100th Birthday celebration of
Melody Queen Madam Noor Jehan
Part 2: Baby Noor Jehan
Pakistan Film Magazine's tribute marks Noor Jehan’s 2026 centenary and an archival project ...documenting her life, music and films. Born Allah Wasai, trained classically under Mukhtar Begum, she toured Calcutta as a child, earned the stage name Baby Noor Jehan and sang in five Calcutta films (1936–39) with several notable songs.
The article distinguishes her from a contemporary Bombay Noorjahan, recounts early film roles, and celebrates her rise to Malika‑e‑Tarannum and lasting cultural legacy.
بے بی نورجہاں
1930 کی دھائی کے وسط میں صرف نو دس سال کی عمر میں لاہوریوں کو اپنی گائیکی کا دیوانہ بنانے کے بعد "اللہ وسائی"، اپنے خاندان کے ہمراہ نامور موسیقار جی اے چشتی کی سربراہی میں "پنجاب میل" کے نام سے ایک میوزیکل گروپ کی شکل میں کلکتہ کے دورے پر گئی جہاں مزید کامیابیاں اور کامرانیاں اس کی منتظر تھیں۔
اس دور میں لاہور میں اکا دکا فلمیں بنتی تھیں۔ فلموں کو نئی نئی زبان ملی تھی اس لیے بھی فلمسازی کے لوازمات عام نہیں تھے البتہ ممبئی (بمبئی) اور کولکتہ (کلکتہ)، فلمسازی کے دو بہت بڑے مراکز تھے جہاں ملک بھر سے فنکار جمع ہوتے تھے۔
فلموں کے علاوہ سٹیج ڈراموں میں بھی بڑا سخت مقابلہ ہوتا تھا اور فنکاروں کی بڑی مانگ ہوتی تھی جنھیں ماہانہ تنخواہوں پر تھیٹروں اور فلم کمپنیوں میں مستقل ملازمتیں مل جایا کرتی تھیں۔
میڈم نورجہاں کا اکتسابِ فن
برصغیر پاک و ہند میں سینما کی آمد سے قبل تھیٹر بڑا مقبول تھا۔ 1861ء میں بمبئی میں پہلا روایتی تھیٹر، "پارسی تھیٹر" کے نام سے قائم ہوا۔ اس کے مقابلے میں کلکتہ میں "مدن تھیٹر" بنا جہاں بڑی تعداد میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے فنکار منسلک تھے جن میں اس دور کی نامور گلوکارہ اور اداکارہ مختاربیگم بھی تھیں جو "ملکہ غزل" فریدہ خانم کی بڑی بہن بتائی جاتی ہیں۔
میڈم نورجہاں، زندگی بھر بڑے پیارو محبت اور ادب و احترام سے مختاربیگم کو یاد کیا کرتی تھیں اور بتایا کرتی تھیں کہ بچپن میں جب انھیں تھیٹر پر گاتے ہوئے دیکھا اور سنا کرتیں تو ان کی سفید ساڑھی اور اندازِ دلربا کوکبھی نہیں بھلا پائیں اور ہمیشہ ان کی نقل کیا کرتیں اور انھی کو اپنا آئیڈیل سمجھتی تھیں۔
مختاربیگم کا موسیقی کے پٹیالہ گھرانے سے تعلق تھا۔ 20 کے قریب ہندی/اردو اور پنجابی فلموں میں اداکارہ اور گلوکارہ کے طور پر کام کیا تھا۔ پہلی فلم علی بابا چالیس چور (1932) اور آخری فلم چترا بکاؤلی (1941) تھی۔
انھوں نے میڈم نورجہاں کے علاوہ پاکستان کی نامور گلوکارہ نسیم بیگم، اداکارہ رانی اور اپنی چھوٹی بہن فریدہ خانم کی تربیت بھی کی تھی۔ 1911ء میں امرتسر میں پیدا ہوئیں اور 1982ء میں کراچی میں انتقال ہوا تھا۔
مختاربیگم کے شوہر آغا حشر کاشمیری (1935-1879ء) بھی "مدن تھیٹر" کے مستقل ڈرامہ نگار تھے۔ انھیں ہندوستان کا شیکسپئر بھی کہا جاتا تھا۔ "رستم و سہراب"، "یہودی کی لڑکی" اور "آنکھ کا نشہ" وغیرہ، ان کے مشہور ترین ڈرامے تھے۔
آغا حشر کاشمیری، خاموش فلموں کے دور سے فلموں کی کہانیاں اور گیت لکھتے رہے۔ ان کے متعدد ڈراموں پر پاکستان اور بھارت میں مختلف ادوار میں فلمیں بنائی گئی ہیں۔ برصغیر کی دوسری ٹاکی فلم شیریں فرہاد (1931) کا سکرین پلے اور مکالمے لکھنے کے علاوہ اس فلم میں 42 گیت بھی لکھے۔ جہاں آرا کجن اور ماسٹر نثار کی اداکاری اور گلوکاری سے سجی ہوئی اپنے وقت کی یہ بھاری بجٹ کی شاہکار فلم، تاریخ میں پہلی سپرہٹ ہندی/اردو فلم ثابت ہوئی تھی۔
کلکتہ میں قیام کے دوران بھی "اللہ وسائی" کے خاندانی استاد غلام محمد، اس کے ساتھ رہے لیکن اس دور کی دو بڑی گلوکاراؤں، "ملکہ غزل" بیگم اختر یا اختری فیض آبادی (74-1914ء) اور "بلبلِ بنگال" جہاں آرا بیگم یا کجن بائی (45-1915ء) سے بھی "اللہ وسائی" کو ملنے اور سیکھنے کا موقع ملا جو اس کو بارہ بارہ گھنٹے تک ریاض کروایا کرتی تھیں۔
کلاسیکل موسیقی کے سب سے بڑے نام، استاد بڑے غلام علی خان سے براہِ راست اکتسابِ فن تو نہیں کیا لیکن موسیقی کے ایک مقابلے میں لاجواب کارکردگی پر انھوں نے خوش ہو کر ایک روپیہ انعام دیا جس کی "اللہ وسائی" نے ریوڑیاں کھا لی تھیں۔
صرف گیارہ بارہ سال کی عمر میں کلاسیکل موسیقی پر عبور حاصل کرنےکے بعد "اللہ وسائی"، موسیقی کے متعدد مقابلوں میں شریک ہوئی اور نوعمری ہی میں اپنی عظمت کی دھاک بٹھا دی تھی۔ اس دوران دہلی اور لاہور کے ریڈیو سٹیشنوں پر بھی گانے کا موقع ملا تھا۔
جب "اللہ وسائی"، "بے بی نورجہاں" بنی
کلکتہ میں اپنے تین چار سالہ قیام کے دوران، "اللہ وسائی" نے جہاں کلاسیکل موسیقی پر عبور حاصل کیا، وہاں "مدن تھیٹر" پر ناچ گانے کے علاوہ عین ممکن ہے کہ سٹیج ڈراموں میں اداکاری بھی کی ہوگی۔ افسوس کہ فلمی تاریخ اس معاملے میں خاموش ہے اور میڈم نے بھی کبھی اس کا ذکر نہیں کیا تھا۔
"مدن تھیڑ" کے سیٹھ کرنانی نے "اللہ وسائی" کی کارکردگی سے متاثر ہو کر اس کو "بے بی نورجہاں" کا سٹیج نام دیا تھا۔ یہ نام غالباً مقابلے کی فضا میں ہی دیا گیا ہوگا کیونکہ اس وقت بمبئی کی فلموں میں پہلے ہی سے ایک "نورجہاں" نامی اداکارہ کام کر رہی تھی۔ فلمی تاریخ سے نابلد لوگوں نے اس اداکارہ کی بہت سی فلموں کو بھی میڈم نورجہاں کے کھاتے میں ڈالا ہوا ہے۔ اس پر تفصیلی بات آگے چل کر ہوگی۔
بے بی نورجہاں کی پہلی فلم
میڈم نورجہاں کو اداکاری کا قطعاً شوق نہیں تھا، صرف گانے کا جنون تھا۔ خوش انگ، خوش رنگ اور خوش آہنگ تھیں، اس لیے فلموں کے لیے بہترین اور قدرتی انتخاب تھیں۔
اصل میں "بے بی نورجہاں" کی لاجواب گائیکی سے ملنے والی مقبولیت کو کیش کروانے کے لیے اس کو فلم میں شامل کیا گیا تھا۔ بالکل ایسے ہی جیسے ماضیِ قریب میں پاکستان کے مقبول لوک گلوکاروں، عارف لوہار اور عطا اللہ عیسیٰ خیلوی وغیرہ کو فلموں میں اداکار کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
"بے بی نورجہاں" کی اپنی دونوں بہنوں، عیدن بائی اور حیدرباندی کے ہمراہ کلکتہ میں بنائی جانے والی پہلی پنجابی فلم شیلا عرف پنڈ دی کڑی (1936)، بطورِ اداکارہ پہلی فلم تھی جس میں اس نے یہ مشہور لوک گیت گایا تھا:
- لنگ آجا پتن چناں دا یار۔۔
فلم شیلا عرف پنڈ دی کڑی (1936) میں کل 16 گیت تھے جن کی دھنیں موسیقار مبارک علی خان نے بنائی تھیں جو غالباً بڑے غلام علی خان کے چھوٹے بھائی تھے۔ سبھی گیت فلمساز، ہدایتکار اور کہانی نویس، "کے ڈی مہرا" نے خود لکھے جن میں سے ایک گیت "ڈھول جانی، ساڈی گلی آویں، تیری مہربانی۔۔" کو فلم موج میلہ (1963) میں بابا چشتی نے نسیم بیگم سے گوایا جو اپنے وقت کا مقبول ترین گیت تھا۔
فلم شیلا عرف پنڈ دی کڑی (1936) کے فلمساز، ہدایتکار اور کہانی نویس سرسا (ہریانہ) بھارت میں پیدا ہونے والے "بابائے پنجابی فلم" کہلانے والے "کرشن دیو مہرا" یا "کے ڈی مہرا" تھے۔ انھوں نے لاہور میں آر ایل شوری کی فلم "پنجاب فلم کارپوریشن" سے فلمی کیرئر کا آغاز کیا اور برصغیر کی پہلی سلورجوبلی سپرہٹ پنجابی فلم ہیرسیال (1938) بنانے کے علاوہ سُرداس (1939)، میرا پنجاب (1940)، بھائی (1944) اور پوستی (1950) جیسی مشہور پنجابی فلمیں بھی بنائی تھیں۔
شیلا عرف پنڈ دی کڑی (1936) کی کہانی
کلکتہ کے "مدن تھیٹر" کے مالک سیٹھ سکھ لال کرنانی کے اس دور کے 25 ہزار روپوں سے بنائی گئی "اندرا مووی ٹون" کی پہلی پنجابی فلم شیلاعرف پنڈ دی کڑی (1936) کی کہانی ایک نامور روسی مصنف Leo Tolstoy کے 1899ء میں لکھے ہوئے ایک ناول Resurrection سے ماخوذ تھی۔
اصل کہانی، ایک جسم فروش لڑکی کی تھی لیکن اسے پنجابی رنگ میں ڈھالا گیا اور یہ ایک نوجوان لڑکی (نواب بیگم) کی کہانی بنا دی گئی جس کے والدین کے انتقال کے بعد گاؤں کا زمیندار (نوازش علی) اسے اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے لیکن فوج سے چھٹی پر آنے والا اس کا نوجوان بیٹا (راجپال) اس لڑکی کو دل دے بیٹھتا ہے۔
زمیندار کی ناراضی کے باوجود دونوں خفیہ شادی کر لیتے ہیں اور چند دن ایک ساتھ ہنسی خوشی بسر کرتے ہیں۔ ہیرو، فوج میں واپس چلا جاتا ہے اور جنگ کی وجہ سے واپسی میں دیر ہو جاتی ہے۔
اس دوران، ہیروئن، امید سے ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے بدچلنی کے الزام میں گاؤں سے نکال دی جاتی ہے۔ دربدر ٹھوکروں کے بعد ایک ہسپتال میں نوکری کرتی ہے لیکن جب ہیرو واپسی پر اس کی تلاش کرتا ہے تو وہ اپنی عزت بچاتے ہوئے ایک قتل کے الزام میں تھانے میں ملتی ہے جس کو بالآخر ہیرو رہا کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
فلم شیلا عرف پنڈ دی کڑی (1936) کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ برصغیر پاک و ہند کی پہلی پنجابی فلم ہے۔ بمبئی کی ایک پنجابی فلم عشقِ پنجاب (1935) کا بھی یہی دعویٰ ہے۔ حقیقت میں یہ دونوں دعوے غلط ہیں۔ پہلی فلم ہیررانجھا (1932) تھی جو لاہور میں بنائی گئی تھی۔ اس موضوع پر تفصیل سے "برصغیر کی پہلی پنجابی فلم" میں حقائق بیان کیے گئے ہیں۔
بےبی نورجہاں اور "بمبئی کی نورجہاں"
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ "بے بی نورجہاں" کی آمد سے قبل 1930 کی دھائی میں بمبئی کی فلموں میں ایک "نور جہاں" نامی اداکارہ پہلے سے موجود تھی جو اس دور کے مطابق اپنے فلمی گیت بھی گاتی تھی کیونکہ 1935ء تک پلے بیک کا رواج یا ٹیکنیک موجود نہیں تھی۔
"بمبئی کی نور جہاں" نے
1930 سے لے کر 1953 تک
57 فلموں میں کام کیا تھا
پاکستان فلم میگزین کے تقسیم سے قبل کی فلموں کے ڈیٹا بیس کے مطابق، "بمبئی کی سینئر نور جہاں" نے 1930ء سے 1942ء تک 47 فلموں میں کام کیا تھا۔
1942/43ء میں "لاہور کی نورجہاں" کی بمبئی آمد پر "بمبئی کی نورجہاں" پس منظر میں چلی گئی تھی۔ اس دوران اس کی کوئی فلم نہیں ملتی لیکن 1946ء کے بعد چند مزید فلمیں ریلیز ہوئیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق، "بمبئی کی نور جہاں" نے اپنے 23 سالہ فلمی کیریر میں کل 57 ہندی/اردو فلموں میں کام کیا تھا۔ اس کی پہلی فلم، ایک خاموش فلم گلنار (1930) ، پہلی بولتی فلم سسی پنوں (1932) اور آخری فلم انارکلی (1953) تھی۔ فلمی دنیا سے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک ڈرائیونگ سکول چلا رہی تھی اور گمنامی میں فوت ہوئی تھی۔
"بمبئی کی نور جہاں" کو آئن لائن فلم سکندر (1941) میں ایک چھوٹے سے رول میں دیکھا جا سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی سال اپنی پہلی فلم شیلا عرف پنڈ دی کڑی (1936) میں گایا ہوا "بے بی نورجہاں" کا گیت "لنگ آجا پتن چناں دا یار۔۔" بھی یوٹیوب پر سنا جا سکتا ہے اور فرق صاف محسوس کیا جا سکتا ہے۔
میڈم نورجہاں کی بمبئی میں موجودگی میں بھی "سینئر نور جہاں" موجود تھی جس کا اصل نام زیب النساء تھا اور تعلق لاہور کی ہیرا منڈی سے تھا لیکن 1982ء میں میڈم نورجہاں کے بھارتی دورے کے استقبالیہ میں بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی کے بقول، "جس طرح دنیا میں صرف ایک ہی چاند اور ایک ہی سورج ہے، اسی طرح اس دنیا میں صرف ایک ہی نورجہاں ہے۔۔!"
چند ہم نام فنکار
برِصغیر پاک و ہند کی فلمی تاریخ میں بیک وقت متعدد ایسے ہم نام فنکار موجود رہے ہیں کہ جنھیں لوگ گڈمڈ کرتے رہے ہیں۔ "نورجہاں" کے علاوہ چند مزید مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
- "منورسلطانہ"، نام کی ایک بھارتی اداکارہ اور دوسری پاکستان کی پہلی چوٹی کی گلوکارہ تھی۔ ان دونوں کا تعلق بھی لاہور ہی سے تھا۔
- "سلیم رضا" نام کے بھی دو ہی فنکار تھے، ایک اداکار اور دوسرے پاکستانی اردو فلموں کے پہلے چوٹی کے گلوکار تھے جن کا ذکر آگے تفصیل سے آئے گا۔ دونوں نے میڈم کے ساتھ کام کیا تھا۔
- "غلام محمد" نام کے بھی دو فنکار تھے۔ ایک 1930 کی دھائی کے سینئر اداکار تھے جو 1950 کی دھائی میں پاکستانی فلموں کے مقبول کیریکٹرایکٹر تھے جبکہ دوسرے بھارتی فلم پاکیزہ (1970) فیم موسیقار غلام محمد تھے۔
- "شاہ نواز" نام کے تین فنکار تھے جن میں سےسینئر اداکار "شاہ نواز" نے برصغیر کی پہلی ڈائمنڈجوبلی فلم قسمت (1943) میں مرکزی کردار کیا اور پاکستان میں فلم ایاز (1960) میں سلطان محمود غزنوی کے علاوہ 1950 کی دھائی کی بہت سی فلموں میں کام کیا تھا۔
دوسرے "شاہ نواز" نے 1960 کی بہت سی پنجابی فلموں میں معاون اداکار کے طور پر کام کیا جبکہ تیسرے "شاہ نواز گھمن" نے 1970ء کی دھائی میں زیادہ تر اردو فلموں میں کام کیا تھا۔ - "اے حمید" نام کی بھی تین شخصیات مشہور تھیں۔ ان میں سے ایک اردو ادب کا بہت بڑا نام تھے۔ دوسرے شباب پروڈکشنز کے فلمساز اور کیمرہ مین جبکہ تیسرے نامور موسیقار تھے جنھوں نے ملکہ ترنم نورجہاں کی مشہورِ زمانہ نغماتی فلم دوستی (1971) کی سپرہٹ دھنیں بنائی تھیں۔
- "شکیل" نام کے دو فنکار تھے، ایک کراچی ٹی وی کے نامور فنکار تھے جو فلموں میں کامیاب نہیں ہوئے۔ دوسرے پنجابی فلموں کے معاون اداکار تھے جنھیں فلم مولاجٹ (1979) میں "نواں آیا ایں سوہنیا۔۔!" سننے کا اعزاز حاصل ہے۔
- پنجابی فلموں میں "مسعودبٹ" نام کے دو فنکار بھی ہیں، ایک ہدایتکار اور دوسرے کیمرہ مین ہیں۔
فلم فخرِاسلام (1937)
"بے بی نورجہاں" کی بطورِ اداکارہ اور گلوکارہ پہلی ہندی/اردو فلم فخرِ اسلام (1937) تھی جس میں اس کی کردار نگاری کے ثبوت ملتے ہیں۔
- اٹھو، اے مسلمانوں، آیا وقت شہادت کا۔۔
فلم Pride of Islam یا فخرِ اسلام (1937) کی ہیروئن، خاموش اور بولتی فلموں کے دور کی ممتاز اداکارہ Patience Cooper (1905-93ء) تھی۔
برصغیر کی اس پہلی اینگلو انڈین اداکارہ نے ایک رقاصہ کے طور پر ہندو دیومالائی داستان پر بننے والی خاموش فلم نالا ڈائمنٹی (1920) سے فلمی کیرئر کا آغاز کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ فلم پتنی پرتاپ (1923) میں ڈبل رول کرنے والی پہلی اداکارہ تھیں۔ کلکتہ کے مدن تھیٹر کی مستقبل اداکارہ تھیں اور چالیس کے قریب فلموں میں کام کیا تھا۔ آخری فلم ارادہ (1940) بتائی جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کوپر کی ایک خاموش فلم کا نام نورجہاں (1923) بھی تھا جو برصغیر پاک و ہند کی پہلی مسلم سوشل فلم تھی۔
اداکارہ پیشنس کوپر نے پہلی شادی پاکستان کے ایک بہت بڑے صنعت کار مرزا احمداصفہانی (1986-1898ء) سے کی جو پاکستان کی پہلی پرائیویٹ ائرلائن اورینٹ کے مالک اور PIA کے پہلے چیئرمین بھی تھے۔ یہ شادی چند سال چل سکی۔
کوپر نے دوسری شادی، لاہور کی فلموں کے پہلے سپرسٹار خوبرو ہیرو گل حمید (36-1905ء) سے کی جس کے ساتھ اس کی مشہور فلم خیبرپاس (1936) بھی تھی۔ اس کا اسلامی نام "صابرہ بیگم" تھا لیکن خاوند کی عین شباب میں کینسر سے موت کے بعد بیوگی کی طویل زندگی کراچی میں گزاری جہاں 1993ء میں انتقال ہوا تھا۔
فلم ہیر سیال (1938)
"بے بی نورجہاں"کو یہ ناقابلِ شکست اعزاز حاصل ہے کہ اس نے برصغیر پاک و ہند کی پہلی سپرہٹ سلورجوبلی پنجابی فلم ہیرسیال (1938) میں کام کیا تھا۔۔!
- چناں وے تیری چاننی، تاریا وے تیری لو۔۔
- جا چڑھ جا ڈولی نی۔۔
- اچیاں لمیاں ٹاہلیاں وے۔۔
لاہورمیں بننے والی ہندی/اردو فلم مجنوں (1935) سے فلمی کیرئر کا آغاز کرنے والی 1950/60 کی دھائیوں میں بھارتی پنجابی فلموں کی سب سے مقبول گلوکارہ شمشادبیگم کی یہ پہلی فلم تھی۔ انھیں بریک تھرو بھی لاہور کی ہندی/اردو فلم خزانچی (1941) سے ملا تھا۔
موسیقار ماسٹر دھومی خان نے فلم ہیرسیال (1938) میں ڈیڑھ درجن سے زائد گیت کمپوز کیے جن میں بے بی نورجہاں کے حصہ میں صرف ایک گیت تھا:
- سوہنیاں دیساں اندر، دیس پنجاب نی سیو۔۔
فلم کے پوسٹروں اور اخباری اشتہارات میں سب سے زیادہ "بے بی نورجہاں" ہی کو نمایاں کیا جاتا تھا جو اپنے بچپن سے بڑھاپے تک یعنی سات دھائیوں (1930 تا 1990) کے طویل عرصہ تک پنجابیوں کی عام طور پر اور لاہوریوں کی خاص طور پر "ڈارلنگ" رہی تھی۔ ایسی عزت و شہرت، تاریخ میں شاید ہی کبھی کسی دوسرے فنکار کو اپنی زندگی میں حاصل ہوئی ہوگی۔
فلم ہیرسیال (1938) میں "ہیر" کا رول اداکارہ اقبال بیگم عرف "بالو" نے کیا جو اداکارہ صبیحہ خانم کی والدہ تھی۔"رانجھے" کا کردار پی این بالی نے کیا لیکن جو کردار سب پر حاوی تھا، وہ "کیدو" کا تھا جس کو لاہور کے سینئر ترین اداکار ایم اسماعیل نے کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کردار انھوں نے اپنے فلمی کیرئر میں چار بار کیا تھا۔ تفصیل ملاحظہ فرمائیں:
- ایم اسماعیل نے پہلی بار "کیدو" کا رول، بمبئی میں بننے والی ایک خاموش فلم ہیررانجھا (1929) میں کیا تھا۔ اس فلم کے مرکزی کردار گونگی فلموں کے دور یعنی 1920 کی دھائی کی سپرسٹار فلمی جوڑی سلوچنا اور ڈی بلیموریا نے کیے تھے۔ اے آر کاردار نے "سیدا کھیڑا" کا رول کیا تھا۔
- ایم اسماعیل نے دوسری بار "کیدو" کا کردار لاہور میں بننے والی پہلی پنجابی فلم ہیررانجھا (1932) میں کیا تھا۔ انوری اور رفیق غزنوی، مرکزی کردار تھے۔ ہدایتکار اے آر کاردار تھے۔
یاد رہے کہ اسی سال بمبئی میں ایک ہندی/اردو فلم ہیررانجھا (1932) بھی بنی جس میں شانتا کماری اور ماسٹرفقیرا نے مرکزی کردار ادا کیے تھے لیکن اس فلم میں "کیدو" کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ - ایم اسماعیل، تیسری بار "کیدو" کے کردار میں کلکتہ میں بننے والی ہدایتکار کے ڈی مہرا کی پنجابی فلم ہیرسیال (1938) میں نظر آئے۔ بالو اور بالی مرکزی کردار تھے۔
- ایم اسماعیل، چوتھی اور آخری بار "کیدو" کے کردار میں پاکستان میں بننے والی پنجابی فلم ہیرسیال (1965) میں دیکھے گئے۔ فردوس اور اکمل مرکزی کردار تھے۔ ہدایتکار جعفربخاری تھے۔
فلم ہیرسیال (1938) کی بے مثال کامیابی نے لاہور کے پربھات (صنوبر/ایمپائر) سینما کے مالک "دل سکھ پنچولی" کو فلمسازی پر مائل کیا تو کلکتہ کی فلم کمپنی برا منا گئی تھی۔
ہندو سرمایہ داروں میں کاروباری رقابت عام ہوتی تھی اور ایک دوسرے کو گرانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا کرتے تھے۔ پہلے دونوں نے مقابلے میں ایک ہی کہانی پر دو فلمیں یعنی سوہنی مہینوال اور سوہنی کمہارن (1939) بنائیں، پھر ایک دوسرے کے مستقل فنکاروں کو توڑا۔ ان میں بے بی نورجہاں بھی تھی جس کی شہرت کی وجہ سے سیٹھ پنچولی نے اسے کلکتہ سے لاہور واپس آنے کی دعوت دی جو اس نے قبول کر لی تھی۔ اس کی ایک وجہ شاید "مدن تھیٹر" کی بندش بھی تھی۔
فلم سسی پنوں (1939)
"بے بی نورجہاں" نے کلکتہ ساختہ پنجابی فلم سسی پنوں (1939) میں "سسی" کے بچپن کا رول کیا اور یہ گیت گایا جواسی پر فلمایا گیا تھا:
- میرے بابل دا مکھڑا پیارا، میری امی اے روشن تارا۔۔"
پنجابی زبان کے ایک اور نامور شاعر سید فضل شاہؒ (90-1827ء) کی لکھی ہوئی سندھ کی مشہور رومانوی داستان پر بننے والی پنجابی فلم سسی پنوں (1939) بھی اندرا مووی ٹون کی ایک کامیاب کاوش تھی جس میں "سسی" کا رول اداکارہ "بالو" نے کیا جس کی یہ دوسری اور آخری فلم تھی۔ "پنوں" کا رول ایک گمنام اداکار محمداسلم نے کیا تھا۔ بے بی نورجہاں کے علاوہ اس کی دونوں بہنیں، عیدن بائی اور حیدرباندی بھی فلم کی کاسٹ میں شامل تھیں۔
اداکارہ "بالو" (اقبال بیگم) کی زندگی کی کہانی بھی بڑی افسانوی سی تھی۔گجرات کے ایک وکیل کی بیٹی تھی۔ تانگے پر کالج جاتی تھی۔ کوچوان، محمدعلی کو پنجابی لوک گیت "ماہیا" گانے میں کمال حاصل تھا جس کی ایسی دیوانی ہوئی کہ گھربار چھوڑ کر اپنے آشنا کے ساتھ بھاگ نکلی۔ لاہور میں گراموفون کمپنی کے لیے دونوں نے "ماہیے" ریکارڈ کروائے۔ کلکتہ میں سٹیج پر ناچ گانا کیا اور پھر دو فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا لیکن زندگی نے وفا نہ کی اور ایک بچی (مختاربیگم عرف صبیحہ خانم) کو جنم دے کر جوانی ہی میں فوت ہوگئی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ "بالو" کی بیٹی صبیحہ خانم نے بھی ہدایتکار داؤدچاند کی ڈائریکشن میں پاکستان کی پہلی گولڈن جوبلی سپرہٹ فلم سسی (1954) میں ٹائٹل رول کیا تھا۔ سدھیر، پنوں بنے تھے۔
بے بی نورجہاں کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ فلم سسی پنوں (1939) کے پوسٹر پر اس کی تصویر نمایاں تھی اور ہیروئن کے بعد اس کا نام لکھا ہوا تھا۔
فلم سسی پنوں (1939) کے پوسٹر کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ اس پر انگلش، اردو اور دیوناگری میں لکھا ہوا ہے اور گرمکھی (سکھوں کی پنجابی) میں نہیں لکھا ہوا۔
تاریخی حقیقت یہ ہے کہ یکم نومبر 1966ء کو سکھوں کے بھارتی صوبہ پنجاب کی تشکیل سے قبل شاذونادر ہی کسی فلم پوسٹر یا اشتہار پر گرمکھی تحریر استعمال ہوتی تھی یا سکھوں کو کسی پنجابی فلم میں کوئی نمایاں کردار ملتا تھا۔
1849ء میں سکھاشاہی یا "خالصہ راج" کے خاتمے اور پنجاب پر انگریزوں کے قبضہ سےلے کر 1960 کی دھائی تک بھارتی پنجابی فلموں میں اردو یا شاہ مکھی پنجابی ہی استعمال ہوتی تھی۔ اس لیے تاریخی تناظر میں دیکھیں تو فلم شیلا عرف پنڈ دی کڑی (1936) اور ہیرسیال (1938) کے پوسٹر اصل نہیں بلکہ بعد میں تخلیق کیے گئے ہیں جن کا بڑا مقصد گرمکھی طرزِتحریر کو سٹینڈرڈ پنجابی ثابت کرنا ہے جس سے ہمارے ہاں بھی کچھ عقل کے اندھے متاثر ہیں جو خصوصاً سوشل میڈیا پر انتہائی احمقانہ حرکتیں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
فلم امپیرئل میل (1939)
بے بی نورجہاں کی کلکتہ میں آخری فلموں میں سے ایک اندرا مووی ٹون کی ہندی/اردو فلم امپیرئل میل (1939) بھی تھی جس میں اس کے کسی گیت کا کوئی حوالہ نہیں مل سکا۔
یہ ایک سٹنٹ فلم تھی جس میں ٹرینوں پر ڈاکے مارنے کے سنسنی خیز مناظر، لڑائی مارکٹائی، قتل و غارت اور جرم و جاسوسی وغیرہ تھی جو 1930 کی دھائی کی ایکشن فلموں میں عام روش ہوتی تھی۔
فلم امپیرئل میل (1939) کے انگلش اشتہار میں "بے بی نورجہاں" کا نام بھی نہیں ملتا جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تک بے بی نورجہاں، صرف پنجابی فلموں اور لاہور کی حد تک مقبول تھی اور باقی غیرمنقسم ہندوستان کے لیے اجنبی تھی۔ البتہ اس فلم سے ایک نایاب تصویر میں واضح طور پر نظر آرہی ہے جس میں اس کے ساتھ دوسرا چائلڈ سٹار غالباً ماسٹر رمیش ہے لیکن درمیان والی اداکارہ کا نام نہیں مل سکا۔
میڈم نورجہاں، ایک نوعمر لوک گلوکارہ "اللہ وسائی" کے نام سے کلکتہ گئیں اور وہاں تین چار سالہ قیام کے دوران کلاسیکل موسیقی میں مہارت کے علاوہ فلمی اداکارہ اور گلوکارہ "بے بی نورجہاں" بن کر واپس لاہور آئی تھیں۔
کلکتہ میں اپنے فنی کیرئر کے اس دوسرے دور میں انھوں نے کتنی فلموں میں کام کیا، یہ کہنا مشکل ہے کیونکہ بہت سے حقائق پر وقت کی گرد پڑ چکی ہے۔ البتہ دستیاب معلومات کی حد تک میڈم نے اس دور میں کل پانچ فلموں میں کام کیا اور ان فلموں میں جو گیت گائے، وہ انھی پر فلمائے گئے تھے۔
پاکستان فلم میگزین پر پاکستانی اور تقسیم سے پہلے کی فلموں اور فنکاروں کا ریکارڈ محفوظ کیا جاتا ہے، جیسے نئی معلومات دستیاب ہوں گی، حسبِ معمول یہ تمام تر ریکارڈ بھی اپ ڈیٹ کیا جاتا رہے گا۔
اگلی قسط میں "بے بی نورجہاں سے سپرسٹار نورجہاں" بننے کی داستان ہوگی، ان شاء اللہ۔۔!
Baby Noor Jehan in Calcutta
- Baby Noor Jehan appeared as a child artist and playback singer in Calcutta-based movies from 1936-39.
5 movies
| 1. | 1936: Shiela as Pind Di Kuri(Punjabi) |
| 2. | 1937: Fakhr-e-Islam(Hindi/Urdu) |
| 3. | 1938: Heer Syal(Punjabi) |
| 4. | 1939: Imperial Mail(Hindi/Urdu) |
| 5. | 1939: Sassi Punnu(Punjabi) |
4 movie songs
| 1. | Punjabi filmShiela as Pind Di Kurifrom 1936Singer(s): Baby Noorjahan, Music: Mubark Ali Khan, Poet: ?, Actor(s): Baby Noorjahan |
| 2. | Hindi/Urdu filmFakhr-e-Islamfrom 1937Singer(s): Baby Noorjahan, Music: Moti Lal Naik, Poet: Juniad Mirza, Actor(s): Baby Noorjahan |
| 3. | Punjabi filmHeer Syalfrom 1938Singer(s): Baby Noorjahan & Co., Music: Dhumi Khan, Poet: F.D. Sharf, Actor(s): Baby Noorjahan |
| 4. | Punjabi filmSassi Punnufrom 1939Singer(s): Baby Noorjahan, Music: Dhumi Khan, Poet: F.D. Sharf, Actor(s): Baby Noorjahan |
Pakistan Film Magazine
Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.
پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔
یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔
اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔






