں "رینو"، "لتا" ہی کا قلمی نام ہوتا ہے جو شاعری اور ناولوں کی صورت میں اپنی سرگزشت شائع کرتی ہے۔

اتفاق سے "چندر" کا بچپن کا ایک امیر دوست "پرکاش" (ظہورراجہ)، اس کو اپنے ساتھ بمبئی لے جاتا ہے اور موسیقی کے آلات کی ایک دکان کھول دیتا ہے جہاں دیگر گاہکوں کے علاوہ "لتا" کی بچپن کی سہیلی "بسنتی" (ثریا) بھی آتی ہے جو پہلی ہی نظر میں "چندر" پر فریفتہ ہو جاتی ہے۔

اتفاقات، سریندر (چندر) اور نورجہاں (لتا) کو ملاتے ہیں جو ثریا (بسنتی) کو ناگوار گزرتے ہیں۔ وقت اس کا ساتھ دیتا ہے کیونکہ "لتا" کے والدین، اس کی شادی اپنے جیسے صاحبِ حیثیت شخص سے طے کر دیتے ہیں۔ فلم کا ہیرو (سریندر)، محبت میں ناکامی کو اپنے دوست (ظہورراجہ) کی خوشی پر قربان کر دیتا ہے اور اس کی دلہن (نورجہاں) کو تحفے میں وہی "انمول گھڑی" پیش کرتا ہے جو اس نے بچپن میں محبت کی نشانی کے طور پر دی تھی۔ اس موقع پر نورجہاں، سریندر سے التجا کرتی ہے کہ وہ ثریا کی محبت کو قبول کر لے۔۔!

فلم انمول گھڑی (1946) کی کہانی انوربٹالوی کی تھی اور مکالمے/منظرنامہ آغاجانی کشمیری نے لکھا تھا۔ اس فلم میں ملکہ ترنم نورجہاں کو پہلی اور آخری بار، "ہدایت کارِ اعظم" محبوب خان اور "موسیقارِاعظم" نوشاد علی جیسی عظیم فلمی شخصیات کا ساتھ ملا جس نے اس فلم کو ایک شاہکار فلم بنا دیا تھا۔

ہدایتکار محبوب خان

ہندوستان کی فلمی تاریخ میں "ہدایتکارِاعظم" کہلانے والے فلم ڈائریکٹر محبوب خان (64-1907) کے فلمی کیرئر کی پہلی بلاک باسٹر فلم انمول گھڑی (1946) تھی جس کی کمائی سے انھوں نے بمبئی میں اپنا فلم سٹوڈیو بھی بنایا تھا۔

محبوب صاحب کو ان کی لاجواب کارکردگی پر بھارتی حکومت نے سب سے بڑا سول ایوارڈ دینے کے علاوہ ان کے نام کا ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا جس کی بڑی وجہ ان کی کلاسیک فلم مدرانڈیا (1957) تھی جو اصل میں ان کی ایک پرانی فلم عورت (1940) کا ری میک تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم عورت (1940) کا ٹائٹل رول اداکارہ سرداراختر نے کیا جو محبوب صاحب ہی کی بنائی ہوئی برصغیر کی پہلی ڈبل ورژن ہندی/اردو/پنجابی فلم علی بابا (1940) کی ہیروئن بھی تھی۔ اس فلم کی تکمیل کے دوران دونوں نے شادی کر لی تھی۔ اس طرح سے ہدایتکار محبوب، لاہور فلم انڈسٹری کے بانی، ہدایتکار اے آر کاردار (89-1904) کے ہم زلف تھے جنھوں نے دوسری بہن، اداکارہ بہاراختر سے شادی کی تھی۔

اتفاق سے 1946ء میں ان دونوں حضرات کا فلمی بزنس پر قبضہ تھا۔ یہ دونوں ہم زلف، تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آئے لیکن پھر واپس بمبئی چلے گئے اور مستقل طور پر بھارت میں رہنا پسند کیا۔ پاکستان کیوں آئے اور کیوں نہ رہے؟ اس پر دلچسپ تفصیل اگلی قسط میں بیان کی جائے گی۔

بھارتی صوبہ گجرات میں پیدا ہونے والے محبوب خان ہی نے فلم انداز (1949) میں پہلی اور آخری باربھارتی فلمی تاریخ کے دو عظیم ترین اداکاروں، دلیپ کمار اور راج کپور کو ایک ساتھ پیش کیا تھا۔

موسیقار نوشاد علی

"موسیقارِ اعظم" نوشاد علی (2006-1919) کو شہرت تو فلم رتن (1944) سے ملی لیکن فلم انمول گھڑی (1946) کے لازوال گیتوں نے مقبولیت کے تمام ریکارڈز توڑ دیے تھے۔ بے شمار یادگار اور سپرہٹ گیتوں کے علاوہ خاص طور پر بیجوباورا (1952)، مدرانڈیا (1957) اور مغلِ اعظم (1960) جیسی شاہکار نغماتی فلموں کے موسیقار تھے۔ تمام بڑے ایوارڈز کے علاوہ بھارتی حکومت نے ان کے نام کا بھی ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا۔

1982ء میں عرصہ 35 سال بعد جب میڈم نورجہاں نے بھارت کا اکلوتا دورہ کیا تو "بالی وڈ" کے بے شمار فنکاروں کے سامنے سٹیج پر جو تین گیت گائے، ان کے سازندوں کو نوشاد صاحب ہی لیڈ کر رہے تھے۔ میڈم نے فلم انمول گھڑی (1946) میں انھی کا کمپوز کیا ہوا شاہکار گیت "آواز دے کہاں ہے۔۔" گا کر میلہ لوٹ لیا تھا۔ نوشاد صاحب نے بھی بے ساختہ داد دی تھی۔

ملکہ ترنم نورجہاں کے گائے ہوئے ان دو پاکستانی فلمی گیتوں پر آرکسٹرا کو بھی نوشاد صاحب ہی نے ترتیب دیا تھا:

  • مجھ سے پہلی سی محبت، میرے محبوب نہ مانگ۔۔ (فلم قیدی 1962، شاعر فیض احمدفیض، موسیقار رشیدعطرے)
  • جا، اج میں توں میں تیری، تو میرا، سجناں وے۔۔" (فلم یار مستانے، شاعر حزیں قادری، موسیقار وزیرافضل)
میڈم نورجہاں کی ان تینوں گیتوں کی گائیکی پر پورا ہال جھوم اٹھا تھا اور نوشادصاحب بھی خاصی دیر تک تالیاں بجا کر انھیں داد دیتے رہے تھے۔

نغمہ نگار تنویر نقوی

فلم انمول گھڑی (1946) کے سبھی گیت لکھنے والے عظیم فلمی شاعر تنویرنقوی (72-1919)، میڈم نورجہاں کی بڑی بہن عیدن بائی کے شوہر تھے۔ تقسیم کے بعد پاکستان آئے اور بے شمار اردو اور پنجابی فلموں میں لازوال گیت لکھے جن میں پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) کے متعدد گیت بھی شامل تھے۔

تنویرنقوی کے سپرہٹ اور سدابہار گیتوں میں سے فلم موسیقار (1962) کا یہ گیت بطورِ خاص میڈم نورجہاں ہی کے لیے لکھا گیا جو انھوں نے خود ہی گایا لیکن فلمایا صبیحہ خانم پر گیا کیونکہ اس وقت تک میڈم نے اداکاری کو خیرآباد کہہ دیا تھا:

  • گائے گی دنیا گیت میرے، سریلے رنگ میں نے، نرالے رنگ میں نے، بھرے ہیں ارمانوں میں۔۔

گلوکارہ/اداکارہ ثریا

فلم انمول گھڑی (1946) میں وقت کی ایک اور بڑی مقبول اداکارہ/گلوکارہ ثریا (2004-1929) نے میڈم نورجہاں کے مقابل ایک ثانوی رول کیا اور چند گیت بھی گائے تھے۔

1946ء میں بطورِ اداکارہ، باکس آفس پر سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم انمول گھڑی (1946) کے علاوہ اداکارہ/گلوکارہ ثریا کی دو مزید فلمیں، "پھلواری" اور "1857" بھی ٹاپ فائیو فلموں میں شامل تھیں جس سے اس کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

لاہور میں پیدا ہونے والی ثریا کا آغاز اداکارہ کے طور پر فلم تاج محل (1941) سے ہوا۔ اگلے سال کی فلم نئی دنیا (1942) سے گلوکاری کا آغاز کیا تھا۔ 1940/50 کی دھائیوں کی مقبول اداکارہ اور گلوکارہ تھی جس نے 70 فلموں میں کام کیا اور تین سو سے زائد گیت گائے تھے۔ دل لگی (1949)، اس کی ایک بہت بڑی نغماتی فلم تھی۔

فلم انمول گھڑی (1946) کی دیگر کاسٹ

فلم انمول گھڑی (1946) کے فرسٹ ہیرو سریندر کے بارے میں گزشتہ سال کی فلم لال حویلی (1944) کے ضمن میں بات ہو چکی ہے۔ انھوں نے اس فلم میں دو سولو گیتوں کے علاوہ ایک لازوال گیت "آواز دے کہاں ہے، دنیا میری جواں ہے۔۔" میں میڈم نورجہاں کا ساتھ دیا تھا۔

سریندر، واحد اداکار ہیں کہ جنھوں نے میڈم کے ساتھ تقسیم سے قبل کی فلموں میں ایک سے زائد بار ہیرو کا رول کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گائیکی میں بھی انھوں نے میڈم کے ساتھ سب سے زیادہ دوگانے گائے تھے۔۔!

سیکنڈ ہیرو، ظہورراجہ کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا۔ تقسیم کے بعد پاکستان آئے، متعدد فلمیں بنائیں لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ لیلا مسرا، نے ہیرو کی ماں کا بہترین رول کیا تھا جبکہ مراد نامی اداکار ہیروئن کے باپ کے کردار میں تھے۔ ان کے علاوہ مزاحیہ اداکار، بدھو ایڈوانی بھی تھے۔

فلم انمول گھڑی (1946) کے صرف ایک سین میں پنجابی بولنے والی جو اداکارہ نظر آتی ہے، غالب امکان ہے کہ وہ، اداکارہ "انوری بیگم" تھی جو لاہور میں بننے والی برصغیر کی پہلی پنجابی فلم ہیررانجھا (1932) کی ہیروئن تھی۔ وہ، معروف موسیقار رفیق غزنوی کی بیوی، فلم شاہجہاں (1946) کی ہیروئن نسرین کی والدہ اور اداکارہ/گلوکارہ سلمیٰ آغا کی نانی تھی۔

فلم انمول گھڑی (1946) کتنی یادگار نغماتی فلم تھی؟ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس فلم میں گلوکارہ زہربائی انبالے والی اور شمشاد بیگم کے دوگانے کے علاوہ محمدرفیع کا پہلا سولو ہٹ گیت "تیرا کھلونا ٹوٹا بالک۔۔" بھی تھا۔

فلم انمول گھڑی (1946) کا بزنس

1940 کی دھائی کی فلموں کی بزنس رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کی فلمی تاریخ میں فلم انمول گھڑی (1946)، اس وقت کا ایک کروڑ روپے کا بزنس کرنےوالی دوسری فلم تھی، پہلی فلم قسمت (1943) تھی۔

ذرا تصور کریں کہ اس فلم کے پوسٹر پر سینما ٹکٹوں کی قیمت اس دور کے "چار آنے" درج ہے۔ ایک روپے میں "16 آنے" ہوتے تھے، گویا اگر ایک روپے میں چار لوگوں نے یہ فلم دیکھی تھی تو ایک کروڑ روپے کا بزنس کرنے کے لیے اس فلم کے کل بکنے والے سینما ٹکٹوں کی تعداد چار کروڑ کے لگ بھگ ہوگی۔ یہ اس دور کی بات ہے جب سینماگھر صرف بڑے شہروں تک محدود ہوتے تھے اور عام طور پر بمبئی اور لاہور میں ایک فلم ایک ہی سینما میں ریلیز ہوتی تھی۔

فلم بزنس کی بات ہو رہی ہے تو یہ ذکر بے محل نہ ہوگا کہ فلم انمول گھڑی (1946) میں محمدرفیع کے تھیم سانگ "تیرا کھلونا ٹوٹا بالک۔۔" سے پتہ چلتا ہے کہ اس دور کا ہندوستان بھی بھوکا ننگا ہوتا تھا اور اس دور میں بھی "میڈ ان جاپان" سامان خاصا مقبول ہوتا تھا۔

اس گیت کے مطابق، اس وقت ایک کھلونے کی قیمت "دو آنے" تھی۔ اس گیت کے شاعر تنویرنقوی نے پچیس سال بعد پاکستانی پنجابی فلم بابل (1971) میں ایسا ہی ایک گیت لکھا تھا۔ ماسٹرعبداللہ کی بنائی ہوئی دھن اور مسعودرانا کی گائیکی لاجواب تھی لیکن اس گیت میں یہ عجیب و غریب قسم کی بے تکی شاعری کی گئی تھی کہ "لے لو میرے کھڈونے، قیمت سب دی وکھری وکھری، نئیں جے ڈھائی ڈھائی آنے۔۔"

اسی دور کی ایک فلم گھرانہ (1973) میں کلیم عثمانی کے لکھے ہوئے اور ایم اشرف کی دھن میں رونالیلیٰ اور احمدرشدی کے گائے ہوئے اس دوگانے "ایک آنے کی چڑیا اور دو آنے کا مور ہے۔۔" سے عام شخص یقیناً یہ سوچتا ہوگا کہ اس دور میں غربت تو تھی لیکن افراطِ زرکس قدر قابو میں تھا کہ بعض اشیاء کی قیمتیں اتنی مدت بعد بھی برقرار رہیں اور ربع صدی بعد بھی کھلونے "دو آنے" میں مل جاتے تھے۔۔!

حقیقت میں ایسا نہیں ہے، کیونکہ 1946ء کے "دو آنے" اور 1973ء کے "دو آنے"، بظاہر ایک جیسے لگتے ہیں لیکن ان کی مالیت یا قیمت میں ایک تہائی کا فرق تھا۔۔!

تقسیم کے بعد بھارت میں یکم اپریل 1957 کو اور پاکستان میں یکم جنوری 1961ء کو سکوں کا نیا اعشاری نظام نافذ ہوا جس کے مطابق، پرانے سکے "آنے" اور "پائیاں" ختم کر کے صرف "پیسہ" اور "روپیہ" کے سکے برقرار رکھے گئے۔ ایک روپے میں 16 آنے یا 64 پیسے ہوتے تھے جو اعشاری نظام کے بعد 100 پیسے ہوگئے۔ سرکاری طور پر "آنہ" اور اس کا سکہ تو ختم ہو گیا لیکن اس کا روزمرہ عوامی استعمال جاری رہا۔ فرق یہ پڑا کہ پہلے "ایک آنہ"، 4 پیسے کا ہوتا تھا پھر 6 پیسے کا ہوگیا تھا۔۔!

فلم انمول گھڑی (1946) کب ریلیز ہوئی؟

گوگل، AI یا سوشل میڈیا پر سرچ کریں تو فلم انمول گھڑی، کی تاریخ نمائش 11 نومبر 1946ء ملتی ہے جو وکی پیڈیا سے ماخوذہے لیکن یہ درست نہیں ہے۔۔!

پاکستان فلم میگزین کے ریکارڈز کے مطابق، فلم انمول گھڑی، اگست 1946ء میں لاہور کے کیپٹل سینما اور اسوقت کے پنجاب اور موجودہ ہماچل پردیش (بھارت) کے دارالحکومت شملہ کے ریوالی سینما میں چل رہی تھی اور فلمی بزنس کے تناظر میں یہ ممکن نہیں کہ اتنی بڑی فلم بمبئی جیسے فلمی مرکز سے پہلے لاہور یا دیگر چھوٹے شہروں میں ریلیز ہوئی ہو۔
اس اردو اخباری اشتہار کے مطابق، "ملکہ نغمات نورجہاں"، "خوش گلو سریندر" اور "پری روح ثریا" کی فلم انمول گھڑی، لاہور اور شملہ میں جمعہ 16 اگست 1946ء کو ریلیز ہوئی ہوگی۔

اسی اشتہار کے مطابق، فلم انمول گھڑی، ایک ہفتہ بعد یعنی جمعہ 23 اگست 1946ء کو نشاط امرتسر اور امپیرئل راولپنڈی میں اور دو ہفتوں بعد 29 اگست 1946ء کو ہری رائل جالندھر، روز سیالکوٹ اور رادھو ملتان کے علاوہ امریش سینما سری نگر (کشمیر) میں بھی ریلیز ہونے والی تھی۔ اس اشتہار میں دہلی، کراچی، پشاور یا کوئٹہ کا ذکر نہیں ملتا، یہ سبھی شہر "ناردرن انڈیا فلم سرکٹ" کا حصہ ہوتے تھے جس کا بیشتر حصہ اب پاکستان میں ہے۔

فلم انمول گھڑی کی یاد میں

1980 کی دھائی میں جب پاکستانی فلموں اور گیتوں پر تحقیق شروع کی تو تقسیم کے قبل کی میڈم نورجہاں کی جو پہلی فلم دیکھی، وہ انمول گھڑی (1946) تھی۔ یہ فلم، اپنے پاس ریکارڈ کر لی جس کو اکثر دیکھتا اور میڈم کے مسحورکن گیتوں سے لطف اندوز ہوتا رہتا تھا، یہ جانے بغیر کہ میرے علاوہ کسی اور کی بھی اس فلم سے ناقابلِ فراموش یادیں وابستہ ہیں۔

ہوا یوں کہ میرے دادا جان (مرحوم و مغفور) کے چھوٹے بھائی اور میری بیگم کے دادا ابو (مرحوم و مغفور) بھی اس فلم کے فین نکلے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انھیں مذہبی خیالات کی وجہ سے دورِ جوانی ہی سے "حاجی بابا" کہا جاتا تھا اور ان کی فلم بینی کے بارے میں ان کی سگی اولاد کو بھی کچھ علم نہیں تھا۔

ایک دن میرے گھر میں ایک پارٹی تھی۔ مہمانوں کے لیے مختلف ویڈیو کیسٹوں میں سے کوئی پرائیویٹ ریکارڈنگ تلاش کر رہا تھا جو ان دنوں نئی نئی بات تھی۔ ایک کیسٹ چلانے پر ٹی وی سکرین پر اچانک میڈم نورجہاں، اپنی دلکش مسکراہٹ اور مترنم آواز کے ساتھ یہ سدا بہار گیت گاتے ہوئے جلوہ گر ہوئیں: "جوان ہے محبت، حسین ہے زمانہ۔۔"

میں نے احتراماً فوراً سٹاپ بٹن دبا دیا لیکن اس دوران "حاجی بابا" کی بے ساختہ آواز آئی: "یہ تو نورجہاں ہے۔۔!"

ہم سب حیران ہوئے کہ حاجی بابا کو نورجہاں کا پتہ ہے حالانکہ وہ بڑے مذہبی اور باریش آدمی تھے اور ان کے گھر میں فلموں یا گیتوں کا ذکر کبھی نہیں سنا تھا۔ وہ تو ٹی وی سیٹ پر بھی تالا لگا کر رکھتے تھے اور خبروں، نیلام گھر اور روزمرہ کے ایک آدھ ڈرامہ وغیرہ کے علاوہ گھر کے افراد کو کچھ بھی دیکھنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔

حاجی بابا نے اصرار کیا کیسٹ دوبارہ لگاؤں۔ اتفاق سے پوری فلم (انمول گھڑی) تھی جو انھوں نے بڑے انہماک کے ساتھ دیکھی اور دیکھنے کے بعد ایک ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے میری طرف تشکر بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا: "یار مظہر، کیا یاد دلا دیا ہے۔۔!"

داستان گوئی میں "حاجی بابا"، ہمارے خاندان کے "اشفاق احمد" تھے، انگریز فوج میں رہے، کئی سال تک ہانگ کانگ میں جاپانیوں کے قیدی رہے اور اپنی فوجی سروس کی وجہ سے پورا ہندوستان دیکھا ہوا تھا۔ فلم انمول گھڑی (1946)، انھوں نے قید سے واپسی پر کوئٹہ کے ایک سینما میں "گیلری میں بیٹھ کر" دیکھی تھی۔ انھیں وہ ماحول حتیٰ کہ ساتھی بھی یاد تھے جن کی کہانیاں بھی سننے کو ملیں۔ صرف اس ایک فلم کی وجہ سے انھوں نے کئی ایک داستانیں سنا ڈالیں۔

فلم انمول گھڑی (1946) کے ہجے

1980 کی دھائی میں جب پہلی بار فلم انمول گھڑی (1946) دیکھی تو ٹائٹل پڑھ کر حیرت ہوئی کہ "گھڑی" کو رومن میں Ghadi لکھا ہوا تھا۔

اب ہم پاکستانی، اس لفظ کو کبھی بھی "گھڑی" نہیں پڑھ سکتے کیونکہ ہم Ghari لکھتے ہیں لیکن ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں ایسا ہی ہے کیونکہ وہاں "ڑ" کو رومن حرف R کی بجائے D سے لکھتے ہیں۔۔!

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندی حروفِ تہجی میں "ڑ" کا باقاعدہ حرف موجود نہیں بلکہ "ڈ" کے نیچے ایک نقطہ ڈال کر اس کو "ڑ" بنا لیا جاتا ہے جیسا کہ دیگر "اجنبی" یا "غیرمقامی حروف" مثلاً "خ، ز اور ف" وغیرہ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ "ڑ"، خالصتاً ہندوستانی زبانوں کا ایک مخصوص حرف ہے، اس کے باوجود باقاعدہ دیوناگری تحریر میں اس حرف کا نہ ہونا باعثِ حیرت ہے۔۔!

دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سال کی فلم "بڑی ماں" (1945) کے اشتہارات وغیرہ پر Bari لکھا ہوا ہے، Badi نہیں۔۔!

فلم دل (1946)

میڈم نورجہاں کی فلم دل (1946) کے بارے میں اس سے زیادہ معلومات دستیاب نہیں کہ یہ فلم باپ بیٹی کے جذباتی رشتے کے بارے میں ایک بامقصد اور اصلاحی فلم تھی۔ اس فلم کے گیت آن لائن موجود ہیں جن میں خاصا تنوع پایا جاتا ہے جو اس سے قبل کے میڈم کے فلمی گیتوں میں نظر نہیں آتا۔

فلمساز "فضلی برادرز لمیٹڈ" کی فلم دل (1946) کے ہدایتکار ایس ایف حسنین تھے۔ ان کے ایک بھائی سبطین فضلی نے پاکستان کی پہلی سپرہٹ اردو فلم دوپٹہ (1952) بنائی جبکہ بڑے بھائی فضل احمد کریم فضلی نے متعدد فلموں کے علاوہ ایک اصلاحی فلم چراغ جلتا رہا (1962) بھی بنائی جس میں انھوں نے پاکستانی اردو فلموں کی لیجنڈری جوڑی زیبا اور محمدعلی کو متعارف کروایا تھا۔

فلم دل (1946) کے گیت شمس لکھنوی، سیدعرش حیدری اور رضا بنارسی نے لکھے تھے۔ موسیقار ظفرخورشید تھے جنھوں نے پاکستان میں چار فلموں، ستاروں کی دنیا (1958)، انسان بدلتا ہے (1961)، عشقِ حبیب اور سازوآواز (1965) کی موسیقی ترتیب دی تھی۔ اس فلم کے گیتوں میں بڑی ورائٹی تھی جو سنجیدہ اور شوخ رومانٹک گیتوں کے علاوہ باپ سے جدائی کا جذباتی گیت ہو یا ٹرین پر ملک کی سیر، ندیا کا پانی ہو یا امیر و غریب کا سماجی اور معاشرتی جھگڑا وغیرہ کے موضوعات ملیں گے۔

فلم دل (1946) ، میڈم نورجہاں کی پہلی فلم تھی جس میں مشہور بھارتی گلوکار مناڈے کے دو گیت بھی شامل تھے۔ اگر اس نایاب فلم کے آن لائن گیتوں کو سامنے رکھ کر فلم کی کہانی کا تانابانا بنیں تو اس "مسلم سوشل فلم" کا خلاصہ کچھ یوں بنتا ہے:

فلم دل (1946) کی کہانی کا آغاز گلوکار مناڈے کے ان دو گیتوں سے ہو سکتا ہے: "اللہ، خطا کیا ہے غریبوں کی، بتا دے۔۔" اور "پردیس، مسافر جاتا ہے۔۔" اس دوران نورجہاں کاباپ بچھڑ جاتا ہے جس کو ایک رنجیدہ گیت گا کر یاد کرتی ہے: "بابا میرے، چھوٹ گئے، چین مجھے نہیں آئے، شام و سحر، آٹھوں پہر، بیٹھی ہوں آس لگائے۔۔" گلوکار موتی کا یہ گیت کہانی کو آگے بڑھاتا ہے: "لکھی نصیب میں ہیں ٹھوکریں، زمانے کی۔۔"

ایک سنجیدہ کہانی آگے بڑھتی ہے اور فلم بینوں کو تروتازہ رکھنے کے لیے کسی پرفضا مقام پر انیس خاتون اور سکھیاں قدرتی مناظر سے لطف اندوزہوتے ہوئے یہ کورس گیت گا رہی ہوتی ہیں: "ندیا کا بہتا پانی، جس کی موجوں میں ہے، جس کی لہروں میں ہے زندگی کی کہانی۔۔" ایسے میں ایک الڑ مٹیار نورجہاں بھی جوانی کی مستی میں جھومتے ہوئے یہ شوخ گیت گاتی ہوتی نظر آتی ہے: "آئی آئی گھڑی یہ سہانی، گیا میرا بچپن، اب آئی جوانی۔۔"

اب جوانی آئے اور کوئی جوان نہ آئے، یہ کیسے ممکن ہے؟ اسی لیے فلم کے گمنام ہیرو عبداللطیف عرف رمیش سے نورجہاں کا دورانِ سفرسامنا ہوتا ہے اور وہ، سیرو تفریح کرتے ہوئے چلتی ریل گاڑی میں موج مستیاں کرتے ہوئے یہ منفرد گیت گاتے ہیں: "چلی گاڑی، دھواں یہ اڑاتی چلی، یہ لہراتی، بل کھاتی، جانے لگی۔۔"

پہلی ملاقات کے بعد محبوب کی تھوڑی سی جدائی بھی برداشت نہیں ہوتی، ایسے میں نورجہاں یہ گیت گاتی ہے: "اے ہوا، جا جا جا، پیا کے گھر جا۔۔" محبت کی شدت ہو جائے تو شکوک و شہبات جنم لیتے ہیں، ایسے میں نورجہاں، یہ شکوہ کرتی ہوئی بھی نظر آتی ہے: "دے کے مجھے وہ دردِ جگر، بھول گئے کیا، بھول گئے۔۔" دوسری طرف ہیرو بھی گلوکار موتی کی کمزور آواز میں اپنی مجبوری یا صفائی بیان کرتا ہوا نظر آتا ہے: "شور نہ کرنا گلشن میں۔۔" اسی گیت میں مطمئن نورجہاں، یہ گاتی ہے کہ "کس نے مجھے آ کے جگایا، پیار بھرا گیت سنایا۔۔"

فلم چونکہ دستیاب نہیں، اس لیے اس آخری گیت کے بعد خیال یہی ہے کہ راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔

فلم دل (1946) بھی ایک کامیاب فلم تھی۔ میڈیا میں اس فلم کی کہانی، اداکاری اور گیتوں کی بڑی تعریف ہوئی تھی۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق "خوبصورت اور تجربہ کار نورجہاں" نے اپنے "گلیمرس رول" سے بڑا انصاف کیا تھا۔ اس فلم کے ایک اخباری اشتہار کے مطابق، فضلی بردران کو اس فلم پر 1946/47 کا "بیسٹ فلم ایوارڈ" ملنا چاہیے تھا۔۔!

فلم ہمجولی (1946)

فلم ہمجولی (1946) کے بارے میں روایت ہے کہ میڈم نورجہاں کے "بالی وڈ" کیرئر کی 14 فلموں میں سے یہ اکلوتی ناکام فلم تھی۔۔!

فلمساز "کے عبداللہ" کی ہندی/اردو فلم ہم جولی (1946) کے دو ڈائریکٹرز تھے، ایک اسماعیل میمن اور دوسرے پاکستان کی دوسری فلم شاہدہ (1949) بنانے والے ہدایتکار لقمان تھے۔ مرکزی ہیروئن، میڈم نورجہاں کے دو ہیرو تھے، ایک پی جے راج اور دوسرے آغا جان جبکہ اداکار غلام محمد کا پوسٹر پر موجود ہونا بتاتا ہے کہ یہ ایک سوشل ڈرامہ ہو گا جو شاید محبت کی تکون ہو۔ افسوس کی اس فلم کے گیتوں کے علاوہ کہانی کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں ہو سکا۔

فلم ہمجولی (1946) کے ہیرو پی جے راج (2000-1909) نے 170 سے زائد فلموں میں کام کیا تھا۔ مشہور بھارتی فلم شعلے (1975) میں پولیس انسپکٹر کے کردار میں تھے۔ جنوبی ہند سے تعلق تھا اور 1930/40 کی دھائیوں میں ایک مقبول فلمی ہیرو تھے۔ میڈم کے ساتھ یہ ان کی اکلوتی فلم تھی۔

فلم ہمجولی (1946) کے پوسٹر پر موجود دوسرے ہیرو آغا جان (1992-1914) کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ایک کامیڈین تھے۔ انھوں نے تین سو سے زائد فلموں میں کام کیا۔ ان کے بیٹے جلال آغا نے مشہور بھارتی فلم شعلے (1975) میں "محبوبہ محبوبہ۔۔" گیت گایا تھا۔

فلم ہم جولی (1946) کے دیگر اداکاروں میں مجید، جلوبائی اور مشہور کوتاہ قامت اداکار مقری کے علاوہ پاکستانی فلموں کی نامور اداکارہ زینت کی یہ پہلی فلم تھی۔ یاد رہے کہ "زینت بیگم" نام کی گلوکارہ پہلے سے موجود تھی جو لاہور کی فلموں کی ایک مستقل گلوکارہ تھی۔

فلم ہمجولی (1946) کے گیت

فلم ہمجولی (1946) کے فلمی اشتہارات پر بھی میڈم نورجہاں کے نام کے ساتھ "دا میلوڈی کوئین" (The Melody Queen) لکھا ہوا ملتا ہے جو اس دور میں عام تھا۔

فلم ہمجولی (1946) کے گیت انجم پیل بھتی نے لکھے تھے۔ میوزک ڈائریکٹر فلم زینت (1945) فیم موسیقار حفیظ خان نے اچھی دھنیں بنائیں۔ فلم کے دس گیتوں میں سے آدھے میڈم نے خود گائے جن میں بڑی ورائٹی تھی، تفصیل درج ذیل ہے:

  • بھگوان، کب تک تیری دنیا میں یہ اندھیر رہے گا۔۔ (اونچی سروں میں سماجی گیت)
  • دکھ درد سے جگ میں کوئی آزاد نہیں ہے۔۔ (ایک سنجیدہ گیت)
  • پھولوں میں نظر یہ کون آیا، کون آیا۔۔ (ایک رومانٹک گیت)
  • راز کھلتا نظر نہیں آتا، کون ہوں کیا نظر نہیں آتا۔۔ (ایک شوخ غزل)
  • یہ دیش ہمارا پیارا ہندوستان، جہاں سے نیارا۔۔ (ایک ملی ترانہ)
فہرست میں پہلے گیت میں میڈم نورجہاں نے پہلی بار انتہائی اونچی سروں میں گایا۔ چوتھی ایک غزل تھی جس میں شاعر انجم صاحب نے اپنا نام بھی دیا۔ اس فلم کے دیگر گیت شمشاد بیگم، زہرہ بائی انبالے والی، روشن آرا بیگم، جی ایم درانی اور محبوب نے گائے تھے۔

فلم ہمجولی (1946) کے گیتوں کی خاص بات میڈم نورجہاں کا گایا ہوا ایک ملی ترانہ ہے جس میں اپنے وطن یعنی ہندوستان سے محبت کے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ دلچسپ ترانہ پورا ملاحظہ فرمائیں:
    یہ دیش ہمارا پیارا، ہندوستان جہاں سے نیارا۔۔
    ہندوستان کے ہم ہیں پیارے، ہندوستان ہمارا پیارا۔۔
    مانا کہ ہم ہند کے رہنے والے بھوکے مرتے ہیں۔۔
    لیکن اس کے ان سے اب بھی یہاں کے لوگ پلتے ہیں۔۔
    جاگ اٹھے ہیں ہند کے باسی، ہم یہ ظاہر کر دیں گے۔۔
    وقت پڑا تو دیش پہ اپنی جان نچھاور کر دیں گے۔۔
    لے کے رہیں گے ہم آزادی، وہ دن آنے والا ہے۔۔
    جھنڈا اپنا ساری دنیا پر لہرانے والا ہے۔۔
ملکہ ترنم نورجہاں کو یہ منفرد "اعزاز" حاصل ہے کہ انھوں نے ہندوستان اور پاکستان، دونوں کے لیے ملی ترانے گائے ہیں۔۔!

متحدہ ہندوستان کا آخری مکمل سال

یہ "برٹش انڈیا" کا دور تھا اور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ 1946ء کا سال، متحدہ ہندوستان کا آخری مکمل سال ہے۔ علیحدگی کے اثرات البتہ نظر آنے لگے تھے اور اس سال، ملک کے سیاسی حالات بڑی تیزی سے بدل رہے تھے۔

جنوری 1946ء کے تاریخی انتخابات میں قائدِاعظمؒ کی آل انڈیا مسلم لیگ نے سو فیصدی مسلم سیٹیں جیت کر بہت بڑی سیاسی کامیابی حاصل کر لی تھی اور خود کو برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت منوا لیا تھا۔

یہ منڈیٹ انھیں 1940ء کی "قراردادِ لاہور" پر ملا تھا جس میں ہندوستان کی آئینی حدود میں رہتے ہوئے آزاد اور خودمختار مسلم ریاستوں کی بات کی گئی تھی اور اس میں ایک آزاد "پاکستان" کے قیام کے مطالبے کا کہیں ذکر نہیں تھا۔ البتہ اس کے بعد مختلف بیانات کی روشنی میں "پاکستان" کے بارے میں خاصی کنفیوژن پائی جاتی تھی۔

انتخابات میں کامیابی کے بعد 9 اپریل 1946ء کو "قراردادِ دہلی" میں، آل انڈیا مسلم لیگ نے پہلی بار واضح طور پر اپنے "دو قومی نظریہ" کی وضاحت کرتے ہوئے ہندوستان سے الگ تھلگ، ایک آزاد اور خودمختار پاکستان کا مطالبہ کیا تھا۔

اس بیان کی ابھی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ 6 جون 1946ء کو کانگریس سے پہلے مسلم لیگ نے انگریز حکمرانوں کا ہندوستان کو آزاد کرنے کے لیے "کیبنٹ مشن پلان" من و عن مان لیا تھا جس میں صوبائی خودمختاری کی ضمانت کے علاوہ ہندوستان کی تقسیم اگلے دس سال تک ٹالی گئی تھی۔

24 مارچ 1946ء کے اسی پلان کے تحت کانگریس اور مسلم لیگ نے جواہر لال نہرو کی قیادت میں 2 ستمبر 1946ء کو ایک مخلوط حکومت بنائی جس نے جون 1948ء سے قبل آزادی کے لیے آئین سازی کرنا تھی لیکن اختلافات اتنے شدید تھے کہ صرف چند ماہ بعد ہی نوبت علیحدگی تک جا پہنچی تھی۔

اگر "کیبنٹ مشن پلان" کامیاب ہو جاتا تو ہندوستان کی تقسیم کی نوبت نہ آتی۔ اس دوران، کانگریس کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے 16 اگست 1946ء کو مسلم لیگ کی "ڈائریکٹ ایکشن" یا سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ہڑتال کی اپیل پر کلکتہ اور بنگال کے دیگر علاقوں میں انتہائی خونریز ہندو مسلم فسادات ہوئے جس میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کی تقسیم ناگزیر ہوگئی تھی۔

فلم شاہ جہاں (1946)

1946ء میں باکس آفس پر فلمساز اور ہدایتکار محبوب خان کی فلم انمول گھڑی (1946) کے بعد فلمساز اور ہدایتکار عبدالرشید کاردار کی فلم شاہ جہاں (1946) نے سب سے زیادہ بزنس کیا تھا۔

بمبئی میں بنائی گئی اس سپرہٹ فلم میں "ملکہ ممتاز محل" کا رول لاہور فلم انڈسٹری کی سپرسٹار ہیروئن، "آہو چشم" راگنی نے کیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ کاردار صاحب نے اس رول کے لیے راگنی کو بھاری معاوضے پر کاسٹ کیا تھا۔ وہ، اپنی سپرہٹ فلموں، داسی (1945) اور نیک پروین (1946) کی کامیابیوں کی وجہ سے بمبئی کی فلموں کی ضرورت بن گئی تھی لیکن تقسیم نے اس کے فلمی کیرئر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا تھا۔

یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ فلم نیک پروین (1946) کے ہدایتکار بمبئی کی فلموں کے معروف فلم ڈائریکٹر ایس ایم یوسف تھے جنھوں نے یہ فلم لاہور جا کر بنائی اور ٹائٹل رول میں راگنی کو لیا تھا۔ تقسیم کےکئی سال بعد پاکستان ہجرت کی اور پہلی فلم سہیلی (1960) بنائی۔ اسی سال ان کے بیٹے، اقبال یوسف نے فلم رات کے راہی (1960) بنائی جس میں ریحانہ کا مرکزی کردار تھا۔ اس طرح دونوں باپ بیٹوں نے ایک ہی سال میں پاکستانی فلمی کیرئر کا آغاز کیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم شاہ جہاں (1946) کا ٹائٹل رول، لاہور کے ایک گمنام اداکار "ایم ڈی کنور" نے کیا جو ایک سپرہٹ پنجابی فلم دلابھٹی (1940) میں راگنی کے ہیرو تھے جبکہ اس فلم کی روایتی ہیروئن نسرین تھی جو اداکارہ/گلوکارہ سلمیٰ آغا کی ماں تھی۔

فلم شاہ جہاں (1946) میں میڈم نورجہاں کے فلم ہمجولی (1946) کے ہیرو "پی جے راج" نے بت تراش شیرازی کا رول کیا لیکن فلم کا اہم ترین کردار فلم کے روایتی ہیرو کندن لال سہگل تھے جن کے دو شاہکار گیت ان کے فلمی کیرئر کے مقبول ترین گیت تھے جن کی دھنیں نوشاد علی نے بنائیں اور انھیں مجروح سلطان پوری نے لکھا تھا۔ یہ دونوں گیت دل کے تار چھیڑ دیتے ہیں:
  • جب دل ہی ٹوٹ گیا، اب جی کے کیا کریں گے۔۔
  • غم دیے مستقل، کتنا نازک ہے دل، یہ نہ جانا، ہائے ہائے یہ ظالم زمانہ۔۔
ان دو سپرہٹ گیتوں کے علاوہ فلم شاہجہاں (1946) کا یہ کورس گیت "میرے سپنوں کی رانی، روحی، روحی۔۔" تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ برِصغیر پاک و ہند کی فلمی تاریخ میں 1930/40 کی دھائیوں کے پہلے عظیم گلوکار کندن لال سہگل اور مردانہ فلمی گائیکی کا پیمانہ بن جانے والے 1950/60 کی دھائیوں کے عظیم ترین گلوکار محمدرفیع کا یہ اکلوتا مشترکہ گیت ہے۔

اس یادگار گیت کی دھن بنانے والے "موسیقارِ اعظم" نوشاد علی، اپنے ایک انٹرویو میں سہگل کو رفیع سے بڑا گلوکار قرار دیتے ہیں۔۔!

افسوس کہ 1940 کی دھائی کے دو سب سے بڑے فلمی گلوکاروں یعنی سہگل اور نورجہاں کو کسی فلم میں ایک ساتھ کام کرنے یا کوئی دوگانا گانے کا موقع نہیں ملا تھا۔۔!

1946ء کے دیگر اہم واقعات

  • "باکس آفس انڈیا ڈاٹ کم" کی 1946ء کی بزنس رپورٹ میں ڈیڑھ سو ریلیز شدہ فلموں میں سے صرف پانچ فلموں کا ذکر ملتا ہے جس میں نورجہاں اور سریندر کی فلم انمول گھڑی اور سہگل اور راگنی کی فلم شاہجہاں (1946) کے بعد اداکارہ/گلوکارہ خورشید اور موتی لال کی فلم پھلواری اور ثریا اور سہگل کی فلم عمر خیام (کامیاب) جبکہ ثریا اور سریندر کی فلم "1857" کو اوسط درجہ کی فلم قرار دیا گیا ہے۔ اس سے یہ فہرست مشکوک ہو جاتی ہے کہ ڈیڑھ سو ہندی/اردو فلموں میں سے کوئی اور فلم کامیاب نہیں ہوئی تھی۔۔؟
  • 1946ء میں لاہور میں تقسیم سے قبل کی آخری 9 فلمیں بنیں جن میں ایک پنجابی اور باقی ہندی/اردو فلمیں تھیں۔ لاہور کی فلموں میں راگنی کی عدم موجودگی میں اس کی جگہ منورما اور پاکستان کی پہلی ہیروئن آشا پوسلے نے لے لی تھی۔ اسی سال بمبئی میں آخری پنجابی فلم سوہنی مہینوال (1946) بھی بنائی گئی تھی۔
  • 1946ء ہی میں پاکستان کے تین بہت بڑے موسیقار سامنے آئے جن میں فیروز نظامی، ماسٹر عنایت حسین اور نثاربزمی شامل تھے۔ غزل گلوکارہ اقبال بانو نے بھی پہلی فلم کے لیے گایا تھا۔ اسی سال اداکارہ شبنم، اداکارہ رانی اور ٹی وی کمپئر دلدار پرویز بھٹی کی پیدائش بھی ہوئی تھی۔
  • 1946ء ہی وہ سال تھا جب 15 فروری کو عام استعمال کے لیے پہلا کمپیوٹر سامنے آیا تھا۔ اس سال فرانس میں کینز فلم ایوارڈز (گرانڈ پری) کا سلسلہ شروع ہوا جس میں پہلی ہندوستانی فلم نیچا گھر (1946) کو ایوارڈ ملا تھا۔
  • 1946ء کا سال، دوسری جنگِ عظیم کے بعد امن کا پہلا سال تھا۔ "لیگ آف نیشن" کی جگہ "یونائیڈ نیشن" نے لے لی تھی۔ اسی سال "سرد جنگ" کا آغاز بھی ہوا جب 5 مارچ 1946ء کو سابق برطانوی وزیرِاعظم ونسٹن چرچل نے روس کو ملک گیری کی ہوس پر وارننگ دی تھی۔

1947ء کا سال

1947ء کا سال، ملکہ ترنم نورجہاں کا ہندوستان میں آخری سال تھا جس میں انھوں نے بطورِ اداکارہ اور گلوکارہ، کامیابیوں اور کامرانیوں کا ایک نیا، منفرد اور اب تک ناقابلِ تسخیر ریکارڈ قائم کیا تھا۔۔!

فلم زینت (1945) اور انمول گھڑی (1946) کے بعد میڈم نورجہاں کی فلم جگنو (1947) بھی سال کی ڈیڑھ سو ریلیز شدہ فلموں میں باکس آفس پر سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم ثابت ہوئی تھی۔۔!

اس طرح سے مسلسل تین سال تک بطورِ اداکارہ اور گلوکارہ، "بالی وڈ" پر راج کرنے یا اپنی اجارہ داری کی "ہٹ ٹرک" کرنے کا ایک منفرد اعزاز بھی میڈم نورجہاں کے حصہ میں آیا جو بلاشبہ برصغیر پاک و ہند کی فلمی تاریخ کی ایک بے مثل اور کامیاب ترین فنکارہ ثابت ہوئی تھیں۔

صرف یہیں بس نہیں، میڈم نورجہاں کی تقسیم سے قبل کی آخری فلم مرزا صاحباں (1947) بھی سال کی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی چوتھی بڑی فلم تھی۔۔!

یہ ایک منفرد اور انتہائی قابلِ رشک ریکارڈ تھا کہ فلم خاندان (1942) سے لے کر فلم مرزاصاحباں (1947) کے چھ برسوں میں کوئی ایک سال بھی ایسا نہیں گزرا کہ جب میڈم نورجہاں کی باکس آفس پر کوئی فلم ٹاپ ٹین فلموں میں نہ آئی ہو۔۔!

فلم جگنو (1947)

1947ء میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی سپرہٹ ہندی/اردو فلم جگنو (1947) کا ٹائٹل اور مرکزی کردار، میڈم نورجہاں نے کیا اور اپنی آل راؤنڈ کارکردگی (شوخ و سنجیدہ ادکاری اور سپرہٹ گیتوں) سے فلم پر چھائی ہوئی تھیں۔

فلم جگنو (1947) کے ایک اشتہار میں یہ دلچسپ جملہ پڑھنے کو ملا (ترجمہ):
    "نورجہاں، ہندوستانی فلمی دنیا کا نور، اب ایک جگنو بن کر فلم 'جگنو' میں فلم بینوں کی آنکھوں کو منور کرنے آ رہی ہے۔۔!"
میڈم نورجہاں کے شوہر، فلمساز اور ہدایتکار سیدشوکت حسین رضوی کی شاہکار فلم جگنو، 23 مئی 1947ء کو بمبئی سے پہلے لاہور یا شمالی ہندوستان کے فلمی سرکٹ میں ریلیز ہوئی تھی۔

شوکت آرٹ پروڈکشنز کی اس سپرہٹ فلم کی کہانی اے صغیرعثمانی اور مکالمے احسن رضوی کے جبکہ سکرین پلے خادم محی الدین نے لکھا جنھوں نے پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1947) کی کہانی بھی لکھی تھی۔ وہ، بین الاقوامی شہرت یافتہ اداکار اور کمپئر ضیاء محی الدین کے والدِ گرامی تھے۔

نورجہاں اور دلیپ کمار

لیجنڈری اداکار دلیپ کمار کو میڈم نورجہاں کی سپرہٹ فلم جگنو (1947) سے بریک تھرو ملا تھا۔۔!

دلیپ کمار (2021-1922) کی پہلی تینوں فلمیں، جواربھاٹا (1944)، پریتما (1945) اور ملن (1946) ناکام رہیں۔ لیکن اگر فلم جگنو (1947) کے بارے میں اے آئی، گوگل یا دیگر فلمی ویب سائٹس پر تحقیق کریں تو اس فلم کی معلومات میں دلیپ کمار کو نورجہاں پر ترجیح دی جاتی ہے حالانکہ اس فلم میں میڈم کا ٹائٹل اور مرکزی کردار ہے اور جب یہ فلم ریلیز ہوئی تھی تو مسلسل تین سال سے ہندوستان کی نمبر ون "میگا سٹار" اداکارہ/گلوکارہ تھیں جبکہ دلیپ کمار، اس وقت تک، ایک گمنام اور ناکام اداکار تھے۔

دلیپ کمار کی عظمت سے انکار ممکن نہیں لیکن ہر فنکار کا ایک وقت ہوتا ہے۔ اس لیے کسی کی ذاتی یا گروہی پسند و ناپسند، تعصب و تنگ نظری یا خیالات و آراء کی قطعاً اہمیت نہیں ہوتی جب حقائق سامنے ہوں۔ ایسے میں فلمی تاریخ سے اس جعل سازی کا مدلل جواب دینے کے لیے پاکستان فلم میگزین کی اس منفرد کاوش کی اہمیت اور افادیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

یہ ساتھ میں دیا گیا جعلی پوسٹر ملاحظہ فرمائیں اور سوچیں کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اپنی چوتھی فلم جگنو (1947) میں ایک ناکام اداکار کو "ہندوستانی فلمی دنیا کے نور" پر ترجیح دی جائے گی۔۔؟

یاد رہے کہ اس مضمون میں شامل فلم جگنو (1947) کا انتہائی شاندار پوسٹر AI کی مدد سے بنایا گیا ہے جو میرے اپنے ذہن کی تخلیق ہے اور میرے ذاتی خیال کے مطابق ایسا تھا یا ہونا چاہیے تھا۔۔!

دلیپ کمار، میڈم نورجہاں کا بے حد احترام کرتے تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی میں پہلا انٹرویو بھارتی ٹی وی "دوردرشن" کے لیے میڈم ہی کا لیا تھا جب وہ، 1982ء میں بھارت کے دورے پر گئیں جہاں انھیں مکمل سرکاری پروٹوکول ملا اور بھارتی وزیرِاعظم اندراگاندھی نے بھی بطورِ خاص ملاقات کی تھی۔

اس کے علاوہ دلیپ کمار نے ایک ویڈیو انٹرویو میں میڈم نورجہاں کو سُرسنگیت کی دنیا کی "ملکہ عالم" کا خطاب دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ میڈم نورجہاں، انتہائی عروج کا وہ شاندار دور چھوڑ کر پاکستان نہ چلی آتیں تو یقیناً ہندوستان کی فلمی تاریخ کی سب سے بڑی شخصیت قرار پاتیں کیونکہ ان کے پائے کی آل راؤنڈ گلوکارہ/اداکارہ، آج تک برصغیر پاک و ہند کی فلمی تاریخ نے پیدا ہی نہیں کی۔۔!

فلم جگنو (1947) کی کہانی

فلم جگنو (1947) کی کہانی ایک ایسی خوددار اور وفاشعار نوجوان لڑکی کی کہانی ہے جو اپنے محبوب کے خاندان کی بقاء کے لیے اپنی محبت اور جان تک قربان کر دیتی ہے۔

    ایک پرفضا مقام پر کالج کے لڑکوں اور لڑکیوں کے مابین پکنک مناتے ہوئے مختلف النوع کی چھیڑچھاڑ کے دوران "جگنو" (نورجہاں) اور "سورج" (دلیپ کمار) میں محبت ہو جاتی ہے اور عہد و پیمان بھی ہوتے ہیں کہ اپنی محبت کی خاطر جان تک دے دیں گے۔

    حسبِ معمول، ان کی محبت میں روایتی سماج کی آہنی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے جو امیر و غریب کی پرانی جنگ ہے۔ "سورج" کا باپ "رائے بہادر" (غلام محمد)، "جگنو" جیسی غریب لڑکی کی بجائے اپنے بیٹے کی شادی کسی مالدار کی بیٹی سے کرنا چاہتا ہے تا کہ اس کے لائے ہوئے جہیز سے اپنے وہ قرض اتار سکے جن سے ایسے جھوٹے ٹھاٹھ باٹھ قائم ہیں۔

    "سورج" کو اپنے باپ کی مصنوعی شان و شوکت کا علم ہو جاتا ہے لیکن اپنی ضد پر قائم رہتا ہے۔ ایسے میں اس کی ماں (جلوبائی)، "جگنو" سے ملتی ہے اور اس کو راضی کرتی ہے کہ وہ "سورج" کو خود سے بدظن کرے تا کہ وہ، شادی کر کے اپنے خاندان کی ساکھ بچا سکے۔

    نورجہاں، شکستہ دل سے مان جاتی ہے اور دلیپ کمار کو بدظن کرنے کے بعد محبت اور قربانی کی آگ میں جل کی بھسم ہو کر بسترِ مرگ پر جان دینے سے قبل ایک خط میں جلوبائی کو وہ رقم بھی بھیج دیتی ہے جو اس کو ایک انعام میں ملتی ہے۔ اس رقم کی انھیں اس لیے بھی اشد ضرورت ہوتی ہے کہ "رائے صاحب" (غلام محمد) کو جہیز میں ملا ہوا زیور نقلی ہوتا ہے۔

    "جگنو" کا ماں کو لکھا ہوا خط، "سورج" کے ہاتھ لگ جاتا ہے جس سے اسے حقیقت کا علم ہو جاتا ہے۔ وہ اس کے پاس پہنچتا ہے لیکن دیر ہو جاتی ہے اور وہ اس کی بانہوں میں دم توڑ دیتی ہے۔ "سورج" بھی وعدہ وفا کرتے ہوئے پکنک کے اسی مقام پر پہاڑی سے چھلانگ لگا کر دریا میں ڈوب کر خودکشی کر لیتا ہے جہاں ان کا اقرارِ وفا ہوا تھا۔

فلم جگنو (1947) کے دیگر کردار

فلم جگنو (1946) میں میڈم نورجہاں اور دلیپ کمار کے بعد تیسرا بڑا نام اداکارہ "سلوچنا" (روبی مئیر) کا تھا جو 1920 کی دھائی کی خاموش فلموں کی پہلی سپرسٹار ہیروئن تھی۔

سلوچنا (83-1907)، ایک یہودی نژاد اینگلو انڈین اداکارہ تھی اور اس کے کریڈٹ پر بڑی بڑی خاموش فلمیں تھیں۔ اس کی جوڑی اداکار "ڈی بلیموریا" کے ساتھ بڑی مقبول ہوئی تھی۔ اس دور کی ایک خاموش فلم ہیررانجھا (1929) میں ان دونوں کے بوس و کنار کے مناظر بڑے مشہور ہوئے جن پر اس دور کے پریس میں بڑی سخت تنقید ہوئی تھی۔

فلم جگنو (1947) کی کہانی کا تیسرا اہم ترین کردار "رائے صاحب" (غلام محمد) کا تھا جو 1930 کی دھائی کے ممتاز ولن اداکار اور اداکارہ سلوچنا ہی کی طرح بمبئی کی "امپیرئل فلم کمپنی" سے منسلک رہے۔ میڈم نورجہاں کی پہلی سپرہٹ ہندی/اردو فلم خاندان (1942) کا مرکزی کردار بھی انھی کا تھا۔ اس سے قبل میڈم کی بطورِ ہیروئن پہلی فلم چوہدری (1941) کا ٹائٹل رول بھی انھوں نے ہی کیا تھا۔ لاہور کی بٹ برادری سے تعلق تھا۔ تقسیم کے بعد 1950 کی دھائی میں بہت سی پاکستانی اردو اور پنجابی فلموں میں کیریکٹرایکٹر کے طور پر نظر آئے۔

فلم جگنو (1947) کی کہانی کا چوتھا اہم کردار "جلوبائی" نے کیا جو اپنے خاندان کی ساکھ بچانے کے لیے نورجہاں سے اس کی محبت کی قربانی مانگتی ہے۔ اس اداکارہ کو "ہندی فلموں کی ماں" بھی کہا جاتا تھا۔

فلم جگنو (1947) میں شمشاد بیگم کے اس گیت "لوٹ جوانی پھر نہیں آنی، بیت گئی تو ایک کہانی۔۔" پر اداکارہ لاتیکا کا جو گیٹ اپ اور رقص تھا، اس کو اس دور کا "فحش سین" قرار دیا گیا اور بہت سی ہندوستانی ریاستوں نے اس فلم کی نمائش پر پابندی لگا دی تھی۔

فلم جگنو (1947) کے دیگر اداکاروں میں (نیا چہرہ) ضیاء، ششی کلا، لڈن اور نذیرکشمیری کے علاوہ پہلے شوخ کورس گیت "وہ اپنی یاد دلانے کو اک عشق کی دنیا چھوڑ گئے۔۔" میں گائیکی اور اداکاری کرتے ہوئے اور پکنک پر گئی ہوئی لڑکیوں کا کھانا چراتے ہوئے عظیم گلوکار محمدرفیع بھی سکرین پر نظر آئے جنھوں نے اس فلم میں میڈم نورجہاں کے ساتھ اپنا اکلوتا دو گانا بھی گایا تھا۔

فلم جگنو (1947) کے گیت

فلم جگنو (1947)، ایک انتہائی یادگار اور تاریخی فلم تھی جس سے نہ صرف عظیم اداکار دلیپ کمار کو بریک تھرو ملا بلکہ برصغیر کی فلمی تاریخ کے عظیم ترین گلوکار محمدرفیع کو بھی اسی فلم سے لازوال شہرت ملی تھی۔

ذرا تصور کریں کہ دلیپ کمار کو صرف اداکاری اور محمدرفیع کو صرف گلوکاری میں اعلیٰ مقام حاصل ہے لیکن ان دونوں عظیم فنکاروں پر اکیلی نورجہاں بھاری تھی جس نے اداکاری اور گلوکاری کے دونوں شعبوں میں اپنی عظمت کی دھاک بٹھا دی تھی اور مسلسل تین سال سے نمبر ون تھی۔ اب جو اس عظیم ترین فنکارہ کو نظرانداز کرے گا تو اس سے بڑا فنکار دشمن، بددیانت، متعصب، جھوٹا اور مکار شخص کون ہوگا۔۔؟

میڈم نورجہاں کی فلمیں، گلوکاری کی وجہ سے زیادہ مشہور ہوتی تھیں اور ہر فلم میں کوئی نہ کوئی سپرہٹ گیت ہوتا تھا۔ فلم جگنو (1947) کی موسیقی فیروزنظامی نے ترتیب دی تھی جو لاہور کی فلم نیک پروین (1946) کے بعد مشہور ہوئے۔ معروف کرکٹر نذرمحمد کے بھائی تھے جن کے ساتھ میڈم کا ایک سکینڈل بڑا مشہور ہوا تھا۔ ایک گیت جی اے چشتی نے کمپوز کیا تھا۔ شاعروں میں مختلف نام ملتے ہیں جن میں تنویر نقوی اور نخشب زیادہ معروف نام ہیں۔

فلم جگنو (1947) میں کل آٹھ گیت تھے جن میں سے آدھے میڈم نورجہاں نے گائے تھے۔ ان میں سے سب سے زیادہ مقبول گیت میڈم نورجہاں کا محمدرفیع کے ساتھ گایا ہوا اکلوتا دوگانا ہے جس کو تنویرنقوی نے لکھا تھا، بول تھے:

  • یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے، محبت کرکے بھی دیکھا، محبت میں بھی دھوکا ہے۔۔
یہ سپرہٹ گیت، دلیپ کمار اور میڈم نورجہاں پر فلمایا ہوا اکلوتا گیت بھی ثابت ہوا تھا۔

فلم جگنو (1947) کے سولو گیتوں میں ملکہ ترنم نورجہاں کا گایا ہوا سب سے خوبصورت گیت موسیقار جی اے چشتی نے کمپوز کیا تھا جس کا انکشاف میڈم نے انورمقصود کے پروگرام "سلورجوبلی" میں کیا تھا۔ اس شاہکار گیت کے بول تھے:

  • آج کی رات، سازِ دلِ پُردرد نہ چھیڑ۔۔
میڈم نورجہاں کے دیگر تینوں گیت بھی بڑے دلکش تھے جن میں ایک شوخ رومانٹک گیت اور دوسرے دونوں سنجیدہ گیت تھے:
  • امنگیں دل کی مچلیں، مسکرائی زندگی اپنی۔۔
  • ہمیں تو شامِ غم میں کاٹنی ہے زندگی اپنی۔۔
  • تم بھی بھلا دو، میں بھی بھلا دوں، پیار پرانے، گزرے زمانے۔۔
ان کے علاوہ ایک گیت روشن آرا بیگم کا تھا، ایک شمشاد بیگم اور ایک کورس گیت میں محمدرفیع، خان مستانہ اور معروف پاکستانی گلوکار انوررفیع کے والد ایس ایم ناگی بھی تھے۔

فلم جگنو (1946) کا تنازعہ

دستیاب معلومات کے مطابق فلم "جگنو" کو پہلے 23 مئی 1947ء کو شمالی ہند کے سینماؤں میں ریلیز کیا گیا جہاں اس کو زبردست کامیابی ملی۔ اس دوران ہندوستان تقسیم ہوا اور یہ فلم، یکم اکتوبر 1947 کو بمبئی کے کیپٹل سینما میں ریلیز ہوتے ہی فلمی پریس میں اس فلم کے خلاف ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

مشہور انڈین فلمی رسالے "فلم انڈیا" کے ایڈیٹر بابوراؤ پٹیل نے فلم جگنو (1947) کو "گندی، مکروہ اور بیہودہ تصویر" قرار دیا تھا۔ اس کی وجہ فلم کی مبینہ "فحش کہانی" میں کالج کے لڑکے لڑکیوں کی چھیڑچھاڑ، تعلیم کی بجائے گانا بجانا اور ہلا گلا، ایک سٹیج رقص، رقاصہ کا لباس اور شرابی انداز کے علاوہ ہوسٹل میٹرن کا ایک پروفیسر کے ساتھ رومانس ناقابلِ برداشت تھا۔

یہ غیرمعمولی اور غیرمتوقع منفی پروپیگنڈہ فلم بینوں پر تو اثرانداز نہیں ہوا اور فلم جگنو (1947)، سال کی کامیاب ترین فلم ثابت ہوئی لیکن ہندوستان کی مختلف ریاستوں نے اس فلم کی نمائش پر پابندی عائد کر دی تھی اور فلمساز اور ہدایتکار شوکت حسین رضوی کو سنسر کے مسائل میں الجھنا پڑا تھا۔

بتایا جاتا ہے فلم جگنو (1947) کی کل لمبائی 14.093 فٹ تھی لیکن سنسر کے بعد 11.559 فٹ رہ گئی تھی۔ اس طرح سے فلم کا کل دورانیہ 156 منٹ یا دو گھنٹے 36 منٹ تھا جس میں سے 28 منٹ کم ہو گئے تھے۔ اس فلم کا جو آن لائن ورژن ہے، اس کی کل لمبائی 14ہزار فٹ اور دورانیہ قریباً ڈھائی گھنٹے ہے اور اس کا سنسر سرٹیفیکیٹ اس وقت کے "مغربی پاکستان" کا ہے اور 24 دسمبر 1959ء کو جاری ہوا تھا۔ اس میں وہ سبھی "قابلَ اعتراض" مناظر موجود ہیں جو تنازعہ کا باعث بنے تھے۔

نورجہاں کے ہندوستان چھوڑنے کی وجہ۔۔؟

فلم جگنو (1947) پر اس غیرمعمولی تنقید کے علاوہ شاید "فلم انڈیا" جیسے انتہائی بااثر فلمی میگزین کے ایڈیٹر بابوراؤپٹیل کا شوکت حسین رضوی صاحب سے کوئی ذاتی ایشو بھی تھا۔ اتفاق سے دونوں بمبئی کے "عمرپارک، وارڈن روڈ، بمبئی" میں پڑوسی تھے۔ 1947ء میں ہندوستان کی تقسیم کی وجہ سے ہندو مسلم کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور اس کے اثرات اس رسالے کے مضامین میں صاف نظر آتے ہیں۔

پٹیل صاحب نے رضوی صاحب پر غداری (ففتھ کالمسٹ) کا الزام بھی لگایا اور انھیں ریاست حیدرآباد دکن کے ایک مشہور مزاحمتی گروپ کا رکن ثابت کرنے کی ناکام کوشش بھی کی جو اس ریاست پر بھارتی قبضے کے خلاف سرگرمِ عمل تھا۔ اس کے علاوہ دیگر مسلمان فنکاروں کی بھارت سے وفاداری کو بھی مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی اور خاص طور پر پاکستان اور قائدِاعظمؒ کے خلاف خاصا زہر اگلا گیا تھا۔

ان کے علاوہ رضوی صاحب کا میڈم نورجہاں کے ساتھ انتہائی عروج کے دور میں بمبئی چھوڑ کر پاکستان (کراچی) شفٹ ہونا بھی عداوت کی وجہ تھا لیکن اس پر تفصیلی بحث اگلی قسط میں کی جائے گی۔

فلم مرزاصاحباں (1947)

میڈم نورجہاں کی ہندوستان یا "بالی وڈ" کی آخری فلم مرزاصاحباں (1947) تقسیم کے بعد ریلیز ہوئی لیکن تمام تر قومی، سیاسی اور مذہبی تعصبات کے باوجود ملکہ ترنم کی آواز کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا جس کا اعتراف خود "فلم انڈیا" کے مئی 1948ء کے شمارے میں ملتا ہے۔۔!

فلم مرزاصاحباں (1947) میں میڈم نورجہاں کے گیتوں کو "فلم انڈیا" میگزین نے "نئی بلندیاں" قرار دیا تھا۔ اس فلم میں میڈم کی دلکش آواز میں تین گیت سپرہٹ ہوئے تھے:
  • آجا، تجھے افسانہ زندگی کا سناؤں۔۔
  • ہو، کیا یہی تیرا پیار تھا۔۔
  • ہاتھ سینے پہ جو رکھ دو تو قرار آ جائے۔۔ (مع جی ایم درانی)
ان کے علاوہ اس فلم میں میڈم نورجہاں نے شمشادبیگم اور زہرہ بائی امبالے والی کے ساتھ دو کورس گیت بھی گائے جو فلم میں بڑے بھلے لگتے تھے۔ بول تھے: "ہائے رے، اُڑ اُڑ جائے میرا لال دوپٹوا۔۔" اور "رُت رنگیلی آئی، چاندنی چھائی، چاند میرے آجا۔۔"

فلم مرزاصاحباں (1947) کے موسیقار پنڈت امرناتھ تھے جن کا اس فلم کی تکمیل کے دوران انتقال ہوا اور کچھ گیت ان کے بھائیوں حسن لال اور بھگت رام نے کمپوز کیے تھے۔ قمرجلال آبادی اور عزیز کاشمیری کے گیت تھے جبکہ دیگر گلوکاروں میں شمشاد بیگم اور زہرہ بائی امبالے والی کے گیت بھی تھے۔ ایک پنجابی گیت بھی تھا۔

فلم مرزاصاحباں کو 1947ء کی فلموں میں شمار کیا جاتا ہے لیکن اس کی بمبئی کی ریلیز ڈیٹ 19 مارچ 1948ء ہے۔ عام طور پر ہندی/اردو فلموں کا مرکز اس وقت کا شمال وسطی ہندوستان ہوتا تھا جہاں یہ زبانیں بولی جاتی تھیں اور شاید اسی لیے یہ فلمیں پہلے ان علاقوں میں نمائش کے لیے پیش ہوتی تھیں۔

یہ کیسی عجیب بات ہے کہ ہندی/اردو فلموں کا سب سے بڑا مرکز بمبئی رہا ہے جو اصل میں مراٹھی بولنے والوں کا علاقہ ہے۔ دوسرا بڑا فلمی مرکز کلکتہ ہوا کرتا تھا جو بنگالی بولنے والوں کا سب سے بڑا شہر تھا جبکہ تیسرا مرکز لاہور تھا جو پنجابی بولنے والوں کا مرکز تھا۔ ان کے برعکس دہلی، جو اردو/ہندی (یا ہندوستانی) بولنے والوں کا مرکز تھا، وہاں فلمی میڈیا تو تھا لیکن فلمیں نہیں بنتی تھیں۔۔!

ہدایتکار اور مصنف کے امرناتھ کی فلم مرزاصاحباں (1947)، اس سال کی چوتھی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم تھی۔ تقسیم سے قبل کی اپنی اس آخری فلم میں میڈم نورجہاں نے "صاحباں" کا مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ "مرزا" کا رول کپور خاندان کے سربراہ پرتھوی راج کپور (مغلِ اعظم فلم میں شہنشاہ اکبر فیم) کے چھوٹے بھائی ترلوک کپور نے کیا تھا۔ اس فلم کے مرکزی ولن کا نام معلوم نہیں ہو سکا۔ معاون اداکار مشرا اور روپ کمل کے علاوہ اس وقت کی مشہور ڈانسر "ککو" کا ایک رقص بھی تھا۔ مزاحیہ اداکار گوپ کے علاوہ مرزا کی بہن کے رول میں اداکارہ ریکھا بھی تھی جس نے پاکستانی فلموں کے نامور اداکار اور کہانی نویس شیخ اقبال سے شادی کی اور بہت سی پاکستانی میں فلموں میں نظر آئی تھی۔

فلم مرزاصاحباں (1947) کی کہانی

میڈم نورجہاں کی فلم مرزاصاحباں (1947) کی کہانی مندرجہ ذیل ہے:

    نوعمر "مرزا" (لکشمن) کی نت نئی شرارتوں سے تنگ آئے ہوئے گاؤں کے لوگ شکایات لیے اس کے گھر جمع ہیں۔ مہمان آئے ہوئے "ماموں" (مشرا)، سزا کے طور پر "مرزا" کو اپنے ساتھ اپنے گاؤں لے جاتے ہیں جہاں پہلی ہی نظر میں اس کو ماموں کی بیٹی "صاحباں" (انوری) سے عشق ہو جاتا ہے۔

    بچپن کا عشق یا "نکے ہندیاں دا پیار"، جوان ہو کر دیوانگی کی حد تک پہنچ جاتا ہے جو خاندان کے لیے باعثِ شرم ہوتا ہے۔ "صاحباں" (نورجہاں) کا بھائی (شمیر) برداشت نہیں کرتا اور چند ایک بار کی لڑائی مارکٹائی کے بعد "مرزا" (ترلوک کپور) کو ایک بار پھر دیس نکالا مل جاتا ہے۔

    اس دوران "صاحباں" کی شادی کسی اور سے طے کر دی جاتی ہے۔ خبر ملتے ہی عین بارات والے دن، "مرزا"، دلہن بنی "صاحباں" کو اپنے گھوڑے "بکی" پر ڈال کر فرار ہو جاتا ہے۔ اپنی دانست میں وہ بہت دور تک نکل جاتا ہے اور آرام کے لیے ایک پیڑ کے سائے میں تھکا ہارا سو جاتا ہے۔

    "مرزا" بلا کا تیرانداز ہے اور اس کا تیرکمان، ہر وقت اس کے پاس ہوتا ہے۔ وہ سویا ہوا ہوتا ہے لیکن صاحباں کو یقین ہوتا ہے کہ ان کا پیچھا کیا جائے گا اور انتقام اور انجام بڑا خوفناک ہوگا۔ لڑائی مارکٹائی کے خوف سے "صاحباں"، "مرزا" کے تیر توڑ دیتی ہے اور جب اس کے بھائی حملہ کرتے ہیں تو وہ دونوں بڑی بے بسی کی حالت میں مارے جاتے ہیں۔

"مرزاصاحباں" کی تاریخ

"مرزاصاحباں" کی کہانی خطہِ پنجاب کی پانچ مشہور ترین رومانوی داستانوں میں سے ایک ہے جس کو چکوال سے تعلق رکھنے والے ایک شاعر "پیلو" (1675-1580) نے 17ویں صدی میں منظوم کلام کی صورت میں پیش کیا تھا۔ اس قصے کو مخصوص طرز میں گایا جاتا ہے اور آخری مصرعہ میں عام طور پر "جٹا، اوئے۔۔" کو دردناک لہجے میں لمبا کھینچا جاتا ہے۔

متعدد دیگر شعراء نے بھی اس قصے پر طبع آزمائی کی لیکن "پیلو" والی شہرت کسی کو نہیں ملی۔ عالم لوہار کے علاوہ دیگر بہت سے لوک فنکاروں نے یہ کلام گا کر شہرت حاصل کی۔ فلمی گیتوں میں بھی یہ طرز استعمال کی گئی ہے۔ فلم مرزاصاحباں (1947) میں گلوکارہ شمشاد بیگم نے اسی طرز پر ایک پنجابی گیت گایا جس کے بول تھے:"مقدراں لکھن والیا، کوئی لکھ عشق دی گل۔۔"

دریائے چناب کا رومانوی پانی

یہ کتنی دلچسپ بات ہے کہ پنجاب کی پانچوں کلاسک رومانوی کہانیوں یعنی "ہیررانجھا"، "سہتی مراد"، "سوہنی مہینوال"، "دلا بھٹی" اور "مرزاصاحباں" کا تعلق دریائے چناب کے اردگرد کے علاقوں سے ہے۔۔!

"چناب" کا لفظی مطلب "چاند کا پانی" ہے۔ دورِ جہالت میں یہ علاقہ "چاند دیوتا" کی پوچا کا مسکن ہوتا تھا۔ اتفاق سے اردو ادب میں بھی چاند کو حسن سے تشبیع دی جاتی ہے۔ تقسیم سے قبل لاہور کی ایک پنجابی فلم پٹواری (1942) کے ایک فلمی گیت "وگ وگ وے چناں دیا پانیاں ، تیرے کنڈیاں تے عاشقاں نے موجاں مانیاں۔۔" میں دریائے چناب کو "رومانوی دریا" قرار دیا گیا ہے جو ان لازوال عشقیہ داستانوں کا امین رہا ہے۔

لوک داستانیں

لوک داستانیں، عام طور پر افسانوی قصے کہانیاں ہوتی ہیں لیکن کچھ لوگوں کے نزدیک یہ واقعات حقیقی ہیں اور ثبوت کے طور پر قبریں یا مزارات وغیرہ بھی پیش کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کرداروں کے شجرہ نسب اور تاریخ پیدائش تک بتائے گئے ہیں۔ مثلاً "مرزاصاحباں" کہانی کا تعلق ضلع فیصل آباد کے علاقہ داناباد کے ایک"سیال" قبیلے سے تھا اور "صاحباں" کا شجرہ نسب گیارھویں پشت سے "ہیر" سے جا ملتا ہے۔

روایت ہے کہ "مرزا" کی پیدائش 28 مارچ 1586ء کو تحصیل جڑانوالہ اور ضلع فیصل آباد کے گا ؤں دانا آباد میں "جٹ" خاندان کی ایک شاخ "کھرل" کے ایک سردار "ونجھل" کے ہاں ہوئی جبکہ "صاحباں" کی پیدائش ایک سال بعد "مرزا" کے گھر سے 80کلو میٹر اور ضلع جھنگ سے 20 کلومیٹر دور ایک گاؤں " کھیوا " میں 29 مارچ 1587ء کو سردار ماہنی خان کے ہاں ہوئی تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ برگد کا وہ درخت جہاں 18 مارچ 1618ء کو "مرزا اورصاحباں" قتل ہوئے، پانچ سو سال بعد آج بھی موجود ہے۔ صاحباں کا مزار جڑانوالہ فیصل آباد کی یونین کونسل دانا آباد میں واقع ہے۔

"مرزاصاحباں" پر فلمیں

برصغیر پاک و ہند کی فلمیں عام طور پر ایک ہی رومانوی پیٹرن پر بنائی جاتی ہیں، ایک ہیرو، ایک ہیروئن اور ایک ولن، لازمی ہوتے ہیں۔ ایسی سبھی کہانیاں فلم سازوں کے لیے کامیابی کا آزمودہ نسخہ ہوتا تھا۔ "مرزاصاحباں" کی کہانی بھی بے شمار بار فلمائی گئی ہے۔ ان میں سے اس نام پر جو فلمیں بنیں ان میں پہلی ایک خاموش فلم "مرزاصاحباں" تھی جو 1929ء میں بنائی گئی تھی۔

1933ء میں اس کہانی پر پہلی بار ایک ہندی/اردو فلم بنی جس میں پاکستانی اداکارہ "ببو" کے علاوہ "نور جہاں" کا نام بھی ملتا ہے جو میڈم نورجہاں سے قبل بمبئی کی فلموں کی ایک اداکارہ تھی۔

بمبئی ہی میں بننے والی پہلی پنجابی فلم بھی اسی کہانی پر بنائی گئی جس میں گلوکارہ/اداکارہ خورشید نے "بھائی دیسا" کے ساتھ ٹائٹل رول کیا تھا۔ 1939ء میں ایک پھر یہ فلم پنجابی زبان میں بنائی گئی جو شاید ظہورراجہ کی واحد پنجابی فلم تھی۔ میڈم نورجہاں کی مرزاصاحباں (1947)، اس سلسلے کی پانچویں فلم تھی۔

تقسیم کے بعد پاکستان میں "مرزاصاحباں" کی کہانی چار بار فلمائی گئی تھی۔ اسی نام کی ایک اردو فلم ہدایتکار داؤد چاند نے 1956ء میں بنائی جس میں مسرت نذیر اور سدھیر نے مرکزی کردار کیے تھے۔ اس فلم کو آخری بار مقابلے کی فضا میں دو بار بنایا گیا۔ پہلی فلم مرزاجٹ (1982) کو فلم مولاجٹ (1979) فیم فلمساز سروربھٹی نے ہدایتکار مسعودپرویز سے بنوایا اور خانم اور شاہد کو مرکزی کرداروں میں لیا۔ دوسری فلم ہدایتکار قیصرجہانگیر کی جٹ مرزا (1982) تھی جس میں انجمن اور یوسف خان نے مرکزی کردار کیے تھے۔ یہ تینوں فلمیں ناکام رہیں۔

دو سوتنوں کی کہانی

"مرزاصاحباں" کی کہانی پر برصغیر کی سب سے بہترین فلم ہدایتکار مسعودپرویز کی مرزاجٹ (1967) تھی۔ اتفاق دیکھیں کہ میڈم نورجہاں نے فلم مرزاصاحباں (1947) میں جو رول کیا، بیس سال بعد ان کی "دوسری سوتن" فردوس نے بھی وہی رول کیا اور میڈم کے دوسرے شوہر اعجاز درانی کے ساتھ کیا تھا۔

مرزاجٹ (1967)، فردوس اور اعجاز کی لیجنڈری جوڑی کی پہلی سپرہٹ پنجابی فلم تھی۔ اس جوڑی کا عروج فلم ہیررانجھا (1970) تھی جس کے بعد یہ فلمی جوڑی، حقیقی جوڑی بن گئی تھی۔ فردوس کی کامیابی بھی پنجابی فلموں کی دیگر ہیروئنوں کی طرح اصل میں ملکہ ترنم نورجہاں کے گیتوں کی وجہ سے تھی اور جب میڈم نے اس کے لیے گانے سے انکار کیا تو وہ بھی زوال پذیر ہوگئی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 1967ء ہی میں میڈم نورجہاں کو پلے بیک سنگر کے طور پر پنجابی فلمی گائیکی پر مکمل اور ناقابلِ شکست اجارہ داری حاصل ہوگئی تھی جو اگلی تین دھائیوں تک ان کے صاحبِ فراش ہونے تک جاری رہی تھی۔

ایک "حاملہ ہیروئن"

میڈم نورجہاں کی فلم مرزاصاحباں (1947) سے ایک ایسا مرحوم "دوست" یاد آ جاتا ہے جو کسی طور پر بھی ہم مزاج نہیں تھا لیکن فلمی معلومات کے حصول کے لیے اس کو برداشت کرنا پڑتا تھا۔

عمر میں دس بارہ سال بڑا اور ایک پیشہ ور فوٹوگرافر تھا۔ اس کے ناز و نخرے ایسے تھے کہ ناک پر مکھی تک نہیں بیٹھنے دیتا تھا اور کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو گھاس تک نہیں ڈالتا تھالیکن اس ناچیز کا نہ صرف قریبی دوست بنا، بلکہ سوئے نصیب کہ اپنی نااہلی اور نالائقی کی وجہ سے میرے کاروبار میں ناقابلِ تلافی نقصان کا ذمہ دار بھی تھا۔

ہمارے درمیان واحد مشترک بات فلمی دنیا تھی جس سے کبھی اس کی رسائی ہوتی تھی۔ جب وہ برطانیہ سے ڈنمارک آیا تو اس کے پاس لندن کے "شیل ویڈیوز" کی اچھی خاصی کولیکشن تھی جس میں میڈم کی یہ فلم بھی شامل تھی۔

فلم مرزاصاحباں (1947) دیکھنے کے لیے اس نے میری دعوت کی۔ اصل وجہ میرے آفس کی ایک لڑکی لزبتھ تھی جو کسی پاکستانی سے تعلق یا شادی کرنا چاہتی تھی، مرحوم دوست اکیلا تھا۔ اس سے بات ہوئی تو اس نے بھی دلچسپی کا اظہار کیا اور اس طرح سے مجھے بھی شرفِ ملاقات بخشا گیا۔

ہم تینوں نے یہ فلم بڑے انہماک کے ساتھ دیکھی۔ جو چیز خاص طور پر محسوس کی وہ پوری فلم میں میڈم کا بھاری جسم تھا جو یہ بتا رہا تھا کہ کھلے کپڑوں سے جسم ڈھانپنے کے باوجود بڑھا ہوا پیٹ چھپائے نہیں چھپتا۔ بعد میں دیکھی گئی فلم جگنو (1947) میں تو اور بھی نمایاں تھا۔ اس سے پہلے ہم تینوں نے کبھی کوئی فلمی اداکارہ اس حالت میں نہیں دیکھی تھی۔

فلم مرزاصاحباں (1947) دیکھنے کے بعد کافی عرصہ تک لزبتھ پوچھا کرتی تھی: "تمہاری اس 'حاملہ ہیروئن' کی کوئی اور فلم نہیں آئی۔۔؟"

ذرا تصور کریں، میڈم نورجہاں کو حمل کی اس حالت میں بھی آرام کی بجائے کام کرنا پڑا۔ ایک طرف ایکٹنگ کے لیےصبرآزما شوٹنگ، دوسری طرف گائیکی کے لیے ریہرسل اور ریکارڈنگ اور تیسری طرف خاوند اور بچوں کے لیے بھی وقت نکالنا پڑتا تھا۔

یاد رہے کہ 1947ء میں میڈم نورجہاں کی عمر صرف 21 سال تھیں، شادی شدہ اور (غالباً) تین بچوں کی ماں ہونے کے علاوہ "ملکہ ترنم" کے خطاب کے ساتھ ہندوستان کی سب سے مقبول گلوکارہ اور اداکارہ تھیں اورگزشتہ تین برسوں سے باکس آفس پر مکمل اجارہ داری بھی حاصل تھی۔۔!

ایک انتہائی قابلِ رشک فلمی کیرئر کا اختتام

پاکستان میں ہم میڈم نورجہاں کو ان کے گیتوں کی وجہ سے جانتے ہیں لیکن تقسیم سے قبل وہ گیتوں کے علاوہ 1940 کے دھائی کی کامیاب ترین اداکارہ بھی تھیں۔ ان کے اس انتہائی قابلِ رشک بارہ سالہ فلمی کیرئر کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں:

میڈم نورجہاں کا بمبئی کا فلمی کیرئر

میڈم نورجہاں نے "بالی وڈ" کہلائے جانے والے بمبئی کی 14 فلموں میں اداکاری اور گلوکاری کا ایک انتہائی چھ سالہ شاندار دور گزارا تھا۔ 47-1943ء کے اس یادگار دور کی فلموں کے چند مختصراً ریکارڈز ملاحظہ فرمائیں:

  • میڈم نورجہاں کے ہندی/اردو فلموں میں ہیروئن کے چھ سالہ دور یعنی فلم خاندان (1942) سے لے کر فلم جگنو (1947) تک کوئی ایک بھی سال ایسا نہیں گزرا کہ جب ان کی فلمیں باکس آفس پر ٹاپ ٹین فلموں میں شمار نہ ہوئی ہوں۔
  • میڈم نورجہاں کی کل 15 فلموں کی باکس آفس پر 3 بار پہلی، 3 ہی بار دوسری، ایک بار تیسری، 2 بار چوتھی اور ایک ایک بار 5ویں اور چھٹی پوزیشن رہی تھی۔ 4 فلمیں کامیاب اور صرف ایک فلم ناکام تھی۔۔!
  • متحدہ ہندوستان کی 1945ء میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی پہلی تینوں فلمیں (زینت، گاؤں کی گوری اور بڑی ماں) بھی میڈم نورجہاں کے نام تھیں جو ایک اور منفرد ریکارڈ تھا۔ اسی سال انھیں اپنی بے مثل گائیکی پر "ملکہ ترنم" کا مستقل ٹائٹل بھی ملا تھا۔
  • میڈم نورجہاں کی بطورِ ہیروئن، کل 16 فلموں میں سے واحد فلم دہائی (1943) تھی جس میں وہ سیکنڈ ہیروئن تھیں، باقی سبھی فلموں میں فرسٹ ہیروئن کے طور پر کام کیا۔
  • اداکار/گلوکار سریندر نے دو بار میڈم کے ہیرو کا کردار کیا، باقی سبھی اداکار، ایک ایک بار ہیرو آئے۔
  • میڈم نورجہاں کی ایک تہائی فلمیں، اپنے شوہر، ہدایتکار سید شوکت حسین رضوی کے ساتھ تھیں جو سبھی سپرہٹ رہیں۔
  • میڈم نورجہاں کی فلم جگنو (1946) سے دلیپ کمار اور محمدرفیع کو بریک تھرو ملا۔ انمول گھڑی (1945) نے ثریا کو چوٹی کی گلوکارہ/اداکارہ بنا دیا تھا۔ افسوس کہ کندن لال سہگل کے ساتھ کسی فلم میں کام نہیں کیا اور نہ کوئی گیت گایا۔

میڈم نورجہاں کا لاہور کا فلمی کیرئر

قیامِ پاکستان سے قبل، بمبئی کی فلموں سے پہلے میڈم نورجہاں نے 42-1939ء کے چار سالہ مختصر دور میں لاہور کی چار ہی فلموں میں کام کیا اور ناقابلَ فراموش اثرات مرتب کیے تھے۔ ایک مختصراً جھلک ملاحظہ فرمائیں:

  • میڈم نورجہاں نے کلکتہ سے واپسی پر لاہور کی فلمی تاریخ کی پہلی بلاک باسٹر فلم گل بکاؤلی (1939) میں "بے بی نورجہاں" کے نام سے نہ صرف اداکاری کی بلکہ لاہور کا پہلا میگا ہٹ فلمی گیت بھی گایا تھا۔ "شالاجوانیاں مانیں۔۔" جیسے یادگار گیت سے برصغیر کے فلمی میوزک میں انقلابی تبدیلیاں لانے والے موسیقار ماسٹر غلام حیدر کو بریک تھرو ملا تھا۔
  • لاہور میں بننے والی پنجابی فلم چوہدری (1941) میں میڈم نورجہاں نے پہلی مرتبہ ہیروئن کا رول کیا اور پہلی ہی مرتبہ رومانٹک گیت گائے تھے۔ نورجہاں کے پہلے ہیرو ایس پال تھے۔
  • لاہور ہی کی ہندی/اردو فلم خاندان (1942) نے نورجہاں کو باقی ہندوستان میں متعارف کروایا تھا اور ان کے لیے بمبئی کی فلموں کی راہیں کھل گئی تھیں۔

میڈم نورجہاں کا کلکتہ کا فلمی کیرئر

میڈم نورجہاں، صرف نو دس سال کی عمر میں لاہور سٹیج پر گائیکی کے بعد 39-1936ء میں پرفارم کرنے کلکتہ گئیں تو وہاں "بے بی نورجہاں" کے نام کی فلم سٹار بن گئیں۔ اس مختصر دور کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں:

  • کلکتہ میں بنائی جانے والی پہلی پنجابی فلم شیلا عرف پنڈ دی کڑی (1936) میں میڈم نے "بے بی نورجہاں" کے نام سے اپنے بے مثل فلمی کیرئر کا آغاز کیا تھا۔
  • کلکتہ کی کتنی فلموں میں کام کیا، مکمل معلومات دستیاب نہیں لیکن میڈم نورجہاں کو یہ ناقابلِ شکست اعزاز حاصل ہے کہ برصغیر پاک و ہند کی پہلی سپرہٹ سلورجوبلی پنجابی فلم ہیرسیال (1937) کا اہم کردار تھیں۔ ایک چائلڈ سٹار ہونے کے باوجود میڈیا میں سب سے زیادہ اہمیت حاصل تھی۔
ملکہ ترنم نورجہاں کے تقسیم کے قبل کے 47-1936ء کے فلمی کیرئر کا سلسلہ مکمل ہوا۔ ان شاء اللہ، اگلی قسط میں ان کے پاکستان میں فلمی کیرئر کا سال بہ سال احوال سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

میڈم نورجہاں کی نامکمل فلمیں

پوری کوشش کی گئی ہے کہ ملکہ ترنم نورجہاں کی تقسیم سے قبل کی جتنی بھی فلمیں ہیں، ان کا ذکر کیا جائے۔ ریلیز شدہ فلموں کے علاوہ ایسی دو فلموں کا ذکر بھی ملتا ہے جو کسی وجہ سے نمائش کے لیے پیش نہ کی جا سکیں۔ ان میں سے پہلی فلم "پیار" تھی جس میں موتی لال ہیرو اور میڈم نورجہاں، ہیروئن تھیں۔ اس فلم کے اشتہارات، میڈم کے بمبئی کے ابتدائی دور میں اخبارات میں شائع ہوئے لیکن فلم ریلیز نہیں ہوئی۔

دوسری فلم فضلی برادران کی "مہندی" تھی جس میں میڈم نورجہاں کے ساتھ بیگم پارا اور کرن دیوان تھے۔ یہ فلم تقسیم کے بعد ریلیز ہوئی لیکن میڈم کی جگہ نرگس تھی۔

"اداکارہ" نورجہاں کی تقسیم سے قبل کی فلمی کارکردگی

میڈم نورجہاں کی تقسیم سے قبل بطورِ ہیروئن، 16 فلموں کا ریکارڈ ملتا ہے جن میں پہلی فلم چوہدری (1941)، پنجابی زبان میں ایس پال نامی ہیرو کے ساتھ تھی۔ ہندی/اردو فلموں میں سے خاندان (1942)، واحد فلم تھی جو لاہور میں بنی، باقی سبھی فلمیں بمبئی (ممبئی) یا "بالی وڈ" میں تیار ہوئیں۔

نمبرشمار سال فلم باکس آفس پوزیشن اداکاران
1 1941 چوہدری کامیاب نورجہاں، ایس پال
2 1942 خاندان 2 نورجہاں، پران، منورما
3 1943 نوکر 5 نورجہاں، بلونت سنگھ 
4 1943 نادان 4 نورجہاں، مسعود
5 1943 دہائی 6 شانتاآپٹے، کمار، نورجہاں
6 1944 دوست 2 نورجہاں، موتی لال
7 1944 لال حویلی کامیاب  نورجہاں، سریندر، الہاس
8 1945 زینت 1 نورجہاں، سلیم رضا
9 1945 گاؤں کی گوری 2 نورجہاں، نذیر
10 1945  بڑی ماں  3  نورجہاں، ایشورلال
11 1945 بھائی جان کامیاب نورجہاں، کرن دیوان  
12 1946 انمول گھڑی 1 نورجہاں، سریندر، ثریا
13 1946 دل کامیاب نورجہاں،عبداللطیف
14 1946 ہمجولی ناکام نورجہاں، جے راج
15 1947 جگنو 1 نورجہاں، دلیپ کمار
16 1947 مرزا صاحباں 4 نورجہاں،ترلوک کپور

1947ء : آزادی کا "خوفناک" سال

1947ء کے آغاز پر کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ متحدہ ہندوستان کا آخری سال ہوگا جس میں لاکھوں انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی جائے گی اور کروڑوں لوگ ہجرت پر مجبور ہو جائیں گے۔ اس دور کی اہم ٹائم لائن ملاحظہ فرمائیں:

  • گزشتہ سال کی "کیبنٹ مشن پلان" کے مطابق کانگریس اور مسلم لیگ کی مخلوط حکومت، ہندوستان کی آزادی کے لیے عبوری آئین پر کام کر رہی تھی اور توقع تھی کہ کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ مسلم لیگ کا مطالبہ مکمل صوبائی خودمختاری کا تھا لیکن کانگریس ایک مضبوط مرکز پر بضد رہی۔
  • برطانوی حکومت نے 20 فروری کو اعلان کر دیا تھا کہ جون 1948ء تک ہندوستان کو آزاد کر دیا جائے گا۔ ایک پُرامن حل کے لیے آخری وائسرائے لارڈ مونٹ بیٹن کو بھیجا گیا لیکن یہ مشن اس وقت ناکام ہوا جب فریقین کسی سمجھوتے پر متفق نہ ہو پائے تھے۔
  • "متحدہ ہندوستان" کی تقسیم کے لیے ٹرننگ پوائنٹ اس وقت آیا جب 2 مارچ 1947ء کو مسلم لیگ کے سیاسی دباؤ پر پنجاب کی مخلوط "ٹوانہ وزارت"، مستعفی ہوئی جس میں یونیسٹ پارٹی، کانگریس اور اکالی دل یعنی مسلم، ہندو اور سکھ نمائندگی تھی۔ اس شرمناک سیاسی شکست پر غصے سے بپھرے ہوئے سکھ لیڈر ماسٹرتارا سنگھ نے لاہور اسمبلی کے گیٹ پر اپنی کرپان لہراتے ہوئے یہ تاریخی جملہ کہا تھا: "جو مانگے گا پاکستان، اس کو دیں گے قبرستان۔۔!"
  • ماسٹرتارا سنگھ کے اس "اعلانِ جنگ" کے بعد 4 مارچ 1947ء کو لاہور اور امرتسر میں ہنگامے پھوٹ پڑے جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ سکھ، پنجاب کے بارے میں بڑے حساس تھے اور اس پر اپنا پیدائشی حق سمجھتے تھے۔ وہ، پنجاب پر بزورِ قوت قابض تو رہے لیکن اکثریت میں کبھی نہیں رہے۔ یہاں تک کہ ان کی اکثریت پاکستانی پنجاب کے کسی ایک بھی ضلع میں نہیں تھی اور بھارتی پنجاب کے صرف ایک آدھ ضلع میں اکثریت میں تھے۔
    سکھوں کے مقدس مذہبی مقام امرتسر میں بھی مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ سکھ چونکہ ایک جنگجو قوم تھی اور ان کی تاریخ مسلمانوں سے نفرت اور جنگ و جدل سے بھرپور ہے، اس لیے انھوں نے بھارتی پنجاب سے مسلمانوں کا قتلِ عام شروع کیا جس کا آغاز امرتسر سے ہوا اور پورے پنجاب تک پھیل گیا تھا۔
  • پاکستانی پنجاب میں پہلے فرقہ وارانہ فسادات 6مارچ 1947ء کو راولپنڈی میں شروع ہوئے جو سیاسی ہنگاموں سے مذہبی ہنگاموں میں تبدیل ہوگئے۔ موجود بھارتی پنجاب (جس میں ہریانہ اور ہماچل پردیش بھی شامل تھے) سے مسلمانوں کا اور پاکستانی پنجاب سے ہندوؤں اور سکھوں کا صفایا شروع ہو گیا تھا۔
  • قائدِاعظمؒ کی لاکھ کوششوں کے باوجود یہ سکھ لیڈر ہی تھے جنھوں پنجاب کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم کا مطالبہ کیا اور پاکستان پر بھارت کو ترجیح دی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تقسیم کے بعد سکھوں نے ہندوؤں سے بھی الگ صوبہ کا مطالبہ کیا جو یکم نومبر 1966ء کو پورا ہوا تھا۔
  • انھی خونریز فسادات کا نتیجہ تھا کہ "کیبنٹ مشن پلان" مکمل طور پر ناکام ہوا اور کانگریس اور مسلم لیگ کی مخلوط حکومت 3 جون 1947ء کے تقسیمِ ہند کے پلان پر متفق ہوگئی تھی۔ 15 اگست 1947ء کو متحدہ ہندوستان، پاکستان اور بھارت میں تقسیم ہوا اور 17 اگست 1947ء کو پنجاب کے سرحدی لوگوں کو پہلی بار علم ہوا کہ وہ کون سے ملک کے باسی ہیں۔
  • 1947ء میں جہاں برٹش انڈیا آزاد ہوا اور پاکستان اور بھارت وجود میں آئے، وہاں اسی سال 29 نومبر کو اقوامِ متحدہ نے فلسطین کو عرب اور یہودی ریاستوں میں تقسیم کرنے کی منظوری دی جو مئی 1948ء میں اسرائیل کے قیام کا باعث بنی۔
  • 1947ء ہی میں نئی سپرپاور امریکہ بہادر نے CIA قائم کی اور "سردجنگ" شدید ہوگئی تھی۔ اسی تناظر میں امریکہ نے دوسری جنگِ عظیم کے تباہ حال مغربی یورپین ممالک کو معاشی بحالی کے لیے "مارشل پلان" کے تحت بھاری مدد دے کر اپنی برخودداری میں لے لیا تھا۔

1947ء کی فلمی تاریخ

1947ء کا سال متحدہ ہندوستان کی تقسیم کا سال تھا جو فلمی تاریخ کا ایک یادگار سال ثابت ہوا۔ چند اہم واقعات ملاحظہ فرمائیں:

  • بمبئی کی فلم انڈسٹری کو اپنی تاریخ کے پہلے دو بہت بڑے گلوکار/اداکار سپرسٹارز کھونا پڑے، پہلے جنوری 1947ء میں کندل لال سہگل کا انتقال ہوا پھر اگست 1947ء کی تقسیم کے بعد ملکہ ترنم نورجہاں نے بھی بمبئی کو خیرآباد کہہ دیا تھا۔ لاہور کی فلم انڈسٹری کا بیڑا غرق ہوا اور بہت سے دیگر فنکاروں کو ہجرت پر مجبور ہونا پڑا تھا۔
  • دوسری طرف، اسی سال جہاں گائیگی میں محمدرفیع چمکے وہاں اداکاری میں دلیپ کمار، راج کپور اور مدھو بالا جیسے بڑے بڑے سپرسٹاروں کو کامیابی ملی تھی۔
  • 1947ء میں لاہور میں فلمی کاروبار اپنے انتہائی عروج پر تھا اور تقسیم سے قبل کی 28 "لاہور ساختہ" فلموں کا ریکارڈ ملتا ہے جن میں کچھ تو اسی سال ریلیز ہوئیں اور باقی فسادات کے بعد بمبئی اور کلکتہ میں مکمل کر کے بھارتی فلموں کے طور پر ریلیز ہوئیں۔

1947ء کی باکس آفس رپورٹ

تقسیم کے بعد لاہور کے فلم سٹوڈیوز کی تباہی کی وجہ سے نوآزاد ملک پاکستان میں تو کوئی فلم نہ بن سکی لیکن اس کیلنڈر ائیر میں مجموعی طور پر ہندوستان/بھارت میں ڈیڑھ سو کے قریب ہندی/اردو فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں باکس آفس پر بزنس کے لحاظ سے جن نو فلموں کا ریکارڈ ملتا ہے ان میں پہلے اور چوتھے نمبر پر میڈم نورجہاں کی دونوں فلمیں، جگنو (1947) اور مرزاصاحباں (1947) تھیں جن کا تفصیلی ذکر ہو چکا ہے۔ دیگر سات فلموں کا ایک مختصراً جائزہ حسبِ ذیل ہے:

  • پاکستان کی یادگار نغماتی فلم عشقِ لیلیٰ (1957) بنانے والے ہدایتکار منشی دل کی ہندوستانی فلم دو بھائی (1947) نے دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ بزنس کیا تھا۔ اس فلم میں کامنی کوشل اور الہاس مرکزی کردار تھے۔ اس فلم سے بھارتی گلوکارہ گیتا دت کو بریک تھرو ملا تھا۔
  • ہدایتکار اے آر کاردار کی یادگار مسلم سوشل فلم درد (1947)، سال کی تیسری کامیاب ترین فلم تھی جس میں انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی نصرت کاردار کو ہیرو لیا جو پاکستانی فلموں میں معاون اداکار سے آگے نہیں بڑھ سکے تھے۔ ان کے مقابلے میں منورسلطانہ اور ثریا کو ہیروئنوں کے کردار دیے۔ موسیقار نوشاد علی نے ثریا اور شمشاد بیگم جیسی مستند گلوکاراؤں کی موجودگی میں مزاحیہ اداکارہ اوما دیوی سے یہ سپرہٹ گیت گوایا تھا "افسانہ لکھ رہی ہوں، دلِ بے قرار کا۔۔"
  • ہدایتکار سنتوشی کی فلم شہنائی (1947)، سال کی 5ویں کامیاب ترین فلم تھی۔ اس فلم میں پاکستان کی مشہور فلم رات کے راہی (1960) کی ہیروئن ریحانہ نے مرکزی کردار ادا کیا۔ فلم کے ہیرو دلیپ کمار کے چھوٹے بھائی ناصرخان تھے جنھیں ایک دلچسپ اور ناقابلِ شکست اعزاز حاصل ہوا کہ وہ پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) کے علاوہ بھارت کی پہلی فلم شہنائی (1947) کے ہیرو بھی تھے۔ یاد رہے کہ یہ فلم جمعہ 15 اگست 1947ء کو ریلیز ہوئی تھی جو پاکستان اور بھارت کی آزاد ی کا پہلا دن تھا۔۔!
    فلم شہنائی (1947) کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ اس میں پہلی بار مغربی موسیقی متعارف کروائی گئی جو نوجوان طبقے میں بڑی پسند کی گئی تھی۔
  • ہدایتکار محبوب خان کی مسلم سوشل فلم اعلان (1947)، سال کی چھٹی کامیاب ترین فلم تھی۔ اس میں منورسلطانہ، سریندر اور ہمالیہ والا مرکزی کردار تھے۔
  • ہدایتکار نندا کی فلم پروانہ (1947)، اس سال کی 7ویں کامیاب ترین فلم تھی جس میں ثریا کے ساتھ کندن لال سہگل تھے جن کی یہ آخری فلم ثابت ہوئی تھی۔ اس سال جنوری میں ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ فلم پروانہ (1947) کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی موسیقی خواجہ خورشید انور نے مرتب کی تھی جو پاکستان میں انتظار (1956)، کوئل (1959) اور ہیررانجھا (1970) جیسی شاہکار نغماتی فلموں کی لازوال موسیقی کی وجہ سے مشہور تھے۔
  • ہدایتکار کشورساہو کی فلم ساجن (1947)، سالِ رواں کی 8ویں کامیاب ترین فلم تھی جس میں اشوک کمار کے ساتھ ریحانہ تھی جس کی اس سال کی یہ دوسری باکس آفس ہٹ فلم تھی۔
    بتایا جاتا ہے کہ اس فلم کے گیت خود اشوک کمار نے گانے تھے لیکن تقسیم کے ہندو مسلم فسادات کی وجہ سے ریکارڈنگ پر مقررہ وقت پر نہ پہنچ پائے تو موسیقار نے مجبوراً محمدرفیع سے ایک گیت گوایا جو انھیں اتنا پسند آیا کہ ان سے کل چھ گیت گوا لیے جو غالباً ان کے فلمی کیرئر کا پہلا موقع تھا۔
  • ہدایتکار کیدارشرما کی فلم نیل کمل (1947)، سال کی 9ویں کامیاب ترین فلم بتائی جاتی ہے جس میں بیگم پارہ کے علاوہ مستقبل کے سپرسٹارز مدھو بالا اور راج کپور بھی تھے۔
1947ء میں پاکستان کی فلمی تاریخ کے بہت بڑے بڑے نام سامنے آئے جن میں سدھیر، سنتوش، ظریف، طالش اور الیاس کاشمیری وغیرہ شامل ہیں جبکہ اسی سال اداکارہ فردوس اور دیبا پیدا ہوئی تھیں۔


Noor Jehan in Bollywood

Noor Jehan: 14 Bollywood movies

Duhai
Nadan
Naukar
Dost
Lal Haveli
Bari Maa
Bhai Jan
Gaon Ki Gori
Zeenat
Anmol Ghari
Dil
Hamjoli
Jugnu
Mirza Sahiban

1.1943: Duhai
(Hindi/Urdu)
2.1943: Nadan
(Hindi/Urdu)
3.1943: Naukar
(Hindi/Urdu)
4.1944: Dost
(Hindi/Urdu)
5.1944: Lal Haveli
(Hindi/Urdu)
6.1945: Bari Maa
(Hindi/Urdu)
7.1945: Bhai Jan
(Hindi/Urdu)
8.1945: Gaon Ki Gori
(Hindi/Urdu)
9.1945: Zeenat
(Hindi/Urdu)
10.1946: Anmol Ghari
(Hindi/Urdu)
11.1946: Dil
(Hindi/Urdu)
12.1946: Hamjoli
(Hindi/Urdu)
13.1947: Jugnu
(Hindi/Urdu)
14.1947: Mirza Sahiban
(Hindi/Urdu)

Noor Jehan: 71 Bollywood songs

1.
Hindi/Urdu film
Duhai
from 1943
Singer(s): Noorjahan, Music: Rafiq Ghaznavi, Poet: Bharat Vyas, Actor(s): Noorjahan
2.
Hindi/Urdu film
Duhai
from 1943
Singer(s): Noorjahan, Music: Rafiq Ghaznavi, Poet: Bharat Vyas, Actor(s): Noorjahan
3.
Hindi/Urdu film
Nadan
from 1943
Singer(s): Noorjahan, Music: K. Datta, Poet: Zia Sarhadi, Actor(s): Noorjahan
4.
Hindi/Urdu film
Nadan
from 1943
Singer(s): Noorjahan, Music: K. Datta, Poet: Zia Sarhadi, Actor(s): Noorjahan
5.
Hindi/Urdu film
Nadan
from 1943
Singer(s): Noorjahan, Music: K. Datta, Poet: Zia Sarhadi, Actor(s): Noorjahan
6.
Hindi/Urdu film
Nadan
from 1943
Singer(s): Noorjahan, Music: K. Datta, Poet: Zia Sarhadi, Actor(s): Noorjahan
7.
Hindi/Urdu film
Nadan
from 1943
Singer(s): Noorjahan, Music: K. Datta, Poet: Tanvir Naqvi, Actor(s): Noorjahan
8.
Hindi/Urdu film
Nadan
from 1943
Singer(s): Noorjahan, Music: K. Datta, Poet: Zia Sarhadi, Actor(s): Noorjahan
9.
Hindi/Urdu film
Naukar
from 1943
Singer(s): Noorjahan, Music: Rafiq Ghaznavi & Shanti Kumar, Poet: Akbar Sherani, Actor(s): Noorjahan
10.
Hindi/Urdu film
Naukar
from 1943
Singer(s): Noorjahan, Music: Rafiq Ghaznavi & Shanti Kumar, Poet: ?, Actor(s): Noorjahan
11.
Hindi/Urdu film
Naukar
from 1943
Singer(s): Noorjahan, Rajkumari, Music: Rafiq Ghaznavi & Shanti Kumar, Poet: Nazim Panipati, Actor(s): Noorjahan, ?
12.
Hindi/Urdu film
Naukar
from 1943
Singer(s): Noorjahan, Music: Rafiq Ghaznavi & Shanti Kumar, Poet: Bahadur Shah Zafar, Actor(s): Noorjahan
13.
Hindi/Urdu film
Dost
from 1944
Singer(s): Noorjahan, Music: Sajjad Hussain, Poet: Shams Lakhnavi, Actor(s): Noorjahan
14.
Hindi/Urdu film
Dost
from 1944
Singer(s): Noorjahan, Music: Sajjad Hussain, Poet: Shams Lakhnavi, Actor(s): Noorjahan
15.
Hindi/Urdu film
Dost
from 1944
Singer(s): Noorjahan, Music: Sajjad Hussain, Poet: Shams Lakhnavi, Actor(s): Noorjahan
16.
Hindi/Urdu film
Dost
from 1944
Singer(s): Noorjahan, Music: Sajjad Hussain, Poet: Shams Lakhnavi, Actor(s): Noorjahan
17.
Hindi/Urdu film
Dost
from 1944
Singer(s): Noorjahan, Music: Sajjad Hussain, Poet: Shams Lakhnavi, Actor(s): Noorjahan
18.
Hindi/Urdu film
Lal Haveli
from 1944
Singer(s): Noorjahan, Music: Mir Sahib, Poet: Munshi Shams Lucknavi, Actor(s): Noorjahan
19.
Hindi/Urdu film
Lal Haveli
from 1944
Singer(s): ?, Noorjahan & Co., Music: Mir Sahib, Poet: Munshi Shams Lucknavi, Actor(s): Noorjahan & Co.
20.
Hindi/Urdu film
Lal Haveli
from 1944
Singer(s): Noorjahan, Music: C. Ramchandra, Poet: Munshi Shams Lucknavi, Actor(s): Noorjahan
21.
Hindi/Urdu film
Lal Haveli
from 1944
Singer(s): Noorjahan, Surindra, Music: Mir Sahib, Poet: Munshi Shams Lucknavi, Actor(s): Noorjahan, Surendra
22.
Hindi/Urdu film
Lal Haveli
from 1944
Singer(s): Noorjahan, Surendra & Co., Music: Mir Sahib, Poet: Munshi Shams Lucknavi, Actor(s): Noorjahan, Surendra & Co.
23.
Hindi/Urdu film
Lal Haveli
from 1944
Singer(s): Noorjahan, Surindra, Music: Mir Sahib, Poet: Munshi Shams Lucknavi, Actor(s): Noorjahan, Surendra
24.
Hindi/Urdu film
Lal Haveli
from 1944
Singer(s): Noorjahan, Music: Mir Sahib, Poet: Munshi Shams Lucknavi, Actor(s): Noorjahan
25.
Hindi/Urdu film
Bari Maa
from 1945
Singer(s): Noorjahan, Music: Datta Korgoankar, Poet: Zia Sarhadi, Actor(s): Noorjahan
26.
Hindi/Urdu film
Bari Maa
from 1945
Singer(s): Noorjahan, Music: Datta Korgoankar, Poet: Zia Sarhadi, Actor(s): Noorjahan
27.
Hindi/Urdu film
Bari Maa
from 1945
Singer(s): Noorjahan, Music: Datta Korgoankar, Poet: Anjum Pilibhiti, Actor(s): Noorjahan
28.
Hindi/Urdu film
Bari Maa
from 1945
Singer(s): Noorjahan, Music: Datta Korgoankar, Poet: Zia Sarhadi, Actor(s): Noorjahan
29.
Hindi/Urdu film
Bhai Jan
from 1945
Singer(s): Noorjahan, Zeenat Begum & Co., Music: Shyam Sunder, Poet: artav Lakhnavi, Actor(s): ?
30.
Hindi/Urdu film
Bhai Jan
from 1945
Singer(s): Noorjahan, Music: Shyam Sunder, Poet: Partav Lakhnavi, Actor(s): Noorjahan
31.
Hindi/Urdu film
Bhai Jan
from 1945
Singer(s): Noorjahan, Music: Shyam Sunder, Poet: Partav Lakhnavi, Actor(s): Noorjahan
32.
Hindi/Urdu film
Bhai Jan
from 1945
Singer(s): Noorjahan, Zeenat Begum, Music: Shyam Sunder, Poet: Partav Lakhnavi, Actor(s): Noorjahan
33.
Hindi/Urdu film
Gaon Ki Gori
from 1945
Singer(s): Noorjahan, Music: Shyam Sunder, Poet: Wali Sahib, Actor(s): Noorjahan
34.
Hindi/Urdu film
Gaon Ki Gori
from 1945
Singer(s): Noorjahan, G.M. Durrani, Music: Shyam Sunder, Poet: Wali Sahib, Actor(s): Noorjahan, Nazir
35.
Hindi/Urdu film
Gaon Ki Gori
from 1945
Singer(s): Noorjahan, Music: Shyam Sunder, Poet: Wali Sahib, Actor(s): Noorjahan
36.
Hindi/Urdu film
Gaon Ki Gori
from 1945
Singer(s): Noorjahan, Music: Shyam Sunder, Poet: Wali Sahib, Actor(s): Noorjahan
37.
Hindi/Urdu film
Gaon Ki Gori
from 1945
Singer(s): Noorjahan, Music: Shyam Sunder, Poet: Wali Sahib, Actor(s): Noorjahan
38.
Hindi/Urdu film
Gaon Ki Gori
from 1945
Singer(s): Noorjahan, Music: Shyam Sunder, Poet: Wali Sahib, Actor(s): Noorjahan
39.
Hindi/Urdu film
Zeenat
from 1945
Singer(s): Noorjahan, Music: Hafeez Khan, Poet: Shevan Rizvi, Actor(s): Noorjahan
40.
Hindi/Urdu film
Zeenat
from 1945
Singer(s): Noorjahan, Music: Hafeez Khan, Poet: Shevan Rizvi, Actor(s): Noorjahan
41.
Hindi/Urdu film
Zeenat
from 1945
Singer(s): Noorjahan, Music: Hafeez Khan, Poet: Qamar Jalalabadi, Actor(s): Noorjahan
42.
Hindi/Urdu film
Zeenat
from 1945
Singer(s): Noorjahan, Music: Hafeez Khan, Poet: Qamar Jalalabadi, Actor(s): Noorjahan
43.
Hindi/Urdu film
Zeenat
from 1945
Singer(s): Noorjahan, Zohrabai, Kalyani & Co., Music: Hafeez Khan, Poet: Nakhshab, Actor(s): ???
44.
Hindi/Urdu film
Zeenat
from 1945
Singer(s): Noorjahan, Music: Hafeez Khan, Poet: Qamar Jalalabadi, Actor(s): Noorjahan
45.
Hindi/Urdu film
Anmol Ghari
from 1946
Singer(s): Noorjahan, Music: Noushad, Poet: Tanvir Naqvi, Actor(s): Noorjahan
46.
Hindi/Urdu film
Anmol Ghari
from 1946
Singer(s): Noorjahan, Music: Noushad, Poet: Tanvir Naqvi, Actor(s): Noorjahan
47.
Hindi/Urdu film
Anmol Ghari
from 1946
Singer(s): Noorjahan, Surendra, Music: Noushad, Poet: Tanvir Naqvi, Actor(s): Noorjahan, Surendra
48.
Hindi/Urdu film
Anmol Ghari
from 1946
Singer(s): Noorjahan, Music: Noushad, Poet: Tanvir Naqvi, Actor(s): Noorjahan
49.
Hindi/Urdu film
Anmol Ghari
from 1946
Singer(s): Noorjahan, Music: Noushad, Poet: Anjum Pilibhity, Actor(s): Noorjahan
50.
Hindi/Urdu film
Dil
from 1946
Singer(s): Noorjahan, B.A. Moti, Music: Zafar Khursheed, Poet: Raziuddin, Actor(s): Noorjahan
51.
Hindi/Urdu film
Dil
from 1946
Singer(s): Noorjahan, Music: Zafar Khursheed, Poet: ?, Actor(s): Noorjahan
52.
Hindi/Urdu film
Dil
from 1946
Singer(s): Noorjahan, Music: Zafar Khursheed, Poet: Shams Lakhnavi, Actor(s): Noorjahan
53.
Hindi/Urdu film
Dil
from 1946
Singer(s): Noorjahan, Music: Zafar Khursheed, Poet: Shams Lakhnavi, Actor(s): Noorjahan
54.
Hindi/Urdu film
Dil
from 1946
Singer(s): B.A. Moti, Noorjahan, Music: Zafar Khursheed, Poet: ?, Actor(s): Noorjahan
55.
Hindi/Urdu film
Dil
from 1946
Singer(s): Noorjahan, Music: Zafar Khursheed, Poet: Arsh Haidri, Actor(s): Noorjahan
56.
Hindi/Urdu film
Hamjoli
from 1946
Singer(s): Noorjahan, Music: Hafiz Khan, Poet: Anjum Pilibhity, Actor(s): Noorjahan
57.
Hindi/Urdu film
Hamjoli
from 1946
Singer(s): Noorjahan, Music: Hafiz Khan, Poet: Anjum Pilibhity, Actor(s): Noorjahan
58.
Hindi/Urdu film
Hamjoli
from 1946
Singer(s): Noorjahan, Music: Hafiz Khan, Poet: Anjum Pilibhity, Actor(s): Noorjahan
59.
Hindi/Urdu film
Hamjoli
from 1946
Singer(s): Noorjahan, Music: Hafiz Khan, Poet: Anjum Pilibhity, Actor(s): ?
60.
Hindi/Urdu film
Hamjoli
from 1946
Singer(s): Noorjahan, Music: Hafiz Khan, Poet: Anjum Pilibhity, Actor(s): Noorjahan
61.
Hindi/Urdu film
Jugnu
from 1947
Singer(s): Noorjahan, Music: Feroz Nizami, Poet: ?, Actor(s): Noorjahan
62.
Hindi/Urdu film
Jugnu
from 1947
Singer(s): Noorjahan, Music: Feroz Nizami, Poet: ?, Actor(s): Noorjahan
63.
Hindi/Urdu film
Jugnu
from 1947
Singer(s): Mohammad Rafi, Noorjahan, Music: Feroz Nizami, Poet: Tanvir Naqvi, Actor(s): Dilip Kumar, Noorjahan
64.
Hindi/Urdu film
Jugnu
from 1947
Singer(s): Noorjahan, Music: G.A. Chishti, Poet: ?, Actor(s): Noorjahan
65.
Hindi/Urdu film
Jugnu
from 1947
Singer(s): Noorjahan, Music: Feroz Nizami, Poet: ?, Actor(s): Noorjahan
66.
Hindi/Urdu film
Mirza Sahiban
from 1947
Singer(s): Zohrabai Ambalewali, Shamshad Begum, Noorjahan & Co., Music: Pandit Amarnath, Poet: Qamar Jalalabadi, Actor(s): ?? Noorjahan
67.
Hindi/Urdu film
Mirza Sahiban
from 1947
Singer(s): Noorjahan, Music: Pandit Amarnath, Poet: Qamar Jalalabadi, Actor(s): Noorjahan
68.
Hindi/Urdu film
Mirza Sahiban
from 1947
Singer(s): G.M. Durrani, Noorjahan, Music: Pandit Amarnath, Poet: Aziz Kashmiri, Actor(s): Trilok Kapoor, Noorjahan
69.
Hindi/Urdu film
Mirza Sahiban
from 1947
Singer(s): Noorjahan, Music: Pandit Amarnath, Poet: Qamar Jalalabadi, Actor(s): Noorjahan
70.
Hindi/Urdu film
Mirza Sahiban
from 1947
Singer(s): Noorjahan, Shamshad Begum, Zohrabai Ambalewali & Co., Music: Pandit Amarnath, Poet: Qamar Jalalabadi, Actor(s): Noorjahan & Co.
71.
Hindi/Urdu film
Mirza Sahiban
from 1947
Singer(s): Noorjahan, G.M. Durrani, Music: Pandit Amarnath, Poet: Aziz Kashmiri, Actor(s): Noorjahan, Trilok Kapoor

Pakistan Film Magazine

Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.




PAK Magazine
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.

Old site mazhar.dk

پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔

یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔

اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔



PAK Magazine
Pakistan Film Magazine
Pakistan Media
Namaz timetable for Copenhagen, Denmark
Back to the top of the page